جھوٹ اور فریب زدہ معاشرہ
االلہ کے رسول ﷺ نے فرمایا کہ مومن ہر عادت اپنا سکتا ہے مگر جھوٹا اور خائن نہیں ہو سکتا ۔ (جامع الاحادیث ج 9، ص 301) ، بالکل اسی طرح ایک اور حدیث کا مفہوم ہے جس کا حوالہ حضرت صفوان بن سلیم بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ سے معلوم کیا گیا کہ کیا مومن بزدل ہو سکتا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا ہو سکتا ہے، پھر آپ ﷺ سے عرض کی گئی کہ کیا مومن بخیل ہو سکتا ہے، فرمایا ہو سکتا ہے، پھر آپ ﷺ سے عرض کی گئی کہ کیا مومن جھوٹا ہو سکتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ مومن جھوٹا نہیں ہو سکتا ۔ مندرجہ بالا دونوں احادیث کے حوالے سے جھوٹ کے انتہائی غلیظ اور ناپسندیدہ ہونے کے لئے مزید کسی دلیل کی حاجت نہیں ہے۔ جھوٹ ام الخبائث بھی کہی جا سکتی ہے۔ کہتے ہیں گناہ اور برائی جھوٹ کی جانب ایسے لپکتی ہیں جیسے لوہے کے ذرات مقناطیس کی جانب۔
گزشتہ دنوں ایک قریبی رشتہ دار کے ساتھ ہونے والے واقعہ نے جھنجھوڑ کر رکھ دیا، واقعہ جھوٹ اور فریب کاری کا مرکب تھا، ہوا کچھ یوں کہ جناب کو صبح صبح ایک فون کال موصول ہوئی دوسری جانب سے بولنے والے نے اپنا تعارف فلاں فلاں تھانے کے ایس ایچ او کے طور پر کرایا اور بتایا کہ ہم نے آپ کا بھانجا گرفتار کیا ہے لیں بات کریں، دوسری جانب سے ایک بہت ہی خوفزدہ روتے ہوئے بندے کی آواز آئی جو رو رو کر یہ فریاد کر رہا تھا کہ ماموں آپ مجھے بچا لیں یہ مجھے مار دیں گے، یہ سب کچھ اتنا دہلا دینے والا تھا کہ اچھے خاصے پر ہے لکھے صاحب بھی بری طرح گھبرا گئے، دوسرا وہ جو بھی فون پر تھا سوچنے سمجھنے کا موقع ہی نہیں دے رہا تھا کہ وہ لائن کاٹیں یا کسی اور سے بات کر سکیں۔
وہ مسلسل ان پر پیسے بھیجنے کے لئے دباؤ ڈال رہا تھا کہ اگر اپنے بھانجے کی زندگی چاہتے ہو تو فوراً پچاس ہزار روپے ایزی پیسہ کردو ورنہ ہم اسے مار دیں گے، وہ بیچارے اتنا پریشان ہوئے کہ گھر میں جتنی رقم اس وقت موجود تھی اسے ایزی پیسہ کردی۔ اب ذرا حواس قابو میں آئے تو بھانجے کو فون کیا، چھٹی کا دن تھا وہ گھر میں بیٹھا ناشتہ کر رہا تھا، کمال حیرت بات یہ ہے کہ وہ یعنی بھانجا بھی ایک نجی ادارے میں بہت بڑے عہدے پر کام کرتا ہے۔
اس نے کہا کہ ماموں میں تو بالکل ٹھیک ہوں اور ایسا کچھ بھی نہیں جس کے لئے آپ پریشان ہو رہے ہیں۔ اب ان کے پیروں تلے زمین نکل گئی کہ ایک بڑی رقم ان سے جھوٹ بول ہتھیا لی گئی تھی۔ شروع میں تو ہم سمجھے کہ شاید بڑے صاحب نے جلد بازی یا گھبراہٹ کا مظاہرہ کیا ہے، اور معاملے کو سمجھے بغیر ہی پیسے بھیج دیے مگر جب انٹرنیٹ پر تلاش کیا تو ایسے کئی تکلیف دہ معاملات کی تفصیلات سامنے آ گئیں جن میں لوگوں کو جھوٹ بول کر بڑی رقوم سے محروم کیا گیا تھا۔
