رونے والوں سے کہو ان کا بھی رونا رو لیں


سانحہ 9 مئی کے اثرات ہماری سیاست پر گہرے سیاہ بادلوں کی مانند تادیر رہیں گے اس کا ادراک تو سب کو ہے، انہیں بھی جنہوں نے یہ سب کیا اور انہیں بھی جن کے ساتھ یہ سب ہوا۔ اسی خیال کے سبب تحریک انصاف سے راہیں جدا کرنے والوں کا تانتا بندھا ہوا ہے۔ اسد عمر اور پرویز خٹک جیسے لوگ پارٹی عہدے چھوڑ گئے، فواد چوہدری نے عملی سیاست میں توقف کا اعلان کیا اور وسیم اکرم پلس جن کے لئے ان کے کپتان نے اپنے پرائے سب سے ٹکر لے لی وہ بھی عملی سیاست کو خیرباد کہہ گئے۔ ابرار الحق اور مراد راس جیسے کئی لوگ اپنی پریس کانفرنسز میں روتے رہے تو شیریں مزاری اور عمران اسماعیل جیسے پرانے رفقاء روہانسے ہوئے اور آدھے ادھورے جملے بول کر راستے جدا کر گئے۔

اس سب میں عملی سیاست سے دستبردار ہونے والے وہ ہیں جو اس کھیل میں ہراول دستے کا کردار نبھاتے رہے اور ان کے ہاں اتنی شدت رہی کہ اب کسی دوسری جماعت یا گروپ میں ان کی شمولیت یا انضمام کا سوال ہی نہیں بچتا۔ مسلم لیگ نون اس سلسلے میں یہ پیغام دے چکی کہ ان کے ہاں جگہ کم ہے، اور فارورڈ بلاک والوں کو پنجاب کے ضمنی الیکشن میں ٹکٹ دے کر وہ نتائج بھی دیکھ چکے ہیں۔ سو مسلم لیگ نون اس کھیل میں اپنے باقی ماندہ نظریاتی ووٹر کو ہرگز ناراض نہیں کرے گی۔

پاکستان پیپلز پارٹی بھی فیصل کریم کنڈی کے ذریعے یہ کہتی ہے کہ وہ اپنے نظریے سے قریب تر لوگوں کو شمولیت کے لئے حاضر ہیں، لیکن پنجاب میں آصف علی زرداری کے گیم پلان کے تحت یہ سنہری موقع ہے اور آئندہ انتخابات میں کم از کم تیر کے نشان پر انتخاب لڑنے والے میدان میں ہوں۔ قدرت کی شان دیکھیں کہ پیپلز پارٹی کے جھنڈے لاہور شہر میں جا بجا نظر آتے ہیں اور پنجاب کی سیاست سے دور ہوتی پیپلز پارٹی لاہور میں جلسہ کرنے جا رہی ہے۔

پی پی نے بہت کم وقت میں بہت کچھ کرنا ہے، جڑیں مضبوط کرنی ہیں اور در بدر الیکٹبلز کو جمع کرنا ہے لیکن پیپلز پارٹی کے پاس یہ سب کرنے کے لئے وقت تھوڑا ہے، اسے یہ سب جہانگیر ترین کے ”کنگز پارٹی“ کے اعلان سے پہلے اور کسی نئے مائنس بانی تحریک انصاف فارمولہ سے پہلے پہلے کرنا ہے۔ اسے کنگز پارٹی کو مرعوب بھی کرنا ہے تاکہ اگلے انتخاب میں مسلم لیگ نون کو پنجاب میں ٹف ٹائم دیا جا سکے اور اتحادی حکومت کے سارے غلط فیصلوں کو نون لیگ پر تھوپا جا سکے۔

