عدلیہ میں سنگل انٹری تعیناتی وقت کی ضرورت
انسانی حقوق کے عالمی منشور کے بنیادی مسودے پر اقوام متحدہ کے 48 ممبران نے 1948 میں دستخط کیے جن میں پاکستان بھی شامل تھا۔ اور دس دسمبر 1948 کو انسانی حقوق کے عالمی منشور کو تسلیم کیا گیا۔ اس لیے ہر سال دس دسمبر کو عالمی انسانی حقوق کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس بنیادی دستاویز میں کل تیس آرٹیکلز ہیں۔ جن میں آرٹیکل آٹھ میں کہا گیا ہے کہ ہر شخص کو ان افعال کے خلاف جو دستور یا قانون میں دیے ہوئے بنیادی حقوق کو تلف کرتے ہو یہ حق حاصل ہے کہ اس کا کیس ایک قابل اور اہل جج سنے اور اس کا فیصلہ کرے۔
با الفاظ دیگر یہ ایک عالمگیر بنیادی انسانی حق ہے کہ اگر کسی شخص کا کوئی تنازعہ ہو یا اس کے خلاف کسی جرم کا الزام ہو تو اس کا مقدمہ صرف قابل اور اہل جج ہی سماعت کر کے فیصلہ کرے گا۔ قابل اور اہل جج کا مطلب کیا ہے؟ سادہ الفاظ میں وہ جج جو مطلوبہ معیار پر پورا اترتا ہو، جج بنے کے قابل ہو اور اس کی تعلیمی قابلیت، تجربہ، فیصلہ سازی کا ہنر وغیرہ اتنا ہو کہ وہ جج بن کر درست فیصلے کرسکے۔ یعنی ہر بندے کی قابلیت جانچے بغیر اس کو جج لگانا شہریوں کو ان کے بنیادی حق سے محروم کرنے کے مترادف ہے۔
کیونکہ یہ تمام شہریوں کا عالمگیر بنیادی انسانی حق ہے اور پاکستان اس بنیادی عالمی انسانی حقوق کے منشور کا بانی ملک اور اس دستاویز کا دستخط کنندہ ہے۔ لہذا یہ پاکستانی ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ تمام شہریوں کو ان کے مسائل کے حل کے لیے اور کسی جرم میں ملوث ہونے پر سزا دینے کے لیے قابل اور اہل جج فراہم کرے۔ تاکہ ان کے ساتھ انصاف ہو اور جج کی ناقابلیت کی وجہ سے نا انصافی نہ ہو۔ مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ پاکستان میں عالمی انسانی حقوق کے منشور کے آرٹیکل آٹھ پر عمل درآمد نہیں ہو رہا۔ کیونکہ یہاں پر ججز کی تعیناتی کا طریقہ کار درست نہیں۔
آپ کسی شخص کو اگر یہ کہہ دیں کہ ہائی کورٹ کے جج بننے کے لیے نہ کوئی امتحان دینا پڑتا ہے، نہ کوئی ٹیسٹ، نہ کوئی انٹرویو، نہ کوئی مقابلے کا امتحان، نہ پبلک سروس کمیشن کے ذریعے کوئی امتحان نہ این ٹی ایس وغیرہ کے ذریعے کوئی امتحان تو وہ یہ بات تسلیم نہیں کرے گا۔ جی ہاں عدلیہ میں ایسا ہی ہے۔ ہمارے ہاں عدلیہ دو اقسام میں تقسیم ہے۔ آئینی عدلیہ یعنی ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ۔ قانونی عدلیہ یعنی ضلعی عدلیہ جن میں چار قسم کے ججز تعینات ہیں۔
سول جج/جوڈیشل مجسٹریٹ، سینیر سول جج، ایڈیشنل سیشن جج اور ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج۔ سول جج پبلک سروس کمیشن کے ذریعے مقابلے کا امتحان پاس کر کے آتا اور پھر ترقی کر کے سینیر سول جج، پھر ایڈیشنل سیشن جج اور ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج بن جاتا ہے۔ لیکن اس کے درمیان میں ایڈیشنل سیشن کے لیول پر بھی براہ راست تعیناتی ہوتی ہے۔ یعنی 2 / 3 سینئر سول ججز پروموٹ ہو کر ایڈیشنل سیشن جج بن جاتے ہیں۔ اور باقی 1 / 3 وکلاء کوٹے پر آتے ہیں جو ہائی کورٹ خود امتحان لے کر تعیناتی کرتی ہے۔
