نون لیگ کو کھلا میدان نہیں ملے گا
ہمیشہ کی طرح ملک اس مرتبہ بھی عدم استحکام کا شکار ہے اور ہم اس بار بھی نازک دور سے گزر رہے ہیں۔ تخلیق پاکستان کی نزاکت سے استحکام پاکستان پارٹی کی لانچنگ کے بیچ ہر دن ہر رات ہماری قومی تاریخ کا نازک موڑ ہی رہے۔ 1950 کی ریپبلکن پارٹی، ساٹھ کی دہائی میں کنونشنل مسلم لیگ، پھر 80 کی دہائی کی جونیجو لیگ اور پھر مسلم لیگ ق کا ظہور ہوا اور 2010 میں کپتان کو ترقی کی منازل طے کرتے بھی دیکھا گیا۔ مندرجہ بالا تمام جماعتوں یا پراجیکٹس کا ایک ہی مسئلہ رہا کہ یہ ایک سیزن کے علاوہ باقی موسم نہیں دیکھ سکیں۔
حال ہی میں عمران خان کے سیاسی ارتقاء اور انہیں صاحب اقتدار بنانے میں مرکزی کردار ادا کرنے والے جناب جہانگیر خان ترین نے اپنی سیاسی جماعت کا اعلان فرمایا اور ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ملک نازک دور سے گزر رہا ہے۔ مجھے یہ جملہ سن کر ہر بار حیرانی ہوتی ہے کہ اتنی نزاکت کے بعد ہمارا باقی رہنا بھی کسی خاص نسخے کے ہی سبب ہے۔ عجیب بات ہے کہ جن لوگوں نے سیاست سے بریک لیا تھا انہوں نے فوراً ایکسلریٹر پر پاؤں رکھ دیا۔ وہ جو سیاست سے دستبردار ہوئے تھے وہ جہانگیر ترین کے سیاسی جہاز میں سوار ہو کر ٹیک آف کے لئے تیار ہوئے۔
جس دن سے پاکستان کو استحکام پارٹی کی صورت استحکام کی راہ میسر آئی ہے میں اس حقیقت کو جھٹلانے سے قاصر ہوں کہ اب استحکام آوے ہی آوے۔ لیکن پھر فطرت سوال پوچھنے پر مجبور کرتی ہے کہ سوال پوچھیں، لیکن آج کل صحیح سوال بھی خود کو عمر قید کر لینے یا پھانسی چڑھانے کے ہی مترادف ہے۔ لیکن میں نے طے کیا ہے کہ نا تو ابھی میں قید تنہائی کے لئے تیار ہوں اور نہ ہی میں مرنا چاہتا ہوں سو میں آج صرف سیاستدانوں کی بات کروں گا۔
جہانگیر ترین کی سیاسی واپسی کی وجوہات تو تقریباً سب ہی کو معلوم ہیں اگر نہیں بھی ہیں تو کوئی بات نہیں، لاعلمی بھی ایک نعمت ہے۔ لیکن وہ جنہیں معلوم ہیں وہ یہ سوچ کر حیران ہیں کہ جہانگیر ترین کی پلیئنگ فیلڈ کیا ہے؟ وہ ان الیکٹیبلز کو جو اب پتہ نہیں الیکٹبلز رہے بھی ہیں یا نہیں ان کے کندھے پر اگلی مخلوط حکومت کو کتنا اور کیسا تعاون فراہم کریں گے؟ چلیں مل کر اس سب کا احاطہ کرتے ہیں۔
لمحہ موجود میں بلاول بھٹو زرداری سوات میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کر رہے ہیں، یعنی پیپلز پارٹی نے اپنی انتخابی مہم کا سافٹ آغاز کر دیا ہے جبکہ مسلم لیگ نون نے ابھی لندن میں اجلاس کرنا ہے جس میں الیکشن اور نواز شریف کی واپسی جیسے امور طے پائیں گے، مطلب مسلم لیگ نون پیپلز پارٹی سے کوئی مہینہ پیچھے ہے اور اپریل 2022 کی حکومت کی کمان سنبھال کر مسلم لیگ نون اس الیکشن میں ویسے ہی بہت پیچھے دھکیل دی گئی ہے۔
