فیضؔ کی جمالیاتی اور معنیاتی قدر اور گوپی چند نارنگ

نظریاتی شاعروں کی بڑی بدقسمتی یہ ہوتی ہے کہ انھیں ان کی فکر (آئیڈیالوجی) سے باہر نکل کر دیکھنے کی کوشش بالعموم نہیں کی جاتی۔ ان کے موضوع یا معنی کو جمالیاتی سطح سے الگ کر کے دیکھا جاتا ہے اور یوں ان کی شاعری کے جمالیاتی پہلو کو ان کے نظریے یا آئیڈیالوجی کے اندر جکڑ کر مار دیا جاتا ہے۔ اردو میں اس کی دو بڑی مثالیں اقبالؔ اور فیضؔ کی ہیں۔
فیضؔ کو ایک عرصے تک (اور بڑی حد تک اب بھی) ترقی پسند افکار، مارکسی تصورات، حریت و انقلاب، سیاست اور انسانیت یا پھر رومانیت بلکہ انقلابی رومانیت اور دوسری طرف نغمگی اور غنایت کی بحثوں سے آگے بڑھ کر دیکھنے کی کوشش نہیں کی گئی۔ زیادہ سے زیادہ کلیم الدین احمد نے یا پھر ڈاکٹر ابن فرید نے فنی حوالوں سے مگر روایتی انداز سے فیضؔ کی شاعری کو کسی حد تک دیکھنے پر توجہ دی اس کے علاوہ رشید حسن خان کا مضمون ہے جس میں ان عناصر کا تو ذکر ہے جن سے فیضؔ کے شعری حسن میں ضعف آیا مگر فیضؔ کی شعری جمالیات کے تعمیری پہلوؤں سے گریز کیا گیا ہے۔ مختصراً یہ کہ میرے ناقص مطالعے کے مطابق 1985ء سے قبل کسی نے فیضؔ کی شاعری کو جمالیاتی حوالوں سے اور خاص طور پر فیضؔ کے معنیاتی نظام کے حسن کو سمجھنے کی سنجیدہ اور عالمانہ کوشش نہیں کی۔ 1985ء میں ڈاکٹر گوپی چند نارنگ نے ”فیضؔ کا جمالیاتی احساس اور معنیاتی نظام“ کے عنوان سے ایک مضمون پڑھا جس نے فیضؔ شناسی میں اس کمی کو نہ صرف دور کیا بلکہ اس ذیل میں ایک نئے باب کا آغاز بھی کیا۔
یہ مضمون فیضؔ شناسی میں ساختیاتی مطالعہ کی اولین مثال ہے۔ جو لوگ ساختیاتی مطالعات سے بدکتے ہیں وہ نہیں جان سکتے کہ تخلیق کے معنیاتی نظام کا مطالعہ اس طریق سے کس طرح بہتر انداز سے ہو سکتا ہے۔ گوپی چند نارنگ نے اسی طریق کو استعمال کرتے ہوئے فیضؔ کی شاعری کے اٹھارہ ساختیے دریافت کیے ہیں جن سے فیضؔ کے معنیاتی نظام کے نئے نئے امکانات بھی پیدا ہوئے اور ایک ایسا جمالیاتی احساس بھی جنما جو فیضؔ سے ہی منسوب کیا جا سکتا ہے۔
ڈاکٹر گوپی چند نارنگ کے پیش نظر اصل سوال ہی یہ تھا کہ اگر فیضؔ کا نظریۂ حیات اور فکر وہی ہے جو دوسرے ترقی پسند شعرا کی ہے، یعنی موضوعات ایک سے ہیں تو پھر فیضؔ کی انفرادیت اور اہمیت کس بات میں ہے؟ اگر فکری یا موضوعاتی سطح پر ان میں اور دیگر ترقی پسند شاعروں میں کوئی فرق نہیں کہ جس کی بنیاد پر فیضؔ ان میں نمایاں ہو سکیں تو پھر شعری سطح پر وہ کون سی بات ہے جس نے انھیں باقی سب میں ممتاز کر دیا؟
