احمد شاہ ابدالی سے راجہ رنجیت سنگھ تک


تاریخ وہ کسوٹی ہے جس پر آپ کسی بھی قوم کے عروج و زوال کو پرکھ سکتے ہیں۔ تاریخ سے ہم سیکھتے ہیں۔ تجربہ کرتے ہیں۔ یہ علم التاریخ ہی ہے جس کی بدولت، انسانی نفسیات، عادات و خصائل کا مستند طور پر جائزہ لیا جا سکتا ہے۔ دنیا کی ہر قوم میں اچھے برے لوگ ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب سے دنیا آباد ہوئی ہے، دو طاقتیں آپس میں نبردآزما رہیں، ایک اچھائی اور دوسری برائی کی۔ اور یہ کام ابد سے آج تک جاری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ، دشمن کا بھی موثر ہتھیار ہوا کرتی ہے۔

سامراجی طاقتوں کا بھی یہ آزمودہ ہتھیار رہا ہے کہ جب کسی قوم کو پست کرنا ہوتا تو اس کی تاریخ کو مسخ کر دیا جاتا تھا۔ خطے کی سامراجی طاقتوں کے ذریعے حقیقی آزادی پسند رہنماؤں کا نام یا تو سرے سے مٹا دیا جاتا ہے۔ یا پھر ان کا تعارف تاریخ میں غلط انداز میں کروایا جاتا ہے۔ جو خطے اس بد ترین صورتحال سے دوچار ہوئے ان میں ہندوستان بھی ایک تھا۔ اسے اپنی کالونی بنانے والی بدیشی قوتوں نے یہاں اس کے وسائل کی لوٹ مار کی وہاں اس خطے کی تاریخ کو بھی نہ بخشا۔

اگرچہ معاشی استحصال کرنا بھی کوئی کم جرم نہیں مگر مسخ تاریخ اس سے کہیں خطر ناک اور غلامی کی سیاہ رات کو طویل کرتا ہے۔ اسی صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا کہ ہماری نوجوان نسل میں تاریخ کو عام فہم انداز میں پیش کیا جائے۔ اور مستند کتابوں سے رہنمائی لیتے ہوئے ان کو اصل تاریخی حقائق سے روشناس کروایا جائے۔ اور ایسا کرتے ہوئے ان لوگوں کی لکھی ہوئی تاریخ کو بطور کسوٹی مانا گیا جن کی زندگیاں اس خطے کے لیے جدوجہد کرنے میں صرف ہوئیں۔

ان حریت پسند رہنماؤں میں شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رح کا نام سر فہرست ہے۔ آپ کی قومی، ملی، شعوری، عملی و نظریاتی خدمات کا کوئی ثانی نہیں۔ وہ اپنے ہم عصر شخصیات میں ممتاز مقام رکھتے ہیں۔ جو سماج کی تشکیل کے لیے انہوں نے اصول مدون کیے وہ آج بھی مشعل راہ ہیں بشرطیکہ کوئی مائل بہ کرم ہو۔ وہ ہندوستان کی تاریخ کو درج ذیل تناظر میں پیش کرتے ہیں۔

احمد شاہ ابدالی کی یلغار سے مرہٹوں کی طاقت کا شیرازہ بکھر گیا۔ مگر ان لمحات میں انگریز سامراج کی قوت زور پکڑنے لگی۔ انگریز بنگال اور مدراس پر قبضہ کے بعد شمالی ہند کی طرف بڑھ رہے تھے۔ 23 اکتوبر 1764 ء بکسر کی لڑائی میں شاہ عالم ثانی انگریز کے زیر تسلط آ چکا تھا۔ اور شاہ عالم ثانی نے قدرے کمزور معاہدہ کیا جس کی رو سے زیادہ تر انتظامات کمپنی کے سپرد کر دیے گئے۔ اور بادشاہ کے لیے صرف قلعہ اور اطراف دہلی کا علاقہ ہی باقی رہ گیا تھا۔ اسی وقت ہی قرار پایا تھا کہ۔

* ”ملک بادشاہ کا حکم کمپنی (انگریز) کا اور خلق خدا کی“ *

بظاہر مسلمانوں کے فیصلے قاضی اور ہندوؤں کے فیصلے پنڈت کرتے تھے۔ سرکاری زبان بھی فارسی ہی رہنے دی گئی۔ مگر کار سرکار کمپنی کے پاس۔ یہی وہ وقت تھا جب اہل دانش ہی انگریز کی اس چال کو سمجھ رہے تھے۔ جب کہ سطحی ذہین اسے سمجھنے سے اس وقت بھی عاری تھا اور آج تک بھی صورت حال ویسے ہی ہے۔

شاہ عالم کی وفات کے بعد اس کی جگہ اکبر ثانی نے لی۔ مغلیہ حکومت اب پہلے سے بھی کمزور و سکڑ چکی تھی۔ چنانچہ اب بادشاہ کی حکومت دہلی و حدود شہر تک ہی محدود ہو چکی تھی۔ دہلی سے کلکتہ تک انگریز کا تسلط قائم ہو گیا تھا۔ دہلی کے شمالی صوبے نادر شاہ کے حملے کے بعد دہلی سے کٹ چکے تھے۔ نادر شاہ نے کابل، قندھار و ٹھٹہ کو ایران سے ملا دیا تھا۔ یاد رہے نادر شاہ کے اس قبضے سے پہلے قندھار کی افغانی حکومت جو میر اویس سے شروع ہوئی تھی، مغل بادشاہ محمد شاہ کو ہی اپنا بادشاہ مانتی تھی۔