عجیب بات یہ ہے کہ سول جج کا امتحان فیل کرنے والے بعد میں ایڈیشنل سیشن جج بن جاتے ہیں کیونکہ وہ امتحان سول ججز کے امتحان کی طرح سخت نہیں ہوتا۔ اور ایڈیشنل سیشن جج کا امتحان فیل کر کے وہی وکیل ہائی کورٹ کا جج بن جاتا ہے کیونکہ وہاں پر کوئی امتحان دینا نہیں پڑتا۔ بس آپ وکیل ہیں آپ کی عمر 45 سال ہیں اور آپ کا متعلقہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے ممبران کے ساتھ تعلق ہے تو آپ ہائی کورٹ کے جج بن سکتے ہیں۔
یعنی نہ کوئی ٹیسٹ اور نہ کوئی انٹرویو۔ اب ایک وکیل صاحب بیس سال پریکٹس کرتا رہا ہو۔ اس کا کسی نہ کسی سیاسی پارٹی سے وابستگی بھی ہوگی اور بیس سال میں اس کا ایک مخصوص مائنڈ سیٹ بن جاتا ہے۔ اور پھر جب وہ یک دم ہائی کورٹ کا جج بن جاتا ہے جس کے پاس لامحدود آئینی اختیارات ہوتے ہیں تو پھر آپ سمجھ سکتے ہیں کہ کس قسم کے فیصلے ہوں گے ۔ جب آپ کے پاس ڈسٹرکٹ جج کی صورت میں ایک جج موجود ہے جس نے بیس سال بطور جج کام کیا ہے اور دوسری طرف ایک وکیل جس نے بیس سال بطور وکیل کام کیا ہے تو جج بننے کا سب سے اہل بندہ کون ہو گا؟
عقل سلیم کے مطابق جج بننے کے لیے جج کا تجربہ زیادہ موزوں ہے نہ کہ وکیل کا۔ لیکن وکلاء کے براہ راست تعیناتی کے پیچھے بھی طاقتور حلقوں کا ہاتھ ہے تاکہ اپنی مرضی اور اپنے ہم خیال وکیل کو ہائی کورٹ میں تعینات کیا جا سکے۔ اب وہ وکیل جو ڈسٹرکٹ جج کے سامنے پیش ہوتا ہے وہ اچانک سے اسی ڈسٹرکٹ جج کا باس بن جاتا ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ ایڈیشنل سیشن جج گریڈ 20 کی آسامی کے لیے اعلی معیار کا امتحان ہو اور مزید سخت امتحان ہو تاکہ قابل ترین امیدوار منتخب ہو۔
کیونکہ ایڈیشنل سیشن جج کی پوسٹ ڈسٹرکٹ عدلیہ میں ایک نہایت اہم پوسٹ ہے جس کے پاس وسیع اختیارات ہیں یہاں تک کہ پھانسی کی سزاء تک سنا سکتا ہے۔ اگرچہ اس دفعہ پشاور ہائی کورٹ نے شہریوں کے بنیادی انسانی حق کا خیال کرتے ہوئے کسی قسم کا پریشر قبول نہیں کیا اور فیل شدہ امیدواروں کو طے شدہ پیمانہ کم کر کے پاس کرنے سے گریز کر کے نتیجہ جاری کیا۔ اس کے بعد ہونا یہ چاہیے تھا کہ جب وکلاء کو موقع دیا گیا اور وہ سب کے سب فیل ہو گئے تو اب مذکورہ آسامیاں کیڈر کے ججز کو دینا چاہیے تھے جو پبلک سروس کمیشن کے ذریعے آئے ہیں اور جن کو بطور جج کام کرتے دس سے پندرہ سال کا عرصہ ہو چکا ہے۔
لیکن وہی آسامیاں پھر سے وکلاء کو دیے گئے۔ ایک دفعہ موقع دینے کے بعد وکلاء کو پھر سے موقع دینا درست نہیں۔ لیکن ہائی کورٹ نے وکلاء کے پریشر کی وجہ سے مذکورہ 26 آسامیاں دوبارہ بذریعہ اشتہار شائع کردی جس پر حال ہی میں سکریننگ ٹیسٹ ہو گیا ہے اور تحریری امتحان ہونے جا رہا ہے۔ لیکن عدلیہ میں براہ راست انڈکشن کے کافی نقصانات سامنے آرہے۔
