سعودی عرب اور فرانس کے سفارتی تعلقات


سعودی نوجوان قیادت آج کل بھرپور کوشش کر رہی ہے کہ دنیا میں اس کا تعارف محض تیل سپلائی کرنے والے کا نہ رہے بلکہ وہ جدیدیت کے ساتھ اپنے تعلقات کو ایک نئے محور پہ استوار کرنا چاہتے ہیں۔ ایران کے ساتھ ان کی ایک طویل عرصے سے محاذ آرائی کی تاریخ تقریباً ضرب المثل بن چکی تھی۔ یمن کے حوثی قبائل کے خلاف صف آرائی بھی اسی بنا پہ ہوئی۔ لبنان اور شام کے اندر ہونے والی بے چینی کا موجب بھی ہمیشہ ایران کو ہی سمجھا گیا مگر دنیا کو جس صبح یہ ماحول ہوا کہ دونوں کے درمیان ایک مصالحت کاری چین کی خفیہ سفارتکاری کام دکھا گئی تو سب انگشت بدنداں ہو گئے۔

اب ایران کا سفارتخانہ ریاض میں کام کرنا شروع ہو گیا ہے اور جلد ہی سعودی سفارتخانہ بھی تہران میں کھل جائے گا۔ 2030 میں سعودی عرب میں ایک عالمی کاروباری ایکسپو کا انعقاد کرنے کا پلان بنایا ہوا ہے جس کی مختلف ممالک سے حمایت و رہنمائی درکار ہے اور اسی جستجو میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان پیرس جاپہنچے اور ایلیسی محل میں صدر ایمانوئل میکرون سے ملاقات کی اور اس سارے پس منظر سے فرانسیسی صدر کو مطلع کیا ہے۔

اس ملاقات میں لبنان میں بڑھتی ہوئی سیاسی محاذ آرائی اور اندرونی خلفشار پر بھی بڑی گہری ہمدردی اور پیش بینی کی گئی۔ اب تک بدقسمت ملک میں سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے 12 مرتبہ صدارتی انتخابات ملتوی ہوچکے ہیں جس وجہ ملک میں ایک سیاسی جمود طاری ہو چکا ہے۔ مہنگائی اور بیروزگاری کے عالم میں لوگ کھانا بھی کھانا افورڈ نہیں کر سکتے اور صدقات و عطیات پہ انحصار کرنے پہ مجبور ہوچکے ہیں۔ لوگ ملک بدری پہ بھی مجبور ہیں اور قطار اندر قطار بیروت ائرپورٹ پہ اور ساحلوں پہ خیمہ زن ہیں کہ کسی نا کسی طرح وہ پردیس سدھار جائیں جہاں امن ہو اور روزگار کے کچھ ذرائع میسر ہوں۔

دونوں قائدین نے اس بات کی بھی توثیق کی کہ علاقے میں امن قائم کرنے کی خاطر باہمی تعلقات کو مزید فروغ دیا جائے گا۔ تاکہ باہم تلخیوں سے نجات حاصل کی جا سکے۔ دونوں اپنے باہمی تعلقات کو مزید وسعت اور گہرائی عطا کرنے کی جستجو بھی کریں گے۔ اور صدر میکرون نے بتایا کہ انہوں نے کئی کمپنیوں کو ہدایات دیں ہیں سعودیوں کے ساتھ باہمی اشتراک عمل بڑھایا جائے اور سعودی دفاع اور سیکورٹی کا مناسب انتظام کیا جا سکے تاکہ وزن 2030 کو کامیاب بنایا جا سکے۔

عرب ممالک کی ایک حالیہ بیٹھک خلیج تعاون کونسل میں شامی صدر بشار الاسد کی شمولیت پہ بھی حیرت و استعجاب کا اظہار کیا گیا اور صدر میکرون نے خصوصی طور پہ اس بارے شہزادے سے پوچھا کہ اس سلسلہ جنبانی کا اصل سبب کیا تھا اور خواہش ظاہر کی کہ اب معاملات عالمی معیار کے مطابق ہو سکیں اور شام میں انسانی حقوق کا احترام کیا جائے اور امن بحالی کی کاوشیں تیز تر کی جائیں۔ ایران کے نیوکلیئر پروگرام کے حوالے سے بھی خاصی سیر حاصل گفتگو کی گئی۔

اور خدشات و امکانات پہ بحث ہوئی۔ روس اور یوکرائن میں تنازعہ بھی باہمی گفتگو کا لازمی حصہ رہا صدر میکرون کے مطابق یہ ایک عالمی مسئلہ ٔ ہے جس کے اثرات بد ساری دنیا اور بالخصوص عرب خطے پہ خاص اثرات ہوں گے اور اس خواہش کا اظہار کیا گیا کہ دونوں ممالک باہم تعاون سے امن مذاکرات کی حمایت کرتے رہیں گے۔ ایک نئے عالمی اقتصادی معاہدے کی بھی تیاریاں جاری ہیں اس پہ بھی فرانس نے اپنی حمایت کا یقین دلایا۔ جس کا اجلاس اگلے ہفتے کو پیرس میں منعقد کیا جائے گا۔ اس سے غربت کے خاتمے کی کوششوں کو جلا بخشی جائے گی اور ماحول دوست توانائی کے حصول میں مدد ملے گی۔ یہ یاد رہے کہ یہ دورہ شہزادہ محمد بن سلمان کی اپنی تمنا اور خواہش کے مطابق سرانجام پہنچا۔ قرائن سے تو یہ ایک کامیاب دورہ لگ رہا ہے دیکھئے اب اس کے نتائج کب تک منظرعام پہ آتے ہیں۔

Facebook Comments HS