نادر شاہ کے بعد احمد شاہ ابدالی نے کشمیر، لاہور اور ملتان کے صوبے دہلی سے کاٹ دیے۔ اس طرح یہ چھ صوبے دہلی کی حکومت سے الگ ہو گئے۔ مگر یہاں بھی یہ بات یاد رہے کہ ہم ( ہندوستانی) قندھار کی اس افغانی حکومت کو بھی ہندوستانی حکومت ہی تصور کرتے ہیں ہندوستان کے نزدیک اس کی وہی حیثیت تھی جو نظام دکن کی تھی۔

1174 ہ میں احمد شاہ ابدالی نے پنجاب پر بھی قبضہ کر لیا۔ لیکن یہ حکومت زیادہ عرصہ نہ چل سکی۔ 1800 ء میں احمد شاہ ابدالی کا پوتا زماں شاہ ہندوستان پر حملہ آور ہوا۔ اور اس نے لاہور فتح کیا۔ وہ دہلی کی طرف بڑھ رہا تھا۔ کہ انگریز نے چال چلتے ہوئے ایران کی طرف سے افغانستان پر حملہ کروا دیا۔ ایسے میں زماں شاہ کو لدھیانہ سے واپس کابل جا پڑا۔

اس گمبھیر صورت حال میں شاہ زمان نے رنجیت سنگھ کو پنجاب کا گورنر بنا دیا۔ اسی رنجیت سنگھ نے 1808 ء یعنی 1223 ہ میں پنجاب، ملتان، کشمیر اور پشاور پر قبضہ کر کے ایک مستقل سکھ حکومت کی بنیاد ڈالی اور انگریز سے مصالحانہ معاہدہ کیا۔

میری رائے کے مطابق شاہ صاحب اس مختصر مگر جامع تاریخ میں ہمارے تاریخی مغالطے کو دور کرتے ہوئے ہماری درست انداز میں رہنمائی فرما رہے ہیں۔ افغانی حملہ آوار احمد شاہ ابدالی کو ہمیشہ خطے کی سامراجی طاقتوں نے غیر ملکی تصور کیا۔ اور اس بات کو بطور جواز استعمال کیا۔ کہ وہ بھی انگریز سامراج کی طرح غیر ملکی ہی تھا۔ جب کہ شاہ صاحب کے نزدیک اور حقیقت میں بھی افغانستان اس وقت ہندوستان کا ہی حصہ تھا۔ جس کا اوپر تحریر میں ذکر بھی کیا گیا ہے۔

احمد شاہ ابدالی، بنگال کے حکمران نجیب الدولہ کے کہنے پر مرہٹوں کی سرکشی کو کچلنے کے لیے بلایا گیا تھا۔ جس میں کامیابی بھی ہوئی۔ احمد شاہ ابدالی کو نادر شاہ کی طرح کے لٹیرے حملہ آوار کے طور پر سمجھنا ایک مغالطہ سے کم نہیں۔ نادر شاہ درانی اور فرنگیوں کو کبھی بھی کسی مقامی قوت نے مدد کے لیے نہیں پکارا یہ دونوں ہی بن بلائے مہمان تھے۔ ان کی لوٹ کھسوٹ کا دنیا میں آج تک بھی چرچا عام ہے۔ اگلا مغالطہ راجہ رنجیت سے کے حوالے سے پایا جاتا ہے۔

اس کی حکومت کو ایک سکھ فرقے / مذہب کی حکومت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ جب کہ ان کو پنجاب کا فرمانروا شاہ زماں نے ہی بنایا۔ تاہم اگر رنجیت سنگھ نے فرنگیوں سے ساز باز کی۔ جس کا خمیازہ خطے کو بھگتنا پڑا۔ آپ راجہ رنجیت سنگھ کے طرز حکمرانی پر تو تنقید کر سکتے ہیں۔ مگر وہ کوئی بدیشی نہیں ہندوستان کی قومی حکومت کا قومی رہنما تھا۔ رہی بات انگریز سرکار کی وہ تجارت کی غرض سے آئے۔ دنیا کی بہترین اکانومی بمطابق اقوام متحدہ کی ورلڈ اکنامک ہسٹری رپورٹ کے، ہندوستان، اکبر اعظم کے دور سے اورنگزیب عالمگیر تک دنیا کی بہترین اکانومی رہا ہے۔

جس کا دنیا کی معیشت میں 25 سے 27 فیصد حصہ تھا۔ جو آج کی اکنامک پاورز امریکی و چین سے بھی زیادہ تھا۔ مگر جب انگریز یہاں سے گیا تو ہندوستان ایک مقروض ملک تھا۔ جس کی شرح معیشت کم ہو کر محض 25 سے 4 فیصد پر آ چکی تھی۔ انگریز کے دور حکمت میں بنگال جیسے خوشحال علاقے بھی قحط کی زد میں تھے۔ ایک مشہور ہندوستانی مورخ ششی تھرور اپنی کتاب عہد ظلمات میں لکھتا ہے۔ اگر انگریز ہندوستان پر قابض نہ ہوتا تو آج ہندوستان سپر پاور ہوتا۔ یہی تاریخی حقائق تھے جن کو راقم نے تاریخ کی کسوٹی سے پرکھنے کی کوشش کی ہے۔

ماخذ:
1۔ شاہ ولی اللہ اور ان کی سیاسی تحریک۔
2۔ شاہ ولی اللہ کے سیاسی مکتوبات۔
2۔ برطانوی سامراج نے ہمیں کیسے لوٹا۔
3۔ عہد ظلمات۔

Facebook Comments HS