حقوق قبائل آل پارٹیز کانفرنس

خیبرپختونخوا کے سیاسی منظر نامے پر اگر اس وقت نظر دوڑائی جائے تو اکثر سیاسی جماعتیں یا تو حالات سے سمجھوتہ کر کے لمبی تان کر سو رہی ہیں اور یا پھر ملک اور صوبے کے حالات پر خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہی ہیں۔ مثلاً پی ڈی ایم میں شامل جماعتیں جہاں اقتدار کے مزے لوٹنے کے نتیجے میں عوام سے دور ہیں تو وہاں ان کی نالائقی اور کرتوتوں کی وجہ سے تاریخی مہنگائی کے باعث بھی یہ جماعتیں کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں ہیں جب کہ صوبے میں گزشتہ دس سال سے برسراقتدار رہنے والی پی ٹی آئی پر چونکہ 9 مئی کے سیاہ کارناموں کی وجہ سے زمین تنگ کردی گئی ہے لہٰذا وہ اور اس کی ساری صوبائی قیادت بھی منہ چھپاتی پھر رہی ہے۔
ایسے میں اگر کوئی جماعت عوام کی آواز اور ان کے جذبات کی ترجمانی کا حق ادا کر رہی ہے تو وہ جماعت اسلامی ہے۔ جماعت اسلامی نے اگر ایک طرف مالاکنڈ ڈویژن میں مجوزہ ٹیکسوں کے نفاذ کے خلاف محاذ گرم کر رکھا ہے تو دوسری جانب وہ زخم خوردہ قبائل کے زخموں پر مرہم رکھنے میں بھی کسی سے پیچھے نہیں ہے۔ دراصل قبائل کے ساتھ خیبرپختونخوا میں انضمام کے وقت جو وعدے کیے گئے تھے اور انضمام کے نتیجے میں انہیں جو سبز باغ دکھائے گئے تھے پانچ سال کا عرصہ گزرنے کے باوجود اس سمت میں متعلقہ اداروں کی جانب سے معمولی حرکت بھی نظر نہیں آتی ہے جس سے قبائل کی احساس محرومی کم ہونے کی بجائے اس میں دن بدن مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
اس سلسلے میں گزشتہ دنوں جماعت اسلامی کے صوبائی ہیڈ کوارٹر المرکز الاسلامی پشاور میں ایک حقوق قبائل آل پارٹیز کانفرنس منعقد کی گئی جس کی صدارت جماعت اسلامی خیبرپختونخوا کے امیر پروفیسر محمد ابراہیم خان نے کی جب کہ اس موقع پر تحریک حقوق قبائل کے چیئر مین شاہ فیصل آفریدی کے علاوہ مختلف سیاسی سماجی، تجارتی اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے قبائلی رہنما بڑی تعداد میں موجود تھے۔ اس بات میں کوئی دو آراء نہیں ہیں کہ قبائل نے ہر کڑے اور مشکل وقت میں پاکستان اور مقتدر اداروں کا پاکستان کے وسیع تر مفاد میں ساتھ دیا ہے لیکن آج قبائل کو ٹشو پیپر کی طرح استعمال کر کے پھینک دیا گیا ہے جس سے قبائل میں اضطراب بڑھتا جا رہا ہے جو کسی بھی وقت ایک بڑے آتش فشاں کی صورت میں پھٹ سکتا ہے۔
قبائل کے ساتھ ایک ہزار ارب روپے کے ترقیاتی پیکج، این ایف سی ایوارڈ میں حصہ اور قبائل کو باعزت روزگار کی فراہمی کے وعدوں کو پورا کرنے میں لیت و لعل سے کام لیا جا رہا ہے شاید یہ اسی صورتحال کا ادراک ہے کہ قبائلی اضلاع میں نمائندگی رکھنے والی تمام جماعتوں کو زیر بحث حقوق قبائل آل پارٹیز کانفرنس میں اپنے جماعتی اختلافات بالائے طاق رکھتے ہوئے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ اور دھرنے کی دھمکی دینی پڑی ہے۔
