روادار معاشرے کے لئے مکالمے اور سوال کی اہمیت

قدرت نے انسان کو عقل دی ہے۔ اور غور و فکر کی صلاحیت سے نوازا ہے۔ ہر انسان اپنے تجربات، مشاہدات، علم و آگہی اور جس، خاندان، جس معاشرے میں وہ پروان چڑھتا ہے۔ انھی معروضی حالات، زمینی حقائق اور واقعات اور اپنے علم و مطالعے کی روشنی میں اپنی رائے کا اظہار کرتا ہے۔ چونکہ یہ دنیا خاصی بڑی ہے۔ ایک طرف بعض خطوں میں کچھ انسانوں نے انتھک محنت، مطالعے، برسا برس کی ریاضت، تحقیق اور تجربات سے نت نئے آلات پیداوار ایجاد کیے اور جدید ذرائع پیداوار سے جڑ گیا۔
تعمیر و ترقی کے بہتر مواقع سے استفادہ کرتے ہوئے۔ ترقی کی منازل اتنی تیزی کے ساتھ طے کی کہ انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ چاند اور مریخ پر کمندیں ڈالیں ’اجرام فلکی کے رازوں سے پردہ اٹھایا، کمپیوٹر اور پھر سپر کمپیوٹر ایجاد کیا۔ جدید مشینیں ایجاد کیں اور ایسی ایسی تعمیرات کیں کہ ان کو عجوبوں کا درجہ دیا گیا۔ اور ایسی ایسی فلک بوس عمارتیں بنائیں کے عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ کمپیوٹر اور خاص کر انٹرنیٹ کی سہولت سے مستفید ہوتے ہوئے۔
دنیا جہاں کے علوم و فنون، رموز تک دسترس کو اتنا سہل کر دیا۔ کہ دنیا جہاں کی معلومات، کتابیں، اخبارات، رسائل، ریڈیوز، ہائی ڈیفینیشن ٹی وی چینلز عرض ہر طرح کی انفارمیشن عام انسان کی فنگرز ٹیپ پر دستیاب ہیں۔ حقیقی معنوں میں دنیا کو گلوبل ولیج بنا دیا ہے۔ ایک جانب انسان مصنوعی ذہانت، جینیاتی انجینئرنگ میں اپنے جھنڈے گاڑ رہا ہے۔ تو دوسری جانب کچھ خطے تیز رفتار ترقی سے مستفید نہ ہو سکے۔ کیونکہ وہاں بسنے والے انسانوں کو تعمیر و ترقی کے موافق مواقع میسر ہی نہیں آئے۔ وہ آج بھی انتہائی قدیم آلات پیداوار اور ذرائع پیداوار سے منسلک ہیں۔ جو جدید اور ترقی یافتہ ممالک اور معاشروں کی ترقی سے اگر صدیاں نہیں تو کئی دہائیاں پیچھے ہیں۔
جس طرح میں نے تحریر کے شروع میں عرض کیا۔ کہ آلات پیداوار، ذرائع پیداوار اور خاندانی پس منظر، حاصل کردہ تعلیم و تربیت، معاشرہ، معروضی حالات انسان کی سوچ، فکر اور رویوں کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ اسی لئے تمام انسان کے سوچنے سمجھنے اور عقل و دانش کا معیار ایک نہیں ہے۔ مختلف نقطہ نظر اور مختلف درجات اور مختلف زاویے ہیں۔ میں ترقی یافتہ، ترقی پذیر اور پسماندہ معاشروں کے اندر بسنے والوں کے عمومی رویوں اور سوچ کی بات کر رہا ہوں۔
انفرادی سوچ اور رویہ کسی بھی علاقے اور کسی میں معاشرے میں روایتی سوچ و فکر سے مختلف بھی ہو سکتا ہے۔ کیونکہ ہر انسان میں سوچنے، سمجھنے اور سیکھنے کا جذبہ مختلف ہوتا۔ کچھ انسان اس کائنات کے اسرار و رموز پر غور و فکر کرتے ہیں۔ جبکہ کچھ اپنے دماغ کو کسی قسم کا کوئی کشٹ نہیں دینا چاہتے۔ کاش کوئی انھیں سمجھا پائے۔ کہ سوچنے، سمجھنے اور سیکھنے سے دماغی صحت اور صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے۔ دماغ کو کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔
مختلف عقائد، مختلف نظریات اور مختلف خیالات کا ہونا، ایک دوسرے سے اختلاف رائے ایک فطری بات ہے۔ دنیا کی خوبصورتیdiversity متنوع میں ہے۔ اس متنوع دنیا میں ہم آہنگی، پرامن بقائے باہمی اور سماجی ترقی کے لیے ایک روادار معاشرے کو فروغ دینا بہت ضروری ہے۔ افہام و تفہیم، ہمدردی، مساوات اور اشتراکیت کو فروغ دینے کے لیے سب سے موثر طریقے میں سے ایک بامعنی مکالمے میں مشغول ہونا اور سوچنے کی جانب مائل کرنے والے سوالات پوچھنا ہے۔
مکالمہ اور بات چیت متنوع نقطہ نظر اور پس منظر کے حامل افراد کے درمیان افہام و تفہیم، ہمدردی اور تعاون کو فروغ دے کر ایک روادار معاشرے کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ایک باہم مربوط اور متنوع معاشرے میں اور سماجی ترقی کے لیے ایک موثر، سنجیدہ، بامقصد اور بامعنی مکالمے کی اہمیت کو تسلیم کرنا ضروری ہے۔
جس معاشرے میں مکالمے اور سوالات پر پابندی عائد ہو۔ جہاں بحث و مباحثہ کا صحت مندانہ ماحول میسر نہ ہو۔ ایسا معاشرہ قنوطیت، بیگانگی اور جمود اور پسماندگی کا شکار ہو جاتا ہے۔ ایسا معاشرہ سامراجی طاقتوں، طالع آزماؤں، انتہا پسند قوتوں اور مذہبی جنونیوں کا آسان ہدف ہوتا ہے۔ جو اپنے مفادات کے حصول کے لیے وقتاً فوقتاً وہاں کے لوگوں کو بلی کا بکرا بناتے ہیں۔ جو معاشرہ، حکومت یا ادارہ سوال پر پابندی عائد کرتا ہے۔ سمجھ لیجیے۔ کہ آپ کے مسائل اور مشکلات کے ساتھ ان کا گہرا تعلق ہے۔ اور وہ مثبت سماجی ترقی میں حائل ہیں۔ اور فرسودہ اور استحصالی نظام کی طوالت چاہتے ہیں۔
مکالمہ افراد کو اپنے، نظریات، تجربات، عقائد اور اقدار کا تقابلی جائزے کے قابل بناتا ہے۔ جو باہمی افہام و تفہیم کا موقع فراہم کرتا ہے۔ جب مکالمہ ہوتا ہے۔ جب لوگ ایک دوسرے سے سوالات کرتے ہیں مثبت اور تعمیری بات چیت میں مشغول ہوتے ہیں۔ تو وہ دقیانوسی اور فرسودہ نظریات اور روایات سے متعلق بھی سوالات اٹھاتے ہیں۔ بحث و مباحثہ اور مدلل جوابات، مختلف نقطہ نظر اور تبادلہ خیالات کے نتیجے میں دقیانوسی تصورات کو چھوڑنے غلط فہمیوں کو دور کرنے اور تعصبات کو چیلنج کرنے میں مددگار ہوتے ہیں۔ جس سے ہمدردی اور رواداری میں اضافہ ہوتا ہے۔ سنجیدگی سے ایک دوسرے کو سننے اور تعمیری بات چیت میں شامل ہونے سے لوگ اپنے اختلافات کے درمیان خلیج کو ختم کر سکتے ہیں اور اتحاد اور قبولیت کا احساس پیدا کر سکتے ہیں۔ انسانوں کو ان کے حقوق ان کی ذمہ داریوں سے آگاہ کرنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔
سوالات پوچھنا تنقیدی سوچ کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ لوگوں کو ان کے اپنے مفروضوں اور تعصبات کو چیلنج کرنے کے قابل بناتا ہے ان میں سننے، سمجھنے اور سیکھنے کی صلاحیت کو بڑھاتا ہے اور ان کی قوت برداشت میں اضافہ کرتا ہے۔ مکالمے میں مشغول ہو کر ہم اپنے آپ کو نئے حالات اور نظریات کو سمجھنے کے قابل بناتے ہیں۔ جو ہمارے نظریات، مشاہدات اور تجربات سے مختلف ہو سکتے ہیں۔ یہ عمل ہمیں اپنے پہلے سے تصور شدہ تصورات پر سوال کرنے میں مدد کرتا ہے۔
