آدھی تاریخ کا آدھا سبق

پروپیگنڈے میں پی ٹی آئی کا کوئی مماثل تھا تو ہٹلر کی پارٹی کا حکیم گوئبلز۔ ہٹلر کی جھوٹ مشین۔
پروپیگنڈے، پبلسٹی اور ایڈورٹائزنگ کی کلاسیکی تین لفظی تشریح ہے truth well told۔ اس میں ٹرتھ کا رول مرکزی یا بنیادی ہے۔ جھوٹ سے چاہے وہ کتنا بھی well told کیوں نہ ہو کچھ مدت کے لیے تو آنکھوں میں دھول جھونکی جا سکتی ہے سیاسی برتری چرائی جا سکتی ہے مگر جھوٹ کبھی بھی سیاسی کامیابی کی کنجی نہیں بن سکتا۔ یہ کوئی اخلاقی سبق نہیں ہے تاریخ کا سبق ہے جس کا ثبوت اس ایک ماہ کے دوران لوگوں نے دیکھا۔ پی ٹی آئی کے کرتا دھرتا پورا سچ کبھی نہ جان سکے۔ لیکن پورا سچ کیا ہے؟
پورا سچ یہ تھا کہ ہٹلر کی سبقت کا بڑا سبب اس کی معاشی ٹیم کی صلاحیت تھی جس نے ہٹلر کے جرمنی کو اقتصادی، سائنسی، ٹیکنولجیکل سپر پاور بنا چھوڑا تھا۔ تو پھر ہٹلر کو شکست کیوں ہوئی۔ کیوں کہ اس کا سپرپاور status آمریت پر استوار تھا نہ کہ برطانیہ کی طرح جمہوریت اور رول آف لاء پر۔ یہی سبب تھا کہ جب برطانیہ نے اپنے عوام سے پیسے مانگے اور اس مقصد سے war bonds جاری کیے تو اس میں ریاست کی ضرورت سے بڑھ کر عوام نے سرمایہ کاری کی اور یوں برطانیہ کو وسائل کی کوئی کمی نہ ہوئی۔
اور وہ اس لیے کہ ان کو یقین تھا کہ ان کی رقم ڈوبے گی نہیں۔ اگر حکومت نے آنا کانی کی تو پارلیمان دلوائے گی۔ پارلیمان نے آئیں بائیں شائیں کی تو عدالتوں سے داد رسی ہو جائے گی۔ دیکھا دیکھی ہٹلر نے بھی بونڈز جاری کیے لیکن ہٹلر کے جانثار یوتھیے اور دیوانے ہونے کے باوجود عوام میں سے ایک دھیلا بھی کسی نے نہ دیا کیوں کہ وہ جانتے تھے کہ پیسے واپس لینے کی کوئی سبیل نہیں ہوگی اگر جرمنی جیت بھی جائے۔ پی ٹی آئی نے سمجھا تھا کہ ہٹلر کی برتری کی وجہ پروپیگنڈے کی کامیابی تھی اور شکست کی وجہ اسلحے کی کمی اور برطانوی انٹلیجنس کی چالبازیاں۔
تاریخ کا آدھا سبق اتنا ہی خطرناک ہوتا ہے جتنا نیم حکیم یا جتنا کہ ایک ناقص غیر معیاری طمنچہ۔ آدھی تاریخ آدھا سبق دیتی ہے۔ مسخ یا آدھی تاریخ پڑھنے والے معرکوں میں فتح کو حتمی فتح سمجھ لیتے ہیں۔ یہ ایسا ہی ہے کہ آپ پکچر کے انٹرول کو اختتامیہ سمجھ کر ہال سے چلے جائیں۔ عام طور پر انٹرول تک فلم کے منفی کردار مرکزی کرداروں پر بھاری پڑتے نظر آ رہے ہوتے ہیں۔ اگر آپ انٹرول میں آٹھ جائیں تو آپ سمجھتے رہیں گے کہ منفی ہتھکنڈوں سے حریف کو زیر کیا جا سکتا ہے۔ پی ٹی آئی کا مخمصہ بھی یہی ٹھہرا۔ وہ سمجھتے رہے کہ پروپیگنڈے سے جنگ جیتی جا سکتی ہے۔ لیکن سیاسی جنگ کارکردگی سے جیتی جاتی ہے۔
.