یہاں سب سے پہلے ڈاکٹر گوپی چند نارنگ یہ بات صاف کرتے ہیں کہ شاعری میں نظریاتی یا فکری یکسانیت دراصل شعری یکسانیت نہیں ہوتی، ان میں فرق ہوتا ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ کسی بھی شاعر کا معنیاتی نظام یا تخلیقی نظام اپنے اظہار کے لیے بہرحال زبان کا محتاج ہوتا ہے ہاں لیکن ہر بڑا شاعر موجود زبان اور روایتی اظہاری سانچوں کو ایک نئی لذت اور کیفیت عطا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جس سے اس کا اسلوبیاتی اور معنیاتی امتیاز ثابت ہوتا ہے۔ فیضؔ کے بارے میں یہ بات اکثر کہی جاتی ہے کہ انھوں نے کلاسیکی لفظیات پر انحصار کیا ہے اور اردو شاعری میں نئے الفاظ کا اضافہ نہیں کیا؛ حتیٰ کہ ڈاکٹر وزیر آغا نے تو ایک جگہ یہاں تک کہ دیا کہ ”ان (فیض) کے آخری مجموعوں میں جگہ جگہ میر، غالب اور اقبال کی آواز سنائی دیتی ہے اور کئی موقعوں پر تو فیض نے واوین کا استعمال کیے بغیر اپنے پسندیدہ شعرا کے مصرعے اور لفظی تراکیب تک اپنے کھاتے میں ڈال لیے ہیں۔“ (بہ حوالہ محمد حمید شاہد: ”راشد۔ میرا جی۔ فیض“ ، ص:188) ڈاکٹر گوپی چند نارنگ اس بات سے تو پوری طرح متفق ہیں کہ فیضؔ نے اردو شاعری میں نئے الفاظ کا اضافہ نہیں کیا، لیکن ان کا اس ذیل میں کہنا یہ ہے کہ فیضؔ نے اصل میں پرانے الفاظ اور کلاسیکی تراکیب کے لیے نئے اظہاری پیرائے وضع کیے اور ہزاروں لفظوں اور تراکیب کو ان کے صدیوں پرانے مفاہیم سے ہٹا کر بالکل نئے معنیاتی نظام کے لیے استعمال کیا اور یہ سارا نظام بڑی حد تک فیضؔ کا اپنا ہے۔ اب یہ بات کم و بیش ادب کا ہر قاری تسلیم کرتا ہے۔ ڈاکٹر گوپی چند نارنگ نے صاف صاف کہا کہ:
”فیضؔ نے کلاسیکی شعری روایت کے سرچشمۂ فیضان سے پورا پورا استفادہ کیا۔ ان کی لفظیات کلاسیکی روایت کی لفظیات ہے، لیکن اپنی تخلیقیت کے جادوئی لمس سے وہ کس طرح نئے معنی کی تخلیق کرتے ہیں، یہ دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ وہ تنقید جو صرف نظریے یا موضوع پر انحصار کرتی ہے، اور فنی استعداد، تازہ کارانہ احساس اور اظہاری کمالات پر نظر نہیں رکھتی، فیضؔ کے لطف سخن کے رازوں کو نہیں پا سکتی۔“ ( ”ترقی پسندی، جدیدیت، مابعد جدیدیت“ ، ص:164)
اس کے بعد ڈاکٹر گوپی چند نارنگ؛ فیضؔ کی اہم نظموں کا مطالعہ کرتے ہوئے ثابت کرتے ہیں کہ فیضؔ امیجری سے جس معنیاتی فضا کو تخلیق کرتے ہیں وہ ہمارے ذہنوں کو جمالیاتی کیفیت سے سرشار کرتی ہے۔ اور پھر یہیں سے فیضؔ کی امتیازی خصوصیت کا سراغ لگاتے ہوئے انتہائی پتے کی بات بتاتے ہیں کہ:
”فیضؔ۔ انقلابی فکر کو جمالیاتی احساس سے اور جمالیاتی احساس کو انقلابی فکر سے الگ نہیں ہونے دیتے۔ بلکہ اپنے تخلیقی لمس سے دونوں کو آمیز کر کے ایک ایسی شعری لذت اور کیفیت کو خلق کرتے ہیں جو مخصوص جمالیاتی شان رکھتی ہے، اور جس کی نظیر عہد حاضر کی اردو شاعری میں نہیں ملتی۔“ (ایضاً، ص: 166)
ڈاکٹر گوپی چند نارنگ اس عمومی مغالطے کی بھی ثبوتوں کے ساتھ نفی کرتے ہیں کہ جمالیاتی کیفیت فیضؔ کے ہاں ”نقش فریادی“ تک تو قائم رہتی ہے اس کے بعد انقلابیت کا اثر جیسے جیسے بڑھتا جاتا ہے جمالیاتی کیفیت ماند پڑتی جاتی ہے۔ ان کا موقف ہے کہ فیضؔ کی جمالیاتی کیفیت کا سلسلہ پہلے مجموعے سے لے کر آخری مجموعے تک جاتا ہے۔ اس ضمن میں وہ فیضؔ کی مختلف نظمیں مثال کے طور پر پیش کرتے ہیں اور ان کے مطالعے سے ثبوت مہیا کرتے ہیں۔
