مسیحی علماء کی عربی زبان کی خدمات حصہ پنجم ”منیر البعلبکی“


منیر عبد الحفیظ البعلبکی ایک لبنانی مصنف اور مترجم تھا، جسے عربی ترجمے کا ترجمان کہا جائے تو مبالغہ نہیں ہو گا، جب ہم منیر البعلبکی کے بارے میں بات کرتے ہیں، تو ہم اس شخص کی تعریف کرتے ہیں۔ جو ایک ایسے ادبی و علمی رجحان اور ذہانت کے بارے میں ہے، جو ہر عرب دانشور، محقق اور طالب علم کے لیے ایک رول ماڈل ہے۔ منیر البعلبکی نہ صرف مصنف اور مترجم تھا، بلکہ اس کا اصل کارنامہ اس کے بیروت میں اشاعتی ادارے ”دار العلم للملایین“ یعنی (دار العلم فار ملینز) کا بنانا تھا، منیر البعلبکی ایک ایسے اشاعتی ادارے کا کے بانی تھا۔

اس نے اس سماج میں کتاب دوستی کا حق ادا کیا تھا، منیر البعلبکی کی دوسری خدمت ”قاموس المورد“ تھی یہ عربی زبان کی ایک بہترین اور آج کے عہد میں عربی زبان کی بہترین لغات میں سمجھی جانے والی ”المورد لغت“ ہے، ”المورد“ ایک ”انگریزی سے عربی لغت“ اور ایک ”المورد:“ عربی سے انگریزی ڈکشنری ”ہے یہ اور دو الگ لغات ہیں۔ اور عربی زبان کے لئے یہ للغات میں بہت مشہور ہیں۔ اس لیے اہل عرب میں ان کی لغات کو“ بشیخ الاقوامیس ”شیخ آف دی ڈکشنریز اور منیر البعلبکی کو ”شیخ المترجمین العرب“ عرب مترجم کا شیخ ”کہا گیا۔

منیر البعلبکی سنۂ 1918 میں لبنان کے دارالحکومت بیروت میں پیدا ہوئے اور ان کی جڑیں بعلیک شہر میں واپس جڑ گئیں۔ یہی نسبت ان کے نام میں ہونے کی وجہ رہی، ان کی پیدائش ایک عام سے گھرانے میں ہوئی، ان کے والد کپڑوں کی سلائی کا کام کرتے تھے، اور بیروت میں مقیم تھے، ان کے آباء و اجداد کا تعلق بعلبک سے تھا جہاں سے انہوں نے روزگار کے لئے بیروت نقل مکانی کی تھی، مگر منیر البعلبکی نے پھر البعں ک واپس نقل مکانی کی۔

منیر البعلبکی نے لبنان کے دارالحکومت بیروت میں امریکی یونی ورسٹی سے عربی ادب اور اسلامی تاریخ کے شعبہ سے گریجویشن کیا، باوجود یہ کہ ان کے مخصوص کے علوم یا زبان میں انگریزی شامل نہ رہی، مگر لیکن اس کے باوجود منیر البعلبکی نے انگریزی ادب و لسانیات کے دونوں شعبوں میں مہارت حاصل کی، اور اس میدان میں اپنے آپ کو منوایا، اسی یونیورسٹی میں بطور پروفیسر ملازمت بھی کی، پھر شاہ فیصل کالج سعودی عرب، اور دمشق میں نیشنل کالج سائنٹیفک اور اس کے لعاوہ بیروت کے مکاسڈ اسلامک چیریٹیبل کالج میں بھی استاد کے فرائض انجام دیے۔ اس کے بعد عراق کی یونیورسٹی سے بھی مزید تعلیم حاصل کی، منیر البعلبکی نے سنۂ 1945 ء میں اپنے درس و تدریس کے شعبے سے باقاعدہ ہٹ کر اپنے ایک دوست بہیج عثمان کے ساتھ مل کر ”دار العلم للملایین“ نامی اشاعتی ادارے کی بنیاد رکھی، جہاں کتابیں چھاپنے اور کتابیں شائع کرنے کے کاروبار کا آغاز کیا۔

