پاکستان آج بھی تاریخ کے نازک موڑ سے گزر رہا ہے


غالباً چھٹی جماعت کی بات ہے جب ہم لوگ لاونج میں بیٹھے خبرنامہ سن رہے تھے اور کسی ملک کے ڈیفالٹ کی خبر آئی تو والد صاحب نے خبر نامے کے بعد ڈیفالٹ کی تشریح کی لیکن کم سنی میں معیشت کی ان پیچیدہ باتوں کا سمجھ آنا مشکل تھا لیکن ان کی بتائی گئی باتیں کہیں ذہن میں رہ گئیں جن کی آج اتنی ساری کتب پڑھنے اور معیشت پر ریسرچ کرنے کے بعد سمجھ آتی ہے۔ ابھی ماضی قریب میں ہی سری لنکا نے ڈیفالٹ ہونے کا اعلان کیا تو ایک مرتبہ پھر یہی موضوع ٹی وی پروگراموں کی زینت بنا اور حال ہی میں رجیم چینج کے بعد پیدا ہونے والے معاشی مسائل کی وجہ سے آج کل یہ موضوع پاکستان کے ساتھ منسوب ہے۔ اگر معاشی حالت کے اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ موضوع پاکستان کے ساتھ روز اول سے منسلک ہے۔ جس کی کئی ایک بنیادی وجوہات ہیں، جس میں بیرونی قرضے اور بجٹ خسارہ سر فہرست ہیں۔

سب سے پہلے تو ڈیفالٹ کو سمجھنے کے لئے سادہ سا فارمولا یہ ہے کہ مثال کے طور پر ہم نے کوئی قرض کی مد میں، سود کی مد میں یا کسی امپورٹ کی رقم ادا کرنی ہے اور ہم وہ رقم ادا کرنے کی پوزیشن میں نہ ہوں تو ہم کہتے ہیں کہ ملک دیوالیہ ہو گیا ہے۔ لیکن اس امر کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ حکومتی سطح پر یہ اعلان ہو کہ ہمارا ملک ڈیفالٹ کر چکا ہے لیکن یہ کام اتنا آسان نہیں ہوتا۔ کیوں کہ اس اعلان کے نتیجے میں ملک کو بہت سارے نقصان کے ساتھ ساتھ دور رس منفی اثرات کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ جس میں سب سے پہلے ٹریڈ بیریئرز کا سامنا ہوتا ہے، جس میں وہ ممالک جن کا آپ نے قرضہ واپس کرنا ہوتا وہ آپ کے ساتھ نہ صرف ہر قسم کی امپورٹ ایکسپورٹ پر پابندی لگا دیتے ہیں بلکہ وہ اپنے دوسرے قریبی ممالک کو بھی اس بات پر قائل کرتے ہیں یا ان ممالک کے فنانشل انسٹیٹیوٹ اپنی حکومت کو روکتے ہیں کہ آپ اس دیوالیہ ملک کے ساتھ کسی بھی تجارتی سرگرمی سے گریز کریں، جس کی وجہ سے ڈیفالٹ ہونے والا ملک روزمرہ کی چیزیں بھی درآمد نہیں نہیں کر سکتا۔

جیسے ہمارے ملک کو انرجی اور آئل امپورٹ ہر صورت کرنی ہوتی ہے اور اگر یہ نہ ہو سکے تو ہماری معیشت ڈوبتی چلی جائے گی۔ دوسرا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ نہ صرف بیرون ممالک کے لوگ بینکوں سے اپنا پیسہ نکلوانا شروع کر دیتے ہیں بلکہ مقامی لوگ بھی اپنا پیسہ ڈوبنے کے ڈر سے نکلوانا شروع کر دیتے ہیں۔ اس ہیجانی کیفیت کی وجہ سے معاشی حالات کسی کے کنٹرول میں نہیں رہتے۔ تیسرے نمبر پر بے روزگاری میں بے پناہ اضافہ ہو جاتا ہے، کیوں کہ نہ تو اداروں کے پاس اتنے پیسے ہوں گے کہ وہ ملازمین کو وقت پر تنخواہ دے سکیں اور نہ ہی ڈیفالٹ کی وجہ سے کوئی فنانشل ادارہ یا کوئی دوسرا ملک قرضہ دے گا جس کی بدولت ایک بے روزگاری کا پورا سائیکل چلتا ہے اور ملک کی معاشی حالت ڈراونا خواب بنتی چلی جاتی ہے۔

