نیل فری۔ حویلی کی پری پر سیاحتی میلہ


سرزمین کشمیر، اپنے بے انتہا حسن کے لئے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ مغل بادشاہ جہانگیر سے منسوب یہ شعر اس کے حسن کی تعریف میں ایک ضرب المثل کی صورت جانا جاتا ہے

اگر فردوس بر روئے زمین است
ہمیں است، و ہمیں است، و ہمیں است

کہ اگر دنیا میں کہیں جنت ہے تو وہ بس یہی ہے، یہی ہے، یہی ہے۔ اور یہ بات بالکل صحیح ہے۔ کشمیر کا زیادہ بڑا حصہ ہندوستان کے زیر انتظام ہے۔ اور اصل افسانوی حسن تو اسی حصے میں پایا جاتا ہے۔ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے تاریخی علاقے کی بات کریں تو وہ دو اکائیوں پر تقسیم ہے۔ گلگت بلتستان، اور ”نام نہاد“ آزاد کشمیر۔ آزاد کے ساتھ نام نہاد کا سابقہ شاید کچھ دوست احباب کو ناگوار گزرے مگر حقیقت تو یہی ہے۔ جس خطے کے لوگ اپنی مرضی کی رائے رکھنے والی سیاسی پارٹی رجسٹر نہ کروا سکیں، جہاں کشمیریوں کے حق رائے دہی کا مطلب فقط پاکستان کے ساتھ الحاق کی تائید ہو، اس خطے کو آزاد کہنے سے پہلے لفظ آزاد کے معانی تمام فرہنگوں میں تبدیل کرنے پڑیں گے۔ خیر یہ تو بیچ میں جملہ ہائے معترضہ آ گئے۔ واپس اپنے اصل موضوع پر آتے ہیں۔

تو بات ہو رہی تھی کشمیر کے افسانوی حسن کی، آزاد کشمیر بھی میں کچھ علاقے ایسے ہیں جو کنٹرول لائن کے اس پار موجود کشمیر کے حسن کا پرتو کہے جا سکتے ہیں۔ ان علاقوں میں نیلم، اور لیپہ کی وادیاں سب سے زیادہ جانی جاتی ہیں مگر ان سے سوا بھی کچھ ایسے علاقے موجود ہیں جنہیں باہر کی دنیا بہت کم جانتی ہے اور وہاں بیرونی سیاحوں کی آمد مختلف وجوہات کی بنا پر نہ ہونے کے برابر ہے، ان وجوہات میں نام نہاد سکیورٹی ایشو، اور سیاحتی سہولیات کا فقدان سر فہرست ہیں۔

ناچیز کا تعلق بھی ایک ایسے ہی علاقے ضلع حویلی سے ہے۔ ضلع حویلی آزاد کشمیر کا سب سے کم عمر ضلع ہے۔ 2017 کی مردم شماری کے مطابق حویلی کی آبادی ڈیڑھ لاکھ سے کچھ اوپر ہے۔ علاقے کے 65 فی صد لوگ پہاڑی زبان، 30 فی صد، گوجری، اور پانچ فی صد کشمیری زبان بولتے ہیں۔ پارٹیشن کے وقت یہ پونچھ ضلع کی ایک تحصیل تھا، پھر پونچھ سے باغ کو الگ کر دیا گیا تو حویلی کی تحصیل باغ ضلع کے حصے میں آئی۔ بالآخر چند برس قبل حویلی تحصیل کو ضلع کا درجہ دے دیا گیا اور اس کا صدر مقام فارورڈ کہوٹہ کو ٹھہرایا گیا۔ خاکسار کا گاؤں جبی سیداں اسی حویلی ضلع میں واقع ہے۔

حویلی کا ضلع ایک کوہان کی صورت ہندوستانی مقبوضہ کشمیر کے اندر تک گھسا ہوا ہے اس کے تین اطراف میں مقبوضہ کشمیر کے علاقے ہیں، دائیں جانب پونچھ شہر، اور ملحقہ وادیاں، سامنے کی طرف پیر پنجال کی سر بہ فلک چوٹیاں، اور بائیں جانب اوڑی واقع ہیں۔ حویلی کے جس علاقے کا تعارف آپ سے یہ بندہ ناچیز کروانے جا رہا ہے، اسے نیل فری کہتے ہیں۔ نیل فری سطح سمندر سے کوئی 9300 فٹ بلند نہایت خوبصورت چراگاہ ہے جہاں گرمیوں میں مقامی لوگ اپنے مال مویشی چرانے لے کر آتے ہیں۔