عدلیہ میں دو جگہوں پر براہ راست انڈکشن ہوتی ہے۔ ایک ایڈیشنل سیشن جج کے لیول پر اور دوسرا ہائی کورٹ میں براہ راست تعیناتی جس کا ذکر اوپر ہو چکا ہے۔ وکلاء سمجھتے ہیں کہ یہ وکلاء کا کوٹہ ہے۔ لیکن اس کوٹے کا کوئی معقول جواز نظر نہیں آتا۔ تاہم جہاں تک وکلاء کوٹہ کا سوال ہے تو اصل بات تو یہ ہے کہ تمام ججز وکلاء ہی سے آتے ہیں۔ کسی اور جگہ سے کوئی جج بننے کے لیے نہیں آتا۔ سول ججز کی تعیناتی پبلک سروس کمیشن کے ذریعے ہوتی ہے۔
جس کے لیے دو سال وکالت کی شرط ہے یعنی صرف وکیل ہی اپلائی کرے گا۔ مطلب تمام ججز وکلاء ہی سے آتے ہیں۔ تو پھر ایڈیشنل سیشن جج لیول پر وکلاء کے کوٹے کا کیا تک بنتا ہے؟ دوسری بات یہ ہے کہ جب جوڈیشری کے پاس پندرہ سے سترہ سال تجربہ رکھنے والا سینیر سول جج موجود ہے جس کا بطور جج تجربہ ہے، وہ سول جج رہا ہے، جوڈیشل مجسٹریٹ رہا ہے، رینٹ کنٹرولر رہا ہے، فیملی جج رہا ہے اور پیچیدہ تنازعات کا فیصلہ کرچکا ہے۔ کئی ضلعوں میں تعینات رہ کر تجربہ حاصل کرچکا ہے۔
تو وکلاء سے براہ راست ایڈیشنل سیشن جج کا انتخاب کرنا بے معنی اور غیر ضروری ہے۔ کیونکہ جج کے انتخاب کے لیے وکیل کے تجربے سے زیادہ جج کا تجربہ زیادہ موزوں اور متعلقہ ہے۔ تیسری بات یہ ہے کہ جوڈیشری میں سینیر سول ججز وقت گزرنے کے ساتھ سینئر ہونے کے بجائے جونئیر ہوتے جاتے ہیں۔ کیونکہ ڈائرکٹ آنے والے سینئر ہو جاتے ہیں اور یہ بیچارے جونئیر ہوتے جاتے ہیں وہ وکلاء جو ان کے سامنے بطور وکیل پیش ہوتے ہیں بعد میں ان ہی ججز کے سینئر بن جاتے ہیں۔ جو کہ ایک عجیب و غریب رشتے کو جنم لیتا ہے۔ یہ کون سے محکمے میں ہوتا ہے کہ تجربہ اور نوکری بڑھنے کے ساتھ آپ جونئیر ہوجائیں سوائے جوڈیشری کے؟
چھ سات سال کا ڈائرکٹ منتخب شدہ اے ڈی جے صاحب جلدی سے ڈسٹرکٹ جج بن جاتا ہے جبکہ بیس سال تجربہ رکھنے والا جج مشکل سے بیس سال میں اے ڈی جے بن جاتا ہے جو کہ نا انصافی ہے۔ ججز کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ براہ راست تعیناتی ہے۔ اگر جوڈیشل افسران کے سینیارٹی لسٹ کو دیکھا جائے تو وہاں پر یہ نا انصافی واضح نظر آتی ہے کہ کس طرح بیس سال کا جج ڈسٹرکٹ جج نہیں بنتا جبکہ ڈائرکٹ اے ڈی جے صاحب صرف چھ سے آٹھ سال میں ڈسٹرکٹ جج بن جاتا ہے۔
چوتھی بات یہ ہے کہ یہ ہر انسان کا بنیادی حق ہے کہ وہ اپنی مرضی کے ساتھ اپنے پیشے کا انتخاب کرے۔ اگر کوئی وکیل جج بننا چاہتا ہے تو اس کے پاس سول جج کے امتحان میں تین دفعہ بیٹھنے کا موقع ہوتا ہے۔ اگر وہ تین دفعہ میں بھی امتحان پاس نہ کرسکے تو پھر اس کو وکالت ہی کرنی چاہیے۔ پانچویں بات ہے کہ اول تو اے ڈی جے لیول پر براہ راست تعیناتی کا کوئی کوٹہ ہی نہیں ہونا چاہیے جب جوڈیشری میں پہلے ہی سے پندرہ سالہ سینئر سول جج موجود ہو۔
اگر پھر بھی براہ راست تعیناتی کسی مضبوط دلیل کے ساتھ ضروری ہو تو پھر سول جج اور سینئر سول جج کو بھی اے ڈی جے امتحان میں بیٹھنے کی اجازت ملنی چاہیے۔ یہ بہت زیادتی ہے کہ اے ڈی جے کے امتحان میں وکیل تو اپلائی کر سکتا ہے لیکن سول جج اپلائی نہیں کر سکتا۔ چھٹی بات یہ ہے کہ براہ راست تعیناتی سے جوڈیشری کے اندر فیصلوں میں کافی تضاد پیدا ہوتا ہے۔ جس کا اثر براہ راست عوام اور انصاف کے نظام پر ہوتا ہے۔ اگر ایک ہی امتحان اور ایک ہی طریقہ کار کے ساتھ اور ایک ہی ٹریننگ سے گزر کر، سنگل انٹری طریقہ کار کے تحت ججز کا انتخاب ہو تو فیصلوں میں تضاد ختم کیا جاسکتا ہے۔
