یہ تو وہی جگہ ہے گزرے تھے ہم جہاں سے


’Dejavu‘ ایک فرانسیسی جملہ ہے جس کا مطلب ہے ”پہلے سے دیکھا ہوا“ اس سے مراد کسی چیز کا پہلے تجربہ کرنے کے احساس سے ہوتا ہے۔ ’دیجا وو‘ کے بارے میں ایک نظریہ یہ ہے کہ اس کا تعلق ہمارے دماغ کے معلومات پر عمل کرنے کے طریقے سے ہے۔ ہمارے دماغ مسلسل نئی معلومات لے رہے ہیں اور معلومات کے مختلف ٹکڑوں کے درمیان روابط پیدا کر رہے ہیں۔ جب ہمیں کسی ایسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو اس سے ملتی جلتی ہے جس کا ہم نے پہلے تجربہ کیا ہے، تو ہمارا دماغ ان دو حالات کے درمیان تعلق پیدا کر سکتا ہے، جس سے ڈیجا وو کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ یوں تو ’دیجا وو‘ تفریح کے حصول اور تجسس کی کھوج میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے لیکن اگر اس نظریے کے سائے میں ہم پاکستان کا تجزیہ کریں تو ہمارے جذبات، احساسات، اور ذہنی کیفیت کا موجودہ صورت حال سے پہلے گزر چکنے کے ادراک اور انکشاف کے بعد ، کے محسوسات کیا ہوں گے، آئیے جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق پاکستان میں صورتحال کبھی اتنی سنگین نہیں رہی جتنی اب ہے۔ ملک کی معیشت دیوالیہ ہونے کے دہانے پر ہے۔ عالمی معیشت کے نگہبان ادارے یعنی آئی ایم ایف کے ساتھ پاکستان کے معاملات سلجھنے کے امکانات معدوم سے معدوم تر ہو رہے ہیں۔ معاشرہ سیاسی طور پر تقسیم کا شکار ہے۔ لاکھوں افراد اب تک گزشتہ برس آنے والے سیلاب کے اثرات سے باہر نہیں نکلے پائے۔ ملک میں دہشتگردی کے واقعات بڑھ رہے ہیں اور مہنگائی کے طوفان نے لاکھوں شہریوں کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول انتہائی مشکل بنا دیا ہے۔

یوں عام آدمی بھی یہی سوچ رہا ہے کہ شاید جو حالت اب ایسی پہلے کبھی تو نہ تھی۔ لیکن بات یہ بھی ہے کہ ماضی کا درد حال کے درد سے کمتر نظر آتا ہے کیونکہ انسان حال کے درد کو رگ و جان میں لمحہ موجود میں محسوس کرتے ہوئے گریہ کرتا ہے۔ اگر ہم پاکستان کے وجود سے ہی حالات کی سنگینی، حکمران طبقے کی ذاتی مفاد کے لیے اکھاڑ پچھاڑ اور عام آدمی پر برستے درد کے تازیانوں کا تجزیہ کریں تو ہمیں ہمہ وقت یہی محسوس ہو گا کہ یہ تو وہی جگہ ہے گزرے تھے ہم جہاں سے۔

سہانے ماضی کا جو نقشہ ہمارے ذہنوں میں نصابی کتابوں نے بنا رکھا ہے اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ اگر بات درجہ اول سے ہی شروع کی جائے تو سنہ 1947 ء کے پاکستان کی بات کی جائے تو جو آج ہو رہا ہے اور جو پہلے ہو چکا ہے، سے آپ ’دیجاؤو‘ کشید کر سکتے ہیں۔ ماضی اور حال کی طولانی درد کی یکسانیت کو دیکھ کر آپ کی حیرت گاؤ تکیہ لیے آپ کو کہیں سوئی ہوئی ملے گی۔

1947 کا پاکستان کیسا تھا یہ جاننے کے لیے محمد سعید کی کتاب ’پاکستان‘ کا تذکرہ انتہائی دلچسپ رہے گا۔ محمد سعید نے کمال مہارت کے ساتھ اس کتاب میں ہمارے سامنے اس وقت کے پاکستان کا نقشہ کھینچا ہے۔ کتاب میں یکم اگست 1947 ء سے لے کر 31 دسمبر 1947 ء تک پاکستانی اخبارات سے مواد کو یکجا کیا گیا ہے۔ اس کتاب کو پڑھنے سے پتا چلتا ہے کہ جس وقت پاکستان معرض وجود میں آ رہا تھا اس وقت ملک میں کس قسم کا ماحول تھا پاکستان کی ریاست کس حال میں تھی، کیا اس برے حال میں حکومت پاکستان کے اقدامات حکومت وقت سے مختلف تھے؟

ملال کی بات یہ ہے کہ جو سیاسی رسہ کشی ہمیں آج نظر آ رہی ہے بدقسمتی سے یہی منظر آپ کو ماضی میں بھی دکھائی دے گا اور جب پس منظر ہی داغ دار ہو تو منظر اور پیش منظر کا تذکرہ ہی کیا؟ یہ ملک صالح کی اونٹنی کی ماند ہے اسے جیتنا لوٹنے والے لوٹ رہے ہیں یہ اس قدر پھل فراوانی سے دے رہا ہے اور یہ شاخ کبھی بے ثمر نہیں ہوگی وغیرہ وغیرہ۔ یہ سبق تب سے چل رہا ہے اور صالح علیہ سلام کی اونٹنی کے قصے کا اختتام تو ہم نے سن رکھا ہے سو اب اس ملک کا حال ہم اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ ثمر کے ساتھ ساتھ شاخ بھی اب اوباش لے اڑے ہیں۔

