مردوں کی منڈی
کہا جاتا ہے کہ جہاں دو برتن ہوں وہ بھی ایک دوسرے سے ٹکرا جاتے ہیں۔ یہ اس زمانے کی بات ہے جب ہمارے شہر میں برتنوں کے ٹکرانے کے باعث کانوں پڑی آواز نہیں سنائی دیتی تھی۔ تانبے کی مٹکیاں، پیتل کی گاگروں کے ساتھ جھگڑا کرتی رہتی تھیں۔ قلعی کیے ہوئے لوٹے بے قلعی گڑویوں سے چھیڑ چھاڑ کرتے رہتے تھے۔ چموڑے حقے ہٹ ہٹ کر درختوں کے تنوں پر گرتے تھے اور ہر طرف چھن چھنا چھن اور دن دنا دن کی آوازیں سنائی دیتی تھیں۔
کئی مٹکوں کے پیٹ چاک ہوئے، کئی گاگروں کی گردنیں اتریں، کئی حقوں کے ٹخنے ٹوٹے اور کئی جھاریوں کے انجر پنچر الگ الگ ہوئے۔ سر کار نے ہر طرف برتن بکھرے دیکھے تو کرفیو نافذ کر دیا گیا۔ ہلچل اور گہما گہمی سے لبریز شہر میں سکوت طاری ہو گیا۔ جہاں خوشی رقص کناں تھی اور جوانی کے ہونٹوں پر مسکان بکھری تھی وہاں ایسا بلا کا سکوت طاری ہوا کہ بے بسی سے کلیجا منہ کو آنے لگا۔ شہر کے اجاڑ اندھیرے کا ستایا اور گھبرایا ہوا میں کہیں رونق اور روشنی کی لو کی تلاش میں اکیلا نکل کھڑا ہوا کہ ایک طرف سے مدھم سا دیا جلتا دکھائی دیا۔ اسی سمت منھ کیا اور عجیب تماشا دیکھا۔
جس وقت آبادی میں اندھیرا، اور دل تھام لینے والی بے رونقی تھی۔ اس وقت شہر خموشاں میں زندگی کی ہلکی ہلکی جوت جاگ رہی تھی۔ چھوٹی بڑی، کچی پکی، نئی پرانی، اونچی نیچی، زمیں بوس کھولیاں اور استوار شدہ، نئے فیشن اور پرانے انداز کی ہری بھری اور سوکھی سڑی، جیتے خصموں اور سائیوں والی، لاوارث اور بے وارث، سرہانے کی ڈھوہ والی اور گرے نشانوں والی، اکھڑے حروف والی اورمٹی ہوئی لکھائی والی، ہرے کٹہرے والی اور خالی تھڑے والی، رنگ برنگے خانوں والی اور تڑکے ہوئے چونے والی، چمکتے غلافوں والی اور بہ پردہ سامیوں والی، جلتے دیے والی اور گری آنکھوں والی، ہر ہر میچے اور ہر ہر رنگ کی ہزاروں قبریں چاروں اطراف ایسے محسوس ہو رہی تھیں جیسے بلند و بالا میناروں سے شہر کی عمارتیں دکھائی دیتی ہیں۔
یہاں پہنچ کر دل کو ایسے خوشی محسوس ہوئی کہ جیسے بھیڑیوں، سوروں اور بندروں کے جنگل سے بچ بچا کر کہیں گوشۂ عافیت مل گیا ہو۔ پاؤں سراپا احتجاج تھے کہ ہمیں مزید نہ گھسیٹا جائے۔ کمر نے کہا کہیں بیٹھ بھی جاؤ، ذرا سہارا لے کر تھکن اتار لینے دو۔ گردن بولی، عجب رستے پڑ کر اکڑ گئی ہوں، ذرا گھٹنے ٹیکو۔ آنکھیں گویا ہوئیں، گھپ اندھیرے سے نکل کر یہاں آ گئے ہو جہاں ٹانواں ٹانواں دیا تو جل رہا ہے، بیٹھ جاؤ اور گھڑی بھر آرام کر لو۔