وہ اس بات کا ذکر بارہا کرتے ہیں کہ فیضؔ پرانے علائم سے نئی امیجری کا جادو خوب جگاتے ہیں۔ وہ ان کی امیجری کے حسن کے ساتھ ساتھ اس کی طاقت کے بھی قائل ہیں۔ خاص طور پر رات کی امیجری اور یاد اور انتظار کی پرچھائیاں فیضؔ کے حسن کاری کے عمل کو شدید سے شدید تر بناتی ہیں۔
رات، یاد اور انتظار کی کیفیت سے فیضؔ کے ہاں درد کی کیفیت کے تانے بانے جس طرح ڈاکٹر گوپی چند نارنگ نے جوڑے ہیں وہ تو کمال ہے ہی؛ فیضؔ کے ہاں درد کی کیفیت کو جو نیم فلسفیانہ نہج دی ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔ بات تو وہ فیضؔ کی شاہ کار نظم ”ملاقات“ کے ایک مصرعے ”یہ رات اس درد کا شجر ہے“ سے شروع کرتے ہیں لیکن پھر وہ بات پھیل کر فیضؔ کی پوری شاعری کا احاطہ کر لیتی ہے۔ دیکھیے :
”یہ رات اس درد کا شجر ہے ’میں درد ہی مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ ایسی نظموں سے اگر درد کے تصور کو خارج کر دیں تو ان کا پورا معنیاتی نظام درہم برہم ہو جائے گا۔ یہ کیفیت فیضؔ کی کم و بیش تمام شاعری میں پائی جاتی ہے۔ اس سے شاید ہی کسی کو اختلاف ہو کہ فیضؔ کے یہاں درد کا احساس بھی ایک شدید تخلیقی محرک ہے۔ دھیمی دھیمی آنچ یا سلگنے کی کیفیت جس نے پوری شاعری میں سوگواری کی کیفیت پیدا کر دی ہے، اور جو رات، یاد اور انتظار کی حسن کارانہ امیجری کے ساتھ مل کر انتہائی پرکشش ہو جاتی ہے اور تاثیر کا جادو جگاتی ہے۔ درد کی یہ کیفیت کلاسیکی غزل کے رسمی فراق یا رسمی ہجر کی کیفیت سے۔ بالکل مختلف ہے اور کچھ اور ہی کیفیت ہے۔ یہ درد ایک لذت ہے، یہ تخلیقی خلش بھی ہے اور قوت بھی۔ غرض فیضؔ کے یہاں درد کا جو تصور ہے وہ کوئی محدود شخصی درد نہیں بلکہ ایک شدید تخلیقی قوت ہے جو وسیع انسانی آفاقی ابعاد رکھتی ہے۔ یہ درد محبت ہی دراصل وہ بیچ کی ارتفاعی کڑی ہے جو فرسودہ عاشقانہ علائم کا رخ عالم گیر سماجی یا سیاسی مفاہیم کے تازہ کارانہ جمالیاتی اظہار کی طرف موڑ دیتی ہے۔“ (ایضاً، ص:187 تا 188)
فیضؔ کی شاعری میں تقلیبی عمل کو بھی ڈاکٹر گوپی چند نارنگ بہت اہم گردانتے ہیں جو کسی دوسرے شاعر کے ہاں اتنے بڑے پیمانے پر، اتنے ترفع اور جمالیاتی رچاؤ کے ساتھ رونما نہیں ہوتا۔ فیضؔ کی نظم ”نثار میں تری گلیوں کے“ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا ہے کہ ”دیکھیے وطنی و قومی احساس کو فیضؔ کس طرح عاشقانہ اظہار عطا کرتے ہیں، اور عام فرسودہ عاشقانہ علائم کو کس طرح سماجی سیاسی درد سے سرشار کر کے ایک ہمہ گیر جمالیاتی کیفیت پیدا کر دیتے ہیں۔“ (ایضاً، ص:190) فیضؔ کی اس تخلیقی تقلیب کے اب سب قائل ہیں۔