جولائی سے ستمبر تک یہ لوگ یہاں اپنے عارضی مکانوں میں ٹھہرتے ہیں، جہاں ایک ہی باڑے میں جانور اور انسان رات گزارتے ہیں۔ نیل فری تک جانے کے لئے کچھ عرصہ قبل تک جبی سے سند گلہ بذریعہ جیپ جایا جانا پڑتا تھا اور وہاں سے نیل فری جانے کے لئے کوئی تین گھنٹے کی ٹریکنگ کرنا پڑتی تھی۔ مگر اب نیل فری کے قریب تک جیپ ٹریک جبی، برنگ بن، اور بساہاں کی جانب سے بنا دیا گیا ہے۔ اس علاقے کا سب سے بلند مقام بے ڈوری ٹاپ ہے جس کی سطح سمندر سے بلندی 12,228 فٹ ہے۔

نیل فری کی خوبصورتی بیان کرنے کے لئے مناسب الفاظ میسر نہیں۔ نگاہوں کو طراوت بخشنے والے سبزے سے مزین مخملیں قالین نما سطح زمین، ایک طرف، دور، بہت دور، پیر پنجال کی آسمانوں سے باتیں کرتی برفیلی بلندیاں، جہاں برف سال میں نو مہینے ڈیرہ ڈالے رکھتی ہے، اور ان چوٹیوں سے ذرا پیچھے والی جنگلات سے ڈھکی رج، اور دوسری طرف نیزہ پیر، چاند ٹیکری، قبروں والی ڈھیری، شیرو ڈھارہ، بسالی، اور محمود گلی کی بلندیاں سر اٹھائے آپ کی عید نظارہ کا سامان کیے ہوئے نظر آتی ہیں۔

نیل فری سے کیرن اور بے ڈوری کی طلسماتی حسن والی چوٹیاں بھی آپ کی نظر میں ہوتی ہیں۔ نیلفری میں ایک چھوٹی سی جھیل بھی ہے جسے سر کہتے ہیں، ویسے یہ جھیل تو نہیں اصل میں ایک بڑا سا جوہڑ ہے، جس میں آس پاس کے چوٹیوں سے پگھلی ہوئی برف کا پانی وہاں چرنے والے مویشیوں کی پیاس بجھانے کے کام آتا ہے۔ نیل فری پر کھڑے ہو کر چاروں طرف نظر دوڑائیں تو نیچے نشیب میں بے شمار مناظر ہماری توجہ اپنی طرف مرتکز کر لیتے ہیں۔

کہیں نالہ بے تاڑ اپ پیچ و خم کے ساتھ نظر آتا ہے، تو کہیں نیچے دور بہت دور مویشی چرتے ہوئے اور مقامی بچے کرکٹ اور دوسرے کھیل کھیلتے نظر آتے ہیں۔ نیل فری سے ذرا آگے کیرن ٹاپ کی طرف جائیں تو تا حد نظر نیلے، اودے، اور پیلے پھولوں سے بھری ڈھلوانیں ہمارے سامنے جلوہ گر ہوتی ہیں اگست کے مہینے میں یہاں کا حسن اپنے جوبن پر ہوتا ہے۔

اسلام آباد سے فارورڈ کہوٹہ کا سفر پہلے سڑک بہتر نہ ہونے کی وجہ سے کافی تکلیف دہ تھا مگر اب ایشیائی ترقیاتی بینک کے تعاون سے آزاد پتن سے لے کر فارورڈ کہوٹہ تک نہایت عمدہ کوالٹی کی روڈ تعمیر کی گئی ہے جس کی بدولت 200 کلومیٹر کا یہ سفر آٹھ گھنٹوں کی بجائے پانچ گھنٹوں میں کیا جا سکتا ہے۔ اس سڑک کی بحالی کے بعد سیاح اس علاقے کا رخ کر سکتے ہیں اگر یہاں ان کے قیام و طعام کا مناسب بندوبست موجود ہو، جو کہ فی الوقت نہیں ہے۔

محکمہ سیاحت کو اس طرف توجہ دینا چاہیے اور اس علاقے کو سیاحوں میں متعارف کرانا چاہیے۔ نیل فری کے علاوہ حویلی کے قابل دید مقامات میں حاجی پیر، شیرو ڈھارا بھیدی، علی آباد، ریجی، ہلاں، کالا مولا، غزن میڈوز، پھالہ آبشار، ملیاڑی راک، قبروں والی ڈھیری، سنکھ، سری ڈھوک، کٹھناڑ، پرلی کتھنار، تھکڑ، لس ڈنہ، محمود گلی، چڑی کوٹ اور خورشید آباد وغیرہ شامل ہیں۔ چڑی کوت سے اندین کنترولد کشمیر میں پونچھ کا شہر سامنے دکھائی دیتا ہے۔ رات کے وقت اونچی جگہ سے لائن آف کنٹرول کے ساتھ ساتھ لگائی گئی باڑ کی روشنیاں واضح دکھائی دیتی ہیں، جو انڈیا نے اپنے زیر انتظام کشمیر میں پوری لائن آف کنٹرول کے ساتھ ساتھ کچھ اندر کی جانب لگا رکھی ہے۔

