نومولود گھوڑی، کوہلو اور پنچایت کا انصاف


پچھلے وقتوں کی بات ہے۔ جب ذرائع آمدورفت ابھی اتنے ایڈوانس نہیں ہوئے تھے۔ عموماً لوگ پیدل سفر کیا کرتے تھے۔ اور صاحب حیثیت لوگ حسب توفیق گدھے، گھوڑے، خچر یا اونٹ پر سوار ہو کر سفر طے کیا کرتے تھے۔ ایک آدمی گھوڑی پر سوار ہو کر کہیں دور دراز جا رہا تھا۔ دن ڈھلے ایک گاؤں میں پہنچا۔ تو اس نے رات یہیں پر بسر کرنے کا فیصلہ کیا۔ گاؤں کی نکڑ پر ایک تیلی کا گھر تھا۔ اس نے دروازے پر دستک دی۔ اندر سے مالک مکان باہر نکلا۔ تو مسافر نے درخواست کی۔ کہ رات بھر کے لیے اس کے لیے اور اس کی گھوڑی کے لیے قیام و طعام کا بندوبست ہو جائے۔ تو وہ شکر گزار ہو گا۔ مالک مکان نے دروازہ کھول کر اسے اندر آنے کو کہا۔ جب مسافر گھر میں داخل ہوا۔ تو تیلی نے اس کی گھوڑی کو پکڑ کر ایک چھپر کے نیچے لگے ہوئے کولہو کے ساتھ باندھ دیا۔ اور صحن کے ایک طرف چارپائی بچھا کر وہاں مسافر کے لیے بستر لگا دیا۔ رات کو حسب توفیق میزبان نے مہمان اور گھوڑی کے طعام کا بندوبست کیا۔

صبح سویرے جب میزبان کی آنکھ کھلی۔ تو اس نے دیکھا۔ کہ کولہو والے چھپر کے نیچے مہمان کی گھوڑی کے ساتھ ساتھ اس کا نومولود بچہ بھی زقندیں بھر رہا ہے۔ وہاں پر دو گھوڑیوں کو دیکھ کر میزبان کا دل بے ایمان ہو گیا۔ اور اس نے گھوڑی کا بچہ ہتھیانے کے لیے دل ہی دل میں منصوبہ بندی شروع کردی۔ مہمان ناشتے وغیرہ سے فارغ ہو کر اور میزبان کی میزبانی کا شکریہ ادا کر کے جب گھوڑی پر سوار ہو کر اپنی منزل کی طرف روانہ ہونے لگا۔

تو میزبان نے گھوڑی کے بچے کے گلے میں رسہ ڈال کر اسے کولہو کے ساتھ باندھ دیا۔ مہمان نے تیلی سے کہا۔ کہ بھائی یہ میری گھوڑی کا بچہ ہے۔ اسے اس کے پیچھے پیچھے آنے دو ۔ تیلی نے بر جستہ جواب دیا۔ کہ رات کو جب تم اس گھر میں داخل ہوئے تھے۔ تو تمہارے پاس یہی ایک گھوڑی تھی۔ اور اب دو گھوڑیاں یہاں سے لے کر جا رہے ہو۔ تو مہمان نے کہا۔ کہ یہ بچہ رات کو میری گھوڑی نے جنا ہے۔ اس لیے یہ بھی میری ملکیت ہے۔ تو میزبان نے کہا۔

کہ یہ بچہ تو میرے کولہو نے جنا ہے۔ اس لیے یہ میری ملکیت ہے۔ مہمان یہ احمقانہ بات سن کر بے ساختہ ہنسا۔ لیکن میزبان تیلی اپنی بات پر اڑا رہا۔ جب یہ جھگڑا طول پکڑ گیا۔ تو یہ بات گاؤں کے پنچوں تک بھی پہنچ گئی۔ اور اس جھگڑے کا فیصلہ کرنے کے لیے پنچایت نے ازخود نوٹس لے لیا۔ گاؤں کے سرپنچ کی سربراہی میں تمام اراکین پنچایت سر جوڑ کر بیٹھ گئے۔ تاکہ اس جھگڑے کا منصفانہ اور عادلانہ فیصلہ کیا جا سکے۔ ایک فاضل رکن نے مشورہ دیا۔

