عطا الحق قاسمی کے تخلیقی رنگ (آخری قسط)

عطا الحق قاسمی کی نظم ٹریفک سگنل اپنے اندر ایک عجیب، تاثر، جاذبیت اور غم کی کیفیت سموئے ہوئے ہے۔ قاری یہ نظم پڑھ کر خود کو اداس محسوس کرنے لگتا ہے۔ اگر قاری حساس ہو تو وہ اپنی آنکھوں کو نمناک ہونے پر قابو نہیں رکھ سکے گا۔ ملاحظہ فرمائیے نظم ٹریفک سگنل
نظم : ٹریفک سگنل، نظم نگار : عطا الحق قاسمی، ترجمہ نگار : محترمہ تعبیر علی
Poem : Traffic Signal , Poet : AttauL_Huq Qasmi , Translated By : Madam TaBeeR ALi
I am in search of the past gone
In the new books of temples
I do worship of the old expressions
I am an observer of the prophecies
It seems to be like the horizon of new
dawn
Or new songs
are, at present clarmouring on the dilapidated grave.
So, put the lamp out as the red sun is rising up
Someone is sloping down towards the heart
Either new or old words are on the tip of my tongue
But I am unaware from all these tastes
I am unskilful
I am either red coloured or green coloured
Somehow I am nobody
نظم : ٹریفک سگنل، نظم نگار : عطا الحق قاسمی، ترجمہ نگار : محترمہ تعبیر علی
Poem : Traffic Signal , Poet : AttauL_Huq Qasmi , Translated By : Madam TaBeeR ALi
میں عہد رفتہ کو ڈھونڈتا ہوں
نئی کتابوں کے معبدوں میں
پرانے لفظوں کو پوجتا ہوں
میں منظر ہوں بشارتوں کا
مری زبان پر میں صبح نو کے افق کے نئے جہاں کے
نئے ترانے
پرانی قبریں چٹخ رہی ہیں
دیے بجھاؤ کہ سرخ سورج ابھر رہا ہے
دلوں میں کوئی اتر رہا ہے
نئے پرانے ہیں لفظ میری زباں پہ لیکن
میں ان کی لذت سے بے خبر ہوں
میں بے ہنر ہوں
میں سرخ بھی ہوں میں سبز بھی ہوں
میں کچھ نہیں ہوں
نظم : ٹریفک سگنل، نظم نگار : عطا الحق قاسمی، ترجمہ نگار : محترمہ تعبیر علی
Poem : Traffic Signal , Poet : AttauL_Huq Qasmi , Translated By : Madam TaBeeR ALi
زیر نظر مضمون عطا الحق قاسمی کے تخلیقی رنگ کے لیے ہمارے ایک ادب دوست اور ہمارے کرم فرما جناب پروفیسر آکاش مغل صاحب نے ہماری خصوصی فرمائش پر عطا الحق قاسمی صاحب کے دو انتہائی شاندار، جاندار اور باکمال (پورٹریٹس) مصورانہ شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ پروفیسر آکاش مغل کا تعلق سندھ دھرتی سے ہے۔ وہ گورنمنٹ کالج کے شعبۂ اردو میں بطور استاد خدمات انجام دے رہے ہیں۔ پروفیسر آکاش مغل نے متعدد علاقائی اور صوبائی زبانوں کے افسانوں کو اردو کے قالب میں ڈھالا ہے اور ایسا کر کے خود کو ایک معتبر مترجم ثابت کیا ہے۔
ہماری معلومات کے مطابق پروفیسر آکاش مغل صاحب نے ڈیڑھ سو، دو سو سے متجاوز مشاہیر ادب کہ جن میں حضرت جوش ملیح آبادی، احمد ندیم قاسمی، عطا الحق قاسمی، فیض احمد فیض، سید مصطفی علی ہمدانی، سید فخرالدین بلے، حمایت علی شاعر، امجد اسلام امجد، مختار مسعود علیگ، ضیاء محی الدین، اشفاق احمد، آنس معین، بانو قدسیہ، سید عارف معین بلے، ڈاکٹر اجمل نیازی، سید محمد انجم معین بلے، انتظار حسین، صدیقہ بیگم، صادقین، طارق عزیز، مصطفی زیدی، راقم السطور ظفر معین بلے جعفری، جبکہ سروں اور سنگیت کی دنیا کے بے تاج بادشاہوں اور ملکاؤں کہ جیسے استاد مہدی حسن، لتا منگیشکر، روبن گھوش، میڈم نیرہ نور، میڈم نور جہاں، مہناز بیگم، جگجیت سنگھ، ناہید اختر اور ٹیلی وژن اور فلمی دنیا کے روشن ستاروں کہ جیسے محمد علی، وحید مراد، شاہد، سلطان راہی، مصطفی قریشی، طالش، افضال، سہیل اصغر شامل ہیں کے مصورانہ شاہکار تخلیق کر کے دنیائے مصوری میں ایک ریکارڈ بھی قائم کیا ہے اور تاریخی کارنامہ بھی سرانجام دیا ہے۔
دل تو کر رہا ہے کہ جو بھی۔ کہنا ہے کہو، پھر ان کہا رہ جائے گا۔ لیکن طوالت کا خوف مجھے یہ مضمون یہیں ختم کرنے پر مجبور کر رہا ہے۔ بہت سی باتیں مجھے یاد آ رہی ہیں جو مجھے لکھنی تھیں اور میں نہیں لکھ پایا۔ اس لئے میرے اندر کے ظفر معین بلے جعفری نے مجھے مشورہ دیا ہے کہ نیا مضمون، میں نئے عنوان کے تحت لکھوں تاکہ حسرت نہ رہے۔ اب آخر میں پیش کر رہا ہوں میں محترم عطاءالحق قاسمی صاحب کی ایک خوبصورت غزل۔ آپ بھی پڑھئے اور سر دھنئے اور اگر ممکن ہوتو شہباز شریف صاحب تک پہنچوا دیں تاکہ وہ آئندہ محفلوں میں اس کی بنیاد پر بھی شعر سنا کر میلہ لوٹ سکیں۔
عطا الحق قاسمی کی ایک غزل خوبصورت شاعر
جو بھی کہنا ہے کہو پھر ان کہا رہ جائے گا
قربتوں کے درمیاں بھی فاصلہ رہ جائے گا
وہ گزر جائے گا ان رستوں سے مثل باد صبح
اور تو ان رہگزاروں میں کھڑا رہ جائے گا
بند کانوں سے سنے گا تو کھنکتی گفتگو
بھیگی آنکھوں سے اسے بس دیکھتا رہ جائے گا
چھین لے گی صبح اک آہٹ کا جھوٹا خواب بھی
آنکھ کی سونی گلی میں رت جگا رہ جائے گا
تتلیاں ہجرت کریں گی موسموں کے ساتھ ساتھ
اور شہر گل میں آشوب ہوا رہ جائے گا
بادلوں سے آگ برسے گی فضائے شہر پر
نقش مٹ جائیں گے اک نقش فنا رہ جائے گا
وقت نے مہلت دی تو میں عطا الحق قاسمی صاحب کے ٹی وی ڈراموں اور خصوصاً خواجہ اینڈ سنز کے حوالے سے الگ سے ایک مضمون لکھوں گا اور اس حوالے سے جو تاثر عام ہے کہ اس میں ان کی اپنی سوانح حیات کی کچھ جھلکیاں بھی ہیں، اس پر نئے زاوئیے سے بات ہوگی۔


