طلاق کا حق تفویض کیا گیا


نکاح سنت رسول بھی ہے اور حکم ربی بھی۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم میں بارہا اس کے متعلق احکام آتے ہیں۔ نکاح کی شرائط میں ولی کی رضامندی، دو گواہان، ایجاب و قبول اور مہر شامل ہیں۔ پاکستان میں نکاح نامے کی 25 شقیں ہیں۔ جن میں پندرہ سے لے کر بائیس تک کراس لگا دیا جاتا ہے۔ اور مہر بھی بیشتر لوگ شرعی مقرر کرتے ہیں جس کی مقدار ساڑھے بتیس روپے ہوتی ہے۔ حالانکہ شرعا مہر کی کوئی حد مقرر نہیں۔ قرآن کریم میں لکھا ہے کہ اگر تم پہاڑ برابر سونا بھی انہیں ( بیوی) کو دے چکے ہو تو کچھ واپس نہ لو۔ نبی کریم ﷺ نے کھجور کی گھٹلی کے برابر سونے سے لے کر بیس اونٹ تک مہر ادا کیا ہے۔ اس لیے مہر بیوی کی قابلیت، خوبصورتی، دین کے علم اور خاندان کی روایت اور شوہر کی استطاعت کے مطابق طے کیا جانا چاہیے۔

میرا موضوع مہر نہیں اس لیے اس کے بارے میں تفصیل نہیں لکھوں گی۔ بلکہ آج نکاح نامے کی ان پندرہ سے بائیس نمبر تک کی شقوں کا ذکر کرنا چاہتی ہوں جن میں دلہن کی طرف سے طلاق کی صورت میں کوئی شرائط لکھی جا سکتی ہیں، شوہر کو دوسری شادی کی اجازت دینے کی شرائط لکھی جا سکتی ہیں، مہر کی صورت میں زمین جائیداد وغیرہ لکھی جا سکتی ہیں۔ نان نفقہ یعنی پاکٹ منی لکھی جا سکتی ہے اور سب سے اہم شرائط 17۔ 18 ہیں۔ جن میں یہ طے کیا جا سکتا ہے کہ اگر شوہر طلاق کا حق استعمال کرتا ہے تو بیوی کو کچھ رقم جائیداد وغیرہ دینے کا پابند ہو گا یا جو کچھ وہ اسے دے چکا ہے اس کا مطالبہ نہیں کرے گا۔ ور بچوں کی کسٹڈی اسے دے دے گا۔ اور یہ کہ بیوی کو طلاق کا حق تفویض کیا گیا ہے۔

ہمارے معاشرے میں ایک برائی یہ ہے کہ جب کبھی بیٹی کے والدین مہر اور ان شقوں کے بارے میں بات کرتے ہیں تو انہیں سننے کو ملتا ہے : ”آپ تو شادی سے پہلے ہی طلاق کا سوچے بیٹھے ہیں۔“ حالانکہ یہ حقوق اللہ تعالٰی نے عورت کو عطا فرمائے ہیں۔ مہر نکاح کے وقت بھی ادا کیا جا سکتا ہے اور بعد میں بھی۔ لیکن ہمارے ہاں صرف طلاق کی صورت میں دیا جاتا ہے ورنہ زبردستی معاف کروا لیا جاتا ہے۔

طلاق کا حق تفویض کرنے کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ والدین یا لڑکی شادی کے بعد طلاق لینا چاہتی ہے بلکہ یہ خلع کا حق ہے جسے وہ کبھی بھی استعمال کر سکتی ہے۔ خصوصاً اس صورت میں جب شوہر اس کا اور بچوں کا نان نفقہ نہ دے، اس پر تشدد کرے یا کوئی بھی اور مسئلہ ہو جس کی وجہ سے رشتہ برقرار رکھنا ممکن نہ رہے۔

