روسی تیل کی آمد


ملک و قوم کی ترقی کے لئے سوچنے سے زیادہ جرات عمل کی ضرورت ہوتی ہے۔ معاشی جنگ ڈپلومیسی کے ہتھیاروں سے لڑی جاتی ہے۔ اس لحاظ سے روسی تیل کا پاکستانی بندرگاہ پر پہنچنا ایک نئے دور کا آغاز ہے۔ یوکرائن جنگ سے دو دن قبل عمران خان نے بھی روس کی راہ لی اور موجودہ حکومت کا اس سلسلے کو آگے بڑھانا خوش آئند ہے وزیر اعظم شہباز شریف کا اسے تاریخی موقع قرار دینا بھی بجا ہے۔ روس سے رعایتی نرخوں پر خام تیل کی فراہمی کو بحران کی شکار پاکستانی معیشت اور مہنگائی میں گھری عوام کے لیے ریلیف کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ پاکستان کو عالمی منڈی کے مقابلے میں روس سے 15 ڈالر فی بیرل سستا تیل مل رہا ہے۔

کاش ملک کی بہتری کے لیے کسی بھی حکومت کے اقدامات کو یوں ہی آگے بڑھایا جاتا رہے۔ پاکستان اس منزل تک بہت مشکل سے پہنچا اگرچہ اس تبدیلی نے پاکستان کے دروازے پربار بار دستک دی۔

1949 ء میں بھارتی وزیر اعظم جواہر لال نہرو کی امریکہ یاترا اور دولت مشترکہ میں بھارتی شمولیت پر سوویت یونین نے وزیر اعظم لیاقت علی خان کو ماسکوبلایا۔ کہا جاتا ہے کہ 1950 ء میں جنرل اکبر اور فیض احمد فیض کی لیاقت علی خان حکومت کے خلاف ناکام فوجی بغاوت نے پاکستان اور روس کے تعلقات کو شدید متاثر کیا۔ 55۔ 1954 ءمیں پاکستان سیٹو اور سینٹو کا رکن بنا تو تعلقات میں خلیج مزید گہری ہوئی اور روس بھارت کے قریب ہو گیا۔ وزیر اعظم حسین شہید سہروردی نے ایک بار پھر پاک روس تعلقات بحالی کا آغاز کیا، تو روس نے فوراً دست تعاون بڑھایا اور سوویت وزیر اعظم نیکو لائی بلگائین نے پاکستان کو سائنس اور پرامن ایٹمی تعاون کی پیشکش کی۔ لیکن 1957 ء میں امریکی صدر آئزن ہاور نے سہروردی کو تمناؤں میں الجھا کر پشاور میں روسی جاسوسی کے لئے انٹیلی جنس سینٹر حاصل کر لیا دست تعاون جھٹکنے اور امریکی جال میں پھنسنے کے جواب میں 1965 ء کی جنگ میں روس نے بھارت کی بھرپور فوجی مدد کی۔

جنگ میں امریکی رویے کے باعث ایوب خان ’فرینڈز ناٹ ماسٹر‘ کے فلسفے کے تحت سوویت یونین کی طرف پلٹے تو 1968 ء میں سوویت وزیراعظم الیکسی کو سچن نے دورہ پاکستان میں کراچی سٹیل ملز نیو کلیئر پلانٹ اور مختلف ترقیاتی منصوبوں کا اعلان کیا۔ ایوب خان کو اس کی قیمت اقتدار سے رخصتی میں ادا کرنی پڑی۔ بھٹو نے مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد سوویت یونین کی طرف دیکھنا چاہا تووہ اپنے انجام کو پہنچا دیے گئے۔ پاکستان 1981 ء میں روس کے خلاف افغانستان میں بروئے کار تھا، روس نے اس وقت بھی گڈو تھرمل پاور پلانٹ کے لئے پاکستان کو مالی و تکنیکی مدد فراہم کی۔ 1983 ء میں سوویت یونین نے ملتان میں بھاری پانی کے ریکٹر کی تنصیب کے لئے ساز و سامان مہیا کیا۔  1985 ء میں روسی تعاون سے ہی کراچی سٹیل ملز کا افتتاح ممکن ہوا۔