طریقہ واردات سب کا ایک ہی تھا مگر بندوں کی تفصیلات کے مطابق کہانی بنائی گئی تھی۔ جیسے ایک سترہ سالہ لڑکے کی والدہ کو کہا گیا کہ ہم نے آپ کے بیٹے کو پکڑا ہوا ہے۔ جبکہ لڑکا گھر پر ہی تھا، سو وہ خاتون بچ گئیں۔ یعنی یہ جرائم پیشہ افراد بھی ہوم ورک مکمل کرنے کے بعد ہی کام شروع کرتے ہیں۔ غرض یہ کہ ہمارے معاشرے میں جھوٹ اور فریب اتنے عام ہیں کہ اب یہ کوئی معیوب شہ نہیں لگتے، ایسا لگنے لگا ہے کہ ان کے بغیر زندگی ادھوری اور کام کرنا ناممکن ہے۔
نظریاتی طور پر اتنی بڑی تبدیلی آئی ہے کہ اب بہت سارے اخلاق سے گرے ہوئے کام کرنے میں شرم محسوس نہیں کرتے، بلکہ گروہ کے گروہ مل کر جھوٹ اور فریب کے کاروبار میں ملوث ہیں، جیسے فون کر کے خود کو کسی بینک کا نمائندہ ظاہر کر کے لوگوں سے ان کے بینک اکاؤنٹ کی معلومات حاصل کرنا اور انہیں ان کی محنت کی کمائی سے محروم کر دینا۔ یہ جرم بھی ہے اور گناہ بھی مگر مسلسل ہو رہا ہے۔ لوگوں کو باہر ممالک میں اچھی نوکریوں کا جھانسہ دے کر ان سے بڑی بڑی رقوم بٹورنا، یہ اتنا گھناؤنا اور قبیح فعل ہے کہ اس میں عموماً لوگ بہت بری طرح تباہ ہو جاتے ہیں، اپنا کل سرمایہ ان جھوٹے فریبیوں کے ہاتھ گنوا بیٹھتے ہیں، اس کا سب سے دکھ دینے والا پہلو یہ ہے کہ بہت سارے لوگ اپنا سب کچھ لٹا کر جان بھی بڑی بے بسی میں گنوا بیٹھتے ہیں۔
دیار غیر میں کشتی ڈوب جانے کی خبریں آپ نے سنی ہوں گی یہ یہی لوگ ہوتے ہیں، یا بارڈر پولیس کی گولی کا شکار ہو جاتے ہیں یا گرفتار ہو کر عمر کا بڑا حصہ دیار غیر کی جیلوں میں گزار دیتے ہیں۔ یہ سب کچھ اس جھوٹ اور فریب کا نتیجہ ہوتا ہے جو لوگ مسلسل لوگوں سے بول رہے ہوتے ہیں اور جن کے اثرات ہماری معاشرتی زندگی میں مسلسل زہر گھول رہے ہوتے ہیں۔ یوں تو ہماری زندگی میں برائی کا تصور بھی کافی حد تک بدل گیا ہے اور برائی اب برائی نہیں سمجھی جاتی مگر جھوٹ اور فریب کاری تو جیسے جائز اور قابل فخر کام بن کر رہ گئے ہیں، اس ہی تناسب سے فراڈیے لوگوں کو لوٹ رہے ہیں، پریشان کر رہے ہیں ان کی املاک سے محروم کر رہے ہیں مگر احساس جرم کا شکار نہیں ہیں کیوں کہ برائی کا تصور ہی بدل گیا ہے۔
وہ ان تمام اعمال قبیحہ کو جائز سمجھتے ہیں، نقلی یا نقص زدہ مال کا دے دیا جانا عام ہے، حالانکہ یہ کاروباری جرم ہے مگر عام ہے، لوگوں کو کال کر کے کہنا کہ آپ کا فلاں جگہ پلاٹ نکلا ہے، یا فلاں گیم شو میں آپ کے موبائل نمبر پر قرعہ اندازی کے ذریعہ کار نکلی ہے وغیرہ وغیرہ عام لوٹنے کے طریقے ہیں جن میں بکثرت جھوٹ بولا جاتا ہے، تاکہ لوگ جال میں پھنس جائیں اور اپنی مال و متاع سے ہاتھ دھو بیٹھیں۔
