انکیوبیٹر


آج بیس دن مکمل ہو چکے تھے اور یہ صبح طلوع ہوئی تھی۔ اکیسویں دن 22 سالہ شیراز فجر کی نماز میں اپنے رب سے دعا مانگ رہا تھا کہ مالک 20 دن مسلسل محنت اور نگرانی کی لیکن زندگی دینا کسی انسان کے بس کی بات نہیں مالک تو اپنے کرم سے اس میں زندگی پیدا کر، آخر کار محنت رنگ لائی اور نماز ظہر کے وقت شہراز نے دیکھا کہ ننھے چوزے کی سانسیں چل رہی تھیں۔ جی ہاں شہراز کو کچھ دن پہلے کالج سے چھٹیاں ہو گئی تھیں جس کا سبب کوئی وبا تھی جو پوری دنیا میں پھیل رہی تھی لوگوں نے اس بیماری کا نام کرونا وائرس رکھا تھا۔

خیر ان غیر متوقع چھٹیوں میں شہراز نے اپنے گھر میں ایک انکیوبیٹر تیار کیا جس کا کام درجہ حرارت کو 37 ڈگری اور نمی کو مناسب حد میں برقرار رکھنا ہے اور مسلسل 21 سے 23 دن مرغی کے انڈوں کو 37 ڈگری پر رکھنے سے بچے نکل آتے ہیں۔ یہ کوئی نیا کام نہیں تھا تو جناب مرغی بھی تو یہی کرتی ہو گی درجہ حرارت کو 37 ڈگری پر برقرار رکھتی ہو گی تب ہی انڈوں میں سے چوزے نکلتے ہیں اگر اتنی سی بات ہے تو پھر مرغی کے نیچے رکھے گئے تمام انڈوں میں سے بچے کیوں نکل آتے ہیں سوائے ایک یا دو پر انکیوبیٹر میں اکثر انڈے ضائع ہو جاتے ہیں سوائے ایک یا دو، خیر یہ بعد کی باتیں ہیں۔

شیراز نے جو انکیوبیٹر تیار کیا تھا اس میں کل 9 انڈے رکھے تھے اور آج ایک انڈے میں سے چوزہ نکل آیا تھا آج کے دن شیراز کی خوشی دیدنی تھی وہ چوزہ تھا یا گوشت کا لوتھڑا، انڈوں کے درمیان ٹھٹھرا پڑا تھا چل رہی تھی تو بس اس کی سانسیں اور یہی سانسیں شیراز کو امید دلائے ہوئے تھیں کہ وہ زندہ رہنے کے لیے بنا ہے وہ بچ جائے گا، جوان ہو گا، صبح اذان دے گا یہ سب خیال شیراز کے ذہن میں تھے لیکن حقیقت یہ تھی کہ چوزہ ابھی محض سانس لے رہا تھا۔ 12 گھنٹے گزرنے کے بعد شیراز کو احساس ہوا کہ چوزہ اپنی جگہ کھڑا ہو گیا ہے۔ اب اس کو ضرورت ہے ماں کی، ضرورت ہے خوراک کی، ضرورت ہے ساتھی کی۔ کیسے ہو گا یہ سب؟

چوزہ نہ کھا سکتا تھا نہ پی سکتا تھا ایسی صورت حال میں شیراز کو اس کی ماں بن کر کھلانا بھی تھا، پلانا بھی تھا وہ ایک ہی تھا جس کو توجہ کی ضرورت تھی۔ پہلے ایک ہفتے میں شیراز نے چوزے کو کیا کھلایا، کیا پلایا، کیسے کھلایا پلایا، کہاں رکھا کیسے رکھا یہ سب بیان کرتے لمبی کہانی ہو جائے گی۔ بات یہ ہے کہ پہلے ہفتے میں ہی شیراز کو سمجھ آ گئی کہ ماں کے بغیر ایک بچے کی پیدائش اور پرورش کس قدر دشوار ہے۔

اکثر گاؤں میں لوگ مرغی کے نیچے بیس بائیس انڈے رکھ دیتے ہیں اور 21 دن بعد مرغی کم از کم اٹھارہ انیس بچوں کے ساتھ گھر کے سہن کی رونق بنی ہوتی ہے۔ وہ ان معصوم چوزوں کو کیا کھلاتی ہے کیسے کھلاتی ہے یہ بات ہماری توجہ سے بالا رہتی ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے چند ماہ میں چوزے اپنی ماں سے بڑے مرغے دکھائی دیتے ہیں۔

لیکن انکیوبیٹر سے نکلا ہوا چوزہ دن میں کم از کم 6 بار توجہ مانگتا ہے اور ایسا نہ کیا جائے تو شاید وہ زندگی کی جنگ ہار جائے۔

انکیوبیٹر بجلی پر چلتا ہے یا بیٹری کی ضرورت ہوتی ہے جب تک بجلی رہے گی مشین چلے گی کچھ گھنٹے بھی مشین بند ہوئی تو انڈے خراب اس کے بر عکس مرغی 24 گھنٹوں میں کم از کم 20 گھنٹے بیٹھی رہتی ہے۔ 21 دنوں میں تقریباً 450 گھنٹے بیٹھ کر گزارتی ہے۔ مئی جون کی تپتی گرمی ہو یا جاڑے کی سردی مرغی شکایت نہیں کرتی اس تکلیف کا احساس ایک ماں ہی سمجھ سکتی ہے۔ یہ نظریہ رکھنے والے شیراز کو ذرا بھی دکھ نہ تھا کہ بقیہ 8 انڈے ضائع کیوں ہوئے حالانکہ لوگ افسوس کر رہے تھے کہ صرف ایک چوزہ نکلا بھلا کیا فائدہ اس مشقت کا۔ اب شیراز کا چوزہ 30 دن کا ہو گیا تھا اور خود کھا پی سکتا تھا، بھاگ سکتا تھا اور کسی خد تک دفاع بھی کر سکتا تھا۔

Facebook Comments HS