سیاسی، نظریاتی اور ہنگامی موضوعات پر لکھی گئی شاعری کے بارے میں بالعموم اس خدشے کا اظہار کیا جاتا ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ اس کا اثر زائل ہو جاتا ہے اور وہ اپنی اہمیت گنوا دیتی ہے۔ فیضؔ کی شاعری کے حوالے سے بھی اس خدشے کا گاہے گاہے اظہار ہوتا رہتا ہے۔ گوپی چند نارنگ کا موقف یہ ہے کہ یہ ٹھیک کہ تاریخی شعور یا سماجی معنی اور محض موضوع کے زور پر شاعری تادیر زندہ نہیں رہ سکتی لیکن اگر فن کار نے اس میں کوئی جمالیاتی شان اور لطف و اثر کا سامان پیدا کر دیا ہے تو پھر ایسی شاعری وقت کے ہاتھوں مٹنے نہیں پاتی۔ یہاں گوپی چند نارنگ نے فیضؔ کی نظم ”ڈھاکہ سے واپسی پر“ کی مثال دیتے ہوئے لکھا ہے :
”فیضؔ نے ایک خالص تاریخی سانحے کو جذبات کاری سے انتہائی ارفع اور ہمہ گیر جمالیاتی احساس میں ڈھال دیا ہے۔ فیضؔ کے ہاں تاریخی شعور یا سماجی احساس یا انقلابی فکر، کوئی محدود اور وقتی چیز نہیں، بلکہ یہ جمالیاتی اظہار کی راہ پا کر ایک عام انسانی آفاقی کیفیت کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ فیضؔ کی فکر انقلابی ہے، لیکن ان کا شعری آہنگ انقلابی نہیں۔ فیضؔ کی اہمیت اس میں ہے کہ انھوں نے جمالیاتی احساس کو انقلابی فکر پر قربان نہیں کیا۔“ (ایضاً، ص:193)
لیکن بہرحال اس کے باوجود گوپی چند نارنگ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ فیضؔ کی شاعری کا کچھ حصہ وقت کے ساتھ ساتھ دھندلا جائے گا؛ گو اس بات پر ان کا یقین پختہ ہے کہ فیضؔ کی شاعری کا ایک حصہ ایسا ہے جس کی تابندگی کم نہیں ہوگی، بلکہ اس کا امکان ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ اس کا نقش اور روشن ہوتا جائے گا۔ ظاہر ہے کہ اس سے ان کی مراد یہ ہے کہ فیضؔ کی شاعری کا جو حصہ جمالیاتی احساس سے عاری رہ گیا ہے وہ وقت کا ساتھ نہیں دے سکے گا، زندہ وہی حصہ رہے گا جو جمالیاتی احساس سے بھرپور ہے۔
فیضؔ سے متعلق ڈاکٹر گوپی چند نارنگ کا دوسرا مضمون ”فیضؔ کو کیسے نہ پڑھیں“ ہے۔ اس میں انھوں نے فیضؔ کے معنیاتی نظام کو سمجھنے کے لیے شعری متن کی خاموشیوں (Silences) اور غیر موجودگیوں (Absences) کو پڑھنے کی کوشش کی ہے اور ان کی بنیاد پر فیضؔ کی جمالیاتی قدر کا تعین کیا ہے۔ اصل میں یہاں بنیادی تھیسز یہ قائم کیا گیا ہے کہ زبان، خاص طور پر شعری زبان کا خاصہ ہے کہ جس قدر یہ لفظوں کے ذریعے کہتی ہے اتنا لفظوں کے بیچ میں جو خلا ہوتا ہے اس کے ذریعے بھی کہتی ہے۔ بڑے شاعر اور چھوٹے شاعر میں ایک فرق یہ بھی ہوتا ہے کہ چھوٹے شاعر کے پاس صرف سامنے کے معانی ہوتے ہیں یعنی اس کے الفاظ جو ظاہر کرتے ہیں وہی کہتے ہیں جب کہ بڑے شاعر کے الفاظ جو ظاہر نہیں کرتے وہ بھی کہتے ہیں۔ یعنی ان کی شاعری میں جو خاموشیوں کے اور غیر موجودگیوں کے مقام آتے ہیں وہ بھی پڑھے جاتے ہیں۔
