کیا میر کی شہرت مبالغہ آرائی کا نتیجہ ہے؟


آج تک یہی پڑھا اور سنا ہے کہ میر تقی میر اردو زبان کے سب سے بڑے شاعر ہیں۔ میر کے زمانے میں مغلیہ سلطنت ادھڑ رہی تھی۔ بنگال کی طرف سے انگریز پیش قدمی کر رہے تھے، جنوب کی طرف سے مرہٹے حملہ آور تھے اور رہی سہی کسر افغان حملہ آور پوری کر رہے تھے۔ میر کا زمانہ غدر، طواف الملوکی اور افراتفری سے عبارت ہے۔ جس نے میر کی زندگی پر گہرے نقوش چھوڑے جن کا اظہار ان کی شاعری سے ہوتا ہے۔ میر کے اشعار میں درد و غم کے علاوہ سیاسی، معاشی اور معاشرتی غارتگری کا ذکر جگہ جگہ ملتا ہے۔ کچھ غم جاناں اور کچھ غم دوراں نے جہاں ان کی ذاتی زندگی کو متاثر کیا وہیں ان کی شاعری کو بھی نئی جہتوں سے روشناس کرایا۔

میر درد اور مرزا رفیع سودا جیسے استاد شاعر میر کے ہم عصر تھے لیکن اردو غزل میں جو مقام میر کے حصے میں آیا کسی اور کو نہ مل سکا۔

ادھر سے ابر اٹھ کر جو گیا ہے
ہماری خاک پر بھی رو گیا ہے
مصائب اور تھے پر دل کا جانا
عجب اک سانحہ سا ہو گیا ہے

کوئی شک نہیں میر غم و اندوہ کی وہ منظر کشی کرتے ہیں کہ ہر شخص کو میر کے درد میں اپنا درد اور میر کے غم میں اپنا غم نظر آتا ہے۔ درد اور غم کی تصویر کشی درد اور سودا کے کلام میں بھی ملتی ہے۔ مرزا سودا کہتے ہیں

نے بلبل چمن نہ گل نودمیدہ ہوں
میں موسم بہار میں شاخ بریدہ ہوں
میں کیا کہوں کہ کون ہوں سودا بقول درد
جو کچھ کہ سو ہوں غرض آفت رسیدہ ہوں
میر درد کا یہ شعر اس وقت کے ہندوستان کی داستان بیان کرتا ہے
حیف! کہتے ہیں ہوا گل زار تاراج خزاں
آشنا اپنا بھی واں اک سبزۂ بیگانہ تھا

دیکھا جائے تو میر کے بعد بھی بہت سے شعراء نے سوز و گداز کی منظر کشی کی ہے اور میر سے بڑھ کر کی ہے۔ مضطر خیر آبادی کی غزل

نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں نہ کسی کے دل کا قرار ہوں
کسی کام میں جو نہ آ سکی، میں وہ ایک مشت غبار ہوں
کس طرح نظر انداز کیا جا سکتا ہے۔

اگر دیکھا جائے تو درد اور سودا کا زمانہ میر کا زمانہ ہی کہلاتا ہے اگرچہ مضامین خیال کو دل کی رگوں سے باندھنے میں وہ میر سے کم نہیں تھے۔

دل کے ٹکڑوں کو بغل گیر لئے پھرتا ہوں
کچھ علاج اس کا بھی اے شیشہ گراں ہے کہ نہیں

اگرچہ سودا کا یہ شعر امتداد زمانہ کی سخت گیری کی وجہ سے آج کل تبدیل شدہ حالت میں درج کیا جاتا ہے لیکن غم و اندوہ کی تصویر کشی جو کسی ناکام عاشق کی میراث ہوتی ہے اس کا اظہار میر سے کم نہیں۔

میر کے بعد غالب کا زمانہ شروع ہوا لیکن میر کی پذیرائی کسی طرح کم نہ ہوئی۔ اس زمانے میں مومن، آتش اور امیر مینائی جیسے غالب کے ہم عصر اور ہم پلہ شعرا بھی موجود تھے۔

خنجر چلے کسی پہ تڑپتے ہیں ہم امیرؔ
سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے
(امیر مینائی)

لیکن غالب نے دو کام کیے۔ ایک اپنے کم از کم دو شعروں میں میر کو استاد تسلیم کر کے حجت تمام کر دی۔ دوسرے اپنے سخنورانہ تخیل کو کہتے ہیں کہ ”غالب کا ہے انداز بیاں اور“ کہہ کر اپنے ہی دعوے کی تصدیق کی کہ وہ نہ صرف اپنے زمانے بلکہ آنے والے زمانوں میں بھی شاعروں میں درجہ اولی پر رہیں گے۔ میر کے برعکس غالب کا درد زمانے کا درد ہے جسے قاری غالب کے شعروں میں اپنے درد کے طور پر محسوس کرتا ہے۔