جس سے ذہنی بلوغت، ترقی اور معاشرے میں وسیع تر تفہیم پیدا ہوتی ہے۔ تعمیری بحث و مباحثہ، سیر حاصل گفتگو، تعمیری سوچ، علم و آگہی اور سوالات اٹھا کر ہم اپنے فکری، تاریخی اور نظریاتی مغالطوں سے چھٹکارا پا سکتے ہیں۔ اور دقیانوسی تصورات پر قابو پا سکتے ہیں۔ اور ایک تنوع کی قدر کرنے والے زیادہ روادار معاشرے کو تشکیل دے سکتے ہیں۔
مکالمے سے ہمدردی اور افہام و تفہیم کو پنپنے کا موقع ملتا ہے۔ دوسروں کے نقطہ نظر، خیالات اور تجربات کو تحمل سے سن کر ہم ان کے منفرد نقطہ نظر کے بارے میں جان سکتے ہیں۔ سوالات پوچھنے کا عمل ہمیں دوسروں کے خیالات، جذبات اور محرکات کو جاننے، ہمدردی کو فروغ دینے اور حقیقی تعلق کو فروغ دینے میں مدد کرتا ہے۔ نتیجے کے طور پر مکالمہ ہمیں سماجی تقسیم ختم کے قابل بناتا ہے، متنوع ثقافتوں، عقائد اور پس منظر کو زیادہ سے زیادہ سمجھنے اور قبول کرنے میں معاون ہوتا ہے۔
دقیانوسی تصورات اور تعصب کو چیلنج کرنا انتہائی اہم ہے۔
جہاں مکالمہ اور سوال پوچھنے کو معیوب سمجھا جاتا ہے۔ یا جہاں سوال پوچھنے والوں کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔ جو معاشرہ مکالمے پر قدغن لگاتا ہے سوالات کی حوصلہ شکنی کرتا ہے۔ وہاں دقیانوسی تصورات اور تعصب عام ہیں۔
اور جو شخص مکالمے، مدلل بحث مباحثے اور سوالات پوچھنے سے جان چھڑانے کی کوشش کرے۔ سوالات پوچھنے پر آگ بگولہ ہو۔ کج بحثی کرے۔ اس کے پاس سچائی، دلائل، حقائق اور منطق کا فقدان ہوتا ہے۔ بات چیت میں مشغول ہونا اور سوالات پوچھنا فرسودہ سوچ، من گھڑت واقعات، قصے کہانیوں کو چیلنج کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ دقیانوسی تصورات پر کھل کر بحث کرنے اور سوال کرنے سے ہم ان مغالطوں سے چھٹکارا پا سکتے ہیں۔ جن کے ہم صدیوں سے اسیر ہیں۔ مکالمے کے ذریعے ہم جہالت کو علم سے بدل سکتے ہیں۔ اور ایک زیادہ روادار معاشرے کے قیام کی راہ ہموار کر سکتے ہیں۔
ایک روادار معاشرے کے قیام کے لیے تنازعات کا حل ہونا ضروری ہے۔ مکالمہ اور بات چیت پرامن حل کے حصول میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ کھلے ذہین کے ساتھ سوالات کی حوصلہ افزائی کر کے اور مکالمے کے لیے سازگار ماحول مہیا کر کے ہم تنازعات کو تعمیری انداز میں حل کر سکتے ہیں۔ سوال پوچھنا مختلف نقطہ نظر کی بنیادی وجوہات کی نشاندہی اور انھیں سمجھنے میں مدد کرتا ہے۔ لوگوں کو ایک دوسرے کے نقطہ نظر کو بہتر طور پر سمجھنے کے قابل بناتا ہے۔ بامعنی اور بامقصد بات چیت کے ذریعے ہم مشترکہ بنیاد تلاش کر سکتے ہیں۔ ایک دوسرے کے درمیان مضبوط روابط استوار کر سکتے ہیں۔ اور باہمی، انفرادی اور اجتماعی طور پر سازگار اور پرامن ماحول پیدا کر سکتے ہیں۔