جبکہ کیڈر اور ڈائرکٹ ججز کے درمیان خاموش سرد جنگ کا خاتمہ بھی سنگل انٹری تعیناتی سے ہو سکتا ہے۔ جس طرح باقی محکموں میں افسر تعینات ہوتا ہے تو وقت کے ساتھ وہ ترقی کر کے آگے جاتا ہے۔ سیکنڈ لیفٹیننٹ سے جنرل اور چیف آف آرمی سٹاپ اور اسسٹنٹ کمشنر سے چیف سیکٹری اور اے ایس پی سے ڈی آئینی جی بنتا ہے۔ اس طرح جوڈیشری میں بھی سنگل انٹری تعیناتی ہونی چاہیے کہ سول جج سے ترقی کرتے ہوئے وہ ڈسٹرکٹ جج اور پھر ہائی کورٹ کا جج اور پھر سپریم کورٹ کا جج بنے۔
مگر اس حوالے سے پشاور ہائی کورٹ ایسوسی ایشن کے صدر طارق آفریدی کا موقف تھا کہ سول جج یا سیشن جج سے ترقی کرنے والے ججز صاحبان کو صرف قانونی معاملات اور روزمرہ کے معاملات کا تجربہ ہوتا ہے وہ آئین سے نا بلد ہوتے ہیں جبکہ اعلی عدلیہ کا اہم کام آئین کی تشریح کرنا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ جوڈیشل کمیشن نظام کے تحت تعیناتیوں میں مسائل سامنے آرہے ہیں۔ اور میرٹ کی خلاف ورزیوں کی شکایات میں وزن ہے۔ حالانکہ اس سے پہلے والا نظام جس میں گورنر، وزیر اعلی اور چیف جسٹس ہائی کورٹ مشاورت سے تعیناتیاں کرتے وہ زیادہ بہتر تھا انھوں نے کئی غیر جانبدار اور کامیاب ججز کے حوالے دیے جو سابقہ نظام کے تحت براہ راست جج بنے ہوئے تھے مگر نام کما کر رخصت ہوئے۔
اس لیے عدلیہ میں بنیادی اصلاحات کی ضرورت ہے کہ عدلیہ میں صرف سنگل انٹری تعیناتی ہو اور سول جج ترقی کر کے ہائی کورٹ کا جج بنے تو فیصلوں میں تضاد ختم ہو سکتا ہے۔ سول جج 25 / 26 سال میں تعینات ہوتا ہے اور اس کے بعد اس کا کسی سیاسی جماعت سے تعلق نہیں رہتا بلکہ اپنے آبائی ضلع سے دور اس کی پوسٹنگ ہوتی ہے اور آہستہ آہستہ وہ معاشرے سے کٹ جاتا ہے جبکہ دوسری طرف بیس سال وکالت کرنے والا وکیل آزادانہ زندگی گزارتا ہے۔
سیاست کرتا ہے الیکشن لڑتا ہے سیاسی پارٹی سے وابستگی رکھتا ہے اور پھر اچانک ہائی کورٹ اور اس کے بعد سپریم کورٹ کا جج بن جاتا ہے۔ اس صورت میں بیس سال اس کا مائنڈ سیٹ جس طرح بنا ہو گا اسی طرح کے فیصلے کرے گا۔ جبکہ بیس سال بطور جج کام کرنے والے جج کے پاس فیصلہ سازی کا بہتر تجربہ ہو گا جو اس کو جج بننے کے لیے موزوں امیدوار بناتا ہے۔ البتہ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں پروموشن کے لئے انہیں ایک مکمل آئینی امتحان سے گزارنا ضروری ہے تاکہ انہیں آئین پر عبور ہو اور ان کی وسعت نظری میں اضافہ ہو۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ عدلیہ کے وقار کو بحال کرنے اعلی عدلیہ کو سیاست سے پاک کرنے کے لیے آئینی ترمیم کی جائے۔ اور عدلیہ میں بھی باقی محکموں کی طرح سنگل انٹری تعیناتی کا طریقہ رائج کیا جائے۔ کیونکہ یہی عدلیہ کو غیر جانبدار بنانے اور سیاست سے پاک کرنے کا واحد طریقہ ہے


