وکیل کا قتل


ماضی سب کو ہی کسی نہ کسی عمر میں ضرور ہانٹ کرتا ہے مگر جب عمر کا سورج جوانی کے عروج سے آگے بڑھ کر بڑھاپے کی ڈھلوان کا تیز سفر پکڑ لے تو ماضی تلاشنے کا عمل بھی اسی قدر تیز ہو جاتا ہے۔ آج سے 23 سال پہلے کا ایسا ہی ایک صفحہ ہے جو بارہا آنکھوں کے سامنے کھلا اور اظہار کا متقاضی ہوا مگر طبیعت کی تساہل پسندی اور قنوطیت آڑے آتی رہی مگر آج واقع کو آپ سے شیئر کرنے کی ایک وجہ درپیش آ گئی۔

ایف سی کالج لاہور کی لائبریری ہم دور افتادہ گاؤں سے لاہور اترے ہوئے لوگوں کے لئے ایک خزانہ تھا اور ہم بھی اس خزانے پر کنڈل مار کر بیٹھنے کو اپنا فخر سمجھتے تھے۔ جیسے ہی کوئی پیریڈ خالی ہوا، کلاس بنک کرنے کا موڈ بنا یا پریکٹیکل کے طویل تین پیریڈز کا خوف طبیعت میں در آیا تو بیگ اٹھایا لائبریری میں جا گھسے۔ کالج کے گراؤنڈز، وسیع و عریض لان اور کچھ بلاکس میں ماسٹرز کلاسز میں لڑکیوں کی موجودگی کبھی ہم کو اپنی طرف اس طرح متوجہ نہ کر پاتی جس طرح کی عافیت ہمیں لائبریری میں محسوس ہوتی۔ دوست احباب بھی جانتے تھے کہ ہم کلاس میں نہ موجود ہوئے تو کہاں ملیں گے۔

ایک چیز جو اس گوشہ عافیت میں بھی ہمیں پریشان کرتی وہ ہم جیسے اور درجنوں کتاب دوست ساتھیوں کی موجودگی تھی جس کی وجہ سے لائبریری میں بیٹھنے کی جگہ کم پڑ جاتی۔ اس کا البتہ فائدہ یہ ہوا کہ ہمیں کیٹلاگ دیکھنے کا وقت مل جاتا اور دو سالوں میں نوے ہزار کتابوں کی دعویدار لائبریری کا تقریباً سارا ہی کیٹلاگ کھنگال ڈالا۔ ادھر کوئی کتاب پسند آئی تو جھٹ سے پرچی لکھی اور کاؤنٹر پر جمع کروائی۔ اگلے دن کتاب دستیاب ہو جاتی یا ایشو اور گم ہونے کی صورت میں ہم پھر کیٹلاگ والی جنوبی دیوار سے چپک جاتے۔

میرے ساتھ سوات سے دوست طارق یعقوب بھی ہوتے تھے اور ہم دونوں نوائے وقت کے پھول کلیاں ایڈیشن میں کچھ نہ کچھ بھیجتے رہتے اور پھر ہفتہ بھر بدھ کا انتظار کرتے۔ بدھ کو لائبریری سے ہو کر کلاس میں جانا ہمارا معمول تھا۔ یہ وہ دن تھے جب نواز شریف کے خلاف مشرف طیارہ ہائی جیکنگ، اقدام قتل اور غداری کے مقدمات چل رہے تھے اور سیاسی افق پر شدید قسم کی سنسنی پھیلی ہوئی تھی۔ اخبارات و رسائل کی کاپیاں صبح صبح ہی ہاتھوں ہاتھ بک جاتی تھیں۔ اخبار بینی کی عادت کے باعث فرسٹ ائر کے نونہال ہونے کے باوجود بھی ہم لوگ بھی کسی وابستگی کے بغیر بھی سیاسی صورتحال سے آگاہ تھے۔

