کیا کرکٹر محمد رضوان ”مورل سپیریئر سنڈروم“ کا شکار ہے؟


اکیسویں صدی میں ایسی قوم کتنی قابل رحم ہوگی جن کے پاس دنیا کو دکھانے کے لئے صرف عبادت یا مذہبی رسومات رہ گئی ہوں؟

کرداری خامیوں کو بھلا عبادات سے کیسے پورا کیا جا سکتا ہے؟ کیا عبادات کسی بھی قوم کو ترقی کے اوج کمال تک پہنچا سکتی ہیں؟
کیا دنیا میں کوئی ایسی مثال موجود ہے کہ جنہوں نے عبادات و مناجات کے سہارے اپنا سکہ منوایا ہو؟
اگر ایسا ہوتا تو شہزادہ سلمان کو ویژن 2030 پیش کرنے کی نوبت ہی نہ آتی۔
بھلا ارض مقدس سے زیادہ زیادہ عبادات کہاں ہو سکتی ہیں؟
جو انوار و تجلیات کا مرکز ہے جہاں دن رات ہمارے عقیدے کے مطابق رحمتوں کا نزول ہوتا رہتا ہے۔

نورانی و روحانی استحقاق کے باوجود آج کی دنیا سے کندھا اور قد ملانے کی کاوشوں میں شریک ہونے کے لیے انہیں بھی اپنی عظمت رفتہ والی دنیا سے باہر قدم نکالنا پڑا ہے، یہ ایک تلخ حقیقت ہے بھلے ہم تسلیم کریں یا نہ کریں کیا فرق پڑتا ہے؟

زیادہ دور نہ جائیں صرف اس حقیقت کا ہی موازنہ کر لیں کہ ہمارے برائے نام اسلامی ممالک دنیا کو کیا مہیا کر رہے ہیں اور بدلے میں ان سے حاصل کیا کر رہے ہیں؟

چند سیکنڈ کی مغز خوری سے سب عیاں ہو جائے گا۔ کیا خیال ہے؟

اس ریاضت کے لیے تدبر و تفکر کی ضرورت پڑتی ہے بدقسمتی سے اس قسم کے شعوری بندوبست سے ہم صدیوں پہلے پیچھا چھڑوا چکے ہیں۔

چلتے ہیں اصل موضوع کی طرف، نیویارک میں آج کل فیوض و برکات کا نزول ہو رہا ہے، ہمارے معروف کرکٹر محمد رضوان ان دنوں وہاں موجود ہیں، جنہوں نے اپنی موجودگی کا احساس کچھ اس انداز سے دلایا ہے کہ اہل ایمان و عشق عش عش کر اٹھے ہیں۔ موصوف نے سرراہ گاڑی روکی جائے نماز بچھائی اور بیچ راہ میں ہی نماز ادا کرنا شروع کردی۔

حیرت ہے کیمرہ مین بھی بالکل ایکٹو کھڑا ہوا تھا جس نے فوری طور پر یہ روحانی مناظر اپنے کیمرے میں محفوظ کر لئے تاکہ سند رہے اور اس منظر کو دکھا دکھا کر اہل ایمان کو گرماتے رہیں گے اور داد وصولتے رہیں گے۔

ایک طرف یہ نظارہ اور دوسری طرف موصوف نے اپنے ٹیچر جو کہ ایک خاتون ہیں، ان کو دعوت و تبلیغ کے ”جیسچر“ کے طور پر کتاب مقدس بطور تحفہ پیش کی جسے اس خاتون نے بخوشی قبول کیا۔

ذرا ٹھہریے تھوڑا ذہن پر زور ڈالیے اور یاد کیجیے کہ یہ وہی محمد رضوان ہے نا جو خواتین کے ساتھ تصویر کھنچوانا، مصافحہ کرنا یا بات چیت کرنا پسند ہی نہیں کرتے تھے بلکہ خاتون مداحین کو دیکھتے ہی راستہ بدل لیا کرتے تھے؟

آخر ایسا کیا ہوا کہ نا صرف تصویر بنوائی بلکہ تحفہ تک پیش کر ڈالا؟
خاتون تو خاتون ہی ہوتی ہے چاہے نیویارک کی ہو یا پاکستان کی؟

سوچنے والی بات یہ ہے بلکہ فرض کر لیتے ہیں کہ اگر وہی خاتون اس تحفے کے بدلے میں اپنی انجیل مقدس ہمارے کرکٹر کو پیش کر دیتیں تو کیا خیال ہے موصوف بھی اسی رواداری و مسکراہٹ کا تبادلہ کرتے ہوئے اس کی کتاب مقدس کو قبول کرلیتے؟

غور طلب بات یہ ہے کہ سر راہ لوگوں کی گزر گاہ پر کھڑے ہو کر نماز ادا کرنے یا اپنے ٹیچر کو کتاب مقدس کا تحفہ دینے جیسے رویے کا اخلاق و کردار سے کیا تعلق ہو سکتا ہے؟

سڑک پر کھڑے ہو کر مذہبی فرض کی ادائیگی کے عمل کو ریاکاری کے علاوہ کوئی دوسرا نام کیا دیا جا سکتا ہے؟

