ضرورت سے زیادہ اعتماد


خود اعتمادی ایک صفت، ایک خوبی ہے جس میں بھی ہو اس کے لیے آگے بڑھنا آسان ہوتا ہے اس کی شخصیت کو چار چاند لگ جاتے ہیں۔ لیکن حد سے زیادہ اعتماد بلکہ ضرورت سے زیادہ اعتماد خوبی نہیں رہتا بلکہ ایک کمی بن جاتا ہے جب آپ اس کا شکار ہو جائیں تو آپ سمجھیں کاؤنٹ ڈاؤن شروع ہو گیا ہے۔

اس کی بھی یہی خامی تھی وہ حد سے زیادہ اعتماد کا شکار ہو چکا تھا وہ کسی کی سننا تک گوارا نہیں کرتا تھا اسے لگ رہا تھا جو وہ کہہ رہا ہے وہ حرف آخر ہے۔ لیکن ایسا نہیں تھا ہم انسان ہیں، انسان کبھی حرف آخر ہو ہی نہیں سکتا وقت بدلنے میں اتنی دیر لگتی ہے جتنی پلک جھپکنے میں، حرف آخر صرف ایک ہی ذات ہے، وہ تھی، ہے اور رہے گی۔

لیکن وہ نہیں سمجھ سکا وہ غلط فہمی میں تھا وہ سمجھ رہا تھا کہ وہ آخری ہے اس کے بعد قیامت ہے۔ حقیقت میں ایسا ہوتا ہی نہیں ہے ہمیں بظاہر صرف ایسا لگ رہا ہوتا ہے لیکن وہ برے وہم میں مبتلا ہو چکا تھا۔ حد سے زیادہ غلطیاں کر رہا تھا ایسی غلطیاں جہاں غلطیوں کو بھی غلط لگنے لگے۔ لیکن اسے کوئی غلطی، غلطی لگ ہی نہیں رہی تھی کیونکہ اس کے دماغ پہ ضرورت سے زیادہ اعتماد کا غلاف لپٹ چکا تھا۔ اسے یہ لگنے لگا تھا کہ اگر اس کو کبھی کوئی کانٹا بھی چبھا تو اس درخت کی نسل کو بھی ختم ہونا ہو گا جو اس کانٹے کا سبب بنا۔ بد قسمتی سے یہ سب بظاہر ایسا لگ رہا تھا لیکن اصل میں ایسا کچھ تھا ہی نہیں۔

ایک سمجھدار انسان گرم ہواؤں کی تپش کو محسوس کر لیتا ہے لیکن اسے گرم ہوائیں بھی ٹھنڈی محسوس ہو رہی تھیں اور یہی خامی بنیادوں کو کمزور کر رہی تھی لیکن اس کو محسوس نہیں ہو رہا تھا کیونکہ وہ ایک عجیب سے خوش فہمی میں مبتلا تھا، ایسی خوش فہمی جو بھیانک نتائج کو دعوت دے رہی تھی۔

ضرورت سے زیادہ اعتماد کی یہی تو برائی ہے جو ہمیں لگ رہا ہوتا ہے ویسا ہوتا نہیں ہے اور جیسا ہوتا ہے ویسا ہمیں لگ نہیں رہا ہوتا۔ اس ایک خامی نے اس کی باقی صلاحیتوں کو مار دیا تھا نہیں تو عمومی طور پہ ایک سمجھدار انسان وقت پہ حالات کو بھانپ لیتا ہے اور فیصلے وقت کے مطابق لینے لگتا ہے تاکہ حالات کو اپنے ہاتھ میں رکھا جا سکے۔ لیکن جب حالات کو وہاں تک پہنچا دیا جائے جہاں سے لوٹنا ناممکن ہو تو پھر ہاتھ ملنے کے سوا کوئی انتخاب نہیں بچتا۔

فی الحال اس کے پاس بھی اس کے علاوہ کوئی انتخاب نہیں۔ مستقبل قریب یا بعید میں کچھ بھی ہو سکتا کیونکہ یہاں کردار بدلنے میں دیر نہیں لگتی۔ ہم بھی اب کرداروں کے عادی ہو چکے ہیں ہمیں بھی اب کہانی سے کوئی واسطہ نہیں رہا کیونکہ ہم خودی کے اس مقام تک پہنچ ہی نہیں پائے جہاں خدا بندے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے۔

Facebook Comments HS

One thought on “ضرورت سے زیادہ اعتماد

  • 11/06/2023 at 10:28 شام
    Permalink

    جسرا صاحب بالکل صحیح آکھیا ای

Comments are closed.