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ تحریک انصاف کی ٹوٹ پھوٹ سے ووٹر بھی تقسیم ہو گا جسے سب لبھانے کے لئے کوشاں ہیں۔ فواد چوہدری، عمران اسماعیل اور محمود مولوی کی کوشش ہے کہ کسی طرح جلد از جلد تحریک انصاف کو مائنس بانی فارمولہ کی طرف لے جا کر ووٹر کو سنبھالا جائے کہ ووٹ بینک اس وقت تحریک انصاف کا ہی تگڑا ہے، لیکن یہ ووٹ بینک صرف بانی تحریک انصاف کا ہی ہے، اس حقیقت سے انکاری کو کسی بھی قسم کا کوئی خواب دیکھنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔

دوسری طرف شاہ محمود، اسد عمر اور پرویز خٹک جیسے لوگ اس وقت کے انتظار میں ہیں جب خود انہیں قائد کی طرف سے جانشین مقرر کیا جائے یوں ووٹر خود بخود نئے فارمولہ کی طرف آ جائے گا لیکن قائد کے جیتے جاگتے قائد یہ اعلان کبھی نہیں فرمائیں گے۔ اسے سے ملتے جلتے طریقۂ کار پر پرویز الٰہی بھی گامزن ہیں لیکن ان کے پاس ناکامی کو صورت میں واپس چوہدریوں کے اکٹھ کا راستہ بھی شاید موجود ہے۔

اسی سب کے بیچ اس دلچسپ امر کو بھی مد نظر رکھنا ہے کہ پی ڈی ایم سربراہ مولانا فضل الرحمن نے یہ اعلان کیا کہ پی ڈی ایم انتخابی اتحاد نہیں، جس سے پتہ چلتا ہے کہ پی ڈی ایم اس ڈیڑھ سالہ حکومت کا بوجھ تن تنہا مسلم لیگ نون پر ڈالنا چاہتی ہے اور تقسیم کے اس موسم میں ہر کوئی اپنا اپنا الو سیدھا کرنا چاہتا ہے، ہر کسی کی خواہش ہے کہ اگر انتخاب میں مداخلت ہو تو انہیں آشیر باد حاصل رہے اور اگر الیکشن کسی چھیڑ چھاڑ کے بغیر ہوں تب بھی اس معاملے میں سارا ملبہ مسلم لیگ نون پر ڈال دیا جائے اور عوام کی خوشنودی اور تحریک انصاف کے نظریاتی ووٹر کو جتنا مرعوب کیا جا سکے کر لیا جائے۔

نو مئی کے واقعات اور تحریک انصاف کی توڑ پھوڑ کے پیش نظر نظام پر دباؤ بڑھے گا، وہ اس لئے کہ تحریک انصاف چھوڑ کر نو مئی کے مذمت کرنے والے روایتی سیاستدانوں یا سادہ الفاظ میں الیکٹبلز کو 2018 میں تحریک انصاف میں شامل کروایا گیا اور ان کی جیت کو یقینی بنایا گیا، لیکن اب جب وہی لوگ پی ٹی آئی سے راہیں جدا کر رہے ہیں تو ان سے کیا وعدہ کیا گیا ہو گا یہ راز کسی کو نہیں معلوم۔ اگر ان سے ان کی سیاسی بقا کا وعدہ ہوا ہے تو اس سارے منظر نامے کا واضح اور دو ٹوک چہرہ صرف مسلم لیگ نون ہے، پکڑ دھکڑ، پابندی یا مجموعی طور پر ریاستی ایکشن کا سارا بوجھ کابینہ کے ان ارکان پر ہے جن کا تعلق مسلم لیگ نون سے ہے یقیناً یہ لوگ عدم اعتماد کے ذریعے حاصل کردہ حکومت میں اپنا سیاسی سرمایہ داؤ پر لگا چکے ہیں تو فطری بات ہے کہ انہوں نے کسی وعدے وعید پر یہ کام کیا ہے اور اگر نہیں کیا تو مئی کے واقعات کے بعد وہ وعدہ طلب نظروں سے اسلام آباد کے آس پڑوس کی طرف دیکھتے ضرور ہوں گے۔

