کیا اس دور میں اکثریت، اقلیت کے امتیاز کی گنجائش ہے؟
آج کی دنیا جس دور میں داخل ہو چکی ہے وہاں ”اکثریت“ اور ”اقلیت“ کے کسی تصور کی گنجائش بالکل نہیں ہے۔ یہ نظریہ اب باطل اور فرسودہ ہو چکا ہے۔ اس کی جگہ معاشی طاقت اور ٹیکنالوجی میں برتری نے لے لی ہے۔ آج کے دور میں ہم وطن شہری ہی نہیں بلکہ تارکین وطن بھی اقوام کی تعمیر ترقی میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہو چکی ہے کہ آج کی معاشی و اقتصادی ترقی مذہب و عقیدہ کی اکثریت کی بنیاد پر ممکن نہیں بلکہ انسانی اہلیت و قابلیت کی مرہون منت ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ترقی یافتہ اقوام نے صرف اپنے لوگوں کی اہلیت و قابلیت پر ہی انحصار نہیں کیا بلکہ پہلے دنیا بھر سے انسانی ذہانت کو تلاش کر کے حاصل کیا اور اب بھرپور فائدہ اٹھا رہی ہیں۔ ان ممالک کے آئین و قوانین میں کوئی ایسی پابندی عائد نہیں کہ کوئی مسلمان یا غیر مقامی کسی عہدہ پر فائز نہیں ہو سکتا۔ ان کا اول و آخر مقصد بس یہی رہا ہے کہ انسانی صلاحیت و قابلیت سے فائدہ اٹھا یا جائے اور ملکی معاشی و اقتصادی ترقی حاصل کی جائے۔
یہی وجہ ہے کہ ان امیر ممالک نے پسماندہ اور ترقی پذیر ممالک کی ایسی افرادی قوت کے لئے اپنے دروازے کھول رکھے ہیں جو علم اور محنت کی صلاحیت سے مالامال ہیں۔ بات صرف یہیں تک نہیں رہی بلکہ اس سے کہیں آگے جا چکی ہے۔ ایسے مہاجرین جنہوں نے کسی مجبوری کی بنا پر ترک وطن کر کے دوسرے ممالک میں پناہ لی تھی اب ان کی نسلیں اقتدار کے ایوانوں میں پہنچ گئی ہیں۔ اگر وہ اپنے ہی ملک میں رہتے تو وہاں کے مسائل کے گرداب میں پھنسے رہتے لیکن آزادی کے ماحول میں ان کو برابری کے مواقع ملے تو وہ اپنی بہترین صلاحیتوں کے بل بوتے مقامی افراد کو پیچھے چھوڑتے ہوئے بہت آگے نکل گئے۔
تاریخ یہی بتاتی ہے کہ اہلیت و قابلیت کسی قوم یا مذہب کی میراث نہیں ہوتی یہ اوپر والے کی دین ہے۔ ہر انسان اہلیت و قابلیت سے مالا مال ہوتا ہے۔ یہ انسانوں کے بنائے سسٹم ہوتے ہیں جو ایسی اہلیت و قابلیت کی جانچ کاری کرتے ہوئے یا تو ان سے بھرپور استفادہ کر کے دنیا میں سرخرو ہو جاتے ہیں یا پھر انسانی قابلیت کو مذہب و عقیدہ کے امتیاز کی بھینٹ چڑھا کر اپنا ہی مستقل تاریک کر لیتے ہیں اور بالآخر بھکاری بن جاتے ہیں۔
کسی دانشور نے خوب ہی کہا کہ کہ کوئی ایک غلطی کا خمیازہ قوم کو صدیوں تک بھگتنا پڑتا ہے۔ دور حاضر کی مثالوں میں برطانیہ کے موجودہ وزیر اعظم رشی سونک بھی ایک ایسی ہی مثال ہیں۔ متعدد مقامی سفید نسل کے وزرائے اعظم کی ناکامی کے بعد آج کل یہ غیر سفید فام برطانیہ کا وزیر اعظم ہے۔ اس کو ”پرسن آف کلر“ بھی کہا جاتا ہے۔ لندن کے موجود میئر صادق خان بھی ایسی ہی ایک مثال ہیں۔ اسی طرح سال رواں میں پاکستانی نژاد حمزہ یوسف نے اسکاٹش حکومت کے پہلے مسلمان حکمران منتخب ہوئے تھے۔
