ستیہ گری کا دردناک انجام

مسٹر گاندھی جنوبی افریقہ سے ہندوستان آ کر ’عدم تشدد‘ کے اصولوں کا بہت پرچار کرتے اور اہل یورپ کو یہ پیغام دیتے رہے کہ وہ سیاست میں تشدد کے بجائے امن، شائستگی اور معقولیت کو فروغ دیں گے۔ اس کے علاوہ انہوں نے سوچ سمجھ کر ایک ایسا طرز زندگی اپنایا تھا جس کی بدولت ہندوؤں میں انہیں مہاتما کا بلند مرتبہ ملا اور سیاسی رہنما سے بڑھ کر ایک روحانی پیشوا کے طور پر متعارف کرایا گیا۔ وہ حقیقت میں ہندوستان کے اندر ’رام راج‘ قائم کرنے کی تگ و دو کر رہے تھے، مگر اس کے ساتھ ساتھ وہ مسلمانوں کے اندر اپنی مقبولیت بڑھانے کے راستے بھی تلاش کرتے رہے۔ تحریک خلافت نے ان کے لیے بہت اچھا موقع فراہم کر دیا تھا، چنانچہ انہوں نے مسلمانوں کے دل موہ لینے کے لیے زبردست نفسیاتی حربے استعمال کیے اور یوں انہیں کچھ عرصے کے لیے ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھنے کا موقع مل گیا۔ وہ مسلمانوں کی امنڈتی ہوئی عوامی طاقت کے بل بوتے پر سوراج کے خواب دیکھنے لگے تھے۔
8 جولائی 1921 ء کو خلافت کانفرنس مولانا محمد علی جوہر کی زیرصدارت منعقد ہوئی۔ اس میں ایک قرارداد منظور ہوئی جس کی رو سے مسلمانوں کے لیے فوجی ملازمت حرام قرار پائی۔ اس میں علما سے استدعا کی گئی تھی کہ وہ اس شرعی فتوے کو زیادہ سے زیادہ عام کریں تاکہ مسلمان فوج میں بھرتی ہونے سے باز رہیں۔ اس قرارداد میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ اگر برطانیہ نے ترکی کے خلاف کوئی فوجی کارروائی کی، تو ہم کانگریس کے آئندہ اجلاس میں ہندوستان ری پبلک کا جھنڈا لہرا دیں گے۔
اس قرارداد کی اشاعت پر مولانا محمد علی جوہرؔ اپنے چھ ساتھیوں سمیت گرفتار کر لیے گئے۔ مہاتما گاندھی نے ان کا موقف اپناتے ہوئے یہ حکم صادر کیا کہ کانگریس کے ہر پلیٹ فارم سے مولانا کا موقف دہرایا جائے، چنانچہ 16 ؍اگست 1921 ء کو ان گنت عوامی جلسوں میں مسلمانوں کے جذبات بڑی آب و تاب سے دہرائے گئے جو بتدریج سول نافرمانی کی تحریک میں تبدیل ہو گئے۔ پرنس آف ویلز کی آمد پر بمبئی میں انتہائی خونریز فساد ہوا اور فوج کی گولیوں سے 153 ؍افراد بھون دیے گئے۔
پھر مدراس میں بھی ہنگامے پھوٹ پڑے۔ اسی زمانے میں مالابار کے ساحلی علاقے کی دشوار گزار پہاڑیوں میں آباد مسلمان موپلوں اور حکومت کے درمیان گھمسان کا رن پڑا اور نوبت مارشل لا تک پہنچ گئی، چنانچہ 1921 ء کے آخر تک ہندوستان میں گاندھی جی کے سوا خلافت کمیٹی اور کانگریس کے تمام اہم لیڈر اور ہزاروں کارکن گرفتار کر لیے گئے تھے۔
عوام کے اندر ازخود گرفتاری دینے کا اس قدر جوش و خروش تھا کہ تمام جیلیں بھر گئیں اور رضاکاروں کی قطاریں طویل تر ہوتی گئیں۔ جلسوں میں باغیانہ تقریروں کا چلن عام ہوتا گیا جس کے نتیجے میں 5 فروری 1922 ء کو ضلع فرخ آباد، یوپی کے ایک گاؤں چوری چرا میں بڑا ہی دردناک واقعہ پیش آیا۔ وہاں کے عوام کا پولیس سے تصادم ہوا جس نے جلوس کو منتشر کرنے کے لیے گولی چلا دی۔ گولیاں ختم ہوئیں، تو پولیس نے پسپا ہو کر تھانے میں پناہ لی۔