دل ملتمس ہوا اپنے سچے یاروں اور پکے ساتھیوں کا کہا مانو اور نزدیک ہی کہیں ٹک جاؤ۔ سامنے ہی ایک اجنبی قبر تھی جس کے سرہانے سے ٹیک لگا کر بیٹھے کو کافی جگہ تھی۔ یہ قبر اتنی کھلی اور اس کا تھڑا اتنا چوڑا تھا کہ یہاں پانچ سات مردے مزید آسانی سے دفنائے جا سکتے تھے۔ میں اس قبر کے چکنے تھڑے پر لیٹا تو اونگھلا گیا۔
گھڑی بھر کے بعد کیا دیکھتا ہوں کہ چاند نمودار ہوا اور اس کی چاندنی سے سارا قبرستان روشن ہو گیا۔ قبروں کے دیے ایسے آنکھیں جھپکا رہے تھے جیسے سورج کی تیز لو میں بچے آنکھیں بند کرتے اور کھولتے ہیں۔ اتنے میں ایک گرجدار آواز سنائی دی ”اٹھو مردیو! کھیراں کھاؤ“ اور ساتھ ہی ایک آدمی کی طرح کا فرشتہ یا فرشتے کی طرح کا آدمی، جرمنی کی بنی ہوئی لوہے چینی کی دودھ کی طرح سفید بالٹی میں کھیر لے کر گزرا۔ وہ ہر قبر کے پاس کھیر کی ڈوئی آگے بڑھاتا اور حیرت زدہ بات یہ ہے کہ ایک ہی ڈوئی میں ہر مردے کو ضرورت کے مطابق کھیر پہنچ جاتی۔
یہ بھی دیکھا کہ کئی مردوں نے اٹھ کے کھیر نہ لی، لیٹے لیٹے ہی کہ دیا کہ اوہ! کھیر والے جوانا! ہم مرے مردوں کو مشکل میں نہ ڈال، کھیر خود ہی دھیرے دھیرے ہمارے منھ میں ڈالتے جاؤ ”مگر کھیر والے کو خود ہی جلدی تھی۔ وہ ایسے کاہل اور سست مردوں کی قبروں پہ کھیر کی ڈوئی ڈال کر آگے بڑھ جاتا تھا۔ بعض مردوں نے کھیر تو لے لی مگر یہ اعتراض کیا“ کھیر کے لیے آواز دیتے ہوئے ہمیں مردہ کہ کر بلایا گیا ہے۔ ہم عزت دار اور دین دار لوگ ہیں، ہمیں مرے مردے نہ کہا جائے، ہم مرے نہیں تھے ہم فوت ہوئے تھے ”میں حیران تھا کہ یہ عجیب لوگ ہیں، مرنے کے بعد بھی یہ خود کو مردے نہیں کہتے۔
مردہ کہنے سے ان کی بے عزتی ہو جاتی ہے۔ جب روح جسم سے جدا ہو ہی گئی ہے تو پھر کوئی خود کو“ فوت شدہ ”کہے یا چاہے“ جنت مکانی ”کہے، کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہوا نکلی تو باقی پھوگ رہ گیا، پھر مرنے، فوت ہونے، جنت مکانی ہونے کی تقسیم کا کیا نخرہ۔ ایسا محسوس ہوا جیسے کھیر والے جوان کا خیال بھی کچھ ایسے ہی تھا۔ اس لیے اس نے اس اعتراض کی پرواہ نہ کی اور آگے بڑھ گیا۔
کھیر تقسیم کرنے والے کے گزر جانے کے بعد بعض مردوں نے یہ بھی کہا ”یہ کھیر امریکی دودھ پاؤڈر کی بنی محسوس ہوتی ہے۔“ ان کے پڑوسی مردوں نے پچاکے مارتے ہوئے کہا ”دوستو! جو چیز محنت کیے بغیر اور دھیلا خرچ کیے بغیر خدا کی طرف سے مل جائے، اس میں نقص نہیں نکالا کرتے۔ سخیوں کی اتنی مہربانی کافی نہیں کہ وہ موئے مردوں کو بھی کھیر کھلاتے ہیں اور اسے ان کی قبروں تک پہنچاتے ہیں“ کچھ مردوں کو اس سے اتفاق نہیں تھا، وہ کہتے تھے ”ہم بھی طویل عمر گزار کے مرے ہیں۔