حال میں پیش کیے جانے والے آئندہ مالی سال 2024۔ 2023 کے لئے پیش کیے گئے بجٹ پر پیپلز پارٹی نے اسحاق ڈار کو قائمہ کمیٹی برائے خزانہ میں نفیسہ شاہ کے ذریعے پہلا مکا مارا ہے جس میں انہوں نے اس بجٹ کو الیکشن بجٹ قرار دیا اور کہا ہمیں بتایا گیا کہ مشکل فیصلے کر رہے ہیں لیکن ایسا کچھ بھی نہیں کیا گیا۔ یعنی پیپلز پارٹی معیشت کی تباہی کا سارا ملبہ اسحاق ڈار اور مسلم لیگ نون پر ڈالنے کو تیار ہے۔ وزیر خارجہ نے بھی کہا ہے کہ اگر وزیر اعظم چاہتے ہیں کہ ہم بجٹ پر ووٹ دیں تو انہیں ہم سے کیے گئے وعدے پورے کرنا ہوں گے اور سیلاب متاثرین کے لئے اعلان کردہ رقم کو بجٹ کا حصہ بنائیں۔ یہ بات واضح ہے کہ اگلا الیکشن اسٹیبلشمنٹ سے لڑائی کے نعرے پر نہیں بلکہ معاشی حکمت اور اصلاحات پر مبنی کھیل پر ہی ہو گا۔
اس سلسلے میں نون لیگ کے پاس 2017۔ 2013 کے علاوہ بیچنے کو کچھ نہیں جبکہ پیپلز پارٹی اس سارے کھیل میں اچھل کود کرنے کے باوجود تمام نتائج سے بری الذمہ ہے۔ اس سے کیا پتہ چلتا ہے؟ یہی کہ پیپلز پارٹی فیورٹ ہے۔ لیکن اس فیورٹ کی تاج پوشی کیسے ہوگی یہ بھی ایک سوال ہے جہاں استحکام چھپا ہے۔
سندھ سے شروع کریں تو یہاں کراچی کے میئر کے ذریعے پیپلز پارٹی نے اپنا ووٹ بینک تگڑا کرنا ہے، جو صوبائی حکومت کے تعاون سے ممکن بھی ہے۔ باقی ماندہ سندھ میں بھٹو زندہ بھی ہے اور بکتا بھی ہے۔ اور ویسے بھی عقل یہ ماننے کو تیار نہیں کہ کراچی سے عمران اسماعیل یا علی زیدی استحکام کے نعرے کے ساتھ جیت سکیں گے، یہ بڑے سے بڑا دھاندلا کرنے کے بعد بھی قابل ہضم نہیں لیکن پھر بھی ”آپ“ کی مرضی۔
پنجاب کی طرف آئیں تو یہاں مسلم لیگ نون کا دعویٰ ہے کہ یہ علاقہ ان کا ہے، تحریک انصاف کی صفائی کے بعد یہ ممکن بھی ہے لیکن پنجاب ایسے کیسے پلیٹ میں رکھ کر دے دیا جائے گا؟ اسی لئے جنوبی پنجاب کے ہر بار کشتی بدلتے ایلیکٹیبلز اس بار جہانگیر ترین اور کچھ پیپلز پارٹی کے ساتھ ہو لئے ہیں۔ اب نون لیگ استحکام پارٹی کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کیوں کرے جبکہ ان کے پاس ہر حلقے سے کھڑا کرنے کے لئے امیدوار بھی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ الیکشن جب بھی ہوں مقابلہ نون لیگ اور ان کے درمیان ہو گا جو 9 مئی کے بعد استحکام کے راستے پر آ گئے ہیں۔
پنجاب میں تحریک انصاف کا ووٹر استحکام پاکستان کو ووٹ دے نہ دے لیکن نون لیگ کو کھلا میدان نہیں ملے گا۔ ن کے ساتھ اب بھی وہی ہو گا جو تحریک لبیک کی لانچنگ کے ذریعے کیا گیا تھا۔ باقی خیبر پختونخوا کا وعدہ تو مولانا سے ہے لیکن وہاں پرویز خٹک کی صورت اگر تو وہ استحکام کی راہ پر آئیں تو مولانا کو بھی نقصان پہنچایا جائے گا ورنہ اے این پی بھی اس صورتحال سے کچھ نکال جائے گی۔ باقی رہا بلوچستان تو وہاں باپ سے بے فکری ہے، باقی کچھ مولانا اور مینگل صاحب میں بانٹ دیا جائے گا۔
اس ساری صورتحال میں سب کا کچھ نہ کچھ بھلا ہوتا نظر آ رہا ہے، کیوں انہیں اس بار 2018 کی نسبت کچھ زیادہ ہی مل رہا ہے لیکن نون لیگ کو کچھ زیادہ نہیں مل رہا بلکہ شاید 2018 جتنا ہی ملے جس کا امکان بھی کم ہوتا جا رہا ہے۔ پیپلز پارٹی کا جارحانہ رویہ بتاتا ہے کہ اس نے اگلے الیکشن میں کسی صورت مسلم لیگ نون کو نہیں بخشنا۔ پس ثابت ہوا کہ نون لیگ نے کھایا پیا کچھ نہیں گلاس توڑا بارہ آنے۔

