ماحولیات کا عالمی دن
ماحولیات کا عالمی دن پوری دنیا میں ہر سال 5 جون کو منایا جاتا ہے۔ اس دن دنیا بھر سے قابل اور ہونہار دماغ ایک جگہ پر اکٹھے ہوتے ہیں اور اپنی اپنی تجاویز پیش کرتے ہیں کہ کیسے ماحول کو بہتر بنایا جا سکتا ہے اور عالمی سطح پر آلودگی سے نمٹنے کے لیے کون سے اقدامات کرنے چاہیے۔ تاکہ زمین کو رہنے کے لیے ایک خوبصورت ’آرام دہ‘ پر آسائش جگہ میں تبدیل کیا جا سکے۔
اس دن کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کیوں کہ مقصد لوگوں میں آگاہی کو جگانا ہے کہ کیسے ہم اپنے اردگرد کے ماحول کو آلودگی کی مختلف اقسام اور ان کے منفی اثرات سے بچا سکتے ہیں جو گلوبل وارمنگ کا سبب بن رہی ہیں۔ یہ آج کا بہت بڑا مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ اس طرف توجہ مرکوز کروائی جائے اور زمین اور اس پر رہنے والے تمام چرند ’پرند‘ انسانوں اور جانوروں کو تحفظ فراہم کیا جائے تاکہ وہ آلودگی سے پاک تروتازہ ہوا میں سانس لے سکیں اور ان کو دیگر مورثی بیماریوں سے بھی بچایا جا سکے تاکہ وہ ایک بھرپور زندگی سے لطف اندوز ہو سکیں۔
اس سال ماحولیات کے عالمی دن پر پلاسٹک کی آلودگی کا تھیم رکھا گیا یعنی اس پر بات کی گئی۔ اس دن عام سطح پر اس ضرورت پر زور دیا گیا کہ ماحول کو پلاسٹک سے بنی مصنوعات کے نقصانات سے بچایا جائے۔
ماحولیات کا عالمی دن اس بات کی یقین دہانی کے لیے منایا جاتا ہے کہ ہم اپنا اہم کردار ادا کریں اور اپنے اردگرد کے قدرتی ماحول کو آلودگی سے پاک رکھیں۔ آلودگی سے کئی ایک مہلک بیماریاں نہ صرف ہم انسانوں کے لیے بلکہ آبی جانوروں اور فضائی پرندوں کے لیے بھی جان لیوا ثابت ہوتی ہیں۔
اگر ہم اپنے اردگرد کا جائزہ لیں تو اس بات کا شدت سے احساس ہوتا ہے کہ پلاسٹک کا استعمال دن بدن خطرناک حد تک بڑھتا جا رہا ہے۔ پلاسٹک کے استعمال میں انفرادی طور پر استعمال ہونے والا سٹرا ’پانی اور جوس کی بوتل‘ شاپر جیسی کئی اشیاء اور ان کی پیکنگ وغیرہ شامل ہیں جو کہ ہماری صحت کے لئے نقصان دہ ثابت ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ شاپر ’پلاسٹک گلاس وغیرہ جب پانی میں شامل ہوتے ہیں تو آبی جانوروں کے سانس روکنے کا سبب بن جاتے ہیں جس سے ان کی اموات واقع ہو جاتی ہے۔
ہمیں کوڑا کرکٹ اس طرح نہیں پھینکنا چاہیے کیونکہ یہ ہوا کے دوش پر کہیں سے کہیں پہنچ جاتا ہے اور اکثر کئی خطرناک حادثات کا موجب بھی بنتا ہے۔ ہمیں ان مصنوعات کے استعمال میں وقت کے ساتھ کمی لانی چاہیے۔ اس کے علاوہ پلاسٹک کی دیگر اشیاء کو پھینکنے کی بجائے ہم دوبارہ قابل استعمال بھی بنا سکتے ہیں جسے ری سائیکلنگ کہا جاتا ہے۔ اس طرح ہم ماحول کی آلودگی کی روک تھام میں اہم اور کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔
ایک سروے کے مطابق پوری دنیا میں ہر سال 400 ملین ٹن پلاسٹک کی پیداوار ہوتی ہے جس میں سے تقریباً آدھا یا نصف حصہ صرف ایک بار ہی استعمال ہوتا ہے جبکہ اس کا 10 فیصد حصہ ری سائیکل کیا جاتا ہے اور سالانہ 19 سے 23 فیصد حصہ ندی ’نالوں‘ جھیلوں ’دریاؤں اور سمندروں کا حصہ بن جاتا ہے۔
جب صنعتی ادارے اور دیگر فیکٹریاں اپنا استعمال شدہ پلاسٹک کا مواد یا فضلے کا انعکاس ناقص طریقے سے کرتے ہیں تو وہ تمام کا تمام تر فضلہ سمندروں ’دریاؤں‘ ندی ’نالوں کی زینت بن جاتا ہے۔ جس سے واسطہ اور بلاواسطہ طور پر آبی جانور اور انسان دونوں ہی متاثر ہوتے ہیں۔ کئی پھیلنے والی بیماریاں جان لیوا بھی ثابت ہوتی ہیں۔
پلاسٹک کے استعمال کی روک تھام کے ساتھ ساتھ اس کے فضلے کو ٹھکانے لگانے کے مناسب طریقے کار اور منتقلی کا مناسب بندوبست ہونا چاہیے تاکہ نہ صرف ماحول صاف نظر آئے بلکہ موذی بیماریوں سے بھی نجات مل سکے۔ اس مقصد کے لئے ہمیں ری سائیکلنگ کو فروغ دینا چاہیے۔
زیادہ سے زیادہ پودے اور درخت اپنے اردگرد لگانے چاہیے تاکہ ماحول خوشگوار ہونے کے ساتھ ساتھ فضائی آلودگی کو بھی کم کیا جا سکے۔
پلاسٹک کے استعمال کو ختم کرنے کی طرف اقدامات کرنے چاہیے تاکہ اس کے مضر اثرات سے خود کو اور ماحول کو محفوظ رکھا جا سکے۔
پلاسٹک کے فضلے کو مناسب طریقے سے ٹھکانے لگانے کے لیے ضروری اقدامات کرنے چاہیے۔
اپنے اردگرد کے ماحول یا کمیونٹی کو صاف ستھرا رکھنا بہت ضروری ہے اس کے لیے ہمیں انفرادی طور پر بھی اقدامات کرنے چاہیے۔
آگاہی پروگرام اسکول اور دیگر تعلیمی اداروں میں چلانے چاہیے تاکہ اپنے ماحول کو اور خود کو آلودگی کے برے اثرات سے بچا سکیں۔
مختلف سرکاری اور غیر سرکاری انجمنیں ماحولیات کے عالمی دن کے حوالے سے تقریبات کا انعقاد کرتی ہیں۔ جن کا بنیادی مقصد عوام الناس میں ان معاملات کو بہتر انداز میں اجاگر کرنا اور آگاہی پیدا کرنا شامل ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ایسے پروگرام میں اضافہ ہو رہا ہے جو کہ خوش آئند تصور کیا جا سکتا ہے۔
سیمینار اور پروگرامز کرنے کے علاوہ ایسے ٹھوس اقدامات کی بھی اشد ضرورت ہے جن سے لوگوں کو حقیقی سکون میسر ہو سکے۔ ہر سطح پر کوشش جاری رہنا چاہیے کیونکہ یہ ایک مشترکہ مسئلہ ہے اور اس پر قابو پانے کے لئے منصوبہ بندی اور مسلسل محنت درکار ہے۔
تعلیمی اداروں خصوصاً اسکولوں میں ماحولیات سے متعلق زیادہ سے زیادہ گفت و شنید ہونی چاہیے تاکہ طلباء و طالبات کو شروع سے ہی ان محرکات کا علم ہو۔ ان کی مدد سے پورے معاشرے میں ایک مثبت تبدیلی آ سکتی ہے۔


