طیب اردوان اور ہماری سیاسی قیادت

شام کے سائے ڈھلتے ڈھلتے سارا سامان فروخت ہو چکا تھا، میں نے حساب لگایا تو پتہ چلا کہ میری دن بھر کی آمدنی ہمارے ایک دن کے اخراجات کے لیے ناکافی ہے، میں دکھی ہو گیا اور میں نے سوچا محنت کش کو اس کی محنت کا حق ملے گا کبھی؟ پھر میری آنکھیں بھر آئیں۔ میری آنکھوں کے سامنے پہلے میرے والد کی تصویر ابھری پھر کچھ دوسرے چہرے۔ میرے والد نے اپنی زندگی دفتر کو دے ڈالی تھی اور اب ان کے بال سفید اور جسم کمزور ہو چلا تھا لیکن ان کی زندگی بھر کی کمائی ہمارے لیے ناکافی تھی۔ پھر میری آنکھوں کے سامنے محمت کی شبیہ ابھری، قاسم پاشا کا نان بائی، زندہ دل اور یار باش لیکن رات کو گھر جانے سے پہلے اس کی ساری شوخی ہوا ہوجاتی کیوں کہ کام ختم کرنے کے بعد جب وہ غلے سے نکال کر لیرے گنتا تو سوچتا کہ اتنے تھوڑے پیسوں سے گھر کا خرچہ کیسے چلے گا؟
میری آنکھوں کے سامنے گلی صاف کرنے والے خاکروب، غلہ اگانے والے کسان، اسکول کے اساتذہ اور جانے کن کن لوگوں کی تصاویر ابھریں۔ میں نے سوچا کہ ان لوگوں کی قسمت شاید کبھی نہ بدلے پھر ایک جذبہ میرے دل کے نہاں خانے سے ابھرا اور میں نے سوچا کہ مایوسی کے اندھیروں میں بھٹکنا کیسا؟ یہ جھنڈا کیوں نہ میں خود ہی اٹھا لوں۔ میں نے یہ سوچا اور میری تھکن دور ہو گئی۔ اس روز رات کا کھانا میں نے بے دھیانی سے کھایا کیوں کہ قسمت بدلنے کے کئی منصوبے میرے ذہن میں کلبلا رہے تھے پھر سوچا:جو عزم میں نے کیا ہے، مستقل مزاجی اس کے لیے ضروری ہوگی۔ اپنے معمول کے مطابق میں اسکول جاتا اور ہر شام ساحل پر مزدوری بھی کرتا لیکن میرا ذہن ہمیشہ ایک ہی بات سوچتا کہ کب بدلے گی یہ دنیا؟ ”۔
طیب اردوان نے محنت مزدوری کے دوران جو خواب دیکھا، آنے والے برسوں میں اس کی تعبیر اپنے ہاتھوں سے تراشی اور ترکیہ کی تاریخ میں خود کو امر کر لیا۔ اردوان اپنے خلوص کی وجہ سے محبوب ترین راہنما بن کر ابھرے۔ اکیس سال گزر جانے کے باوجود پہلے دن کی طرح اپنی مقبولیت قائم رکھے ہوئے ہیں، یہ جدید اور جمہوری دنیا کا بالکل انوکھا واقعہ ہے۔ 27 مارچ 1994 ء کو استنبول کے مئیر کا انتخاب جیتنے کے بعد انہوں نے واپس مڑ کر نہ دیکھا اور 17 مسلسل کامیابیاں حاصل کیں، اپنی مقبولیت برقرار رکھتے ہوئے گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں اپنا نام درج کرایا۔
اردوان نے 2002 ءمیں اقتدار سنبھالا تو انہیں شدید مشکلات کا سامنا تھا، جمہوریت کے باوجود ان کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے اور پارلیمنٹ کے منظور کردہ کئی اہم فیصلوں کو سیکولر صدر احمد نجدت سیزر کی جانب سے ویٹو کر دیا جاتا، حتیٰ کہ اردوان کو اپنی پہلی کابینہ کی منظوری دس بار ویٹو کیے جانے کے بعد ملی تھی، صدر سیزر کسی بھی وزیر کا نام اس کے اہل خانہ کے ہیڈ اسکارف پہننے یا مذہبی جماعتوں سے تعلق کی وجہ سے ویٹو کر دیتے تھے، حتیٰ کہ وزیراعظم اردوان کی اہلیہ تک کو ہیڈ اسکارف پہننے کی وجہ سے کسی بھی سرکاری تقریب میں شرکت کی اجازت نہیں تھی۔
وزیراعظم ہونے کے باوجود کسی بھی شعبے کے سربراہ کو بدلنے تک کی اجازت نہ ہونے جیسی مشکلات سے انہیں بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا۔ انہوں نے صبر و تحمل سے حکومت جاری رکھی، ہاتھ بندھے ہونے کے باوجود ملک کو اقتصادی طور پر ترقی کی راہ پر گامزن کیا، اسی کامیابی نے ان کے لئے آئندہ انتخابات میں قومی اسمبلی میں پہلے سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے کی راہ ہموار کی۔
اردوان کا دوسرا دورحکومت ان کی زندگی کا سنہری دور تھا۔ اس دور میں انہیں صدر احمد نجدت سیزر کے ویٹو سے بھی نجات حاصل ہوئی اور ان کے دست راست عبداللہ گل صدر منتخب ہو گئے، یوں صدر اور وزیراعظم کی ہم آہنگی سے ملک نے دن دگنی رات چوگنی ترقی کی، ترک لیرے کی قدر میں اضافہ ہوا۔ طویل عرصے تک ترک لیرا مستحکم رہا اور ملک ترقی کی راہ پر چلتا رہا۔
