اصل محبت کیا ہے؟


میرے والدین پچپن سال سے شادی شدہ تھے۔ ایک صبح، میری والدہ سیڑھیوں سے نیچے اتر کر والد صاحب کے لیے ناشتہ بنانے جا رہیں تھیں، انھیں دل کا دورہ پڑا اور وہ گر گئیں۔ میرے والد صاحب نے انھیں اپنی پوری ہمت سے اٹھایا اور ٹرک میں بٹھا کر لے گئے۔ تیز رفتاری اور تمام اشارے توڑ کر جب وہ اپنی بیوی کو لے کر ہسپتال پہنچے تو وہ اس دنیائے فانی سے کوچ کر چکی تھیں۔ جنازے کے دوران میرے والد صاحب کچھ نا بولے، انھوں نے جیسے اپنی سماعت کھو دی ہو۔

وہ شاید ہی روئے۔ اس رات ان کے بچوں نے غم اور تکلیف کے عالم میں بیٹھ کر ان سے جڑی تمام خوبصورت یادوں کو یاد کیا اور پھر والد صاحب نے اپنے بیٹے سے جو کہ ماہر الہیات ہے پوچھا کہ تمہاری امی اس وقت کہاں ہوں گی؟ میرے بھائی نے موت کے بعد والی زندگی کو بیان کیا اور اندازہ لگایا کہ وہ کیسی اور کہاں ہوں گی۔ میرے والد نے یہ باتیں بہت غور سے سنیں اور اچانک کہنے لگے کہ مجھے قبرستان لے چلو۔ ابا! ہم نے جواب دیا، ”اس وقت بہت رات ہو گئی ہے، ہم ابھی قبرستان نہیں جا سکتے“ ۔

انہوں نے اونچی آواز اور انکھوں میں درد کی چمک کے ساتھ فرمایا: ”مجھ سے بحث مت کرو جس نے اپنی بیوی پچپن سال کی شادی کے بعد کھوئی ہے“ ۔ اس بات کے بعد کچھ وقت احترامآٓ خاموشی ہوئی اور مزید بحث کیے بغیر ہم قبرستان چلے گئے اور ہم نے رات کے وقت پہرہ دینے والے چوکی دار سے اجازت لی کہ ہمیں ٹارچ کی روشنی میں اپنی والدہ کی قبر پہ جانے دیں۔ میرے والد نے وہاں جا کر ان کے لیے دعا کی اور اپنے بچوں سے کہنے لگے، تمھیں پتا ہے؟

پچپن سال تھے۔ کسی کو اس بات کا اندازہ نہیں ہو سکتا کہ ایک عورت کے ساتھ زندگی کو بانٹنا کیا ہوتا ہے۔ انھوں نے ایک وقفہ لیا اور اپنا منہ پونچھا، ”وہ اور میں، ہم ہر مشکل وقت میں ساتھ رہے۔ میں نے بہت نوکریاں بدلیں، اپنا گھر بیچ کے ہم دوسرے شہر منتقل ہوئے۔ ہم نے اپنے بچوں کو ان کے شعبوں میں کامیاب ہونے کی خوشی دیکھی۔ ہم نے اپنے پیاروں کے جانے کا غم بانٹا، ہسپتالوں کی انتظار گاہوں میں دعائیں مانگیں۔ ایک دوسرے کا ساتھ ہر تکلیف میں دیا، کرسمس پہ گلے لگایا اور ایک دوسرے کو معاف کیا“ ۔

بچو! اب وہ چلی گئی ہے اور میں خوش ہوں، پتا ہے کیوں؟ کیوں کہ وہ مجھ سے پہلے چلی گئی ہے۔ اسے مجھے دفنانے اور اکیلا رہ جانے کے دکھ اور غم سے نہیں گزرنا ہو گا۔ صرف مجھے اس تکلیف سے گزرنا ہو گا اور اس کے لیے شکر ہے خدا کا۔ میں اس سے بے حد محبت کرتا ہوں کہ میں یہ کبھی نا چاہتا کے وہ یہ دکھ سہتی۔ جب میرے والد صاحب نے بات مکمل کی، میں نے اور میرے بھائیوں نے آنسوؤں کے ساتھ، سر جھکا کر انھیں گلے لگایا۔ انھوں نے ہمیں تسلی دی اور کہا اب ہم گھر چلتے ہیں، آج کا دن اچھا تھا۔

اس رات میں نے اصل محبت کو جانا اور وہ کسی بھی جسمانی محبت سے نہیں بلکہ ساتھ دینے، پرواہ کرنے اور اظہار کرنے سے ہے۔ محبت دل کے اور روح کے سکون سے ہے۔

مصنف: نامعلوم / اردو ترجمہ: فرخندہ امجد

Facebook Comments HS