10 اور 11 جون 2023 کو حویلی کی سول سوسائٹی اور ضلعی حکومت کے اشتراک سے ایک سیاحتی میلے کا انعقاد کیا جا رہا ہے تاکہ اس قدرے گم نام علاقے میں سیاحت کو فروغ دیا جا سکے۔ اور سیاحوں کا رخ ادھر کو موڑا جا سکے۔ یوں تو یہ ایک خوش آئند بات ہے کہ مقامی لوگوں اور ضلعی حکومت میں یہ جذبہ پایا جاتا ہے کہ علاقے کی ترقی و خوش حالی کے لئے کچھ کیا جائے۔ مگر اس ضمن میں اس بات کا خیال رکھا جانا از حد ضروری ہے کہ کہیں اس قدم سے جنت نظیر حویلی کا قدرتی حسن داغ دار نہ ہو جائے۔

ہم دیکھتے ہیں کہ پاکستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقوں میں جہاں جہاں بھی روڈ کنیکٹی ویٹی مہیا کی گئی اس علاقے کے قدرتی حسن کا آفتاب چند سالوں میں ہی گہنا گیا۔ کاغان میں جھیل سیف الملوک لولوسر، بٹہ کنڈی، وغیرہ اس کی زندہ مثالیں ہیں۔ اسی طرح کمراٹ ویلی، جہاز بانڈہ، اور نیلم ویلی میں اڑنگ کیل، اور رتی گلی بیس کیمپ وغیرہ کے علاقوں میں بھی سیاحوں کے بے ہنگم ہجوم نے بھی ان علاقوں کی خوب صورتی کو داغ لگا دیے ہیں۔ جھیلوں میں شاپنگ بیگز، سبزہ زاروں میں پلاسٹک بیگز، ڈائپرز اور بسکٹس کے ریپرز جگہ جگہ بکھرے نظر آتے ہیں۔ مزید کچھ سالوں تک ان علاقوں میں اس قدر گند بھر چکا ہو گا کہ لوگ ادھر کا رخ کرنا چھوڑ دین گے۔

بدقسمتی سے ہمارے یہاں ذمہ دارانہ سیاحت کا کوئی تصور نہیں۔ لوگوں کو اس بات کا احساس نہیں کہ اگر وہ ان علاقوں کا حسن تباہ کر دیں گے تو وہ نہ صرف اپنے لئے ایک ٹورسٹ سپاٹ کم کر لیں گے بلکہ وہاں کے مقامی لوگوں کو بھی ان کے حسین و جمیل گھر سے بے دخل کر دیں گے۔ جہاں ہم اس سیاحتی میلے میں آنے والے تمام مہمانان گرامی کا دل کی گہرائیوں سے استقبال کرتے ہیں، وہیں ہم ان سے یہ گزارش بھی کرنا چاہیں گے کہ آپ ہمارے علاقے میں جم جم آئیں بار بار آئیں، مگر براہ کرم درج ذیل چند باتوں کا خیال ضرور رکھیں۔

( 1 ) آپ بہ طور سیاح کہیں بھی جائیں تو کوشش کریں کہ مقامی آبادی کو اپ کی سیاحت سے کچھ نہ کچھ فائدہ ضرور پہنچے۔ یعنی آپ مقامی پراڈکٹس اگر کوئی ہوں تو ضرور خریدیں۔ اور کوشش کریں کہ مقامی کھانے کھائیں بٹ کڑاہی آپ لاہور اور راولپنڈی وغیرہ میں بہت کھاتے ہیں۔ حویلی میں آئے ہیں تو موٹھی کی دال، گھنہار اور چولائی کا ساگ، نمکین چائے اور مانڑی وغیرہ ضرور ٹرائی کریں اگر میسر آئیں۔ ( 2 ) مقامی لوگوں کی پرائیویسی، اور اقدار کا احترام کیجئے اور کوشش کریں کہ آپ کی کسی حرکت کی وجہ سے ان پر کوئی منفی اثر نہ پرے۔

( 3 ) جن شاپنگ بیگز وغیرہ میں کھانے پینے کا سامان لے کر آتے ہیں، انہیں شاپنگ بیگز میں اپنا کچرا اٹھا کرکسی ڈمپنگ سائٹ پر چھوڑ دینا کوئی مشکل کام نہیں۔ ایسا ضرور کیا کریں۔ انگریزی میں کہتے ہیں۔
leave nothing، but footsteps۔ take nothing، but photograph
تو اس بات کو پلے باندھ لیں۔ ( 4 ) اگر کسی سیاح کو گند پھیلاتے ہوئے دیکھیں تو بہت مہذب انداز سے ان سے درخواست کریں کہ وہ آلودگی مت پھیلائیں۔ ( 5 ) مقامی لوگوں سے نرمی اور اخلاق سے پیش آئیں۔ ہوٹل یا گیسٹ ہاؤس کے ملازمین کے ساتھ بھی عزت و احترام روا رکھیں۔ یاد رکھیں۔ کہ آپ کی عزت اسی بات سے مشروط ہے کہ اپ دوسروں کو بھی عزت دینا جانتے ہوں۔

