ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے

1857 کی جنگ آزادی کی ناکامی کے بعد انگریزوں نے ہندوستانی عوام پر بالعموم اور مسلمانوں پر بالخصوص ریاستی ظلم و ستم اور بربریت کا بازار گرم کر دیا۔ انگریزوں کا مسلمانوں کے ساتھ یہ ناروا سلوک ان کی اس ذہنی سوچ اور خوف کا مظہر تھا جس کے تحت وہ مسلمانوں کو حکومت سے بے دخل کرنے کے بعد اس حد تک کمزور کرنا چاہتے تھے کہ وہ کسی قسم کی سرکشی یا بغاوت کا سوچ بھی نہ سکیں۔
ریاستی ظلم و تشدد اور لاقانونیت کی اس فضا میں ضرورت اس امر کی تھی کہ انگریز سرکار کو عوام الناس بالخصوص مسلمانوں سے گفتگو کے لئے نہ صرف آمادہ کیا جائے بلکہ ان کو یہ بھی باور کرایا جائے کہ وہ ان تمام زمینی حقائق کا بغور جائزہ لیں جن کے تحت بقول ان کے ہندوستانی عوام نے سرکشی کی راہ اختیار کی تھی۔ لیکن انگریز حکمرانوں کی ممکنہ ناراضگی کے سبب کوئی ہندوستانی رہنما اس کام کے لیے تیار نہ تھا۔ اس تمام تر صورتحال میں برصغیر کے مشہور دانشور سرسید احمد خان نے اس اہم کام کا بیڑا اٹھایا۔ انہوں نے اپنے دوستوں کی بھرپور مخالفت کے باوجود 1859 میں اپنا مشہور زمانہ کتابچہ اسباب بغاوت ہند کے نام سے تحریر فرمایا۔
اس کتابچے کے ذریعے سرسید نے انگریز سرکار کی توجہ ان تمام اہم محرکات کی طرف مبذول کرائی جن کے تحت ہندوستانی عوام بالخصوص مسلمانوں نے بغاوت کی راہ اپنائی۔ سرسید نے اس کتابچے میں پانچ اہم نکات اٹھائے جن میں انگریز فوج کی طرف سے گائے اور سور کی چربی پر مشتمل کارتوس کا اجراء اور ان کا جبرا استعمال، ایسٹ انڈیا کمپنی کی طرف سے ہندوستان کے طول و عرض میں جارحانہ پیش قدمی، ہندوستانی عوام بالخصوص مسلمانوں سے انتہائی مخاصمانہ اور نسلی تعصب کا سلوک اور ملکی وسائل کا انتظام اور انصرام محض کمپنی کے کاروباری مفاد کے لیے موڑ دینا نمایاں تھے۔
انگریز سرکار نے سرسید اور ان کے تحریر کردہ کتابچے پر حسب توقع شدید رد عمل کا اظہار کیا لیکن بعد ازاں انہوں نے بیشتر نکات سے نہ صرف اتفاق کیا بلکہ اپنے مجموعی رویے اور طرز حکومت میں کسی حد تک مثبت تبدیلیوں کا آغاز کیا جس سے ہندوستان میں امن وامان اور اعتماد کی فضا میں مجموعی طور پر اضافہ دیکھا گیا۔
قارئین کرام مندرجہ بالا پس منظر میں صاحب مضمون آپ کی توجہ ملک میں گزشتہ ایک سال سے جاری شدید سیاسی اور اقتصادی بحران کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہے۔ جس کا آغاز ایک منتخب حکومت کا غیر جمہوری ہتھکنڈوں سے خاتمہ تھا۔ جسے بعد ازاں طاقت کے حقیقی مرکز کی مکمل تائید اور حمایت سے 13 جماعتوں پر مشتمل ایک غیر فطری اتحاد کی حکومت سے تبدیل کر دیا گیا جو کہ ملک میں انتہائی سنگین بحران کا پیش خیمہ ثابت ہوا۔ بدقسمتی سے ان تمام زمینی حقائق کے برعکس پی ڈی ایم اور پیپلز پارٹی کی جانب سے اقتدار سے چپکے رہنے کی مضموم خواہش نے لاقانونیت پر مبنی ایک ایسے سیاسی نظام کو جنم دیا ہے جس کے تحت آئین شکنی، اعلی عدلیہ کے فیصلوں سے روگردانی اور متعلقہ ججوں کی بر سر عام بے توقیری، آزادی رائے و پرامن سیاسی احتجاج پر ناروا پابندیاں اور مخالف سیاسی رہنماؤں کی خود ساختہ مقدمات میں گرفتاری اور تشدد آج کل روزمرہ کا معمول ہے۔