اب فیضؔ کے حوالے سے سوال یہ پیدا ہوا کہ کیا فیضؔ کی شاعری کی اہمیت محض اس میں ہے کہ وہ سامنے کے معنی کی شاعری ہے؟ ڈاکٹر گوپی چند نارنگ کا اس ضمن میں خیال ہے کہ فیضؔ کی شاعری کے سامنے کے معنی تو ہیں اور وہ وہی ہیں جو انقلاب پسند احباب کو مرغوب ہیں لیکن معاملہ یہاں تک محدود نہیں رہتا؛ اور اگر یہی حقیقت ہوتی تو فیضؔ ایک معمولی شاعر ہوتے۔ فیضؔ کی شعری جمالیات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ ان کی شاعری میں وہ معنی بھی موجود ہیں جو سامنے نہیں ہیں۔ اسی لیے ڈاکٹر گوپی چند نارنگ کے بقول ”فیضؔ کی شاعری کے وہ حصے زیادہ کامیاب ہیں جہاں جمالیات کا دباؤ (Repression) زیادہ ہے، کیوں کہ کیفیت ابھر کر آئی ہے، دوسرے لفظوں میں جہاں جمالیاتی ’غیر موجودگی‘ یا ’خاموشی‘ بولتی ہے یا جہاں ’بین السطور‘ روشن ہو گیا ہے۔“ (ایضاً، ص:205) یعنی فیضؔ کی شاعری میں ’موجودگی‘ کے نمایاں ہونے اور ’خاموشی‘ کے بولنے کا عمل کارفرما ہے جو ان کی شاعری کو جمالیاتی قدر عطا کرتا ہے۔
یہاں ایک اور مسئلے کو بھی ڈاکٹر گوپی چند نارنگ نے اٹھایا ہے اور وہ یہ کہ فیضؔ بلاشبہ ترقی پسند آئیڈیالوجی رکھتے ہیں جب کہ ساتھ ہی ساتھ وہ مشرقی جمالیات کے امین بھی ہیں بلکہ یہ جمالیات ان کے ذہن و شعور اور لاشعور کا حصہ ہے ؛ جب کہ مارکسیت کی رو سے یہ جمالیات ’بورژوا‘ ہے اور ترقی پسند آئیڈیالوجی سے تصادم کا رشتہ رکھتی ہے۔ اب مسئلہ یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک طرف وہ جمالیات ہے جو فیضؔ کے لاشعور کا حصہ ہے اور دوسری طرف فیضؔ کی آئیڈیالوجی ہے جو اختیاری ہے۔ لہٰذا یہ اندرونی کش مکش بھی ان کے متن میں ’خاموشیوں‘ اور ’غیر موجودگیوں‘ کے راہ پا جانے کا باعث ہے۔ یہاں آخر میں گوپی چند نارنگ شعری جمالیات کے حوالے سے ایک فیصلہ کن بات کرتے ہیں :
”آئیڈیالوجی خواہ کتنی ہی طاقت ور کیوں نہ ہو، جمالیات بھلے ہی ’بورژوا‘ قرار دی جائے، جمالیات کا اپنا ایک تفاعل ہے۔ شاعری کرنا ہے تو جمالیات کو تسلیم کرنا ہی ہو گا جو شاعری میں شعریات کے اصولوں کا نتیجہ ہوتی ہے، ورنہ شاعری سے ہی ہاتھ دھونا پڑے گا۔“ (ایضاً، ص:207)
اور یہ سب وہ فیضؔ کی شاعری کی جمالیاتی قدر کو قائم کرنے کے لیے کہ رہے ہیں ؛ کیوں کہ فیضؔ کی شاعری محض اپنی آئیڈیالوجی یا نظریے کی بنیاد پر منفرد نہیں بلکہ اپنے جمالیاتی احساس کی بنیاد پر انفرادیت کی حامل ہے اور تادیر زندہ رہنے کے وصف سے مالا مال ہوئی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ہم یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ فیضؔ کی شاعری کے جمالیاتی میکانزم کو سمجھنے اور سمجھانے میں گوپی چند نارنگ کی تنقید کو اولیت اور ایک بلند مرتبہ حاصل ہے۔ ان کے یہ دو مضامین فیضؔ شناسی کے باب میں بلاشبہ ایک قیمتی اثاثہ ہیں۔