کہ دیکھو بھائیو۔ یہ تیلی تو ہمارے اپنے گاؤں کا ہے۔ اس نے آئندہ بھی ہمارے ساتھ رہنا ہے۔ وہ ہمیں کھل اور تیل مہیا کرتا ہے۔ اور بھی ہمارے کئی کام کرتا ہے۔ جب کہ مہمان تو ایک رات کے لیے آیا تھا۔ اور پتہ نہیں۔ کہ زندگی میں آئندہ اس سے واسطہ پڑے گا بھی یا نہیں۔ اس لیے اس جھگڑے کا فیصلہ گاؤں کے تیلی کے حق میں کیا جانا ہی مناسب ہے۔ اس پنچایت کے تمام فاضل اراکین نے سر پنچ سمیت اس مرد دانا کے مشورے پر فوراً ہی لبیک کہا۔ اب اس قصے کا فیصلہ سنانے کے لیے فریقین کو بلوایا گیا۔ تو پنچایت کے سربراہ نے گھوڑی سوار مہمان سے کہا۔

کل جب تم تیلی کے گھر میں داخل ہوئے تھے۔ تو تمہارے پاس یہی ایک گھوڑی تھی۔ اور اب بھی تم یہی ایک ہی گھوڑی لے کر جاؤ گے اور رہ گیا گھوڑی کے بچے کا معاملہ۔ تو یہ بچہ اس تیلی کے کولہو نے جنا ہے۔ اس لیے اس پر تمہارا کوئی حق نہیں ہے۔ اور یہ کولہو اس سے پہلے بھی بچے دیتا رہا ہے۔ اس لیے یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے۔ مہمان نے خاموشی سے فیصلہ سنا۔ اور پنچایت کے عدل و انصاف اور حکمت و دانائی پر سر دھنتا ہوا اپنی منزل کی روانہ ہو گیا۔

گاؤں کے دوسری جانب گاؤں کا میراثی کھڑا ہوا تھا۔ جسے اس کہانی کا علم تھا۔ اس نے گھوڑی سوار سے کہا۔ کہ آخر اس تیلی کے بچے نے تمہاری گھوڑی کا بچہ تم سے ہتھیا ہی لیا۔ تو اس نے فوراً کہا۔ کہ مجھے گھوڑی کا بچہ چھن جانے کا کوئی خاص غم نہیں ہے بلکہ مجھے اس بات کی خوشی ہے۔ کہ میں نے اس گاؤں کی پنچایت کو اور اس کے عدل و انصاف کو دیکھ لیا

یہ ایک چھوٹے سے گاؤں کے نظام عدل اور اس سے وابستہ منصفین کی ایک ادنیٰ سی مثال ہے۔ جس میں پنج صاحبان مختلف جھگڑوں کے فیصلے عدل و انصاف کے آفاقی اصولوں کی بجائے دھونس دھاندلی اور اپنے مفادات کے تابع ہو کر کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ آپ گاؤں کی سطح سے بلند تر ہوتے جائیں۔ قصبہ، شہر و تحصیل، ضلع، صوبہ، ملک حتی کہ بین الاقوامی سطح پر موجود کسی بھی ادارے کے تنظیمی ڈھانچے طرز عمل، اور طریق کار کا بنظر غائر جائزہ لیں۔

اغلب انداز فکر یہی ہو گا۔ ہم دنیا کے سب سے بڑے ادارے اقوام متحدہ کے چارٹر پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔ دوسری جنگ عظیم کی تباہ کاریوں اور خون ریزیوں سے خوفزدہ انسانیت نے امن و سکون کی گود میں عافیت حاصل کرنے کے لیے جس بین الاقوامی ادارے کے قیام کا ڈول ڈالا۔ اس کی پیشانی پر بھی جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قدیم اور دائمی قانون سنہری الفاظ میں بصورت ویٹو جگمگاتا ہوا نظر آتا ہے۔ اس اصول کے مطابق اگر ساری دنیا کے ممالک کسی بھی مسئلے کے حل کے لیے متفق ہوں۔ اور ویٹو کا حق رکھنے والا صرف ایک ملک۔ اس کی مخالفت کرے تو وہ قرار داد تسلیم نہیں کی جائے گی جو کہ جمہوریت کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ یہ ادارہ اپنے بنیادی اغراض و مقاصد کے حصول میں بڑی حد تک ناکام نظر آتا ہے۔ بلکہ بعض اوقات یہ ادارہ طاقتور کے ہاتھ میں پکڑی ہوئی ایک ایسی لاٹھی کی حیثیت اختیار کر لیتا ہے۔ جس کی مدد سے وہ اپنے مذموم مقاصد کو زیادہ آسانی سے حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ اور دنیا کو اس کے جائز اور قانونی ہونے کا تاثر بھی دے دیتا ہے۔ اس کے بعد ہم اپنے وطن عزیز کے مختلف اداروں کے طریق کار اور طرز عمل کا جائزہ لیتے ہیں۔ یہی زریں اصول یہاں پر بھی لاگو دکھائی دیتا ہے۔ مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ ہماری ریاست کے بنیادی ستون ہیں۔