ہم پیدا ہوتے ہی تو نہیں مرے۔ ہم نے بڑی دنیا دیکھی ہوئی ہے۔ یہاں پر کوئی کسی کو مفت میں ٹکا نہیں دیتا۔ مفت دینے والے اور مفت لینے والے کی نیت میں ضرور کھوٹ ہوتا ہے۔ آپ کہتے ہیں جو کچھ ملا ہے محنت کیے بغیر اور ٹکا خرچ کیے بغیر ملا ہے، ہمارا تجربہ ہے کہ محنت اور پیسا خرچ کیے بغیر کھائی ہوئی چیزوں کا دو گنا چو گنا ادا کرنا پڑتا ہے۔ جب ہم جیتے تھے اس وقت مرنے والا مرزا نوشہ بھی زندہ تھا اس نے ایک شعر کہا تھا:
قرض کی پیتے تھے مے لیکن سمجھتے تھے کہ ہاں
رنگ لائے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن
مگر زیادہ تر مردوں کی رائے یہی تھی کہ چو چیز خدا کے لکھے سے ملے اس میں نقص نہیں نکالنے چاہئیں۔ چاہے کھیر کے بنائے ہوئے دودھ کی طرح سفید، لوہے چینی کی بالٹی میں لاکر انگریزی ڈوئی کے ساتھ ہم میں تقسیم کی جائے، چاہے یہ کھیر امریکی دودھ پوڈر اور جاپانی چاولوں سے تیار کی جائے، ہمیں تو پہنچانے والا وہ فرشتہ ہے جسے ہم اچھی طرح جانتے ہیں۔ اس لیے ہم اپنے رب کا کھاتے ہیں اور اس کا شکر بجا لاتے ہیں۔ نہیں کوئی ہم رتبہ اس رب کا جو مردوں کو بھی کھیر کھلاتا ہے اور قبروں سے اٹھا اٹھا کر ان کے منھ میں ڈالتا ہے۔ ”
جب سب مردے کھیریں کھا کر نہال ہو گئے تو ایک سفید قبر والا مردہ، اپنی قبر کا اچھاڑ قبر کے تھڑے پہ میز پوش کی طرح بچھا کر قبر کے ساتھ ٹیک لگا کر لیڈر بن کے بیٹھ گیا۔ اب قبرستان کے باسیوں کا جلسہ شروع ہوا۔ زندوں کے جلسے کی نسبت مردوں کے جلسے کا یہ فرق تھا جہاں زندہ لیڈر کی طرف منھ کر کے سٹیج کے نزدیک بیٹھتے ہیں وہاں مردوں نے اپنی اپنی قبروں کے بیچ میں ہی بیٹھے ہوئے یا لیٹے ہوئے لیڈر سے فاصلے پر ہی جلسے کی کارروائی میں حصہ لیا۔ جلسے میں لاؤڈ سپیکر کا کوئی بندوبست نہیں تھا مگر پھر بھی لیڈر اور دیگر مقررین کی آواز ہر جگہ خوب سنائی دے رہی تھی۔ کسی کو ”ذرا اونچا بولیں“ یا ”لاؤڈ سپیکر کام نہیں کر رہا“ کی شکایت نہیں کرنی پڑتی تھی۔
جلسے کی کارروائی شروع کرنے سے پہلے سفید قبر والے لیڈر نے ساتھ والی سفید قبر سے تازہ گلاب کے پھولوں کا ہار اٹھا کر گلے میں پہن لیا اور جلسے کی کارروائی باقاعدہ شروع ہوئی۔