ان کو 72000 اراکین نے منتخب کیا تھا اور مغربی یورپ ملک کے پہلے مسلمان حکمران بنے۔ حمزہ یوسف کے دادا اور دادی 1962 میں پاکستان سے اسکاٹ لینڈ منتقل ہوئے تھے۔ حال ہی میں امریکہ میں بنگلہ دیشی نژاد امریکی خاتون وکیل نصرت جہاں چوہدری کو وفاقی جج نامزد کیا گیا ہے یہ پہلی امریکی مسلمان خاتون جج ہیں جو اس منصب تک پہنچی ہیں اور تاحیات اس عہدہ پر فائز رہیں گی۔ ان کی نامزدگی امریکی صدر جو بائیڈن نے جنوری میں کی تھی۔
جنوری 2018 میں پاکستانی نژاد برطانوی خاتون نصرت غنی نے پہلی مسلم خاتون وزیر ہونے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔ ان کا تعلق آزاد کشمیر سے تھا۔ اسی ماہ جون میں امریکہ میں ایک پاکستانی نژاد مسلمان طارق ہبتہ اللہ چوہدری نے نیو جرسی سٹیٹ میں Superior Court کے جج کا حلف اٹھایا ہے۔ حیران کن طور پر ان سے حلف قرآن پاک پر لیا گیا۔ ستمبر 2012 میں ناروے میں مقیم پاکستانی نژاد خاتون وکیل سیاست دان ہادیہ تاجک نے ناروے کی کم عمر ترین اور پہلی مسلم کابینہ رکن وزیر ثقافت ہونے کا اعزاز ہونے حاصل کیا۔
ان کی فیملی 1970 میں پاکستان سے ناروے ہجرت کر گئی تھی۔ ناروے ہی میں دو سال پہلے حکمران جماعت نے پاکستانی نژاد سیاست دان حسن نواز کو حکمران جماعت کے یوتھ ونگ کا سربراہ مقرر کیا تھا۔ برطانیہ کے وزیر مملکت برائے دولت مشترکہ و یو این لارڈ طارق محمود احمد بھی ایک پاکستان نژاد ہیں۔ اسی حوالے سے امریکہ میں چند سال قبل ایک منفرد مثال قائم ہوئی تھی۔ امریکی ریاست مشینگن کے ایک ہیمٹریمک نامی شہر میں جہاں دنیا کی 30 زبانیں بولی جاتی ہیں اور اس کی آبادی تیس ہزار کے لگ بھگ ہے وہاں نومبر 2021 میں نہ صرف مسلم میئر منتخب ہوا بلکہ کونسل کے تمام اراکین بھی مسلم تھے اس طرح اس شہر کو ایسے پہلے امریکی شہر کا اعزاز ملا جہاں امریکی مسلمانوں کی حکمرانی تھی۔
اس طرح کی سینکڑوں نہیں ہزاروں مثالیں ہیں کہ تارکین وطن نے دوسرے ممالک میں جاکر آزادی اور تحفظ ملنے کے بعد کلیدی پوسٹس پر فائز ہو کر اس ممالک کی تعمیر و ترقی میں کلیدی کردار ادا کیا اور کر رہے ہیں۔ ثابت ہوا کہ یہ ملکی قیادت ہی ہوتی ہے جس کی فراست، دور اندیشی اور ان کا تدبر کی بدولت ملک کی تعمیر و ترقی کی راہیں متعین کرتی ہے اور ایسا آئین اور قوانین تشکیل دیتے ہیں جس کی رو سے تمام انسان مساوی ہوتے ہیں۔
