کراچی مویشی منڈی کے اردگرد ڈاکو راج


ایک نجی سیکیورٹی کمپنی کا اشتہار دیکھ کر اندازہ ہوا کہ کراچی میں قربانی کے لئے مویشی کی خریداری کے لئے منڈی جانے والوں کے حالات کتنے پریشان کن اور صورت حال کتنی سنگین ہے، ورنہ نجی سیکیورٹی کمپنی محض پیسہ کمانے کے لئے بھلا کیوں ایسا اشتہار دیتی، اشتہار اب بھی ویب پر موجود ہے۔ سیکیورٹی کمپنی نے اپنے اشتہار میں بہت ساری حفاظتی سہولیات فراہم کرنے کا دعوی کیا ہوا تھا۔ جس میں مویشی منڈی تک مسلح گارڈز کے ہمراہ لے جانا اور خریدے ہوئے قربانی کے جانور کے ساتھ واپس لانا بھی شامل تھا۔ وہ فی گھنٹہ کے حساب سے چارج کر رہے ہیں۔

یوں تو گاہے گاہے لوگوں کے مویشی منڈی کے قریب لوٹ لئے جانے کی خبریں آتی رہی ہیں مگر چند دنوں سے ایسا لگا جیسے ناردرن بائی پاس، سہراب گوٹھ، سپر ہائی وے، اور معمار کے اردگرد والے علاقے گویا قانون کی دسترس سے بالا تر ہو کر علاقہ غیر بن گئے ہیں اور وہاں ایک خاص گروہ کی حکمرانی ہے، وہ جب چاہتے ہیں جسے چاہتے ہیں بلا جھجک لوٹتے ہیں، یہاں تک کہ مال و ملکیت لوٹنے کے ساتھ ساتھ جان لینے میں بھی پس و پیش نہیں کرتے ہیں۔

گو کہ یہ معاملہ نیا نہیں ہے ہر سال ایسا ہی ہوتا تھا مگر اس سال نیا یہ ہے کہ ان لٹیروں اور بدمعاشوں کے حوصلے اتنے بلند ہیں کہ وہ اب ڈیوٹی پر موجود پولیس اہلکاروں کو بھی خاطر میں نہیں لا رہے اور ان کی جان لینے سے بھی دریغ نہیں کر رہے ہیں۔ ایک عمومی اندازے کے مطابق اب تک کم و بیش چار پولیس اہلکار اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

یہ بالکل ایسا ہی ہے جسے عام لفظوں میں ریاست کے اندر ریاست کہا جا سکتا ہے، ان لوٹ مار کی وارداتوں میں ملوث بیشتر افراد پاکستانی نہیں ہیں۔

یہ تو سب بطریق احسن جانتے ہی ہیں کہ ملک کے دیگر حصوں کی بہ نسبت کراچی میں لاقانونیت کچھ زیادہ ہی ہے، اور اب جب سے عید الاضحی کی آمد آمد ہے حالات مزید دگرگوں ہو گئے ہیں۔ کراچی کے لوگوں کی یہ روایت رہی ہے کہ وہ عید کی آمد سے پہلے مل جل کر مویشی منڈی جاتے ہیں کچھ خریداری کرتے ہیں کچھ صرف دیکھتے ہیں اور منصوبہ سازی کرتے ہیں کہ کیا لینا ہے اور کتنے میں لینا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ کراچی کی عید پر سجنے والی مویشی منڈی ایشیاء کی سب سے بڑی مویشی منڈی ہوتی ہے۔

اب سے پہلے یہ منڈی سہراب گوٹھ سے ذرا آگے لگائی جاتی تھی اب وہ جگہ ایک نجی تعمیراتی کمپنی کی ملکیت ہے، لہذا متعلقہ ادارے نے اس بار مویشی منڈی کو ناردرن بائی پاس منتقل کر دیا ہے، جہاں اردگرد کے راستے اور علاقے جرائم پیشہ افراد کی آماجگاہ ہیں اور نہایت غیر محفوظ ہیں۔

جرائم پیشہ افراد یہاں سے لوگوں کو اغواء کر کے قریبی اندرونی علاقوں میں لے جاتے ہیں اور جانور کے ساتھ ساتھ نقدی، موبائل فون اور دیگر قیمتی اشیاء لوٹ کر چھوڑ دیتے ہیں یا کبھی کبھی مار بھی دیتے ہیں۔ یہ بھی کراچی والوں کی روایت رہی ہے کہ جیسے ہی مویشی منڈی سجتی ہے منچلے یہاں جانے کے لئے بے چین ہو جاتے ہیں اور بار بار جا کر منڈی کو خوب رونق بخشتے ہیں۔

