یاسر جواد، کتاب کہانی


یہ کتاب نہیں ہے الفاظ کا سیل آب ہے جو آنکھوں کو پہلے تو دھندلاتا ہے پھر ان میں ایک پانی کی لکیر سی امنڈ آتی ہے۔ اس ’شفاف نظری‘ کے بعد تقریباً ساٹھ ستر صفحات تک اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ آبدیدہ و چشم پرنم قاری کو لکھاری نے کس سادگی اور چابکدستی سے گھیرا اور پھر مشکیں باندھ کے کس طرح سائیکل پہ ساتھ بٹھا، کبھی غلیل اڑاتے کبھی سودا لاتے، کن بھولے بسرے جہانوں کی سیر کروا دی۔ ایسے جہان ہماری عمر کے اور ہم جیسے کئیوں کے مشترکہ ہیں ”ذی جنریشن“ کہ جو اپنے مشترکہ حافظے کی گمشدگی کا سارا بار اپنے ’خود افزوں نسیان‘ کیب جائے انٹرنیٹ اور جدید آلات پہ دھر کے فراغت میں ہے، (شعوری سہولت کی بنا پہ) جب کہ ہر دور میں کتاب کا ورود حافظہ اور احساس سے ہوا نہ کہ کسی سافٹ وئیر سے!

ستر اور اسی کی دہائیوں کے بچے اور بچیاں، محلے، انواع و اقسام کے رشتہ دار، کھیل، خوراک، مہارتیں، دنیا کی مادی ترقی اور اس کے ساتھ بڑھتا پاکستانی معاشرہ ( آج کے گھٹن اور خوف سے مبرا) تعلیم کے مقامی اور بتدریج بدلتے پیٹرنز اور ان سب کے درمیان کہانی ”بناتا“ ایک بظاہر معصوم کردار۔ یہ ہے

”کتاب کہانی“

اس کتاب پہ عموماً کئیے جانے والے تبصروں کو پڑھنے کے بعد کتاب سے رغبت تھوڑی کم ہونے لگی۔ بحیثیت ترجمہ نگار مصنف کی وسیع تر شناخت نے اس سوانح میں بڑے لکھنے والوں کی چھاپ اور بھاری لفظوں پہ مبنی نثر کی شدید توقع نے چند ماہ سے نئی کتاب پہلے پڑھنے کے شوق کو مکدر رکھا۔

چند دن ہوئے کتاب اٹھائی تو واپس رکھنے کو جی نہ چاہا۔

کتاب کے اولین حصے میں مقدمہ ( جو یقیناً حرف آخر کے طور پہ لکھا گیا ہو گا) لکھاری کا گویا خود کو باور کرانے کے مترادف تھا سو پوری شد و مد سے اپنے آپ سے بولا گیا سچ! جو ہر عام فرد کو اپنی کہانی لکھنے پر اکسانے پہ قابل داد ہے۔ اگرچہ

” زبان اور زندگی دونوں کے پول ادھیڑ کر بیان کرنا“ اتنا آسان نہیں تھا اور نہ یاسر کے لئے رہا ہو گا اور یہاں ہی اسے ان تمام لکھنے والوں کی مدد حاصل رہی ہو گی جن کا سچ ترجمہ کرتے کرتے اپنا دور اور اس کی حقیقتیں بیان کرنا اس کے لئے سہل ہو گیا!

اہم نکتہ وہ بیگانگی یا معروضیت رہی ہو گی جس کو کسوٹی بنا کے یہ کتاب لکھی گئی اور چھاپی گئی۔ اور یہی اس کا خاصہ ہے۔

”یہ کتاب معاشرتی مظاہر کی تہہ تک پہنچنے کے شوقین ایک روشن خیال کتاب دوست کے مشاہدہ تو تجربات، خیالات اور تجزیات پر مشتمل ہے جو اخذ کردہ نتائج اور“ اسباق کی بجائے ایک جاری سفر کا بیان ہے ”

جو شخص الفاظ کو ابدیت کی گاڑی پہ محمول کرے اس کی شوخی فکر کے لافانی ہونے کی خواہش کون ناپے؟ یا تکفیر کی جرات کون فرمائے؟

ہر ایک باب جس کا عنوان غالب کے کسی مصرعے سے لیا گیا، کوئی نہ کوئی چونکا دینے والا جملہ دکھائی دیا۔ یوں out of box approach کی تفہیم ہوتی رہی۔ مثلا

”عورت ماں کو بیان نہیں کر سکتی۔ آنکھ خود کو کیسے دیکھے!
یا ”ماں کو خاص تکریم اس لئے بھی دی جانے لگی کہ وہ جنگوں اور سڑکوں کے لئے بیٹے فراہم کرے“
یا
”عورتوں کی تصویریں ٹائٹل پر لئے ہوئے ڈائجسٹ پڑھنا زنانہ کام لگتا تھا“

حق یہ ہے کہ کتاب ”چسکہ خواندگی“ کے تمام پیمانوں پہ اترنے کے قابل ہے، اور یہی وجہ ہے کہ کتاب کے اولین بنیادی حصے کو حوالہ جات کی خاطر بار بار دیکھنے سے یاسر کی لکھنے کی تکنیک اور اس کی اس شعبے میں مہارت کھل کر سامنے آتی ہے۔

تاریخ کا ایسا نظریہ جو رانا جیت گوہا، شاہد امین، ہومی بابا اور گیاتری چکرابرتی سپیوک نے اپنی تحریروں میں برتا، یاسر نے اپنی ’زندگی نامہ‘ میں اسی نظریے کی ایک ٹھوس اور عملی مثال قائم کی۔

جس سہولت سے ”عام لوگوں کی عام عادات، مشاغل، تعلقات پہ مبنی سماجی ساخت اور بعد از1947 دو نسلوں کی ہیئت کلی میں تبدیلی کی داستان قلمبند ہوئی۔ تحقیق کے طالب علم کو شاید ہی اتنی تفصیل کہیں اور سے ملے۔ مطالعات پنجاب اور قبل از راج کے نوجوان محققین کے لئے بے شمار کیس اسٹڈیز اس کتاب کی زینت ہیں۔

گگن شاہد اور امر شاہد کی محنت بمع جہلم بک کارنر کی ’حکمت عملی‘ جو کہ قاری دوست  اشاعت کے دعویدار ہیں، خوبصورت سرورق اور خط اشاعت کی بدولت قارئین کے لئے سامان انبساط ہیں۔

(نظریاتی بحث اور کتاب کے آخری حصوں کی خواندگی ابھی جاری ہے، قاری کی وارفتگیٔ شوق تحریر کا اندازہ اسی بات سے لگایا جا سکتا ہے )

Facebook Comments HS