ان کے نزدیک مذہب ہر فرد کا انفرادی اور ذاتی مسئلہ ہوتا ہے اس سے ریاست، قانون اور آئین کو کچھ لینا دینا نہیں ہوتا اور نہ ہی اس میں مداخلت کرنا درست سمجھتے ہیں۔ اکثریت اور اقلیت کا کوئی تصور ان کے قانون و آئین کی کتاب میں نہیں ہوتا۔ آج کے دور میں افرادی قوت کی قابلیت کو ایک کلیدی حیثیت حاصل ہے۔ اگر وہ سکلڈ Skilled ہے تو سونے پہ سہاگا کے مترادف ہے۔ آج امیر ترین ممالک کو ان کو معاشی ترقی برقرار رکھنے میں جن مشکلات کا سامنا ہے ان میں سب سے بڑا مسئلہ افرادی قوت کی کمی ہے۔
ملکی سیاست دانوں اور حکمرانوں نے اس کا حل یہ نکالا کہ مراعات کے خوش کن پیکج اور قوانین میں نرمی کر کے پسماندہ اور ترقی پذیر ممالک کی ذہین اور باصلاحیت افرادی قوت کو اپنے ممالک میں منتقل کر رہے ہیں۔ جاپان نے اس افرادی قوت کی کمی کا یہ حل نکالا ہے کہ اس کی کمپنی ہٹاچی ایک ایسا ایکسکویٹر تیار کر رہی ہے جسے کھدائی کے دوران آپریٹر کی ضرورت نہ رہے گی لیکن اس کے باوجود اس نے لاکھوں افرادی قوت کو مطلوبہ معیار کی روشنی میں جاپان آنے کی پیش کش کی۔
جرمنی کو بھی سالانہ 4 لاکھ افرادی قوت کی اشد ضرورت ہے۔ امریکہ کو بھی سکلڈ افرادی قوت کی کمی کا سامنا ہے۔ پاکستان ان ضروریات کو پورا کر سکتا ہے لیکن اقرباء پروری، سیاسی و مذہبی امتیازات کی بھرمار نے پاکستانی نوجوانوں کے لئے مسائل کے پہاڑ کھڑے کر رکھے ہیں اور وہ بیچارے یورپین سمندر کے ساحلوں کی خونی لہروں کی نذر ہو رہے ہیں۔ یہ بڑا المیہ ہے کہ یہاں سفر کی ابتدا ہی نفرت اور محنت نہ کرنے کی قومی پالیسی سے ہوئی اور انجام ہم سب کے سامنے ہے۔
ابتدائی قومی نصاب، طرز سیاست میں ایسی غلطیاں کی گئیں جن کے منفی اثرات کا آج کی نسلوں کو بھی سامنا ہے۔ سب سے بڑی غلطی بانی پاکستان کے تصور پاکستان سے رو گردانی تھی۔ قائد اعظم کے نصاب کو پس پشت ڈال کر اپنا نصاب رائج کر دیا گیا جس کے باعث سفر کی سمت ہی بدل گئی اور وقت کے ساتھ ساتھ کھوٹے سکے اقتدار کا حصہ بنتے گئے۔ شناخت کے مختلف ادوار کی بھٹی سے گزرنے کے بعد آج بھی ہماری کوئی شناخت دکھائی نہیں۔ پہلے مسلمان یا پہلے پاکستان؟
پہلے ایمان یا اتحاد؟ شدید کنفیوژن کا شکار ہیں۔ بانی پاکستان نے ”اتحاد، یقین محکم اور تنظیم“ کا سبق پڑھایا تھا جو پرانی ڈاک کی قومی ٹکٹوں اور دیگر سرکاری دستاویزات پر لکھا موجود ہے لیکن بعد میں بد دیانتی کرتے ہوئے الٹ پلٹ کر دیا گیا اور آج کا سرکاری سبق یہ ہے کہ ”ایمان، اتحاد اور تنظیم۔ اس کے لئے تاریخ کو بھی مسخ کیا اور سچ کو بھی روندا گیا۔ نہ کوئی پشیمانی اور نہ مزامت محسوس ہوئی۔ یہ اسی طرح کیا گیا جس طرح سیاست کے اندر مذہب کو ڈالا گیا۔ انجام کا نہ ایمان محفوظ رہا، نہ اتحاد رہا اور نہ تنظیم بچ پائی۔