سب سے پہلے ایک بزرگ مردے نے جس کی کھڑکھڑاتی اور مشکل سے حلق سے نکلتی آواز سے ہی اس کی عمر کا پتا چل رہا تھا۔ زکام آلود آواز صاف کرتے ہوئے بولا ”صاحب صدر! ہمیں اپنے مرے ہوئے بھائیوں کے ساتھ تو کوئی شکایت نہیں، چاہے سعدی صاحب فرما گئے ہیں کہ مرے ہوؤں میں سے آواز نہیں نکلتی۔ یہاں پہنچ کر بڑے بڑے اتھرے لوگ اصیل اور حلیم ہو گئے ہیں اور وہ لوگ جو دھرتی پہ فرعون کہلاتے تھے یہاں آنکھ میں ڈالے نہیں دکھتے، ہمیں تو گلہ اور شکایت تو ان لوگوں سے ہے جو ہر شبرات کو ویسے تو یہاں آ کر آنسو گراتے ہیں، ناک بہاتے ہیں لیکن ہم مردوں کو قبروں میں بھی چین نہیں لینے دیتے۔
ہماری قبروں میں جہاں چار چار پائیوں کی جگہ دیکھتے ہیں وہاں کمرہ یا مکان بنا بیٹھتے ہیں۔ ان بے حیاؤں کو شرم نہیں آتی جتنی جگہ ان کو زندگی میں چاہیے اتنی جگہ میں سو مردوں کا گزارہ آسانی سے ہو جاتا ہے۔ اس لیے ان کو اپنی طرح زندوں کی آبادیوں میں آباد ہونا چاہیے۔ موئے مردوں میں آ کر ٹانگیں نہیں پسارنی چاہئیں۔
صاحب صدر! چلو ہم ان کا بسیرا اپنے اندر پھر بھی برداشت کر لیں مگر یہ تو یہاں آ کر فلمی ریکارڈ چلا لیتے ہیں۔ یہاں ایک طرف کسی مردے کا حساب کتاب ہو رہا ہوتا ہے اور دوسری طرف مردوں کے زندہ پڑوسی کا بیٹا یہ ریکارڈ چلا کے بیٹھا ہوتا ہے۔
”تینوں گھٹ گھٹ سینے نال لاواں تے جپھیاں پانواں
نی چٹھیے سجناں دی اے ”
یہ عین اس وقت ہوتا ہے جب ہمارا مردہ بھائی منکر نکیر کی کڑکی میں پھنسا ہوا ہوتا ہے۔ یہ ظالم اپنی گلی بازاروں میں تو ریڈیو کے شور اور ڈھنڈورچیوں کے ڈھول تو بند کرتے ہیں کہ ان کی نیند حرام نہ ہو اور ہم مردوں کی موت حرام کرتے ہوئے ان بے غیرتوں کو غیرت نہیں آتی۔ زندوں کی یہ حرکات دیکھ کر ہم قبروں والوں کا دل تو کرتا ہے کہ ان کی تعمیر کردہ کوٹھیاں اور مکان قبرستان سے گرا باہر پھینکیں مگر ہم تو وہ ہیں جن کو جیتے جی کچھ نہ ہوا۔ اب تو ہم رب کی مرضی سے مر گئے ہیں، نہ توبہ ”فوت ہو گئے“ ہیں اب ہم کیا کر سکتے ہیں؟
صاحب صدر نے کہا ”ہم کچھ نہیں کر سکتے، مگر اتنا تو کر سکتے ہیں کہ اپنی شکایت زبان پہ نہ لائیں۔ اور کوئی نہیں تو رب ہی ہماری سن لے“
اس سے آگے ایک اور مردے نے اپنی قبر سے یہ یوں آواز دی :
صاحب صدر! ابھی یہ شکایتیں رب تک جانی ہیں، میری بھی ایک شکایت سنو۔ صاحب صدر! آپ کو یہ پتا ہے کہ میں تمام عمر بے اولاد رہا ہوں، اسی نوے برس میں کسی بال بچے کی شکل نہیں دیکھی۔ اگلے روز زندوں نے دو بال بچے میرے دائیں بائیں قبر میں لا دفنائے، چلو میں نے تو سکڑ کر گزارہ کر لیا۔ یہ دیکھو انھوں نے اور کیا کام خراب کیا۔ میری قبر کے سرہانے پتھر پہ یہ شعر لکھ کر نصب کر گئے ہیں :
پھول کچھ دن تو بہار جانفزا دکھلا گئے
حسرت ان غنچوں پہ کھلی جو بن کھلے مرجھا گئے
صاحب صدر!