اگر یہ حق تفویض کیا گیا ہو تو سب سے بڑی آسانی ان عورتوں کے لیے ہو جاتی ہے۔ جن کے شوہر انہیں زبانی طلاق دیتے ہیں اور تنگ کرنے کے لیے لکھی ہوئی طلاق نہیں دیتے۔ وہ جب کورٹ جاتی ہیں تو کئی کئی سال تک طلاق کے لیے لڑتی ہیں۔ پیسہ اور وقت دونوں کا ضیاع ہوتا ہے۔ اور ذلت و خواری الگ۔ کیونکہ شوہر یا تو پیشیوں پر آتا ہی نہیں اور اس کا وکیل تاریخ پہ تاریخ لیتا رہتا ہے یا اگر آ بھی جائے تو طلاق دینے سے مکر جاتا ہے۔ اور عورت کچھ نہیں کر سکتی۔

ایڈوکیٹ راحیلہ خان کے مطابق اگر ایسی صورت ہو اور نکاح نامے میں طلاق کا حق تفویض کیا گیا ہو تو عورت کسی وکیل سے طلاق نامہ بنوا کر اس شق کا ذکر کر کے خلع لے سکتی ہے۔ اسے نہ تو کوئی کورٹ کیس کرنا پڑتا ہے نہ ہی خواری اٹھانی پڑتی ہے۔ وکیل طلاق نامہ شوہر کو بھیج دیتا ہے اور طلاق ہو جاتی ہے۔ شوہر اس کو چیلنج نہیں کر سکتا کیونکہ وہ خود یہ حق بیوی کو دے چکا ہوتا ہے۔ دوسری صورت میں بیوی کو خلع کا کیس کرنا پڑتا ہے تاکہ آسانی سے اور جلد طلاق لے سکے۔

اس لیے میری والدین سے التماس ہے کہ اپنی بیٹی کے نکاح نامے میں تمام شقیں لکھوایے ان پر کراس لگا کر یہ ثابت کرنے کی کوشش مت کیجئے کہ ہمیں کچھ نہیں چاہیے بس بیٹی کا گھر بسا رہے کافی ہے۔

بیٹی کا گھر بسنا یانہ بسنا اس کے بارے میں ہم کچھ نہیں جانتے کیونکہ ہم غیب کا علم نہیں رکھتے۔ مگر تدبیر اختیار کرنے کا حکم قرآن پاک میں بھی ہے اور سنت میں بھی: اکل و توکل۔ پہلے باندھو پھر توکل کرو۔ جو حقوق اللہ تعالٰی نے آپ کی بیٹی کو دیے ہیں انہیں آپ یا کوئی اور شخص چھین نہیں سکتا۔

میں نے ایسے ایسے کیسز دیکھے ہیں کہ ایک بے حد پیار کرنے والا پڑھا لکھا امیر کپل جس کی شادی کو کئی دہائیاں گزر چکی ہیں ان میں بھی کسی وجہ سے طلاق ہو جاتی ہے۔ تشدد، جہیز کا لالچ، نشہ، عورتوں سے تعلقات، سسرالی مداخلت اور دیگر مسائل بھی طلاق کی وجہ بن سکتے ہیں۔ اس لیے یہ حق ضرور لکھوایے۔

ہمارے ایک ہمسائے نے جب بیٹی کی شادی کی تو جو کچھ جہیز میں دیا تھا اس کی لسٹ بنا کر ساری رسیدیں اس لسٹ کے ساتھ لگائیں اور دلہا اور اس کے والد سے اس پر دستخط کروا کے اپنے پاس محفوظ کر لیا۔ جب میں نے ان کی بیگم سے پوچھا کہ ایسا کیوں کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ یہ ہمارے خاندان کی روایت ہے خواہ اپنے خاندان میں شادی ہو یا باہر ہم یہ لسٹ سائن کروا کر محفوظ کر لیتے ہیں کہ اگر خدانخواستہ طلاق ہو جائے تو ثبوت ہو کہ کیا کچھ ہم نے دیا تھا۔ مجھے یہ سن کر بہت اچھا لگا۔ کیونکہ ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ طلاق کی صورت میں لڑکی کو جہیز کی ایک چیز بھی ملے۔ سسرال والے اس سے بچے بھی چھین لیتے ہیں۔ اگر سولہ سے انیس تک کی شقوں میں یہ سب باتیں لکھ لی جائیں تو کورٹ تک جانے کی نوبت ہی نہیں آئے گی۔

Facebook Comments HS