عمران خان کا سیاسی مستقبل کیا ہو سکتا ہے؟
جس طرح آئے روز عمران خان کے گرد گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اسے 9 مئی کے بغاوت اور دہشت گردی پر مبنی واقعات کے منصوبے کا ’ماسٹر مائنڈ‘ مجرم قرار دیا جائے گا!
آرمی ایکٹ کے سیکشن 2 ڈی میں ایسے لوگوں کے خلاف کارروائی کا ذکر کیا گیا ہے جو دفاعی فورسز کا حصہ نہ ہوں مگر وہ دفاع، اسلحہ، بحریہ، فوج اور فوجی تنصیبات پر حملہ آور ہوں تو مجرموں اور اس کا منصوبہ بنانے والوں کے خلاف فوجی عدالتوں میں اس آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے تحت مقدمہ چلایا جا سکتا ہے اور ایسے مجرمین کو 14 سال تک کی قید کی سزا بھی دی جا سکتی ہے۔
اس ضمن میں آرمی چیف کی زیر قیادت کور کمانڈرز کی خصوصی کانفرنس کا انعقاد ہوا تھا، جس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ جو لوگ 9 مئی کو فوجی تنصیبات، اہلکاروں اور سامان پر حملوں میں ملوث تھے ان کے خلاف پاک فوج کے متعلقہ قوانین بشمول آرمی ایکٹ اور سیکریٹ ایکٹ کے تحت کارروائی کی جائے گی۔ اس ایکٹ کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کے لئے دفاعی حکام کو وفاقی حکومت سے بھی اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہوتی کیونکہ آرمی ایکٹ کے تحت ملٹری کورٹس ملک کے نظام عدلیہ کا حصہ ہیں۔
قومی پارلیمنٹ کے اجلاس میں بھی 9 مئی کے مجرموں کو آرمی ایکٹ کے تحت فوجی عدالتوں میں سزا دینے کے لئے قرار داد منظور کر کے اجازت دی گئی ہے کہ ان باغیانہ واقعات میں ملوث مجرموں کو کڑی سے کی سزا دی جائے جس کے بعد آرمی چیف اور وزیراعظم کے درمیان ملاقات میں یہ حتمی فیصلہ کر لیا گیا ہے کہ ان واقعات میں ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔
کنگ پارٹی جس کا نام ’استحکام پاکستان پارٹی‘ رکھا گیا تھا کے کرتا دھرتا جہانگیر ترین چند روز قبل اچانک لندن روانہ ہو گئے تھے۔ یہ وہی جہانگیر ترین صاحب ہیں جنہیں نون لیگ والے کبھی ’چینی چور‘ اور علیم خان کو ’لینڈ مافیا‘ کہا کرتے تھے اب یہ دونوں صادق اور امین ہو گئے اور ترین صاحب خصوصی مشن پر نواز شریف سے ملاقات کے لئے لندن چلے گئے۔ عمران خان نے جو پارٹی 27 سال میں بنائی تھی ترین صاحب نے وہی پارٹی 27 دنوں سے بھی کم وقت میں بنا لی جس کا مقصد اس پارٹی کو الیکشن جتوانا نہیں تھا بلکہ اس کا نصب العین یہ تھا کہ جب عمران خان کو دوبارہ گرفتار کیا جائے تو اس کے خلاف احتجاج کرنے کے لئے پی ٹی آئی کا کوئی رہنما میدان میں موجود نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ کنگ پارٹی (یعنی پی ٹی آئی کے سابقہ سرکردہ ممبران) ایک ایک کر کے نون لیگ اور پیپلز پارٹی میں شامل ہو رہے ہیں۔
جب پی ٹی آئی کے نائب چیئرمین شاہ محمود قریشی صاحب رہا ہوئے تھے تو وہ عمران خان صاحب کی دوبارہ گرفتاری اور سزا کی صورت میں پی ٹی آئی کی سربراہی کے لئے بات چیت کرنے کے لئے سیدھے زمان پارک لاہور پہنچے تھے مگر انہیں بھی مایوسی ہوئی تھی۔ اسی دوران ’کنگ پارٹی‘ کا دھماکہ ہو گیا تھا جس کے بعد عمران خان یہ کہتے ہوئے سنے گئے تھے کہ ’وہ اکیلے رہ گئے ہیں‘ جس سے عمران خان صاحب کے وزیراعظم ہاؤس سے نکلتے وقت ان الفاظ کی بازگشت سنائی دی تھی جب انہوں نے کہا تھا کہ، ‘ کوئی رہ تو نہیں گیا جس نے ان کی مخالفت نہ کی ہو! ’
اس وقت عمران خان کے اکیلے پن کی صورتحال یہ ہے کہ پرویز الہی بھی جیل میں بیمار ہو گئے ہیں اور وہ شدید کمزور اور لاغر ہیں۔ ان کی اہلیہ پہلی بار پبلک کے سامنے آئیں اور ڈاکٹروں نے پرویز الہی کی زوجہ سے اس کی بیماری کی سابقہ رپورٹیں منگوا لی ہیں۔ اب پی ٹی آئی سیاسی جماعت نہیں رہی ہے۔ وہ ایسی جماعت نہیں ہے کہ جس میں کوئی لیڈر باقی بچا ہو۔ ایک عمران خان ہی پی ٹی آئی ہے اور عمران خان ہی کا سیاسی مستقبل پی ٹی آئی کا سیاسی مستقبل ہے ورنہ پی ٹی آئی عددی رو سے بطور سیاسی جماعت تقریباً ختم ہو چکی ہے۔
اندرون خانہ کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ آرمی ایکٹ کے تحت سزا سے پہلے یا بعد میں عمران خان کو سعودی عرب، متحدہ عرب امارات یا انگلینڈ ملک بدر کرنے کا راستہ دیا جائے گا مگر کچھ سیاسی ماہرین نے اس امکان کو اس بنیاد پر رد کر دیا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ عمران خان پر دوبارہ اعتبار کرنے پر کسی قیمت پر تیار نہیں ہے کیونکہ ان کا خیال ہے کہ عمران خان کو ملک بدر کرنے کا راستہ دیا گیا تو وہ دوسرا ’الطاف حسین‘ ثابت ہو گا اور وہ ملک سے باہر بیٹھ کر اس سے کہیں زیادہ خطرناک ہے۔
کیا موجودہ سیاسی بحران اور آرمی ایکٹ کے تحت 9 مئی کے مجرموں کو دی جانے والی ممکنہ سزاؤں کا کوئی مثبت نتیجہ بھی نکل سکتا ہے؟ اگر ایسا ممکن ہے تو پاکستان میں جمہوریت پہلی بار مضبوط ہو گی، ملک میں پائیدار سیاسی استحکام پیدا ہو گا، ملک معاشی طاقت بن سکے گا اور پھر ہمارے ایٹمی اثاثوں کی طرف کوئی میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکے گا مگر اس کا سارا دار و مدار اس امکان پر ہے کہ اسٹیبلشمنٹ سیاست میں اپنی مداخلت بند کر دے اور سیاست سے باہر بیٹھ کر سول بالادستی قائم ہونے میں اپنا رول ادا کرے۔ اس کا مکمل انحصار محترم المقام حافظ صاحب! کے دانشمندانہ اور حب الوطنی پر مبنی فیصلوں پر ہے۔


