ابا جی کا خیال رکھیں
ماں جنم دیتی اور گود میں لے کر پالتی ہے، باپ انگلی پکڑ کر باہر کی دنیا سے متعارف کراتا ہے۔ بچے کی ضرورت کیا ہے اور اسے کیسے پورا کرنا ہے، اس سب کا جتن کرنے والی ہستی کبھی اپنی پریشانی اور تکلیف بتا نہیں پاتی۔ باپ کو گھر کے معاملات چلانے میں کیا کچھ برداشت کرنا پڑتا ہے، کسی شاعر نے خوب کہا ہے کہ
ہمیں پڑھاؤ نہ رشتوں کی کوئی اور کتاب
پڑھی ہے باپ کے چہرے کی جھریاں ہم نے
والد سے بیٹیوں کی محبت کو افتخار عارف نے خوب بیان کیا ہے۔
بیٹیاں باپ کی آنکھوں میں چھپے خواب کو پہچانتی ہیں
اور کوئی دوسرا اس خواب کو پڑھ لے تو برا مانتی ہیں
بچوں کی خوشیوں اور خواہشات کے حصول میں سرگرداں ماں باپ کی زندگیاں نہ جانے کتنے غم اور دکھ چھپائے گزر جاتی ہیں۔ شاعر کہتا ہے۔
گھر کی اس بار مکمل میں تلاشی لوں گا
غم چھپا کر مرے ماں باپ کہاں رکھتے تھے
لیکن اپنے بچوں کی ضرورتوں کی خاطر ساری عمر بھاگ دوڑ میں مصروف رہنے والا باپ بہت ان تھک انداز میں اپنا فرض انجام دیتا ہے۔ اسی کے لئے شاید شاعر کہہ گیا۔
مجھ کو تھکنے نہیں دیتا یہ ضرورت کا پہاڑ
میرے بچے مجھے بوڑھا نہیں ہونے دیتے
ماں باپ کی بچوں کے لئے برداشت کی کوئی حد نہیں ہوتی۔ ان کے اندر بہت حوصلہ اور دل میں جگہ ہوتی ہے۔
ایک کہاوت ہے کمسن نے منڈیر پر بیٹھے کوئے کی طرف اشارہ کر کے باپ سے پوچھا بابا یہ کیا ہے باپ بولا کوا ہے۔ بچے نے پوچھا یہ کوا ہے؟ باپ نے پھر پیار سے جواب دیا۔ ہاں بیٹا۔ وہ اپنے تجسس کو بڑھاتا اور تواتر سے استفسار کرتا رہا باپ تھکا نہیں اور اس کے معصوم سوال پر بار بار جواب دیتا رہا۔
کئی برس بیت گئے وہ شخص بڑھاپے کی دہلیز عبور کر گیا بیٹے نے اس کی جگہ لے لی۔ ایک دن اسی صحن میں بیٹھے منڈیر پر نگاہ پڑی۔ اس نے بڑے نحیف انداز سے بیٹے کو مخاطب کیا بیٹا یہ کوا ہے؟ مجھے صحیح دکھائی نہیں دیتا بیٹا بڑی ناگواری سے بولا۔ جی۔ باپ کی قوت سماعت بھی کمزور پڑ چکی تھی اس نے پھر دہرایا بیٹا یہ کوا ہی لگ رہا ہے یا کچھ اور ہے۔ بیٹے نے بڑے غصے سے کہا آپ کو بات سمجھ نہیں آتی جب کہہ دیا کہ کوا ہے پھر بار بار کیوں دماغ کھا رہے ہیں۔
بوڑھے باپ کو بہت دکھ ہوا اور بیتے دنوں میں لوٹ گیا جب اپنے بچے کے معصوم سوال کی تکرار پر غصہ کیے بغیر اس کو ایک ہی جواب دیتا رہا یہ دراصل اس کی محبت تھی۔ جسے کوئی اور رخ نہیں دینا چاہتا تھا مگر بچے بڑے ہو کر استدلال اور منطق کی باتیں کرتے ہیں۔ انہیں یہ جذبات اور کیفیت بالکل غیر فطری اور عجیب سی محسوس ہوتی ہے۔
والد کسی طور بھی ماں سے کم جذبات نہیں رکھتے۔ انہیں اپنی اولاد کی فکر شاید ماں سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔
افسوس کہ بڑھاپے میں ان کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ وہ ہماری توجہ چاہتے ہیں مگر ہمارا وقت بہت قیمتی ہوتا ہے۔ ہم نے دنیا مسخر کرنا ہوتی ہے۔
اکثر ریٹائرمنٹ کے بعد کی زندگی بڑی اذیت بھری ہوتی ہے جب نہایت محدود رقم بطور پنشن میں ملتی ہے اور اپنی ضرورتیں بھی پوری کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ ایسے میں بچے خیریت بھی نہ پوچھیں تو شاید آگے کی زندگی بوجھل سی محسوس ہونے لگتی ہے۔
والدین کی خدمت کا اخلاقیات، سماجیات اور دین سب میں بہت تذکرہ ہے مگر مصروف زندگی ایسا کچھ بھی کرنے سے منع کر دیتی ہے۔ کہا تو گیا ہے کہ ماں اور باپ میں سے کوئی بھی ایک زندہ ہیں ان کو پیار سے دیکھ لینا ہی بڑی نیکی ہے بلکہ دین میں والدین اور کعبۃ اللہ کو دیکھنا بھی عبادت قرار دیا ہے۔
آج سوشل میڈیا پر فادرز ڈے کے حوالے بڑا چرچا ہو گا معلوم نہیں تعطیل کے باوجود کتنوں نے والدین کے لئے وقت نکالا ہو گا۔ بڑی بات نہیں محض ذاتی تجربہ ہے اپنے والد کے ساتھ وقت گزار کر اور ان کی بات مان کر مجھے نہ صرف سکون ملتا ہے بلکہ میری ہر طرح کی پریشانیاں دور ہوجاتی ہیں۔ اس میں کوئی سائنس یا حکمت نہیں جس نے بھی یہ فارمولا اپنایا وہ پھر اس پر کاربند رہا۔ دعویٰ نہیں اور زیادہ توقعات نہیں میرے جیسے کا بڑھاپا کیسا ہو گا کیونکہ قدم رکھ چکا ہوں میری توجہ اپنے والد پر ہے اس لئے ابھی زیادہ کی طلب نہیں۔ اللہ تعالیٰ میرے والد اور سب کے والدین کو نہ صرف صحت تندرستی والی زندگی دے بلکہ آخری وقت تک بچوں کی توجہ بھی دے۔


