ایک نہیں تین بغاوتیں


پہلی بغاوت:اسلام آباد میں 2014 میں جب دو کزنوں کا دھرنا جاری تھا اس دوران کپتان نے اوور ایکٹنگ کرتے ہوئے کچھ یوں ڈائیلاگ بولے۔ رانا ثناء اللہ میں تمہیں مونچھوں سے پکڑ کر جیل میں ڈالوں گا، ایس پی جونیجو تمہیں تو میں چھوڑوں گا نہیں، اگر کسی پولیس والے نے میرے کارکنوں کو ہاتھ لگایا تو اس کو میں خود جیل میں ڈالوں گا۔ اوورسیز پاکستانی پاکستان میں حوالہ ہنڈی پیسے بھیجنا شروع کر دیں۔ اس چور حکومت کو کوئی اوورسیز پاکستانی فائدہ نہ پہنچائے۔ پاکستانیوں بجلی کے بل جلا دو، اپنے یوٹیلٹی بل جمع کرانا بند کر دیں۔ میں اس پارلیمنٹ پر لعنت بھیجتا ہوں۔

دوسری بغاوت:چوروں کا ٹولہ امریکہ سے پیسے لے کر میرے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لایا ہے، امریکہ کی طرف سے ہمیں لکھ کر دھمکی دی گئی ہے۔ میری حکومت گرانے سے بہتر تھا پاکستان پر ایٹم بم گرا دیتے۔ مودی کی خارجہ پالیسی پاکستان سے کہی بہتر ہے، ملک کا سپہ سالار میر جعفر ہے، شہباز شریف، رانا ثناء اللہ اور میجر جنرل فیصل نصیر نے مجھے قتل کروانے کی سازش کی، میرے خلاف امریکہ نے سازش کی، میرے خلاف نواز شریف نے سازش کی ہے، سب کچھ لندن پلان کا حصہ ہے، میرے خلاف محسن نقوی نے سازش کی ہے، مجھے مائنس کرنا لندن پلان کا حصہ ہے۔ جج زیبا تمہیں چھوڑوں گا نہیں تم پر بھی کیس کروں گا۔ پھر دوران تفتیش کسی الزام کا ثبوت نہیں دے سکے۔

تیسری بغاوت: 9 مئی کے واقعات، لاہور میں جناح ہاؤس پر حملہ، جی ایچ کیو پر حملہ، میانوالی ائر بیس پر حملہ، کراچی میں رینجر کی چوکی جلادی، پشاور میں قلعہ بالا حصار پر حملہ، پشاور میں ریڈیو پاکستان جلا دیا، پھر جنرل عاصم منیر کے والد کا مذاق اڑایا۔

2014 سے 9 مئی 2023 تک پاکستان میں یہ سب کچھ دھڑلے اور سینہ تان کر کپتان سب کچھ کرتا رہا ہے لیکن کسی ادارے نے ایکشن لیا اور نہ کسی عدالت نے نوٹس لیا بلکہ سب نے مل کر اس کو انٹرٹین کیا۔ پہلے اس کو قوم کا آخری مسیحا ثابت کرنے میں ایڑی چوٹی کا زور لگایا گیا۔ اب جب پوری ایک نسل اس کے عزائم کا شکار ہو چکی ہے تو اب اس کو ٹی وی سکرینوں سے وقتی طور پر غائب کر دیا گیا ہے۔ پاکستان میں پچھلے 9 سالوں میں جو اس شخص نے کیا کسی تانا شاہی سے بھی بڑھ کر تھا۔

کیونکہ یہ خود کو حکمران، جج، جنرل اور عوام سمجھتا رہا۔ سب نے مل کر اس کو سیاسی اکھاڑے کا سلطان راہی بنایا۔ اس کو پارٹی کے سرکردہ چہرے چھوڑ گئے ہیں لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ وہ تاحال آزاد ہے اس کا ووٹ بینک بھی موجود ہے۔ پہلے وزراء اعظم کو وزیر اعظم ہاؤس سے نکلتے ہی جیلوں میں بھیجا جاتا تھا لیکن اس کے ساتھ جنرل باجوہ نے خصوصی حسن سلوک روا رکھا۔ وہی جنرل باجوہ جن کو اس نے میر جعفر کہا تھا پھر اسی جنرل باجوہ نے اس سے دو خفیہ ملاقاتیں بھی کیں۔

اس کے ساتھ خصوصی برتاؤ اس لیے کیا گیا کیونکہ جنرل باجوہ نے خود اسے گارنٹی دی تھی جو کچھ ماضی میں وزیراعظم کے ساتھ ہوتا رہا وہ تمہارے ساتھ نہیں ہو گا۔ پھر ایک وقت آیا جیسے جنرل باجوہ گمنامی میں گئے اس نے انہی کو اپنے نشانے پر رکھ لیا۔ جنرل باجوہ کو ملک دشمن بھی کہا، نیب میرے کنٹرول میں نہیں تھا وہ تو جنرل باجوہ کے کنٹرول میں تھا، میں تو برائے نام وزیراعظم تھا، مجھے جنرل باجوہ نے اسمبلیاں توڑنے کا کہا تھا۔

ان 9 سالوں میں ایک چیز واضح ہو گئی ہے جب تک یہ شخص آزاد رہے گا پاکستان میں انتشار رہے گا عدم استحکام رہے گا۔ یہ استحکام پاکستان والے بھی ملک میں استحکام نہیں لا سکتے کیونکہ یہ سب بھی ماضی میں اسی کے ہم نوالہ اور ہم پیالہ رہے ہیں۔

Facebook Comments HS