مشتعل جلوس نے تھانے دار اور اس کے 21 کانسٹیبلوں کو تھانے میں بند کر کے عمارت کو آگ لگا دی اور پولیس کی پوری نفری جل کر خاکستر ہو گئی۔ اس واقعے کا مہاتما گاندھی پر اس قدر اثر ہوا کہ انہوں نے سول نافرمانی کی تحریک یک لخت بند کر دی۔ اس پر مسلمان سکتے میں آ گئے اور محسوس کرنے لگے کہ جب وہ کامرانی سے ہم کنار ہونے والے تھے، تو تحریک ختم کر کے ان سے غداری کی گئی ہے۔
ان واقعات نے ہندوستان کی سیاسی اور آئینی صورت حال پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ سب سے بڑا اور فوری اثر یہ ہوا کہ وہ مسلم ہندو اتحاد جس کی صورت گری میں جناح صاحب نے ایک مثبت کردار ادا کیا تھا، وہ گاندھی جی کی تحریک عدم تعاون کی بھینٹ چڑھ گیا اور فرقہ وارانہ کشیدگی پہلے سے کہیں زیادہ شدت اختیار کر گئی۔ مسٹر جناح جو ’امن کے سفیر‘ کے لقب سے معروف تھے، انہوں نے افہام و تفہیم کے ذریعے مسلمانوں اور ہندوؤں کی قیادتوں اور سرکردہ حلقوں میں میثاق لکھنؤ پر اتفاق رائے پیدا کیا تھا اور دونوں قومیں خوش دلی سے ایک دوسرے کے مفادات کے تحفظ پر آمادہ ہو گئی تھیں۔ عالمی شہرت کے محقق جناب ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی نے اس میثاق لکھنؤ کا خلاصہ ان الفاظ میں بیان کیا ہے :
( 1 ) صوبوں کو زیادہ سے زیادہ انتظامی اور مالی خودمختاری دی جائے۔ ( 2 ) صوبائی اور مرکزی مجالس قانون ساز کے ارکان کا صرف پانچواں حصہ نامزد کیا جائے۔ ( 3 ) صوبائی اور مرکزی حکومتوں کے کم از کم نصف ارکان قانون ساز مجالس سے لیے جائیں۔ ( 4 ) صوبائی اور مرکزی حکومتیں مجالس قانون ساز کی قراردادوں کی پابند ہوں، سوائے ان قراردادوں کے جنہیں گورنر جنرل نے مسترد کر دیا ہو۔ ( 5 ) وزیر ہند کے تعلقات ہندوستان کے ساتھ ویسے ہی ہونے چاہئیں جیسے وزیر نوآبادیات کے تعلقات دوسری نوآبادیات کے ساتھ ہیں۔ ( 6 ) مجالس قانون ساز میں خاطرخواہ توسیع کی جائے اور رائے دہندگان پر عائد شرائط میں کمی کی جائے۔
مختلف پہلوؤں سے میثاق لکھنؤ حکومتی خود اختیاری کے قیام کی طرف ایک بڑا قدم تھا اور ہندو مسلم اتحاد کی مثبت اور پائیدار بنیادیں فراہم کر رہا تھا۔ کانگریس کی قیادت نے مسلمانوں کے لیے جداگانہ انتخاب کا نظام پوری رضامندی اور خوش دلی سے قبول کر لیا تھا جسے وہ متحدہ قومیت کے لیے سم قاتل سمجھتے آئے تھے۔ میثاق لکھنؤ میں اقلیتی صوبوں میں مسلمانوں کو پاسنگ فراہم کرنے پر بھی اتفاق ہو گیا تھا اور یہ اصول بھی طے پایا تھا کہ مجلس قانون ساز میں کسی ایسی قرارداد پر بحث نہیں کی جا سکے گی جس کے ایک فرقے کے تین چوتھائی ارکان خلاف ہوں۔
میثاق لکھنؤ کی یہ شق مسلمانوں کے نقطۂ نظر سے غیرمعمولی اہمیت کی حامل تھی جو یہ ضمانت فراہم کرتی تھی کہ ہندو اکثریت مسلمانوں پر اپنے فیصلے مسلط نہیں کر سکے گی اور اسے ہر بڑے فیصلے تک پہنچنے کے لیے مسلمانوں کے ساتھ مشاورت اور ان کی رضامندی کا حصول لازمی ہو گا، مگر چوری چرا کے ہولناک المیے کے بعد اتحاد کا رشتہ ٹوٹتا گیا اور نت نئے اختلافات اور سانحات جنم لیتے رہے اور آئینی مسائل الجھتے گئے۔ (جاری ہے )