اگر شعر کے معیار پر بات کی جائے تو مضامین خیال باندھنے میں داغ کسی سے پیچھے نہیں۔
غضب کیا تیرے وعدے پہ اعتبار کیا
تمام رات قیامت کا انتظار کیا

نئی نئی تراکیب اور استعاروں کا استعمال داغ ہی کا کام ہے۔ لیکن اس کے بعد اقبال کا زمانہ شروع ہو گیا۔ اقبال نے شاعری کو بالکل نئی جہت دی۔ اسے تعمیری جہت کہہ سکتے ہیں۔ اقبال کی شاعری میں غم جاناں اور غم دوراں سے زیادہ قوم و ملت کا ذکر ملتا ہے۔ اقبال کے شعروں میں ردھم ہے، ترنم ہے۔ موسیقی ہے۔ لیکن بات شاعر یا شاعری کی ہو تو میر صف اول میں کھڑے نظر آتے ہیں۔

جب ہم بیسویں صدی کی شاعری کا ذکر کرتے ہیں تو غم و اندوہ سے لبریز شاعری ناصر کاظمی کے بغیر ادھوری رہ جاتی ہے۔ لیکن کیا کیا جائے۔ مجید امجد، ایم ڈی تاثیر، منیر نیازی، قتیل شفائی، سیف الدین سیف، عبیداللہ علیم، عالمتاب تشنہ، امجد اسلام امجد، شہزاد احمد، اسلم انصاری، خاطر غزنوی، عبدالحمید عدم اور رومانوی شاعر اختر شیرانی بڑے کروہ و فر کے ساتھ پہلی صف میں کھڑے نظر آتے ہیں۔

آؤ کچھ دیر رو ہی لیں ناصر
پھر یہ دریا اتر نہ جائے کہیں
(ناصر)
ہم اپنے عشق اور کیا شہادت دیں
ہمیں ہمارے رقیبوں نے معتبر جانا
( تشنہ)
اک وہ کہ آرزوؤں پہ جیتے ہیں عمر بھر
اک ہم کہ ہیں ابھی سے پشیمان آرزو!
(اختر)
وہ تو صدیوں کا سفر کر کے یہاں پہنچا تھا
تو نے منہ پھیر کے جس شخص کو دیکھا بھی نہیں
(اسلم انصاری)
گو ذرا سی بات پر برسوں کے یارانے گئے
لیکن اتنا تو ہوا کچھ لوگ پہچانے گئے
(خاطر)
خواتین شعراء میں ادا جعفری، بسمل صابری اور پروین شاکر نمایاں ہیں۔
ہونٹوں پہ کبھی ان کے مرا نام ہی آئے
آئے تو سہی بر سر الزام ہی آئے
(ادا جعفری)
وہ عکس بن کے مری چشم تر میں رہتا ہے
عجیب شخص ہے پانی کے گھر میں رہتا ہے
(بسمل صابری)
کو بہ کو پھیل گئی بات شناسائی کی
اس نے خوشبو کی طرح میری پذیرائی کی
(پروین شاکر)

لیکن فیض اور فراز کے بغیر یہ صف بھی ادھوری نظر آتی ہے۔ فیض کی شاعری رنگ، چاشنی اور پھولوں کا حسین امتزاج ہے۔ اس میں ٹھنڈک، نازکی ہے، نرم جذبوں کا اظہار ہے۔

گلو میں رنگ بھرے، باد نو بہار چلے۔

اس میں فیض کا کمال نہیں بلکہ اس قدرت کا کمال ہے جس نے فیض کو تخلیقی حسن سے آراستہ کیا۔ تخلیق کے اس مقام تک میر کی پہنچ نہیں۔

غلام محمد قاصر کے اشعار تو عموماً میر تقی میر کے کھاتے میں ڈال دیے جاتے ہیں
بغیر اس کے اب آرام بھی نہیں آتا
وہ شخص جس کا مجھے نام بھی نہیں آتا
کروں گا کیا جو محبت میں ہو گیا ناکام
مجھے تو اور کوئی کام بھی نہیں آتا

تخلیق وہ سفر ہے جو رکتا نہیں۔ نئے نئے خیال اور نئی بندشیں کسی نہ کسی سے سرزد ہوتی رہتی ہیں۔ تخلیق زمانوں کی قید سے آزاد ہے۔ کبھی کبھی محسوس ہوتا ہے کہ میر کو غزل کا میر کارواں قرار دینے میں مبالغہ آرائی بھی شامل ہے۔

Facebook Comments HS