واضح رہے کہ اے پی سی کے جاری کردہ مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ( 1 ) ضم شدہ قبائلی اضلاع میں بدامنی بہت بڑا مسئلہ ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر ٹارگٹ کلنگ، قتل و غارت کے واقعات ہو رہے ہیں اور یوں لگ رہا ہے کہ یہاں پر جان بوجھ کر حالات خراب کیے جا رہے ہیں اس لیے ضروری ہے کہ قبائلی علاقوں میں امن و امان کو ترجیح اول کے طور لیا جائے اور قیام امن کے لئے عملی اقدامات اٹھائے جائیں۔ ( 2 ) انضمام سے پہلے قبائلی علاقوں کو ٹیکس فری زون قرار دیا گیا تھا۔
25 ویں آئینی ترمیم پاس ہوتے وقت حکومت نے 5 سال کے لیے قبائلی علاقوں اور مالاکنڈ کو ٹیکس سے استثنا دیا ہے لہٰذا جب تک قبائلی اضلاع کو ملک کے دیگر علاقوں کی سطح کی ترقی نہیں دی جاتی انہیں اس وقت تک ہر قسم کے ٹیکسز سے استثنا دیا جائے۔ ( 3 ) نئے ضم اضلاع میں بعض اضلاع کے انتظامی دفاتر اور عدالتیں اضلاع سے باہر ہیں، انہیں فوری اپنے اپنے ضلع میں منتقل کیا جائے۔ ( 4 ) حکومت فاٹا اصلاحات پر سرتاج عزیز کمیٹی کی سفارشات سے مختلف حیلے بہانے بنا کر بھاگ رہی ہے جو کہ قبائلیوں کی حق تلفی ہے حکومت فوری طور پر کمیٹی کے سفارشات پر من و عن عمل کرتے ہوئے سالانہ 100 ارب اور 10 سالوں میں 1000 ارب روپے دے کر اپنا وعدہ پورا کرے۔
( 5 ) قبائلی اضلاع کا قومی وسائل پر اتنا ہی حق ہے جتنا دوسرے صوبوں کا اس لیے این ایف سی ایوارڈ کا اعلان کردہ 3 فیصد حصہ قبائل کو جلد فراہم کیا جائے۔ ( 6 ) قبائلیوں کے حق رائے دہی کا احترام کرتے ہوئے قومی اسمبلی کی 12 اور صوبائی اسمبلی کی نشستوں کی تعداد 16 سے بڑھا کر 24 کی جائے۔ قبائلی اضلاع میں تعلیمی انقلاب لا کر غیر مثبت سرگرمیوں کو کچلا جاسکتا ہے، اس لیے ناگزیر ہے کہ ہر ضلع میں یونیورسٹیاں، کالجز اور سکولز بنائے جائیں اور تباہ شدہ انفراسٹرکچر کو بحال کیا جائے۔
( 7 ) قبائلیوں کا بھی حق ہے کہ دیگر پاکستانیوں کی طرح ان کو بھی صحت کی سہولیات گھر کی دہلیز پر میسر ہوں لیکن افسوس ناک امر یہ ہے کہ 20 ہزار مربع میل کے علاقے میں کوئی میڈیکل کالج اور بڑا ہسپتال نہیں ہے۔ لہٰذا فوری صحت کی سہولیات دینے کے لئے عملی اقدامات اٹھائے جائیں۔ ( 8 ) کھیلوں کو غیر مثبت سرگرمیوں کے خلاف بہترین ہتھیار قرار دیا جاتا ہے اور یہ روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ کرکٹ سمیت ہر گیم میں قبائلیوں نے اپنا لوہا منوایا ہے اس لیے قبائلی اضلاع کی ہر تحصیل کی سطح پر گراؤنڈ بنائے جائیں۔ ( 9 ) قبائلی اضلاع میں معطل شدہ خاصہ دار فورس کو بحال کیا جائے۔ ( 10 ) قبائلی اضلاع میں افغانستان کی طرف تمام تجارتی راستے کھول دیے جائیں اور یہاں سے قبائل کو روزگار کے لیے آزادانہ نقل حرکت کی اجازت دی جائے۔ #