مندرجہ بالا روداد تو ہمارے معاشرے میں پنپ رہی عمومی بے قاعدگیوں کی تھی اب آ جاتے ہیں کارپوریٹ بزنس ورلڈ کی طرف۔ دنیا بھر میں عام طور پر اور خاص کر ہمارے ہاں یہ روش عام ہے کہ مالی معاونت فراہم کرنے والے ادارے جو کارپوریٹ سیکٹر کے ساتھ کاروبار کر رہے ہوتے ہیں عموماً مالی بے ضابطہ گی کے مرتکب ہو رہے ہوتے ہیں۔ وہ کاروبار کے حصول کے لئے عموماً کسی بھی حد تک جانے کو تیار رہتے ہیں اور اپنے کلائنٹ کے اعلی عہدیداروں یا فیصلہ سازوں کو رشوت دینے میں کوئی شرم کوئی عار محسوس نہیں کرتے ہیں اور نہ ہی اسی طرح کے دوسرے غیر اخلاقی کاموں کو برا سمجھتے ہیں۔
وہ یہ سمجھتے ہیں کہ بغیر رشوت دیے کاروبار کرنا ممکن ہی نہیں۔ اس مقصد کے لئے وہ ضرورتمند اور کم تعلیم یافتہ نوجوان لڑکے لڑکیوں کو اپنا شکار بناتے ہیں اور اپنے ادارے میں جز وقتی یا کل وقتی معاہدوں کی بنیاد پر بھرتی کرلیتے ہیں۔ اب چونکہ یہ ملازمین مستقل ملازمت پر نہیں ہوتے لہذا ویسے ہی ڈرے ہوئے اور خوداعتمادی کی کمی کا شکار ہوتے ہیں ایسے میں ان پر اہداف کے حصول کے لئے مسلسل دباؤ بنائے رکھا جاتا ہے۔ یہ اہداف عموماً ناقابل حصول ہوتے ہیں، جو ان ملازمین کے لئے بذات خود ایک بڑی درد سری ہوتی ہے، ساتھ ساتھ آجر ان کو مجبور کرتے ہیں (اکساتے ہیں ) کہ جو بھی کریں مگر اپنا ہدف پورا کریں اس کے لئے جو بھی غیراخلاقی طریقے اپنانے پڑیں اپنائیں مگر ہدف پورا ہونا چاہیے۔
ورنہ نوکری سے ہاتھ دھونا پڑیں گے۔ مسلسل دباؤ کے ذریعے ان لوگوں کو رشوت دینے اور ایسے ہی اور بہت سے گھناؤنے کام کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ عموماً یہ بیچارے کم تعلیم یافتہ اور ناتجربہ کار ملازمین مالک کے کاروباری بد اخلاقی کے مطالبے کے آگے ہتھیار ڈال دیتے ہیں اور محض نوکری بنائے رکھنے کے لئے وہ مسلسل کاروباری بداخلاقی کا حصہ بنے رہتے ہیں۔
دور حاضر کی زندگی بے شمار رونقوں، آسائشوں، اور جدید سہولتوں سے مزین ہے اور ان سب کے حصول کا واحد ذریعہ ہے پیسہ، اب ایسا کون ہو گا جو ان سب کے حصول کی خواہش سے اپنا دامن بچا سکے۔ لہذا کچھ لوگ حالات سے مجبور ہو کر اور کچھ محض حصول تعیشات کی خاطر ان تمام برائیوں میں مبتلا ہوتے چلے جاتے ہیں، آخر کار انجام ایک ہی ہوتا ہے یعنی حالات اور مالک کے اشاروں پر ناچنا اور اس کے ہر جائز ناجائز حکم کو بجا نا لانے کے لئے تیار رہنا۔ اس ضمن میں افسوسناک امر یہ ہے کہ اصل مالی فائدہ تو ان دولت مندوں کو ہی پہنچتا ہے جن کے پاس ذرائع ہوتے ہیں اور جو ان لوگوں کو اپنے مذموم مقاصد کے لئے استعمال کر رہے ہوتے ہیں، بدلے میں ان مجبوروں کو بہت تھوڑا سا حصہ تنخواہ کی شکل میں دے کر خوش کر دیا جاتا ہے۔