چین اور روس نے امریکہ کی طرح کمزور ممالک کے وسائل پر قبضہ کے بجائے اشتراک باہمی سے ترقی کے اہداف حاصل کرنے کا اعلان کیا اور امریکی دھونس کے سامنے چین کی معاشی طاقت عالمی دنیا کی ڈھال بنی تو روس بھی امریکی عسکری قوت کے سامنے ڈٹ گیا۔ بے لگام امریکی ہاتھی عراق، شام اور افغانستان سے پسپا ہوا۔ لیکن اب بھی امریکہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ یوکرائن جنگ کے ذریعے روس کے مزید حصے بکھرے کرنے کا خواہاں ہے۔ چین کی معاشی ناکہ بندی کے لئے ’کوارڈ عسکری تعاون‘ کا جال بنا گیا ہے مگر چین اور روس کے امریکی جبر کے سامنے ڈٹ جانے کی وجہ سے کمزور بالخصوص اسلامی ممالک امریکی کی ناراضگی کا خطرہ مول لے کر روس اور چین کی جانب دست تعاون بڑھا رہے ہیں۔

سعودی عرب چین سے معاشی مستقبل جوڑ رہا ہے تو ترکی، عراق، شام اور ایران امریکی تسلط کے خلاف روس کی چھتری تلے پناہ تلاش کر رہے ہیں۔ بدلتے عالمی مناظر نامے میں پاکستان نے بھی نئی منازل کی طرف قدم بڑھائے۔ امریکی ناکام پالیسیوں کی وجہ سے دنیا کی آدھی آبادی روس کی حمایت کر رہی ہے۔ بدلتا عالمی منظر نامہ پاکستان روس چین دوستی کے نئے عہد کی خبر دے رہا ہے۔

یہ کامیابی اپنی جگہ لیکن اب پاکستان کے سامنے ایک سوال پوری شد و مد کے ساتھ کھڑا ہے کہ پاکستان چین اور امریکہ سے اپنے تعلقات میں توازن قائم رکھنے کے لیے کیا حکمت عملی اپنائے۔ پاکستان کو موجودہ معاشی مشکلات سے نکلنے کے لیے جہاں چین اور کچھ مسلمان ممالک کی ضرورت ہے وہاں امریکہ اور اس کے زیر اثر عالمی مالیاتی اداروں کی معاونت بھی درکار ہے۔ آئی ایم ایف کے پاکستان سے موجودہ رویہ کی ماضی میں کوئی نظیر نہیں ملتی۔

اس کی وجہ امریکہ کا پاکستان کو یہ احساس دلانا ہے کہ پاکستان امریکہ سے بے نیاز ہو کر فیصلے نہیں کر سکتا۔ پاکستان، چین اور امریکا کے درمیان کسی کشمکش کا حصہ بننا، پاکستان اور چین کے مفاد میں نہیں۔ پاکستان چین اور امریکہ سے تعلقات میں توازن کا خواہاں ہے تو پاکستان کو خارجہ پالیسی کے اس چیلنج سے نبرد آزما ہونا پڑے گا۔ اگرچہ یہ ایک مشکل ہدف ہے لیکن اہداف حاصل کرنے کے لئے تگ و دو کرنی پڑتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان اس حوالے سے دو ٹوک حکمت عملی ترتیب دے اور امریکہ کے خدشات رفع کرے، یہ مشکل ضرور ہے مگر نا ممکن نہیں۔ حکومت کو اس کا احساس ہے جس کا ثبوت یہ ہے کہ امریکہ میں پاکستانی سفیر مسعود خان نے کہا کہ ہم امریکہ کی واضح منظوری کے ساتھ روس سے رعایتی قیمت پر خام تیل خرید رہے ہیں ”

کچھ غیر ملکی تجزیہ کار تیل کی قیمت یوآن میں ادائیگی کو ڈالر کی اجارہ داری کے خلاف مہم کے ساتھ جوڑ رہے ہیں۔ ڈالر کے کمزور ہونے کی پیشین گوئیاں اب تک غلط ثابت ہوئی ہیں۔ یورپی کرنسی یورو کے اجرا کے وقت ڈالر کی حاکمیت کے خاتمہ کی باتیں شروع ہوئیں مگر یہ ممکن نہ ہو سکا۔ ڈالر کی مضبوطی کی اہم ترین وجہ ڈالر کا ریزرو کرنسی بننا ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک میں لوگ اپنی اضافی رقم ڈالر کی صورت میں محفوظ رکھتے ہیں اس وقت بھی دنیا میں تقریباً 12 ٹریلین مالیت کے کرنسی کے ذخائر کے ریزرو کا تقریباً 60 فیصد امریکی ڈالر، 20 فیصد یورو، تین فیصد یوآن اور باقی دیگر کرنسیوں میں ہے۔

ڈالر سے پہلے دنیا میں ریزرو کرنسی پونڈ تھی۔ ڈالر کی عالمی ساکھ صرف اس وقت نقصان ہو سکتا ہے جب امریکہ دنیا میں اپنا اثر و رسوخ کھو دے۔ ابھی تک تو یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ چین، روس، برازیل، سعودی عرب اور دیگر ترقی پذیر معیشتوں کی طرف سے یوآن کے ذریعے تجارت کے باوجود، ڈالر کی پوزیشن میں کوئی فرق نہیں آیا۔ سوال یہ ہے کہ ہر کوئی ڈالر میں تجارت کیوں کرتا ہے۔ اس کی وجہ امریکی مالیاتی منڈیوں کے حجم، استحکام یا کھلا پن ہے، اس لیے ڈالر کا مقابلہ مشکل ہے۔