اس میں ہمارا کمال کیا ہے بڑا پن تو پھر انہی کا ہوا نا، جنہیں ہم راندہ درگاہ و گمراہ سمجھتے ہیں ان میں اتنا حوصلہ، حلم، تحمل و برداشت کہاں سے آیا؟ کہ وہ آپ کے بیچ چوراہے نماز پڑھ لینے پر سیخ پا نہیں ہوتے اور آپ کے تبلیغ و تلقین کے مقصد سے دیے گئے تحفے کو بھی خندہ پیشانی اور مروت سے مسکرا کر قبول کر لیتے ہیں۔ کیا اس قسم کا نظارہ کبھی وطن عزیز میں دیکھنے کو مل سکتا ہے؟

جہاں درجنوں فرقے ایک دوسرے کو مسلمان تک تسلیم کرنے کو تیار نہیں، کیا یہ کھلا تضاد یا منافقت نہیں ہے کہ ہم نے کبھی ”رضوان ذہنیت“ کو اپنے ملک میں یوں سڑک پر نماز ادا کرتے نہیں دیکھا مگر جیسے ہی اس قسم کی ذہنیت کے لوگ کسی مہذب دنیا میں پہنچتے ہیں تو وہاں اس قسم کی نمائش بازی شروع کر دیتے ہیں۔

ظاہر ہے بندہ وہیں خود کو محفوظ یا بے خوف سمجھتا ہے جہاں انسانوں کی انفرادیت کو تسلیم کیا جاتا ہو، جہاں سڑکوں پر سے گزرنے والے جانوروں تک کے بھی حقوق ہوتے ہوں اور کسی کو بھی انہیں کچلنے کی جرات نہیں ہوتی، اسی تحفظ کی وجہ سے ہی تو ہمارے مذہبی دوستوں کو وہاں اس قسم کی نمائش بازی کا موقع میسر آ جاتا ہے اور وہ بڑے دھڑلے سے سڑک پر ہی کھڑے ہو کر نماز پڑھنا شروع کر دیتے ہیں۔

یہ سب انفرادیت کی ہی تو برکات ہیں جنہیں ہم مہذب دنیا میں انجوائے کرتے ہیں مگر اپنے ہاں اس قسم کی انفرادیت اور آزادی اظہار کو بالکل بھی پسند نہیں کرتے۔

سوچتا ہوں اگر منافقت اور ریاکاری کا وجود نہ ہوتا تو ہم تو کب کے ناپید یا معدوم ہوچکے ہوتے، ہماری رنگینیاں منافقتوں و ریاکاری کے دم سے ہی تو قائم ہیں ورنہ ہم کیا اور ہماری اوقات کیا؟

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ محمد رضوان کے نماز پڑھنے یا کتاب مقدس پیش کر دینے سے اس معاشرے پر کوئی فرق پڑے گا یا فقط ہماری خام خیالی ہوگی؟

یا ہمارے ان اعمال سے یا کتاب مقدس کی پیروی کرنے سے ہمارے اپنے معاشرے میں ایسا کیا مختلف یا منفرد قسم کا بدلاؤ آ یا ہے جس بدلاؤ سے وہ معاشرے جنہیں ہم راندہ درگاہ کہتے ہیں ابھی تک محروم ہیں؟

زیادہ دور نہ جائیں اپنی اور ان کی اخلاقی اقدار کا موازنہ کر کے دیکھ لیں حقیقت واضح ہو جائے گی۔

زاہدین و منکرین کے طرز زندگی و معاشرت کا جائزہ لے لیں تو پوری کہانی کھلنے میں زیادہ دیر نہیں لگے گی۔

آج ہمارے اندر وہ تمام ٹاکسک رویے اور اعمال موجود ہیں جن کے ساتھ دنیا کا کوئی بھی معاشرہ ایک انچ بھی آگے نہیں بڑھ سکتا، جھوٹ، دھوکہ دہی، بدعنوانی، ذخیرہ اندوزی، ریاکاری و منافقت جیسی مکروہات ہمارے اندر تک سرایت کر چکی ہیں۔

یقین مانیں جب ہم نے محمد رضوان کا یوں سرراہ نماز ادا کرنے کا نظارہ دیکھا تو گمان گزرا کہ ممکن ہے نیویارک میں مساجد ہی نہ ہوں، اسی لئے بیچارے کو گزر گاہ پر ہی اکتفا کرنا پڑا ہے، فوری اکیسویں صدی کے کامل و قابل بزرگ گوگل بابا سے رابطہ کیا تو پتا چلا کہ یہاں 275 کے قریب مساجد ہیں۔

اب آپ خود فیصلہ کر لیں کہ نیویارک کی 275 مساجد کو چھوڑ کر جو بندہ لوگوں کی گزر گاہ پر کھڑا ہو کر نماز ادا کرنے کو ترجیح دیتا ہے اس قسم کی ذہنیت یا رویے کو آپ کیا نام دینا چاہیں گے؟
فیصلہ آپ پر چھوڑے دیتے ہیں۔

Facebook Comments HS