اس کار نارسا کا حتمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آجر یا مالک جب تک چاہتا ہے ان ملازمین کو اپنے مذموم مقاصد کے لئے استعمال کرتا ہے اور جب چاہتا ہے ان کی جگہ نئے ملازم رکھ کر ان کو فارغ کر دیتا ہے۔ اس طرح کی بے شمار افسوسناک مثالیں ابتدا میں جن کا تذکرہ کیا گیا، ہمارے اردگرد بکھری پڑی ہیں جو حقیقی صورتحال کی عکاسی کرتی ہیں۔ عام لوگوں کا ان فریبیوں کے جال میں آسانی سے پھنس جانے کی بڑی وجہ غربت اور ناخواندگی ہے، لوگ کچھ مجبوری کے ہاتھوں اور کچھ اچھے موقع کی امید پر با آسانی ان کے فریب میں پھنس جاتے ہیں اور اپنا سب کچھ گنوا بیٹھتے ہیں۔
المیہ یہ ہے کہ یہ فراڈیے، نوسر باز اور ٹھگ نہ تو پکڑے جاتے ہیں اور نہ ہی ان کو قرار واقعی سزا مل پاتی ہے۔ لہذا خوب دیدہ دلیری سے عوام کو لوٹا کھسوٹا جا رہا ہے، ارباب اختیار کی اپنی حالت اس ضمن میں کچھ واضح نہیں ہے، جانے کون سی رشتہ داری ہے کون سا ایسا تعلق ہے جس کی وجہ سے یہ جرائم پیشہ افراد سزا کے مستحق نہیں سمجھے جاتے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عوام کیا کرے، تو عوام کو اپنی مدد آپ کے تحت، فون پر انجان کالز سے ہمیشہ ہوشیار رہ کر بات کرنا ہے، اور جیسے ہی کوئی یہ کہے کہ میں فلاں آرمی افسر بات کر رہا ہوں اور آپ کا بینک اکاؤنٹ، بس اتنا سنتے ہی لائن کاٹ دیں کیونکہ فوجی کا بینک سے کیا کام، یا کوئی کہے کہ جی میں بینک کا فلاں افسر بات کر رہا ہوں اپنا پن نمبر بتائیں تو اپنی کوئی بھی معلومات نہ دیں، اگر کچھ شک ہو تو اپنے بینک برانچ میں جاکر متعلقہ افسر سے بات کریں مگر اپنی کسی بھی قسم کی معلومات فراہم نہ کریں۔
اگر ایس ایم ایس پر تفصیلات مانگے تو بھی نہ دیں، کسی کو ون ٹائم پن کوڈ نہ فراہم کریں، کسی بھی فراہم کردہ لنک پر کلک نہ کریں وغیرہ وغیرہ۔ اب آ جاتے ہیں ان نقلی پولیس افسران کی جانب تو بہتر ہے کہ اپنے اعصاب پر قابو رکھیں اور ان سے بات نہ کریں ورنہ وہ آپ کو گھیر لیں گے، کچھ دیر کے لئے اپنا نمبر بند کر دیں اور بعد میں اس نمبر کو نہ اٹھائیں تو وہ آپ کا پیچھا چھوڑ دے گا، یہ کچھ اس قسم کے فراڈ ہیں کہ اگر آپ کا مال آپ کے ہاتھ سے نکل کر فراڈی کی جیب میں چلا گیا تو پھر بہت مشکل ہے کہ آپ کو واپس مل سکے اور یہ ایسا معاملہ ہے جس میں شاید حکومت یا متعلقہ ادارے بھی کچھ زیادہ مدد نہ کر سکیں، لہذا یہ جنگ تو خود ہی لڑنی ہوگی اور معاشرے کے اس ناسور سے خود ہی نبرد آزما ہونا پڑے گا۔