میری قبر کے سرہانے یہ لکھا پڑھتے ہیں تو قبرستان کے سب نئے پرانے مردے ہنس ہنس کے پاگل ہو جاتے ہیں اور میں شرم سے مزید قبر میں دھنستا جاتا ہوں اور سوچتا ہوں کہ میں اسی نوے برس کے بوڑھے نے ابھی مرنے کے بعد ”غنچہ“ کہلوانا تھا۔ سائن بورڈ میرے سرہانے سے اٹھایا جائے تاکہ میری جلتی روح کو ٹھنڈک محسوس ہو ”
اس مردے نے اپنی تقریر ختم کی تو اہل قبور میں ہنسی کا کہرام مچ گیا۔ لیڈر نے اگلے مردے کو آواز دی کہ وہ اپنے دل کا غبار نکالے۔ اس مردے نے کفن منھ سے ہٹاتے ہوئے اپنا بیان شروع کیا۔
”صاحب صدر! میری شکایت صرف زندوں کے لیے نہیں ہے، دنیا کے ہر ملک میں جہاں کوئی جیتا ہے، میری شکایت ان کے کانوں تک پہنچانے کے لیے ہے۔ میں جانتا ہوں ہمارے بہت سے زندہ صرف مردم شماری یا ووٹروں کی فہرست میں اپنا نام لکھوانے کے لیے زندہ ہیں۔ اصل میں وہ زندہ نہیں ہیں۔ پھر بھی اس دنیا میں جہاں کوئی زندہ ہے یا جس کا دعویٰ ہے کہ وہ جیتا جاگتا ہے، میں اپنی شکایت اس کے کانوں تک پہنچانا چاہتا ہوں۔ میری شکایت ہے کہ یہ زندہ جب آپس میں لڑتے ہیں۔
زندوں کی بستیوں پہ بم گراتے ہیں (بے شک وہ زندوں کی بستی پہ بم گرائیں، یہ ان کا جنگی حق ہے ) مگر اندھیر یہ ہے کہ وہ ہم مردوں کی بستیوں کو بھی نہیں چھوڑتے۔ ابھی کوئی بہت وقت نہیں گزرا۔ ہمارے پڑوسی ملک کے بمباروں نے اس قبرستان پہ بمباری کی، کئی مردوں کے سر پھٹ گئے۔ کئی مردوں کے گھٹنے اور کئی کے ٹخنے جھڑ گئے۔ کئی دھماکوں سے قبروں کے باہر جا پڑے۔ ویسے تو کئی نامی گرامی حکیم اور ڈاکٹر ہمارے ساتھ بھی لیٹے پڑے ہیں انھوں نے ہمیں یہ دل دہلا دینے والی خبر سنائی کہ دوائیں تو زندوں کے ہسپتالوں اور دواخانوں میں نہیں ملتیں ہم مردوں کے لیے ان کا کہاں سے بندوبست کریں۔ اس لیے میری عرض ہے کہ زندوں کو رب ہدایت دے اور وہ اپنی لڑائیاں اور جھگڑے اپنے تک محدود رکھیں۔ ہم فوت شدگان کے مردے اپنی لڑائی جھگڑوں میں خراب نہ کریں۔ رب ان کا بھلا کرے۔“
اس تقریر کی قبرستان میں ہر طرف سے تائید ہوئی مگر اتنی دیر میں صبح ہونے کا وقت ہو گیا۔ مردوں کا جلسہ اپنے اختتام کو پہنچا۔ یہ سارا نقشہ ایسے آنکھوں سے غائب ہوا جیسے سورج نکلنے سے پودوں اور گھاس سے شبنم غائب ہو جاتی ہے۔ آخر پہ بولنے والے کی تقریر نے میرے دل پر ایسا اثر کیا کہ میں اس کا منھ دیکھنے کے لیے آگے بڑھا مگر دن کی روشنی میری آنکھوں میں ایسی سموئی کہ اس نے مجھے اور کچھ نہ دیکھنے دیا۔ میں نے رب کا شکر ادا کیا۔ چاہے میں ایک بھی مردے کا منھ نہ دیکھ سکا مگر مردوں کی منڈی میں سے زندوں میں لوٹ آیا۔