بیس سال میں یورو ڈالر کے عالمی ذخائر میں سے صرف 10 فیصد حصہ لے سکا۔ اس صدی کے آغاز میں ڈالر کے تقریباً 70 فیصد ذخائر تھے۔ اب یہ تقریباً 60 فیصد ہیں۔ بلا شبہ یہ حقیقت ہے کہ چین ہی دنیا کے مالیاتی مرکز کے طور پر امریکہ کو چیلنج کر سکتا ہے۔ لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ سامان کی فراہمی اور تجارت کے مالی معاہدوں کے لئے اپنی مارکیٹ اوپن کرے۔

بہر حال فی الوقت دنیا یہی سمجھتی ہے کہ ڈالر کا متبادل کوئی نہیں۔ ابھی تک ماہرین معاشیات کے نزدیک یورپ صرف ایک میوزیم ہے جسے دیکھنے دنیا بھر سے لوگ جاتے ہیں۔ جاپان ایک نرسنگ ہوم ہے۔ جہاں زندگی سلیقے اور قرینے سے گزارنے کی کاوشیں جاری ہیں۔ چین ایک جیل ہے وہاں کوئی کاروباری شخص ایک حد سے زیادہ آزاد نہیں۔ اور بٹ کوائن ایک تجربہ ہے جسے کامیاب ہونے کے لئے وقت کی ضرورت ہے۔

البتہ اس وقت دنیا یہ تسلیم کر رہی ہے کہ یوآن آہستہ آہستہ ایک ریزرو کرنسی اور ذخائر کے لئے مغربی کرنسیوں کا واحد متبادل ہو سکتا ہے۔ مگر یہ اسی وقت ممکن ہے جب چین نئی اصلاحات سے بچت کی ترغیبات اور سرمائے کی نقل و حرکت کا کنٹرول ختم کرے گا۔ امریکی اور یورپی ماہرین اقتصادیات کی تحقیق کے مطابق، چین اپنی کرنسی میں تجارتی تصفیوں کو فعالیت سے فروغ دے رہا ہے۔ پاکستان نے یوآن میں جو روس کو تیل کی ادائیگی کی ہے، اسے یورپ اور امریکہ نے گہری نظر سے دیکھا ہے۔

لیکن اس وقت پاکستان کو یوآن میں ڈیل کا سب سے بڑا اور فوری فائدہ یہ ہے کہ اسے ڈالر نہیں دینے پڑے، جس سے زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی سے بچت ہوئی۔ پاکستان کو اس وقت ادائیگیوں کے توازن کا مسئلہ درپیش ہے اور بیرونی قرضوں سے ملک ڈیفالٹ ہونے کے خطرے سے دوچار ہے۔ مصدق ملک کے بقول پاکستانی نقطہ نظر سے ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کس کرنسی میں معاہدہ ہو رہا ہے۔ ہم پہلی مرتبہ چین سے معاہدہ کرنے جا رہے تھے ہمیں ڈالر سے بھی کوئی اعتراض نہیں۔ ’پاکستان چینی کرنسی میں کاروبار کرنے والا واحد ملک نہیں ہے۔ بنگلہ دیش نے بھی حال ہی میں ایک سکیم کے لیے ڈالر کی بجائے چینی کرنسی یوآن میں ادائیگی کر رہا ہے۔

وہ وقت آ سکتا ہے جب ڈالر کی جگہ یوآن لے۔ لیکن یہ اس وقت تک خواب ہے جب تک دنیا میں امریکہ کا اثر و رسوخ محدود نہیں ہوتا۔ پاکستان کو چین اور امریکہ دونوں کے ساتھ چلنا ہو گا۔ بھارت نے ماضی میں جب امریکہ اور روس سپر پاور تھے دونوں کے ساتھ تعلقات متوازن رکھے فوائد اٹھائے ہمارے لیے بھی یہ ناممکنات میں سے نہیں۔ صرف جراءت عمل کی ضرورت ہے۔ جراءت مند اقوام کے لیے راہیں خود منزل کا پتہ دیتی ہیں۔ اس کے لیے اناؤں کو قربان کر کے باہمی اتحاد کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔

شاخیں رہیں تو پھول بھی پتے بھی آئیں گے
یہ دن اگر برے ہیں تو اچھے بھی آئیں گے

Facebook Comments HS