ہماری مقننہ میں مستقبل قریب میں کیے گئے تمام فیصلوں اور اس کے بنائے گئے تمام قوانین پر ایک نظر دوڑا لیں۔ ان میں سے کتنے قوانین ہیں جو مفاد عامہ کے لیے بنائے گئے ہیں اور کتنے قوانین ہیں جو اس طبقے نے اپنے گروہی مفادات کے تحفظ کے لیے بنائے ہیں۔ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہو جائے گی کہ عوام کی نمائندگی کرنے والا یہ قانون ساز سپریم ادارہ عوام الناس کو سہولتیں اور آسائشیں فراہم کرنے کے لیے کسی حد تک سنجیدہ ہے۔ اور اس کے لیے کسی قدر جانفشانی اور عرق ریزی سے کام کیا جا رہا۔ ان کی بود و باش اور رہن سہن کس حد تک عوامی ہے

اس کے بعد دوسرے بڑے ریاستی ستون عدلیہ کے طریق کار طرز عمل اور ان کی روشنی میں کیے گئے فیصلوں کو دیکھ لیں۔ عصر حاضر میں دو تین کے بینچ کا فیصلہ، تین چار کے بینچ کا فیصلہ، چار پانچ کے بینچ کا فیصلہ اور فل بینچ کی چھڑی ہوئی بحث عدل کے ایوان اعلیٰ میں عمودی اور افقی دونوں سطحوں پر پائی جانے والی تقسیم کو روز روشن کی طرح عیاں کرتی ہوئی دکھائی دیتی ہے جب اعلیٰ عدالتوں میں ججوں کی بھرتیاں کسی مناسب میرٹ کی بجائے صرف سفارشات پر کی جائیں گی تو اس کے نتائج اس سے مختلف کیسے ہو سکتے ہیں۔

اسی لیے آج مختلف ججوں پر لیگی، عوامی اور انصافی ہونے کے شکوک و شبہات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ اس موضوع پر لکھنے کے لیے میرے پاس بہت کچھ ہے لیکن بحث کو سمیٹتے ہوئے فیصلہ قارئین پر چھوڑتا ہوں۔ کہ وطن عزیز کی عدالتیں گاؤں کی مذکورہ عدالت کی طرز پر کام کرتی ہیں۔ یا ان کا انداز عدل و انصاف کے آفاقی اصولوں کی بنیاد پر ہے۔ اس کے بعد ریاست کے تیسرے ستون کو دیکھ لیں کہ کس قدر آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے ریاستی قوت اور وسائل کا استعمال کیا جاتا ہے۔

قانون کی نظر میں اسلامی جمہوریہ پاکستان میں بسنے والے تمام شہری مساوی حقوق کے مالک ہیں۔ بس اسی ایک قانون کو دیکھ لیں سرکاری مشینری کے چھوٹے بڑے پرزوں کی سہولیات بلکہ تعیشات کو دیکھ لیں۔ اور ایک عام آدمی کی بے کسی، بے چارگی اور کسمپرسی پر ایک نظر ڈال لیں، فرق اچھی طرح واضح ہو جائے گا گویا کہ اصول یہاں پر بھی وہی کارفرما ہے جو باقی محکموں میں رائج ہے۔ ویسے ہمارے نظام میں چوتھا ستون اسٹیبلشمنٹ کا بھی ہے۔ اس کا جائزہ آپ خودی لے لیں۔ تو زیادہ بہتر رہے گا۔ اور اب آخر میں اپنی بات اس شعر پر مکمل کرتا ہوں۔

عدل و وفا امن و محبت کو چھوڑ کر ۔ صاحب تمہارے راج میں کیا کیا نہیں ہوا

Facebook Comments HS