اس کے علاوہ جب کوئی ملک ڈیفالٹ کرتا ہے تو اسٹاک ایکسچینج سب سے زیادہ متاثر ہوتی ہے کیوں کہ انویسٹر اپنا پیسہ جب باہر نکالتے ہیں تو مارکیٹ کیپٹلائزیشن کا 40 سے 50 فیصد حصہ خالی ہو جاتا ہے جس سے کرنسی کی قدر میں بے پناہ کمی آتی ہے۔ ان سب وجوہات کی بنا پر سود کا تناسب بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے، جس کی بنا پر کچھ مشکل ترین فیصلے لینے پڑ جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر پاکستان کا قیمتی ترین اثاثہ نیوکلیئر پروگرام ہے اس کو گروی رکھوانا پڑ سکتا ہے یا جیسے پاکستان میں پہلے موٹر ویز یا ہوائی اڈوں کے علاوہ بیرون ملک کی جائیدادوں کو گروی رکھوا کر قرض لئے جا رہے ہیں ایسے اقدامات اٹھانے پڑ جاتے ہیں لیکن ان اقدامات کے جو عوام پر اثرات مرتب ہوں گے وہ بہت خطرناک ہوں گے۔

اب اگر مملکت خداداد پاکستان کی صورتحال پر نظر دوڑائیں تو ہمیں ہر شعبے سے ایسے نمبرز ملتے ہیں جو ہماری ڈوبی ہوئی معیشت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ سب سے پہلے دیکھیں تو پاکستان کا کل رقبہ 796،096 مربع کلو میٹر ہے جو دنیا کے کل رقبے کا صرف 0.7 فی صد ہے اور ہمارے ملک کی آبادی دنیا کی آبادی کا 2.8 فی صد ہے، اس اعتبار سے ہم نے اپنے ملک پر چار گنا اضافی بوجھ ڈالا ہوا ہے۔ ہمارے ملک میں عورتوں کی اکثریت صبح سے شام تک کام تو کرتی ہے لیکن وہ اکنامک سائیکل کا حصہ نہیں یعنی وہ ورکنگ وومن نہیں ہیں، کیوں کہ ورکنگ وومن اسے کہا جاتا ہے جس کو اس کے کام کا معاوضہ ملتا ہو۔ اس طرح سے ہم نے اپنی آدھی سے زیادہ آبادی کو لاچار رکھا ہوا ہے۔

ایسے ہی جو ہماری معیشت ہے اس کا بڑا انحصار زراعت پر ہے جس میں چار منافع بخش فصلوں میں گندم، چاول، گنا اور کپاس شامل ہیں۔ لیکن دنیا کی فی ایکڑ پیداوار کے پیمانوں اور معیار کے مطابق ہم کسی ایک پر بھی پورا نہیں اترتے۔ اب اگر بجٹ کے خسارے کی بات کریں، یعنی ہماری آمدن کتنی ہے اور اخراجات کتنے ہیں تو اس لحاظ سے ہم گزشتہ مالی برس میں 5،000 ارب روپے کے خسارے میں رہے ہیں۔ ہمارا صرف تجارتی خسارہ 70 ارب ڈالر کے قریب ہے لیکن کاغذوں میں ابھی تک 28 ارب ڈالر تک بتایا جاتا ہے۔ یہ چند ایسے اعداد و شمار ہیں جو ہمیشہ ہمیں ڈیفالٹ کی طرف کھینچتے رہیں گے۔

خاکم بدہن، اس سے پہلے کہ ہم دیوالیہ ہو جائیں، ہمیں اب کچھ مشکل فیصلے لینے چاہئیں، نہیں تو وہ وقت دور نہیں جب ہم اس نہج پر پہنچ چکے ہوں گے۔ منصوبہ بندی کے عمل کو موثر کرنا چاہیے ہمارے سامنے چین کی مثال موجود ہے جنہوں نے ایک طویل عرصے کی محنت سے اور آبادی کو کنٹرول کر کے اپنی معیشت کو آسمانوں کی بلندیوں تک پہنچایا۔ ہمیں ٹیکس کے نظام کو بہتر کرنا ہو گا لیکن ریاست کو یہ سمجھنا ہو گا کہ ٹیکس لے کر عوام تک روزمرہ کی بہتر سہولیات بہم پہنچانا ریاست کا فرض ہے۔ ہمیں معیشت کے لئے معاشی تسلسل کی پالسی پر کام کرنا پڑے گا۔ ہمیں اپنے عوام کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کے لئے بہتر تعلیم سے آراستہ کرنا ہو گا۔ جس سے ہمارا نوجوان عالمی سطح پر مقابلہ کر سکے اور معاشی طور پر اپنے آپ کو مضبوط بنا سکے۔ ہمیں اپنے معاشی ڈھانچے کا انحصار زراعت کے ساتھ ساتھ مینیو فیکچرنگ کی طرف بھی لانا ہو گا۔ ان سب خواہشات کو ایک ہی عمل تکمیل تک پہنچا سکتا ہے اور وہ ہمارے ملک کا جمہوری اور دستوری تسلسل ہے کیوں کہ جب حکومتوں میں جمہوری اور دستوری تسلسل موجود نہ ہو تو سیاسی قوتیں فیصلے کرنے کا اعتماد کھو بیٹھتی ہیں۔

Facebook Comments HS

محمد ارسلہ خان

محمد ارسلہ خان پاکستان میں روس کے اعزازی قونصل ہیں

muhammad-arsallah-khan has 11 posts and counting.See all posts by muhammad-arsallah-khan