مری کا سفر
کچھ دن پہلے فیملی کے ساتھ مری جانے کا ارادہ کیا تو خیال آیا کہ کار کی مخصوص کلو میٹرز کے بعد والی سروس کا وقت بھی آ گیا ہے، لہذا جانے سے پہلے کروا لینی چاہیے۔ جمعہ کا دن تھا، نماز کے وقفے کا خیال کرتے ہوئے صبح صبح کار کمپنی کی مقرر کردہ ورک شاپ پر پہنچ گیا، ہمیشہ کی طرح اچھے اخلاق کے ساتھ استقبال کیا گیا اور خرچے کا اندازہ بھی پہلے سے دے دیا گیا۔
مکینک نے کام شروع کیا تو اپنے سپروائزر کے ساتھ کچھ بات چیت کرنے کے بعد مجھ سے مخاطب ہوا اور بولا کہ کار کی بریک کی اگلی ڈسک کی تبدیلی ضروری ہے اور اکتیس ہزار روپے اضافی خرچہ ہو گا۔ میں نے حیرانی سے سنا اور کہا کہ ابھی تو کار نئی جیسی ہے، نہ زیادہ چلی ہے اور نہ ہی مجھے کوئی خرابی محسوس ہوتی ہے، پھر بھی وہ بضد تھا اور بولا کہ اس کی بریکیں تو ورک شاپ سے باہر جاتے ہی کسی بھی وقت کام چھوڑ سکتی ہیں اور ٹائروں کے قریب سے آوازیں بھی آنے لگیں گی، غرض کہ جتنا ڈرا سکتا تھا ڈرایا۔ ابھی بمشکل انیس ہزار کلومیٹر چلی تھی، مکینک کی بات ہضم نہیں ہو رہی تھی۔
کچھ دیر بعد سروس سینٹر کا سپروائزر میرے پاس آیا اور زندگی کی اہمیت بتانے لگا جس سے میں پہلے ہی بخوبی واقف تھا۔ بے ایمانی کے نشے میں وہ کچھ زیادہ ہی کہہ گیا کہ بریک کی ڈسک خراب ہو تو موت کس کس طریقے سے ہو سکتی ہے۔ مجھے اس کی نیت پر شک ہو گیا تھا اور میں نے انکار کرتے ہوئے کہہ دیا کہ جو کام کروانے آیا ہوں بس وہی کروانا ہے۔
اچانک مکینک میرے قریب آیا اور پوچھنے لگا، سر آپ نے ویک اینڈ پر لوکل چلانی ہے یا شہر سے باہر جانا ہے۔ میں نے بتایا کہ مری جانے کا ارادہ ہے۔ بس یہ سننا تھا اور اس نے مجھے کھائی کے متعلق تفصیل سے آگاہ کرنا شروع کر دیا کہ گرنے سے پہلے اور بعد میں کھائی کیسی دکھائی دیتی ہے اور اگر کار کی بریک نہ لگے اور کسی کھائی میں چلی جائے تو کار اور انسان دونوں کی لاشیں کتنی مشکل سے باہر آتی ہیں۔ میں معاملہ اپنی عقل اور تجربہ کی بنیاد پر خوب سمجھ چکا تھا اس لیے ان دونوں کو صاف الفاظ میں جواب دے دیا۔
اسی دوران مجھے خیال آیا کہ جون کے مہینے میں مکینک شدید گرمی میں کام کر رہا ہے، نیت کا حساب تو اللہ نے لینا ہے لیکن محنت پر تو کوئی شک نہیں تھا، ٹپ دینے کا ارادہ کیا اور کچھ پیسے جیب سے نکال کر اسے پکڑا دیے۔ اس کے بعد مکینک نے جو یو ٹرن لے کر گفتگو کی وہ ملاحظہ فرمائیں۔
سر آپ نے مری جانا ہے، وہ زیادہ دور تو نہیں ہے، سوال کے ساتھ ساتھ جواب بھی اس کے اپنے ہی جملے میں تھا۔ جی، چالیس سے پچاس کلومیٹر ہو گا، میں نے کہا۔ مکینک نے موبل آئل کا ڈبہ میز پر رکھا اور بولا، آپ چلے جائیں، مری تک کچھ نہیں ہو گا، آپ کی بریکیں اور ڈسک تقریباً نئے ہیں، تقریباً نئے کہہ کر اب مری کے سفر کی اجازت مل چکی تھی۔ پھر تفصیل سے کہنے لگا، سر بریکیں اور ڈسک صفائی سے پہلے خراب لگ رہی تھیں، اب صفائی اور گریس لگانے کے بعد اے ون ہیں۔ میں نے پیسے کی طاقت دیکھی اور شدید صدمے کی حالت میں مصنوعی مسکراہٹ کے ساتھ شکریہ ادا کیا۔ کام ختم ہوا تو مکینک پھر سے مخاطب ہوا اور بولا، اگر کبھی بریکیں واقعی خراب ہو جائیں یا ڈسک کو تبدیل کرانا ہو تو راولپنڈی صدر میں فلاں نام کی دکان سے لے لیں، ایک نمبر بھی ہوں گی اور آدھی سے کم قیمت کی بھی۔
اسی بگڑے ہوئے معاشرے کا حصہ ہونے پر مجھے سخت شرمندگی کا احساس ہوا اور فراغت کے بعد واپسی کا راستہ پکڑا۔