اس روز بھی لائبریری میں بہت رش تھا اور بیٹھنے کے لئے کرسی کی دستیابی کا کوئی چانس نظر نہیں آ رہا تھا۔ ٹیبل پر جہاں جہاں اخبار موجود تھے وہاں کرسیوں کے گرد کھڑے ہوئے اور جھکے ہوئے لڑکوں کا جمگھٹا لگا ہوا تھا۔ طارق کے ذہن میں جانے کیا شرارت آئی کہ اس نے ایک ایسے ہی جمگھٹے کے قریب ہو کر نسبتاً اونچی مگر پر تشویش آواز میں کہا

” اووووووہ! نواز شریف کے وکیل کا قتل؟

آواز میں بریکنگ نیوز والی سنسنی تھی جس کو بھانپتے ہوئے کئی لڑکے اپنی کرسیوں سے اٹھ کر اخبار والی کرسی کی طرف لپکے۔ طارق نے دبی مخصوص ہنسی کے ساتھ مجھے اشارہ کیا کہ آ جاؤ کرسیاں خالی ہو گئی ہیں۔ مجھے بعد میں علم ہوا کہ کرسی ایسی شرارتیں لائبریری اور سیاست دونوں میں معمول کی بات ہیں۔

ایسے ہی اگلے روز خراماں خراماں ہم لائبریری پہنچے۔ شاید پھول کلیاں ایڈیشن کا ہی دن تھا۔ نگاہیں نوائے وقت کی متلاشی تھیں اور وہ ہمیں مل تو گیا تو مگر ہیڈ لائن دیکھتے ہی اوسان خطا ہو گئے۔ بمشکل طارق یعقوب کے منہ سے نکل پایا

”نواز شریف کے وکیل کا قتل۔“

اچانک ہمیں لگا کہ سب ہمیں ہی دیکھ رہے ہیں مگر یہ دیکھنے کے لئے ہمارے پاس وقت نہیں تھا۔ آرام سے دم دباتے ہوئے لائبریری سے نکلے، کلاسوں کی فکر سے بڑی فکر میں مبتلا سیدھے گھروں کو روانہ ہو گئے۔ دو تین دن کی چھٹی کے بعد بھی ہمیں ایسا ہی لگتا کہ سب ہمیں دیکھ رہے ہیں۔ بات ابھی ختم نہیں ہوئی۔

آج کوئٹہ میں صبح کے وقت ائرپورٹ روڈ پر ایک وکیل عبدالرزاق شرر کا قتل ہوا ہے۔ یہ وکیل عمران خان کے خلاف غداری کیس میں نمائندگی کر رہے تھے۔ ابھی حکومت کے نمائندہ عطا تارڑ پریس کانفرنس کر رہے تھے اور فرما رہے تھے اس وکیل کے قتل کا پرچہ عمران خان پر درج ہو گا کیونکہ ان کے خلاف اس غداری کیس کا فیصلہ آنے والا تھا اور وکیل کا قتل اس کو روکنے کی سازش ہے۔

ربع صدی گزر گئی ہے، ہماری جگہ لائبریریوں میں ہماری نئی نسل بیٹھی ہے۔ اخبارات اسی طرح چھپ رہے ہیں، اس وقت کے غدار نواز شریف کی وطن واپسی کی خبریں ہیں اور ان کی جگہ پر ایک اور وزیر اعظم عمران خان پر غداری کا مقدمہ چل رہا ہے۔ کراچی کے وکیل مقتول اقبال راد کی جگہ کوئٹہ کے وکیل عبدالرزاق شر نے لے لی ہے۔

اب ہماری عمر بھی ڈھلوان پکڑ رہی ہے۔ ہمارے بزرگوں کی انکھوں کے خواب ہماری انکھوں سے انگلی نسل کو منتقل ہو رہے ہیں مگر یہ سب خواب تاحال تشنہ ہیں۔ اگلی نسل یہاں خواب دیکھنے کی بجائے اس ملک سے فرار ہونا چاہتی ہے۔ وہ اپنے خواب دوسرے ملکوں میں تلاش کر لیں گے مگر پیارا پاکستان تاریخ میں اپنے بکھرتے خواب کہاں تلاش کرے گا کیونکہ ارض وطن کو تو یہیں رہنا ہے۔

Facebook Comments HS