مگر ان کے ساتھ ساتھ شکاری بھی وہاں آنا شروع ہو جاتے ہیں اور لوگوں کو لوٹنا شروع کر دیتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر ایک بیوپاری کا پیغام بہت زیادہ چل رہا ہے جس میں وہ بتا رہا ہے کہ وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ اپنے فارم ہاؤس کے لئے جگہ بک کرانے منڈی جا رہا تھا کہ انہیں راستے میں ڈاکوؤں نے لوٹ لیا جس میں موبائل، لیپ ٹاپ، بٹوے اور سات لاکھ روپے بھی لوٹ کر لے گئے۔ ایک بیوپاری کے لئے کاروبار کے شروع ہونے سے پہلے ہی اتنا بڑا نقصان بڑی تکلیف کا سبب ہو سکتا ہے۔

وہ یہ بھی بتاتا ہے کہ وقوعہ سے ایک کلو میٹر دور ایک پولیس وین کھڑی تھی جسے واردات کا بتایا تو انہوں نے کہا کہ ہم کچھ نہیں کر سکتے کیوں کہ وہ ہماری حدود نہیں ہے، تو اب سوچیں کہ لٹنے والا مدد نہ پا کر کس قدر مایوس و دلبرداشتہ ہوا ہو گا، مگر بدقسمتی سے ہمارے یہاں ایسا کوئی نظام ہی موجود نہیں جو ان حدود کی قید میں بندھے قانون کے رکھوالوں کو مظلوم کی مدد کے لئے آزاد کر سکے۔

لوگ بتاتے ہیں کہ یہ علاقہ یعنی ناردرن بائی پاس جہاں سہراب گوٹھ سے اب منڈی منتقل کی گئی ہے پہلے سے ہی جرائم پیشہ افراد کی بہتات کے لئے مشہور ہے، منڈی کی منتقلی کی وجہ سے جرائم میں تیزی اور زیادتی پیدا ہو گئی ہے، ایک نوجوان کو اس کے اہل خانہ کے سامنے گولی مار کر زخمی کر دیا تھا کہ وہ منڈی کے قریب کار سے اتر کر بچوں کے لئے جوس لے رہا تھا۔

ایسے بہت سارے واقعات تواتر کے ساتھ رونما ہو رہے ہیں، دوسری جانب ایک بڑے مویشیوں کے تاجر کا یہ کہنا ہے کہ یہ سب منفی پروپیگنڈا ہے، منڈی کو بدنام کرنے کی ایک سوچی سمجھی اسکیم ہے اور یہاں پر کاروبار کو خراب کرنے کے لئے حیلے ہتھکنڈے ہیں، ورنہ ایسا کچھ بھی نہیں ہے وارداتیں شہر بھر میں ہو رہی ہیں ان کا منڈی کے انعقاد سے کیا لینا دینا، اگر ایسا ہے تو آپ متعلقہ تھانوں سے معلومات حاصل کر لیں کہ وہاں کتنے کیس رجسٹر ہوئے ہیں۔

یا کم از کم یہ تو بتائیں کہ واردات کہاں ہوئی ہے، منڈیاں تو شہر بھر میں کئی لگی ہوئی ہیں اور ایک یہ مرکزی مویشی منڈی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس پورے کاروباری عمل سے ملک کو تقریباً سات سو بلین روپے کی آمدنی متوقع ہے، جو ایک بہت بڑا کاروباری ہدف ہے۔ اور ہماری ڈوبتی ہوئی معیشت کے لئے کچھ تو کارآمد ہو سکتا ہے۔

اس حوالے میں جب متعلقہ پولیس افسر سے بات کی گئی تو انہوں نے کہا کہ ہم نے بھرپور انتظامات کیے ہوئے ہیں، ہم پوری کوشش کر رہے ہیں کہ عوام کے جان مال کی پوری طرح حفاظت کی جائے۔ ہم نے انتظام کیا ہے جس کے تحت چوبیس گھنٹے پولیس موبائل گشت کر رہی ہیں، ساتھ ساتھ رینجرز کا گشت بھی جاری ہے وہ بھی پوری تندہی و جانفشانی سے اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔

اگر اس بیان کو صحیح مان لیا جائے تو پھر جو واقعات اوپر بیان کیے گئے ہیں کیا وہ سب کیا ہیں؟ مگر ایسے بہت سارے شواہد تصاویر اور ویڈیوز کی شکل موجود ہیں جن میں زخمی یا ہلاک شدہ لوگ با آسانی دیکھے جا سکتے ہیں جو منڈی گئے تھے اور حادثے کا شکار ہو گئے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ مفروضوں اور طفلی تسلیوں کے بجائے مقامی حکومت کے ارباب اختیار پوری سچائی سے حقائق کی بنیاد پر ٹھوس فیصلے اور انتظامات کریں جو منڈی آنے والے ہر خاص و عام کی حفاظت کے لئے کافی ہو۔ اب اس میں کیا انتظام کرنا ہے، کیسے کرنا ہے، کون سی فورس لگانی ہے؟ کتنی فورس لگانی ہے؟ کہاں کہاں لگانی ہے؟ یہ سب ان پروفیشنل اداروں کا کام ہے اور وہ اپنا کام بخوبی جانتے ہیں۔

Facebook Comments HS