راستے میں ایک بزرگ مزدور نظر آیا جو دوپہر کی گرمی میں ایک ڈنڈے کے دونوں کناروں پر پانی سے بھری دو بالٹیاں لٹکا کر ڈنڈے کا وزن اپنے کندھوں پر ڈالے پیدل جا رہا تھا، یہ سب دیکھا تو خیال آیا کہ ہم میں سے اکثر لوگ کتنے ناشکرے ہیں جو ٹھنڈے کمروں اور ٹھنڈی گاڑیوں میں رہ کر بھی شکوے اور شکایتوں سے باز نہیں آتے ہیں۔
مری کی طرف رخ کرتے ہی ایک پل کی تعمیر کافی عرصے سے جاری ہے، وہاں ایک جگہ ہدایات لکھی تھیں کہ اوپر سے کچھ بھی گر سکتا ہے اس لیے اپنی حفاظت خود کریں۔ سارا راستہ میں نے یہی سوچا کہ ہماری کرکٹ ٹیم سے تو کھلے گراؤنڈ میں آسان کیچ نہیں پکڑے جاتے تو ہم چلتی اور بند کار میں اوپر سے آتے پتھر کیسے کیچ کریں۔
مری کے لئے مری ایکسپریس وے کا راستہ مناسب لگا سو ہم اسی راستے سے روانہ ہوئے۔
اسلام آباد اور لاہور کے درمیان کبھی جی ٹی روڈ سے سفر کریں تو دیواروں پر لکھے پیغامات بہت عجیب سے ملیں گے، جیسے حکیموں اور عاملوں کی تعریفیں اور ان سے رابطے کے نمبر اور ایڈریس وغیرہ۔ مری کے راستے میں دیواروں پر اچھی اچھی باتیں لکھی نظر آئیں جنہیں پڑھ کر خوشی ہوئی، جیسے شجر لگاؤ دھواں مٹاؤ، جنگلات قومی سرمایہ ہیں انہیں آگ سے بچائیں۔
کھاجوٹ کے مقام پر لکھا دیکھا، آلودگی زہر، درخت علاج۔
باتیں کرنے میں تو ہم سب بہت آگے ہیں لیکن عملی طور پر خاصے کمزور۔ کوڑا، پتے اور لکڑیوں کو لگی آگ مختلف سڑکوں یا کھلے مقامات پر اکثر نظر آجاتی ہے۔ کچرا ہم عموماً وہاں پھینکتے ہیں جو کوڑا پھینکنے کی جگہ نہ ہو اور اگر کہیں کوڑا کرکٹ والا کنٹینر رکھا گیا ہو تو اس کے باہر پھینکنے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں احساس اور تربیت کی یقینی طور پر کمی ہے۔
آپ نے کبھی مری جانا ہو تو یاد رکھیں ہوٹل کی تحقیق اور بکنگ جانے سے پہلے کر لیں ورنہ شہر میں داخل ہوتے ہی شہد کی مکھیوں کی طرح ہوٹلوں کے نمائندوں کا حملہ ہو گا، ایسے میں دھوکے کا خطرہ بہت ہوتا ہے اور فیملی ہوٹل کی پہچان مشکل ہو جاتی ہے۔
جو فرد بھی مری جاتا ہے اس کی خواہش یا تو مری کی مال روڈ پر ونڈو شاپنگ اور شاپنگ ہوتی ہے یا پھر آوارہ گردی کی نیت سے جاتا ہے۔ اکثر فیملیز اور خواتین کو آوارہ نوجوانوں اور ٹھرکی بزرگوں کی طرف سے جان بوجھ کر اوچھی حرکتوں کا خدشہ بھی ہوتا ہے، کندھے سے کندھے کی جان بوجھ کر ٹکر بھی ان افراد کا محبوب مشغلہ معلوم ہوتا ہے۔ آپ کا جب بھی جانا ہو کوشش کریں رش کے اوقات میں مال پر جانے سے احتیاط کریں، اگر اکیلے گئے ہیں تو کسی بھی غیر اخلاقی حرکت سے پہلے سوچیں کہ یہ سب آپ کے اپنے گھر کی خواتین کے ساتھ ہو تو کیسا لگے گا، اگر آپ فیملی کے ساتھ جا رہے ہیں تو بچوں کو مضبوطی سے تھام کر رکھیں اور خود اپنے گھر کی خواتین کے بالکل پیچھے دائیں بائیں اور سامنے کا راستہ بناتے ہوئے چلیں تاکہ آس پاس گزرتے لوگوں پر نظر بھی رکھ سکیں اور ان کے لئے رکاوٹ بھی بنی رہے۔
مری میں سیاحوں کا آنا جانا سیزن میں بہت ہوتا ہے لیکن بہت سارے مشہور ہوٹلوں میں بھی ضروری مرمت اور دیکھ بھال کا معیار اچھا نہیں ہے۔ ہمارا قیام بھی مری جی پی او کے عین سامنے خاصی چڑھائی کے بعد قائم ایک چین والے معروف ہوٹل میں تھا جس سے اچھی امیدیں لگا رکھی تھیں لیکن شدید مایوسی ہوئی جب باتھ روم میں صابن نہیں ملا، کیتلی خراب تھی، بیڈ دیکھ کر کار مکینک کی بتائی ہوئی کھائی یاد آ گئی کیونکہ گدا دھنسا ہوا تھا، بالکنی کے دروازے کا ہینڈل ٹوٹا ہوا تھا اور ٹی وی کے ریموٹ کا بیٹری کور غائب تھا۔ ہوٹل کا نام مصلحتاً نہیں لکھ رہا لیکن یہ سب تفصیلات بتانے کا مقصد ہے کہ ہم سب اپنے اپنے معاملات کو درست کریں اور تفریح کے شوقین افراد جانے سے پہلے بکنگ اور رہائش کی تسلی کرنا نہ بھولیں۔