خیر ہمارے نفس مطمئنہ کے لیے آج کے حساب سے نعرے اور بھی ہیں جو ہمیں بنے بنائے مل گئے اور ہم انہی کی جگالی کر رہے ہیں۔ اس کتاب کے مطالعے سے آپ پر یہ بات مزید عیاں ہوگی کہ جناب ہمارے ساتھ تو شروعات سے ہی ریاستی ’پرینک‘ ہو رہا تھا اور ہم کیمرے میں ہاتھ ہلاتے ہلاتے کہیں اصحاب کہف کی غار میں سوتے ہی رہ گئے اور اب جاگنے پر راز ہم پہ یہ کھلا کہ عالمی منظر پر ہماری کرنسی قدیم زمانے کی اشرفی بن چکی ہے اور ہم کسی پرانے عہد میں زندہ تو ہیں مگر جانتے نہیں ہیں کہ ہم بھی زندہ ہیں۔

موجودہ صورت حال میں اب بس عادتوں کی ورزش ہے ہماری بھی اور طاقت کے حلقوں کی بھی، ملک ایک طرف شدید مالی مسائل سے دوچار ہے تو دوسری طرف سیاست دانوں اور اداروں میں اختیارات کی رسہ کشی جاری ہے کہ کون پاکستان کو چلائے گا۔ حالیہ برسوں کی بات کی جائے تو جو کرتب دو ہزار اٹھارہ میں پیش کیے گئے وہی اب دوبارہ وقت کی ضرورت کو مدنظر رکھ کر پیش کیے جا رہے ہیں۔ یہ ورزش جاری ہے کردار بدلتے رہے ہیں دائرہ کبھی نہیں بدلا اور آگے بھی کبھی نہ بدلنے کا عہد و پیماں کر دیا گیا ہے۔

روزانہ کی بنیاد پر ٹی وی چینلوں پر چلنے والے مباحثے، سخت الٹی میٹم اور متعدد احتجاجی ریلیوں اور جلوسوں کے باوجود ’پاکستان‘ 1947 کے منظر میں ہی نظر آئے گا بلکہ اس سے بھی بدتر حالات میں۔ تب بھی حکومت وقت عوام کو بنیادی ضروریات کی فراہمی کے لیے واضح ریاستی پالیسی دینے سے قاصر رہی اور آج بھی حکومت وقت کوئی واضح معاشی پالیسی دینے سے قاصر ہے۔

موجودہ وقت میں جب حکومت غیر پیداواری عمل میں اربوں روپے خرچ کر رہی ہے تو یہ بھی کوئی نئی بات نہیں ہے سنہ 1947 ء کے پاکستان میں بھی حکومت کا زور سرکاری ظہرانے اور عشائیے دینے پر ہی تھا۔ کچھ بھی نیا ہرگز نہیں ہے فرق محض محسوسات کا ہے، لمحہ موجود میں ہمیں حکومت کی بے حسی زیادہ شدت سے محسوس ہو رہی ہے مگر ماضی اور حال دونوں حالات میں درد کی دھار یکساں رہی ہے جس کی نوک اور زد پر ہمیشہ رعایا ہی رہی ہے، غریب ہی رہا ہے۔

موجودہ حالات میں کے جب ریاست اپنی ماضی کی پسندیدہ جماعت کی بیخ کنی کرنے میں مصروف ہے، ایک عام آدمی خود سے استفسار کرتا ہے کہ کیا ماضی میں ایسا ہوا ہے؟ مگر ہماری تاریخ یہی بتاتی ہے کہ ریاست نے عدم استحکام کو بیشتر مرتبہ نام ’استحکام‘ کا ہی دیا ہے۔ اب اگر ’استحکام‘ ایک جماعت بن کر کل مزید عدم استحکام کا سبب بنے تو مستقبل میں ریاست عوام کو استقامت کی نئی راہوں میں جھونک کر ایک نئی فال نکال دے تو کیا آپ کو کوئی حیرانی ہوگی؟ ہونی تو نہیں چاہیے کیوں کہ یہ تو وہی جگہ ہے گزرے تھے ہم جہاں سے۔

اس ساری سیاسی کتھک میں اگر کوئی چیز بدلی ہے تو وہ ایک ہے، اور وہ یہ کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے نظام، آئین، جمہوریت مخالف ذہن سازی، چور چور کی بازگشت کو عام کرنے، عداوت کی حد تک سیاست کی راہ ہموار کرنے اور تقسیم کے ذریعے حکمرانی کرنے والے ادارے کو اب خود اسی قسم کے چیلنجز کا سامنا ہے۔ باقی سب ماضی اور حال کا مشترکہ اسٹاک ہے۔ نفرت کی سیاست کو ہوا دینے والے اب خود دم گھٹکو، دم گھٹکو کے ورد میں مبتلا ہیں۔ ماضی میں مسلسل کٹھ پتلی نچانے والے اب اپنی انگلیاں ڈور میں پھنسا چکے ہیں اور اب کی بار ان کی انگلیوں کے پور بھی زخمی ہیں۔

Facebook Comments HS