28 اگست 2014 کو صدر عبداللہ گل کی مدت پوری ہونے پر اردوان صدر منتخب ہوئے۔ اسی دوران 15 جولائی 2016 ء کو فوج کے ایک حصے نے اردوان کا تختہ الٹنے کی ناکام کوشش کی۔ تاہم عوام نے ٹینکوں کے آگے لیٹ کر اور اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے اس بغاوت کو ناکام بنایا۔ ترکیہ دفاع کے معاملے میں تقریباً ًخود کفیل ہو چکا ہے بلکہ اس کے ڈرونز نے سپر طاقتوں تک کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے،
اردوان نے اقتدار سنبھالا تو ترکیہ مرد بیمار کہلاتا تھا وہ ترک معیشت کو چند سالوں میں 111 ویں نمبر سے 16 ویں نمبر پر لے آئے۔ آج ترکیہ جی 20 میں شامل ہے۔ اور فی کس سالانہ آمدن جو 3500 ڈالر تھی اب 13000 ڈالر ہے۔ بیروزگاری کی شرح 38 فیصد سے 2 فیصد پر لائی اور اربوں کا بجٹ خسارہ ختم کر کے اسے منافع بخش بنایا۔ ملکی خزانے میں 100 ارب ڈالر کا اضافہ کیا اور قومی پیداوار کو 1100 ارب ڈالر تک پہنچایا۔ 2017 میں آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک سمیت تمام بیرونی قرضوں سے نجات حاصل کی۔ اب ورلڈ بینک ترکیہ کا اربوں ڈالر کا مقروض ہے۔ 6 ارب ڈالر کی برآمدات 200 ارب ڈالر پر لے گئے، 190 ممالک میں ترک مصنوعات پہنچیں۔ پورے یورپ میں ترک گاڑیاں اور الیکٹرانکس استعمال ہو رہی ہیں۔ 3 ارب سے زائد ”پھل اور پھول دار“ درخت لگائے جس سے ترکیہ کی خوبصورتی بڑھی اور موسمیاتی تبدیلی سے بچاؤ کا انتظام ہوا۔
بہترین ڈرامے بنا کر دنیا کو اپنی شاندار تاریخ اور ملکی خوبصورتی سے متاثر کیا جس سے ”بیرونی سرمایہ کاری“ اور ”سیاحت“ کو فروغ ملا۔ امریکہ نے ”لیرے“ پر پابندی لگا کر اسے ڈالر کے مقابلے میں ”بے حیثیت“ کرنے کا منصوبہ بنایا تو ترک عوام نے اردوان کی اپیل پر نہ صرف ڈالر کا بائیکاٹ کیا بلکہ ہر اس چیز کو خریدنا بھی بند کر دیا جس کا تعلق ڈالر سے تھا، جس کے پاس جتنے ڈالر تھے مارکیٹ میں پھینک دیے۔ مارکیٹ میں کوئی ڈالر کا خریدار نہیں ملتا تھا، ۔
آج بھی ڈالر 20 لیرے کا ہے۔ اپنے دور میں 125 نئی یونیورسٹیاں، 190 کالجز اور 1 لاکھ 70 ہزار نئی کلاسز بنائیں تاکہ 1 کلاس میں صرف 21 طلباء ہوں۔ کالج اور یونیورسٹی کی تعلیم مفت کی۔ اساتذہ اور ڈاکٹرز کی تنخواہ برابر کی اور تعلیمی بجٹ 7.5 سے 34 ارب تک بڑھایا۔ ترقیاتی کاموں پر نظر ڈالیں تو 13500 کلومیٹر سڑکیں 1076 کلومیٹر ریلوے لائن بچھائی، نئی ٹرینیں چلائیں۔ قومی ائرلائن کو دنیا کی ساتویں ائرلائن بنایا 24 نئے ائرپورٹس تعمیر کرائے۔ 510 نئے ہسپتال 35000 ٹیکنالوجی لیب بنوائیں اور ہر شہری کا علاج مفت کیا۔
قوم نے بھی اس کا صلہ یوں دیا کہ ان کے خلاف ہونے والی ہر سازش کو ناکام بنایا، عوام نے اپنی عظمت رفتہ کو اردوان کے دور میں بحال ہوتے دیکھا، تو انہیں بار بار کامیابی سے ہمکنار کیا۔ اور اب مسلسل چھٹی بار حکمرانی دی ان کی جماعت لگ بھگ 21 سال سے اقتدار میں ہے۔ رجب طیب اردوان کا دور اقتدار تیسری دہائی میں داخل ہو گیا ہے۔
انتخاب کے حتمی مرحلے میں کامیابی کے بعد صدارتی محل سے عوام کے بڑے مجمعے سے خطاب کرتے ہوئے رجب طیب اردوان نے کہا کہ آپ نے ہمیں دوبارہ یہ ذمہ داری دی ہے، ہم سب مل کر اسے ترکیہ کی صدی بنائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج کوئی ہارا نہیں استنبول جیتا ہے، آج کا فاتح صرف اور صرف ترکیہ ہے، یہ فتح ترکیہ کے تمام ساڑھے 8 کروڑ باشندوں کی فتح ہے، یہ جمہوریت کی فتح ہے، آئندہ 5 سال کے لیے حکومت کی ذمہ داری سونپنے پر ہر ایک کا شکریہ۔ یہ وقت متحد اور اکٹھا ہونے کا ہے، اب یہ کام کرنے کا وقت ہے۔ عہدے کا حلف اٹھاتے ہوئے کہا کہ میں آئین و قانون اور جمہوری اقدار کی پاسداری کروں گا۔ کاش ہمارے سیاست دان اردوان کی طرح عوام کی خدمت کو اپنا شعار بنائیں تو انہیں اقتدار کے لیے بے ساکھیوں کا سہارا نہ لینا پڑے۔

