مذہبی منافرت کے لیے ذرائع کا استعمال اور ریاستی لاپرواہی
قیام پاکستان کے وقت قائداعظم کے ذہن میں ریاست کے داخلی امن کی جو فلسفہ تھا اس کا مفہوم ان کے کئی خطابات سے اخذ کیا جاسکتا ہے۔ وہ ایک مخصوص مسلک سے تعلق کے باوجود ایک متفقہ ریاستی قانون کا ذہن رکھتے تھے، وہ سمجھتے تھے پاکستان ایک ملک ہے اور مختلف مسالک سے تعلق رکھنے والے سب سے پہلے مسلمان ہیں، صوبائی، نسلی، لسانی اور مسلکی تعصبات قومی یکجہتی کے لیے مضر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی وفات کے بعد قرارداد مقاصد اور پہلے آئین میں بھی ایسی دفعات رکھی گئیں جن کو بنیاد بنا کر متفقہ قانون سازی کیے جانے کا عزم ہوا تاکہ ریاست میں مذہبی رواداری قائم رہے۔
1973 کے آئین کو باوجود خامیوں کے ایک مکمل و بہترین آئین سمجھا جاتا ہے، اس آئین میں اسلامی نظریاتی کونسل کے قیام کا عہد کیا گیا۔ بعد ازیں اسلامی نظریاتی کونسل کا قیام عمل میں لایا گیا، پارلیمنٹ کی قانونی رہنمائی کے لیے قائم کیے گئے اس فورم میں تمام مسالک کو نمائندگی دی گئی۔ اسلامی نظریاتی کونسل نے ان تمام مسائل سے متعلق متفقہ سفارشات مرتب کیں جو انسان کے ذاتی دائرہ سے نکل کر اجتماعی قانونی دائرہ سے متعلق ہوجاتی ہیں۔
ان متفقہ قانونی سفارشات کا مقصد پاکستان میں قرآن و سنت سے مستنباط متفقہ قانون نافذ کرنا ہے تاکہ ریاست میں اتفاق و رواداری کے ساتھ تمام مسالک کے متبعین پر امن زندگی گزار سکیں لیکن اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات پارلیمنٹ تک تو پہنچتی ہیں مگر قانون نہیں بن پاتیں چونکہ عالمی ادارے، بیوروکریسی اور پارلیمنٹیرینز کی اکثریت نہیں چاہتے کہ پاکستان میں مذہب کی بالادستی ہو اور مذہبی گروہ اقتدار میں آئے۔
پاکستان کے مذہبی طبقات میں شدید مذہبی و مسلکی منافرت پائی جاتی ہے، اس کی ایک بڑی وجہ متفقہ سفارشات کو قانونی شکل نہ دینا ہے۔ گزشتہ دنوں ایک پیر صاحب نے دوسرے مسلک کے مولوی کے قتل پر پانچ لاکھ روپے انعام کا اعلان کیا ہے، یہ تو ایک مثال ہے، اسی طرح یوٹیوب پر مختلف مسالک کے علما کے ہزاروں نزاعی وڈیوز موجود ہیں جن میں وہ کھلے الفاظ میں مخالفین کی تنقیص کرتے ہیں حتی کہ بعض تو گالیاں بھی دیتے ہیں۔
ان جھگڑوں کے سدباب کے لیے ریاست کبھی مخلص نہیں رہی، متفقہ سفارشات کو قانون نہیں بننے دیا جاتا اور اگر کوئی قانون موجود ہے بھی تو اس پر عمل درآمد نہیں کروایا جاتا مثلاً ایمپلی فائر ایکٹ یعنی اسپیکر استعمال کرنے کا قانون موجود ہے مگر عملاً نافذ نہیں۔ ایک ایسا فتوی بھی نظر سے گزرا جس میں ایک مسلک کے مفتی صاحب نے عورت کو طلاق لینے کا فتوی دیا چونکہ اس کا خاوند دوسرے مسلک سے تعلق رکھتا ہے۔
اظہار و بیان کے قوانین اور ابلاغ کے لیے سائبر ضابطے موجود ہیں، ان کو چیک کرنے والے ادارے بھی موجود ہیں اس کے باوجود تمام مسالک کے مخصوص لوگ بدزبانی کرتے ہیں، مناظروں اور مباحثوں کے لیے للکارتے ہیں۔ ایسے اقدامات پر ریاستی ادارے متحرک کیوں نہیں ہوتے؟ حالانکہ اس سلسلہ میں مسالک کے معتبر و جید علما کی خدمات لی جا سکتی ہیں کہ وہ قوانین پر عمل درآمد کے حوالہ سے اپنے اپنے طبقات کو ترغیب دیں، ثانیاً ریاست قانونی طاقت کے سہارے احکام کا نفاذ کر سکتی ہے۔
ریاست کی ذمہ داری تھی کہ وہ پیر صاحب کو پوچھتی کہ آپ نے کس حیثیت سے مخالف مولوی کے قتل پر انعام کا اعلان کیا ہے؟ آپ کو تحفظات ہیں تو آپ عدالت میں جائیں، اپنا الزام ثابت کریں، ملزم پر جرم ثابت ہونے پر سزا دلائیں لیکن خود سے ریاست نہ بنیں مگر شاید ریاست کا مفاد مذہبی طبقہ کو آپس میں الجھائے رکھنے میں ہے۔


