موسمیاتی تبدیلی اور ہمارے معاشی بندوبست
آپ چاہے اشتراکیت پسند ہیں یا سرمایہ داری کے دلدادہ، انسان کی بقاء آپ کے لیے یقیناً غیر مشروط طور پر اہم ہوگی۔ معاشی بندوبست اس حوالہ سے ہمیشہ سے ایک بنیادی عامل کے طور پر محرک رہتا ہے۔ انسانی تہذیب کے دوسرے تمام بندوبست چاہے وہ سیاسی ہوں یا معاشرتی؛وہ معاشی بندوبست کی مضبوط فعلیت سے ہی مہمیز رہتے ہیں۔ موجودہ دور میں یہ فعلیت سرمایہ داری کے ہاتھ میں ہے۔ جس کے بہت سارے منفی اثرات میں سے موسمیاتی تبدیلی کی شدت ہمارے لیے ایک ڈراؤنا خواب بن چکی ہے۔
وطن عزیز نے ابھی پچھلے سال سیلاب جھیلا تھا اور اب اس کے ساحل بیپر جوئے نامی طوفان سے لرزہ براندام ہیں اور اس معاملے میں صرف ہماری زلفیں ہی برہم نہیں بلکہ پوری دنیا بقول غالب موئے آتش دیدہ بن چکی ہے۔ آپ کے نیاز مند نے آج سرمایہ داری اور اشتراکی بندوبستوں کا موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالہ سے ایک تقابلی جائزہ پیش کیا ہے۔
موسمیاتی تبدیلی کے سلسلے میں سرمایہ داری اور سوشلزم کا کردار ایک پیچیدہ اور اہم موضوع ہے۔ دونوں نظاموں کے ماحول پر مختلف اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ یہ نوٹ کرنا ضروری ہے کہ یہ نظام ایک سپیکٹرم پر موجود ہیں، اور حقیقی دنیا کے نفاذ مختلف ہو سکتے ہیں۔
سرمایہ داری، ایک معاشی نظام کے طور پر، نجی ملکیت، آزاد منڈیوں، اور منافع کی پیداوار کو ترجیح دیتی ہے۔ جہاں سرمایہ داری نے تکنیکی ترقی اور معاشی ترقی کو آگے بڑھایا ہے، وہیں اس کا تعلق ماحولیاتی تبدیلیوں سمیت بعض منفی ماحولیاتی اثرات سے بھی ہے۔ سرمایہ داری کے کچھ پہلو جو آب و ہوا کی تبدیلی میں حصہ ڈالتے ہیں آئیے ایک نظر ان دیکھتے ہیں۔
ایکسٹرنلٹیز: سرمایہ داری اکثر اقتصادی سرگرمیوں کے ماحولیاتی اخراجات کو پورا کرنے میں ناکام رہتی ہے۔ یہ اخراجات، جیسے آلودگی اور گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج، اکثر بیرونی ہوتے ہیں اور اشیا اور خدمات کی مارکیٹ کی قیمتوں میں ظاہر نہیں ہوتے ہیں۔ یہ ضرورت سے زیادہ کھپت اور ماحولیاتی انحطاط کا باعث بن رہا ہے۔
قلیل مدتی توجہ: قلیل مدتی منافع پر سرمایہ داری کا زور طویل مدتی پائیدار طریقوں کی حوصلہ شکنی کرتا ہے۔ کاروبار ماحول دوست ٹیکنالوجیز یا طریقوں میں سرمایہ کاری کرنے پر فوری مالی فوائد کو ترجیح دیتے ہیں جن کی ادائیگی کی مدت زیادہ ہوتی ہے۔
صارفیت اور ترقی: سرمایہ داری صارفیت اور مسلسل اقتصادی ترقی کو فروغ دیتی ہے، جس سے وسائل کی کھپت اور گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اقتصادی ترقی کی مہم کا نتیجہ اکثر پیداوار، توانائی کی کھپت اور فضلہ کی پیداوار میں اضافہ ہوتا ہے۔
دوسری طرف، اشتراکیت ایک معاشی اور سیاسی بندوبست ہے جو عوامی ملکیت یا وسائل پر کنٹرول اور دولت کی زیادہ منصفانہ تقسیم اور اجتماعیت کی وکالت کرتا ہے۔ اشتراکی نظریہ اس معاملہ میں واضح خصوصیات کا حامل نظر آتا ہے جو موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے میں فائدہ مند ہو سکتا ہے :
مرکزی منصوبہ بندی: مرکزی منصوبہ بندی پر اشتراکیت کا زور ماحولیاتی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے مربوط کوششوں کو ممکنہ طور پر فعال کر سکتا ہے۔ یہ طویل مدتی حکمت عملیوں کی ترقی اور پائیدار اقدامات کے لیے وسائل کی تقسیم کی بات کرتا ہے۔
عوامی کنٹرول: توانائی اور نقل و حمل جیسی اہم صنعتوں پر عوامی ملکیت یا کنٹرول پائیدار طریقوں کے نفاذ اور قابل تجدید توانائی کے ذرائع کو اپنانے میں سہولت فراہم کر سکتا ہے۔
عدم مساوات میں کمی:اشتراکیت کا مقصد دولت کی عدم مساوات کو کم کرنا ہے، جس کے نتیجے میں وسائل تک زیادہ مساوی رسائی اور پائیدار ترقی کے مواقع مل سکتے ہیں۔ اس سے ماحولیاتی مسائل کو حل کرنے میں مدد مل سکتی ہے جو پسماندہ کمیونٹیز کو غیر متناسب طور پر متاثر کرتے ہیں۔
سرمایہ داری میں ماحولیاتی تبدیلی کو کاغذوں میں یا سیمیناروں میں تو روکا جاسکتا لیکن حقیقت میں نہیں کیونکہ اس کی تعمیر میں مضمر ہے ایک صورت خرابی کی وہ ہے منافع اور صرف منافع۔ مجھے سمجھ نہیں آتی جب یہ سیارہ رہنے کے قابل نہیں رہے گا تو ہمارے لبرل دوست جن نام نہاد آزادیوں کی بنا پر اجتماعیت کے خلاف خامہ فرسائی کرتے نظر آتے ہیں کیا کریں گے اور فطرت کے قہر سے کیسے آزاد ہوں گے۔ اس لیے آپ کے نیاز مند کا مخلصانہ مشورہ ہے اجتماعیت کڑوے شربت کا گھونٹ ہی سہی مگر مصفاء خون اور بقاء کی ضمانت تو ہے۔ یہ نہ ہو کہیں آپ کے آزادیوں کے شوق کو تنگی جا کا گلہ کرنا پڑ جائے اور آپ کو بھی مرشد غالب کی طرح کہنا پڑ جائے۔
حنائے پائےخزاں ہے بہاراگر ہے یہی
دوام کلفت خاطر ہے عیش دنیا کا