اس تمام تر صورتحال کا نقطہ عروج 9 مئی 2023 کو سابق وزیراعظم عمران خان کی عدالت کے احاطے میں بذریعہ نیم فوجی دستے غیر قانونی گرفتاری تھی۔ یہ تمام تر تضحیک آمیز مناظر بذریعہ کیمرے کی آنکھ عوام الناس تک پہنچے جس کے نتیجے میں ملک کے طول و عرض میں وسیع پیمانے پر احتجاج اور ہنگامہ آرائی کا سلسلہ شروع ہو گیا جو کہ عمران خان کی رہائی تک جاری رہا۔ اس دوران متعدد نجی اور سرکاری املاک کو شدید نقصان پہنچا اور تقریباً 25 افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
اس احتجاج کا سب سے تشویشناک پہلو اہم فوجی عمارات اور تنصیبات پر مشتعل عوام کے حملے تھے جن میں توڑ پھوڑ، جلاؤ گھیراؤ اور لوٹ مار کے انتہائی قابل مذمت مناظر دیکھے گئے۔ ملک کے باشعور طبقہ کے لیے یہ تمام واقعات اس لیے مزید تشویشناک تھے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں جو کہ پرامن سیاسی احتجاج اور مظاہروں کو بذریعہ ریاستی طاقت کچلنے میں ید طولی رکھتی ہیں اس موقع پر انتہائی پراسرار اور مجرمانہ انداز میں منظر عام سے غائب رہیں۔
بعد ازاں ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت حکومت نے اپنے سیاسی مخالفوں اور احتجاج میں شامل افراد کی پکڑ دھکڑ کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع کر دیا جس میں انہیں حساس سرکاری اداروں کی مکمل تائید حاصل رہی۔ اسی دوران حکومت سے باہر واحد سیاسی جماعت پی ٹی آئی اور اس کی قیادت کو ملک دشمن گردانتے ہوئے اس کے لاتعداد رہنماؤں اور کارکنوں کی بذریعہ فوجی عدالتوں مقدمات چلانے کی منظوری بھی دے دی گئی۔ یہ اور بات ہے کہ جس نے بھی پی ٹی آئی چھوڑنے کا اعلان کیا وہ پاک صاف ہو کر ایک اور کنگز پارٹی کے قیام کے لیے کوشاں ہے۔
ملک میں قائم لا تعداد ٹی وی چینلز اور اخبارات 9 مئی کو وقوع پذیر حالات کی یک طرفہ مذمت کرنے کے علاوہ عمران خان اور ان کی جماعت کو ملک دشمن اور دہشت گرد گردانتے ہوئے اس پر پابندی لگانے کا راگ الاپ رہے ہیں۔ صاحب مضمون کی مسلمہ رائے ہے کہ 9 مئی کے واقعات انتہائی قابل مذمت اور شرمناک تھے لیکن وہ یہ بات جاننا چاہتا ہے کہ پاکستانی قوم جو کہ اپنی مسلح افواج سے حد درجہ محبت اور احترام کا رشتہ رکھتی ہے آخر کیوں کر تمام تر سرخ لکیریں عبور کرنے پر آمادہ ہو گئی۔
اس کے لیے یہ امر بھی بے حد اہم ہے کہ ملک کی تمام سیاسی جماعتیں، حکومت وقت اور تمام تر اعلی عسکری قیادت بغیر کسی تعصب، جانب داری اور ذاتی پسند ناپسند سے بالاتر ہو کر ملک میں جاری اس سنگین بحران کا بغور جائزہ لیں اور 9 مئی کے واقعات کے حقیقی محرکات کو جاننے کے بعد فی الفور مناسب اصلاحی اقدامات کا آغاز کریں۔
قارئین کرام پاکستان کی تاریخ سیاسی مسائل کو بزور طاقت حل کرنے کی متعدد مثالوں سے بھری پڑی ہے لیکن ایسے تمام اقدامات انتہائی قلیل مدتی اور ملک کے لیے سم قاتل ثابت ہوئے۔ تاریخ کے اس نازک موڑ پر ملک کسی دوسرے 9 مئی کا متحمل نہیں ہو سکتا چنانچہ ضرورت اس امر کی ہے کہ طاقت اور کسی بھی ریاستی جبر کے بغیر مسائل کا حل نکالا جائے۔ لیکن فی الحال حکومت وقت اور ان کے بہی خواہوں کی تمام تر توجہ عمران خان کو گرفتار اور نا اہل کرنے کے بعد ان کی جماعت کو سیاسی منظرنامے سے بے دخل کرنے پر مرکوز ہے۔ آئی ایس پی آر کا حالیہ علانیہ اور استحکام پاکستان پارٹی کا قیام ان خدشات کو مزید تقویت بخشتا ہے۔
گھٹن اور ریاستی جبر کے اس تاریک دور میں ملک ایک اور سرسید احمد خان کا منتظر ہے لیکن بقول غالب:
آئینہ کیوں نہ دوں کہ تماشا کہیں جسے
ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے

