کیا مسئلہ فلسطین اب حل کی جانب ہے؟


14 جون کی سہ پہر چینی صدر شی جن پھنگ نے چین کے سرکاری دورے پر آنے والے فلسطینی صدر محمود عباس سے بیجنگ کے عظیم عوامی ہال میں ملاقات کی۔ یہ ملاقات کئی حوالوں سے اہمیت کی حامل رہی جس میں صدر شی جن پھنگ اور صدر عباس نے چین اور فلسطین کے درمیان تزویراتی شراکت داری کے قیام کا اعلان بھی کیا اور چین کے صدر نے مسئلہ فلسطین کے حل کے لیے تین نکاتی تجاویز بھی دنیا کے سامنے پیش کیں۔

پہلی تجویز مسئلہ فلسطین کے بنیادی حل کے لیے ہے جس میں 1967 کی سرحد کی بنیاد پر ایک مکمل خود مختار آزاد فلسطینی ریاست کا قیام ہے جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔ دوسری تجویز میں فلسطینی معیشت اور لوگوں کی غذائی ضروریات کو یقینی بنانے اور عالمی برادری کو فلسطین کے لیے انسانی اور ترقیاتی امداد میں اضافہ شامل ہے جب کہ تیسری تجویز امن مذاکرات کا درست سمت پر قائم رہنا ہے۔ چین کے صدر شی جن پھنگ نے یہ بھی کہا کہ یروشلم کے مذہبی مقدس مقامات کی تاریخ میں تشکیل دی جانے والی موجودہ صورتحال کا احترام کیا جا نا چاہیے اور اشتعال انگیز الفاظ اور اعمال کو ترک کر کے ایک مزید بڑی، مستند اور زیادہ اثر انگیز بین الاقوامی امن کانفرنس کا انعقاد کیا جائے تاکہ امن مذاکرات کی بحالی کے لیے سازگار ماحول پیدا ہو اور فلسطین اور اسرائیل پرامن طور پر ایک ساتھ رہ سکیں۔ اس ملاقات کے بعد ایک بار پھر چین نے اپنے اس موقف کو دہرا یا کہ چین، فلسطین میں مفاہمت اور امن مذاکرات کے فروغ میں مثبت کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔

چین اور فلسطین ہمیشہ اچھے دوست اور اچھے شراکت دار رہے ہیں جو ایک دوسرے پر بھروسا اور داخلی اور خارجی معاملات پر ایک دوسرے کی حمایت کرتے ہیں۔ چین، فلسطین لبریشن آرگنائزیشن اور ریاست فلسطین کو تسلیم کرنے والے اولین ممالک میں سے ایک تھا اور اس نے ہمیشہ فلسطینی عوام کے جائز قومی حقوق کی بحالی کے لیے مضبوط حمایت کی ہے۔ اس ملاقات کے موقع پر فلسطینی صدر محمود عباس نے فلسطینی عوام کے جائز قومی قانونی حقوق کی بحالی اور منصفانہ مقصد میں چین کی مضبوط حمایت پر چین کا ایک بار پھر شکریہ ادا کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ فلسطین چین کے ساتھ مل کر دی بیلٹ اینڈ روڈ کی مشترکہ تعمیر کو آگے بڑھانا چاہتا ہے اور مختلف شعبوں میں تعاون کو مستحکم کرتے ہوئے بنی نوع انسان کے ہم نصیب معاشرے کی تعمیر کو فروغ دینا چاہتا ہے۔ صدر عباس کے اقتصادی مشیر محمد مصطفیٰ کے مطابق چین فلسطینی علاقوں میں اپنی اقتصادی موجودگی میں اضافہ کرنے کو تیار ہے اور دونوں فریق اسرائیل کے زیر قبضہ مغربی کنارے میں چار منصوبوں پر اصولی طور پر متفق ہو چکے ہیں۔

مصطفیٰ نے فلسطینی ٹیلی ویژن پر کہا کہ ان منصوبوں میں شمسی توانائی کی تنصیب، شمسی پینل کی پیداوار کے لیے ایک فیکٹری، ایک اسٹیل پلانٹ اور سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی شامل ہیں۔

فلسطینی صدر وہ پہلے سربراہ نہیں ہیں جنہوں نے چینی صدر کے پیش کردہ گلوبل سکیورٹی انیشٹیو، گلوبل ڈیویلپمنٹ انیشیٹو اور گلوبل سولائزیشن انیشٹیو کی حمایت کی ہو بلکہ موجودہ بین الاقوامی تعلقات میں دنیا کے تمام بڑے اور اہم ممالک نے ان خیالات اور اقدامات کی تعریف اور حمایت کی ہے۔

کئی دہائیوں سے التوا کا شکار مسئلہ فلسطین عالمی رہنماؤں کی توجہ اور دلچسپی کا منتظر ہے۔ ماضی میں عالمی طاقتوں اور اسلامی دنیا کی کئی کوششوں کے بعد بھی یہ معاملہ اگر آج حل طلب ہے تو اس کی بنیادی وجوہات میں عالمی طاقتوں کی جانب داری اور مفادات ہی نظر آتے ہیں۔ تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اب عالمی منظر نامے پر ایسی کیا تبدیلیاں آ گئی ہیں کہ جس میں مشرق وسطیٰ میں امن عمل کے تیزی سے آگے بڑھنے کے امکانات میں اضافہ ہوا ہے۔

وجہ یہ ہے کہ وہ تمام ممالک جو عالمی امن کے خواہشمند ہیں ان کے لیے یہ صورت حال نہایت خوشگوار اور امید افزا ہے کہ چین جیسے بڑے اور غیر جانب دار ملک نے اس مسئلے کی ثالثی کی پیشکش کی ہے اور اسے حل کرنے کی تجاویز بھی پیش کی ہیں۔ چین کی دانشمندانہ اور غیر جانب دارانہ سفارت کاری کا دنیا کو چونکا دینے والا مظاہرہ اس سال کے آغاز میں چینی دارالحکومت بیجنگ میں سعودی عرب اور ایران کے درمیان تعلقات کی بحالی کے معاہدے کی شکل میں ہو چکا ہے جس کے بعد ایران اور سعودی عرب کے سفارتی تعلقات نے بہت کم عرصے میں نمایاں کامیابیاں بھی حاصل کی ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اب چینی قیادت کے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان ثالثی کی پیشکش کو خطے میں انسانی حقوق کی پامالی اور بدامنی کے ایک مستقل سبب کے ازالے کی کوشش کہا جا رہا ہے۔

گزشتہ سال دسمبر میں صدر شی جن پھنگ نے اپنے دورۂ سعودیہ میں عرب ممالک کے رہنماؤں کو باہمی اختلافات بات چیت کے ذریعے حل پر آمادہ کرنے میں کامیابی حاصل کی تھی جس کے نتیجے میں یمن اور شام میں جاری جنگوں کے خاتمے اور متحارب ملکوں میں تعلقات کی بحالی کی منزل بہت قریب نظر آ رہی ہے۔ شام کا عرب لیگ میں واپس آنا اور عرب لیگ کا اسے خوش آمدید کہنا اور متحدہ عرب امارات اور قطر میں بھی باہمی تعلقات کی بحالی کا عمل شروع ہونے کو بڑی کامیابیاں کہا جا سکتا ہے۔ اس دورے میں شی جن پھنگ نے فلسطینی صدر محمود عباس سے ملاقات کی تھی اور مسئلہ فلسطین کے جلد، منصفانہ اور پائیدار حل کے لیے کام کرنے کا وعدہ کیا تھا۔

چینی وزیر خارجہ چھن گانگ کہ چکے ہیں کہ مسئلہ فلسطین مشرق وسطیٰ کا مرکزی مسئلہ ہے جو خطے کے امن و امان نیز عالمی انصاف سے وابستہ ہے۔ عالمی برادری کو مسئلہ فلسطین کے حل کو بین الاقوامی ایجنڈے میں ترجیحی اہمیت دینا ہوگی۔

چینی وزیر خارجہ چھن گانگ نے قاہرہ میں چینی صدر شی جن پھنگ کے خیالات کا اعادہ کیا تھا کہ مسئلہ فلسطین پر فلسطینی عوام کے قانونی حقوق پر کوئی سودے بازی نہیں کی جا سکتی اور فلسطینیوں کی ایک خود مختار ملک کے قیام کی جدوجہد سے انکار نہیں کیا جا سکتا اور یہ بھی کہ مسئلہ فلسطین کے حل کو زیادہ عرصے تک حل طلب نہیں رہنا چاہیے۔ چین کا یہ ماننا ہے کہ عالمی برادری کو ”دو ریاستی حل“ کے تصور اور زمین کے بدلے امن کے حصول کے اصول پر قائم رہتے ہوئے امن مذاکرات کے ذریعے مسئلہ فلسطین کو جلد از جلد منصفانہ طور پر حل کرنا چاہیے اور اس حوالے سے اثر و رسوخ کے حامل بڑے ممالک کو اپنی ذمہ داری اٹھانی چاہیے۔

جون 20230 میں عالمی انسانی حقوق کی حکمرانی پر بیجنگ میں دو روزہ اعلیٰ سطحی فورم میں تقریباً 100 ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں کے 300 سے زائد چینی اور غیر ملکی مہمانوں نے عالمی انسانی حقوق کی حکمرانی کو بہتر بنانے اور دنیا میں انسانی حقوق کے بہتر فروغ کے حوالے سے مشترکہ تبادلہ خیال کیا۔ فورم میں شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ چین کے گلوبل سیکورٹی انیشیٹو، گلوبل ڈیولپمنٹ انیشیٹو، اور گلوبل سولائزیشن انیشیٹو انسانی حقوق کی بحالی اور تحفظ کے لیے بہت اہمیت کے حامل ہیں اور انہوں نے عالمی انسانی حقوق کے نصب العین کی ترقی میں نئی تحریک پیدا کی ہے

چین کی جانب سے دنیا کو درپیش مشکلات کے حل کے لیے کئی انیشییٹوز پیش کیے گئے ہیں جن میں گلوبل سیکورٹی انیشیٹو، گلوبل ڈیولپمنٹ انیشیٹو، گلوبل سولائزیشن انیشیٹو نمایاں ہیں۔ موجودہ حالات میں چین نے دنیا کے سامنے ایک بڑے اور ذمہ دار ملک کی حیثیت سے اپنا کردار بھر پور انداز میں پیش کیا ہے جس سے دنیا میں پہلے سے موجود عالمی طاقتوں کے ماضی اور حال کے کرداروں پر کئی سوالات اٹھتے ہیں لیکن یہ وقت شاید ان سوالوں کے اٹھائے جانے کا نہیں بلکہ دنیا کو درپیش سارے چیلنجز کا مل کر مقابلہ کرنے کا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چین نے ان مسائل کو حل کرنے اور دنیا کو زندہ رہنے کے لیے ایک بہتر جگہ بنانے میں اپنا کردار واضح اور تیز کیا ہے تا کہ اجتماعی کوششوں سے اختلافات کو بھلا کر اور تنازعات کو حل کر کے ایک بہتر ہم نصیب معاشرہ تشکیل دیا جا سکے۔

Facebook Comments HS