اس کھیل میں نون لیگ کا ایک بڑا نقصان یہ ہے اس نے اس ساری جوڑ توڑ، ریاستی حرکت اور تحریک انصاف کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کو اپنے گلے کی گھنٹی بنایا ہے سو تحریک انصاف کے ووٹر کے دل میں اس جماعت کے لئے رتی برابر کوئی گنجائش نہیں۔ پیپلز پارٹی نے سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے نا صرف پارٹی پر پابندی کی مخالفت کی ہے بلکہ اس سب میں مجموعی طور پر محتاط حکمت عملی بھی اپنائی ہے۔ لیکن یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ تحریک انصاف کا ووٹر کسی صورت ان دونوں جماعتوں میں سے کسی کی طرف نہیں جائے گا یہی وجہ ہے کہ تحریک انصاف کو مائنس قائد تحریک فارمولہ پر لانا ہو گا یہ پہلا آپشن ہے نہیں تو جہانگیر ترین کی نئی ابھرتی ہوئی جماعت کے ذریعے اس ووٹر کو راغب کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

ترین گروپ میں لیکن تحریک انصاف کے باغیوں کے ہونے سے بھی ووٹ بینک سمٹنے کے بجائے بکھرے گا اور شاید یہی طے بھی پایا ہے کہ مخلوط سیٹ اپ ہی عافیت ہے کیوں کہ مسلم لیگ نون کے لئے جیت کے دعوے ناپختہ ہیں، اچانک پیپلز پارٹی کا ابھار بھی ہضم نہ ہو گا، تحریک انصاف مائنس کا وجود سوالیہ نشان رہے گا اور جہانگیر ترین کے ذریعے ہلکی آنچ پر اس ہانڈی کو پکانے کی کوشش کی جا سکتی ہے، لیکن یہ سارا فارمولہ حقیقت پسندانہ نہیں۔

نظام کی الجھن دیکھیے کہ مسلم لیگ نون کو بھی کچھ دینا ہے کہ انہوں نے اس لڑائی میں بہت کچھ گنوا دیا ہے، پیپلز پارٹی کو بھی ناراض نہیں کرنا اور کوشش کرنی ہے کہ مائنس قائد سسٹم بھی تیار رہے کہ کل کو اس کی بھی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ ایسے میں ترپ کا پتہ جہانگیر ترین ہیں لیکن ان کی طرف بھیجے جانے والوں سے وعدہ وفا کرنا بھی از حد ضروری ہے کہ وہ سب اسی آسرے پر راستہ بدل رہے ہیں، لیکن اس سب میں اگر جذبات میں کیے گئے وعدوں پر عمل نہ ہوا تو الیکشن کے بعد ہارے ہوئے گھر کے بھیدی لنکا نہ ڈھا دیں اور کہیں پھر کوئی حقیقی آزادی، حقیقی جمہوریت اور غیر سیاسی لوگوں کی سیاسی مداخلت کے خلاف محاذ نہ کھل جائے۔ وہ جو رو رو کر تجدید عہد وفا کر رہے ہیں ان کا مستقبل کیا ہو گا یہ محض وعدوں اور دعوؤں پر مبنی کھیل ہے جس میں آخر میں سب کے ساتھ ہاتھ ہو گا اور دلاسے کے لئے سدرشن فاکرؔ کی شہرہ آفاق غزل کے یہ اشعار ہی کام آئیں گے ؛

رونے والوں سے کہو ان کا بھی رونا رو لیں
جن کو مجبوری حالات نے رونے نہ دیا
تجھ سے مل کر ہمیں رونا تھا بہت رونا تھا
تنگیٔ وقت ملاقات نے رونے نہ دیا
ایک دو روز کا صدمہ ہو تو رو لیں فاکرؔ
ہم کو ہر روز کے صدمات نے رونے نہ دیا

Facebook Comments HS