مکالمہ اور سوالات پوچھنے کا عمل لوگوں کو اکٹھا کر کے سماجی ہم آہنگی کو فروغ دیتا ہے۔ جب مختلف پس منظر کے افراد بامعنی گفتگو میں مشغول ہوتے ہیں۔ تو وہ اپنے اختلافات سے بالاتر ہو کر مشترکہ اقدار اور اہداف تلاش کرتے ہیں۔ مکالمے کو فروغ دے کر ایسا معاشرہ بنایا جا سکتا ہے۔ جہاں مختلف آراء کا احترام کیا جاتا ہو اور افراد آزادانہ طور پر اظہار خیال کرنے کے لیے با اختیار ہوں۔ کسی بھی قسم کے خوف اور ہر طرح کی قدغنوں سے آزاد ہوں۔ ایسا ماحول سماجی بندھنوں کو مضبوط کرتا ہے۔ جس سے ایک زیادہ مربوط اور روادار معاشرہ جنم لیتا ہے۔
دنیا عملاً ایک گلوبل ولیج بن گئی ہے۔ جس کے اکثر خطے تیز رفتار ترقی کی بدولت اور جدید آلات مواصلات سے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ دنیا کے کسی بھی حصے میں رونما ہونے والے چھوٹے سے چھوٹے واقعے کی خبر ہمیں چند لمحوں میں مل جاتی ہے۔ ایسے میں ایک روادار معاشرے کو فروغ دینا پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہے۔ سوالات پوچھنا اور بامعنی مکالمے میں مشغول ہونا ہمدردی، افہام و تفہیم، بھائی چارے اور اشتراکیت کو فروغ دینے کے لیے طاقتور ٹولز کا کام کرتا ہے۔
انفرادی طور پر ہمیں سوال کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔ سوال کی اہمیت اور طاقت کو سمجھنا چاہیے۔ ایک زیادہ روادار اور قبول کرنے والا معاشرہ بنانے کے لیے کھلے ذہین باعزت، اور بامعنی مکالمے میں مشغول ہونا چاہیے۔ ہمیں ایک بات ذہن نشین کرنی چاہیے کہ زور زبردستی سے کوئی اپنے خیالات اور نظریات آپ پر تھوپ نہیں سکتا۔ علم ایک وسیع سمندر ہے۔ اور یہ زندگی اتنی مختصر کہ علم کے وسیع سمندر سے اگر چند بوندیں بھی انسان کو میسر آ جائیں تو بہت بڑی غنیمت ہے۔
اسی لئے ہمیں چاہیے کہ ہم اہل علم و دانش کی محفلوں میں شریک ہوں۔ بحثوں میں حصہ لیں، تاریخ اور فلسفہ کی کتب کا مطالعہ کریں۔ کوشش کر کہ اپنے آپ کو، اپنی معلومات اور علم کو عصر حاضرہ کے تقاضوں کے مطابق ڈھالیں۔ ایک بات تو طے ہے کہ کوئی بھی انسان عقل کل نہیں ہوتا۔ البتہ جس کے پاس مدلل دلائل، حقائق اور منطق ہو اس کی بات سے اتفاق کرنے میں ہمیں کسی قسم کی ندامت اور آر محسوس نہیں کرنی چاہیے۔ اور ہر لمحے حقائق اور دلائل کو تسلیم کرنے کے لئے ذہنی طور پر تیار رہنا چاہیے۔
کوئی ابہام ہو تو اس کے بارے میں مزید تحقیق اور جستجو کرنی چاہیے۔ کیونکہ جستجو اور تحقیق کا جذبہ انسان کے ڈی این اے میں ہے۔ ارتقائی عمل اور انسانی تحقیق پر اسرار رموز و علوم سے پردہ اٹھاتے رہیں گئے۔ ہمیں کشادہ دل اور کھلے ذہین کے ساتھ حقائق اور سچائی کو تسلیم کرنا چاہیے۔ یہی انسانی عقل و شعور کا تقاضا ہے۔ کیونکہ
Nothing is absolute but change.
جس تیزی کے ساتھ سائنس ترقی کر رہی ہے۔ جس برق رفتاری سے مصنوعی ذہانت اور جینیاتی انجینئرنگ ہمارے روزمرہ امور میں شامل ہو رہی ہیں۔ آنے والی چند دہائیوں میں اس دنیا میں نئے قوانین، نئے ضوابط ہوں گے۔ ٹیکنالوجی میں مزید جدت آئے گی۔ جو معاشرے مکالمے، بحث و مباحثے اور سوالات کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ تو اس تیز رفتار ترقی سے مستفید ہوں گے۔ دنیا اور قدرتی وسائل ان کی دسترس میں ہوں گے۔ جو دقیانوسی اور فرسودہ نظریات اور خیالات پر ڈٹے رہیں گئے۔ ان کا مستقبل خاصا مخدوش ہو گا۔

