میری زندگی کا نہ حل ہونے والا قضیہ
آپ کا نیاز مند بڑے دنوں سے لکھنے کی مشقت اٹھانے سے فرار لیے ہوئے تھا لیکن آج دماغ میں پھنسے ایک قضیے نے مجبور کر دیا کہ اس کا دکھ آپ سے بانٹا جائے شاید کوئی شفا کا بندوبست ہو سکے اور اہل علم رہنمائی کر دیں تو یہ جان ناتواں کوئی مسرت کا سامان کر سکے، ورنہ غالب نے یہ تو کہ ہی رکھا ہے ہم جیسے خرد سوزوں کے لیے کہ۔
آگہی دام شنیدن جس قدر چاہے بچھائے
مدعا عنقا ہے اپنے عالم تقریر کا
اس بات میں کوئی شک نہیں کی ہم انسان ایک ارتقائی تاریخ رکھتے ہیں، اگر ہم اپنے حیاتیاتی ارتقاء کو ایک طرف رکھیں اور سماجی، سیاسی اور معاشی پرتوں کو دیکھیں تو پرت در پرت ایک مسلسل تبدیلی اور ترقی کی صورت موجود ہے۔
لیکن ہمارا قضیہ معاشی سطح کا ہے۔ دنیا دو معاشی نظریات میں بٹی نظر آتی ہے۔ ایک اشتراکیت اور دوسرا سرمایہ داری۔ دونوں کے ماننے والے ایک دوسرے کے ساتھ تاریخ جھروکوں میں دست و گریباں ہوتے بھی نظر آتے ہیں۔ دونوں کے ماننے والے اپنے اپنے نظریے کو انسانی بقاء کا ضامن سمجھتے ہیں۔ سرمایہ داری کے حامی ایک قدم آگے رکھتے ہوئے اسے انسانی فطرت کے عین مطابق سمجھتے ہیں اور اس کے ساتھ ہی مذہبی رہنماء بھی اپنا ووٹ سرمایہ داری کے حق میں ڈالتے نظر آتے ہیں۔
ابھی پچھلے دنوں غامدی صاحب بھی فرما رہے تھے کہ انسان کی فطرت میں خدا نے جو سکیم ودیعت کی ہے سرمایہ داری اس کے عین مطابق ہے۔ اس کے علاوہ دیگر ناقدین اشتراکیت پسندوں سے یہ سوال کرتے ہیں کہ آپ کے پاس کون سا ایسا آلہ جس سے آپ یہ سو فیصد جان لیتے کہ انسانی شعور مادی حالات کی پیداوار ہے اور ہمیں مادی وسائل کو اجتماعی ملکیت میں رکھنا چاہیے یقیناً مارکسسٹوں کے پاس ایسا کوئی آلہ نہیں۔ اس کے مقابلے میں مارکسسٹ اس ساری بات کو سرمایہ داری کا پراپیگنڈہ خیال کرتے ہیں اور مذہبی حلقوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں اور انہیں سرمایہ داروں کے گماشتے سمجھتے ہیں۔
لیکن میرا سوال استاد محترم غامدی صاحب سمیت جتنے لوگ سرمایہ داری کو انسانی فطرت کا تقاضا خیال کرتے ہیں سے ہے ان کے پاس ایسی کون سی مشین موجود ہے جس میں انہیں فطرت بھی نظر آتی اور اس میں ودیعت کردہ تقاضے بھی۔ انسانوں کو کوئی بھی نظام بنانے سے پہلے ایک فالٹ لائن کھینچنی پڑتی وہ کیسے کھینچی جائے گی؟
آپ کے نیاز مند کو آج تک یہ قضیہ حل کرنے میں جوئے شیر کھینچ لانے کے بعد بھی کچھ نہ ملا سوائے دونوں اطراف کے دوستوں کی ناراضگی کے۔ کوئی صاحب علم سمجھائے تو بہت ممنون ہوں گا۔