اسی طرح مقامی افراد سے بھی ہمیں یہ گزارش کرنا ہے کہ سیاح کسی بھی علاقے میں اپنا دل بہلانے جاتے ہیں۔ وہ اس علاقے کی اقدار میں رنگنے نہیں جاتے۔ سو مقامی لوگوں سے گزارش ہے کہ اپ کسی سیاح کو مجبور مت کریں کہ وہ آپ کی مرضی یا اصولوں کے مطابق برتاؤ کرے۔ سیاح پر لازم ہے کہ وہ کوئی بھی ایسی حرکت نہ کرے جو قانونی طور پر منع ہو۔ مگر اس مناکحت کا اختیار فقط متعلقہ اداروں کو ہے۔ آپ کو نہیں۔ سیاحوں کے طرز زندگی اور اپ کے طرز زندگی میں بہت فرق ہو سکتا ہے۔

جو چیز ان کے یہاں بہت معمول کی بات ہو، وہ اپ کے لئے انتہائی ناقابل قبول بھی ہو سکتی ہے۔ مگر ایسی صورت حال میں احسن یہی ہے کہ سیاحوں پر اپنی اقدار نہ ٹھونسی جائیں اور نہ ان کو ان کا طرز زندگی بدلنے کا کہا جائے۔ اگر آپ کی اقدار میں جان ہے تو وہ قائم رہیں گی ورنہ آپ سمجھ لیجیے گا کہ آپ کی اقدار بھی پانی کا بلبلہ تھیں یا ہوا کے دوش پر رکھا ہو اک چراغ۔ جو بجھ گیا تو ہوا سے شکایتیں کیسی۔

آخری بات حکومت سے۔ حکومت کا فرض ہے کہ وہ مقامی طور پر سیاحت کو فروغ دینے کے لئے بنیادی انفراسٹرکچر اور سروسز مہیا کرے۔ حویلی لاین آف کنٹرول کے قریب ہونے کی وجہ سے بہت سی ایسی سہولیات سے محروم ہے جو آج کل سیاحت کے لئے بہت ضروری ہیں۔ ان میں اچھے اور برق رفتار انٹر نیت کنیکشن کی فراہمی، ٹوورسٹ انفارمیشن سینٹرز کا قیام، ٹورسٹ پولیس کی موجودگی، صاف پانی اور سالڈ ویسٹ منیجمنٹ کا باقاعدہ نظام، اچھی ٹرانسپورٹ سروسز، اور ہوٹل / گیسٹ ہاؤس انڈسٹری کے لئے لوگوں کو incentives مہیا کرنا، سیاحوں کی سکیورٹی کا مربوط نظام، وغیرہ شامل ہیں۔

علاوہ ازیں سکیورٹی کے نام پر لائن آف کنٹرول کے قریبی علاقوں میں سیاح تو ایک طرف، مقامی لوگوں کی نقل و حرکت کو بھی ناممکن بنا دیا گیا ہے۔ اس صورت حال کا تدارک ہونا چاہیے۔ گوگل ارتھ کے اس دور میں کہ جب آپ اپنے گھر میں بستر پر بیٹھے بیٹھے اپنے موبائل فون پر تھری ڈی میں دنیا کا کوئی بھی کونا ہائی ریزولیوشن میں دیکھ سکتے ہیں تو پھر آرمی کی جانب سے ان علاقوں میں نہ جانے دینا، یا ”اس پل کی فوٹو لینا منع ہے“ جیسے احمقانہ نوٹس بورڈز کی کیا اہمیت رہ جاتی ہے۔ ذرا سوچئیے۔

المختصر یہ کہ سیاحت کو فروغ ملنا چاہیے تاکہ علاقے میں معاشی خوش حالی کی داغ بیل ڈل سکے۔ مگر سیاحت کے نام پر علاقے کے قدرتی حسن کو برباد ہونے دینا ہمیں گوارا نہیں۔

Facebook Comments HS

مظفر حسین بخاری

ایم ایچ بخاری ڈیویلپمنٹ پروفیشنل ہیں اور ایک ملٹی لیٹرل ترقیاتی ادارے سے منسلک ہیں۔ کوہ نوردی اور تصویر کشی ان کا جنون ہے۔ مظہر کے تخلص سے شعر کہتے ہیں۔

muzzafar-hussain-bukhari has 32 posts and counting.See all posts by muzzafar-hussain-bukhari