دار العلم للملایین

دار العلم للملایین سنۂ 1945 میں ایک نجی اشاعتی ادارے کے طور پر قائم کیا گیا تھا۔ لیکن اسے آج عرب دنیا میں قائم ہونے والے پہلے اشاعتی اداروں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے، آج دار العلم برائے ملینز اپنے پریس اور ملازمین کی ایک بڑی تعداد کا مالک ہے اور کئی موضوعات خصوصاً تعلیمی مواد پر سالانہ 40 لاکھ سے زیادہ کتابیں شائع کرتا ہے، یہ عربی زبان میں الیکٹرانک انٹلیکچوئل میڈیا تیار کرنے کے لیے بھی مشہور ہے۔ سنۂ 1993 میں دار العلم للملایین نے انگریزی کتابوں کی درآمد اور تقسیم کے لیے ایک سسٹر کمپنی قائم کی جو بچوں کی کنڈر گارڈن نصابی کتب سے لے کر گریجویشن کے طلباء تک کا نصاب اشاعت کرتی ہے۔ سنۂ 1998 تک پورے عرب ممالک کے تمام بڑے شہروں میں اس کے آؤٹ لیٹس بن چکے تھے۔ جن میں لغات، انسائیکلوپیڈیا، کوکنگ کی کتابیں، بزنس مینجمنٹ، لسانی کتابیں، درسی کتابیں، ادبی کتابیں، طبی کتابیں، فلسفیانہ اور مذہبی کتابوں کے علاوہ بچوں کی کتابیں شامل ہیں۔ اس وقت عرب دنیا کا یہ سب سے بڑا اشاعتی ادارہ ہے۔

المورد لغت

منیر البعلبکی نے سنۂ 1967 میں اپنی معرکتہ الآرا لغت ”المورد“ تصنیف کی، سنۂ 1967 کی اس کی پہلا اشاعت ہوئی میں ہوئی جس کے بعد یہ تسلسل سے 41 مرتبہ شائع ہوتی رہی، آخری بار یہ سنۂ 2007 میں شائع ہوئی، جس میں آخری 10 مرتبہ منیر البعلبکی کی وفات کے بعد بھی شائع ہوتی رہی، اس کے بعد منیر البعلبکی کے بیٹے رمزی بن منیر البعلبکی نے اسے کچھ ترمیمات اور جدید اضافے کے ساتھ المورد الاکبر ”کے نام سے اضافہ شدہ لغت جس کا مقدمہ البعلبکی کے بیٹے رمزی البعلبکی نے تحریر کیا، اسے سنۂ 2008 سے اب تک مزید 7 ایڈیشن شائع کیے ۔

اس کی آخری بار اشاعت سنۂ 2016 میں ہوئی۔ المورد سنۂ 1967 سے لے کر سنۂ 2022 تک لاکھوں کی تعداد میں شائع ہونے والی لغت زبان کے حوالے سے زبان، انداز اور انداز میں مختلف تھی، جس میں عربی، انگریزی، اطالوی اور جرمن لغات شامل ہیں۔ بجائے کہ یہ اساتذہ کے لئے ہو اس میں زیادہ تر عوام کے لیے آسانی رکھی گئی، اس کے کئی شائع ہونے والے مسودے مڈل اور ہائی اسکولوں اور اس طرح کے طلباء کے لئے وقف کیے گئے تھے اس لئے وہ طلباء کے لئے ایک مثالی لغت بن گئی۔

منیر البعلبکی جسمانی طور پر سنۂ 1997 بیمار ہوئے، پہلے وہ ہونے میں چلے گئے، ڈیڑھ سال سے زائد عرصہ تک ہونے میں رہے بالآخر جون 1999 ء میں اس دنیا سے رخصت ہوئے، مگر پنے گرانقدر علمی کاموں کی وجہ سے آج بھی اہل عرب میں زندہ ہیں، منیر البعلبکی کی کئی کئی انگریزی کتابوں کا عربی میں ترجمہ بھی ان کا عملی کارنامہ ہے ان کی عربی زبان میں تراجم شدہ کتب یہ ہیں۔

قاموس المورد
موسوعة المورد
قصة تجاربی مع الحقیقة، للمھاتما غاندی۔
الاسلام والعرب، لروم لاندو۔
تاریخ الشعوب الاسلامیة، لکارل بروکلمان بالاشتراک مع د۔ نبیہ امین فارس۔
دفاع عن الاسلام، لفاغلیری۔
حیاة محمد ورسالتہ، لمولانا محمد علی۔
البؤساء، لفیکتور ہیغو، فی خمسة مجلدات۔
قصة مدینتین، لتشارلز دیکنز۔
کوخ العم توم، لھارییت ستاؤ۔
المواطن توم بین، لھوارد فاست۔
العجوز والبحر، لارنست ہمنگوای۔
رواد الفکر الاشتراکی، للبرفسور ج۔ د۔ ہ۔ کول۔
کیف تفکر، للدکتور جبسون۔

منیر البعلبکی کی خدمات کے نتیجے میں انہیں سراہا گیا، منیر البعلبکی کو ان کی خدمات کے بدلے عرب دنیا میں بہت سے اعزازات ملے۔

انہیں بہترین لبنانی مصنف کے طور پر ”سعید اکل ایوارڈ“ سے نوازا گیا

انسائیکلوپیڈیا آف ریسورس لکھنے پر انہیں ”کویت فاؤنڈیشن فار ایڈوانسمنٹ آف سائنسز ایوارڈ“ سے بھی نوازا گیا۔

وہ قاہرہ میں عربی زبان کی اکیڈمی کے رکن کے طور پر بھی منتخب رہے۔
سوشلسٹ تھیٹ کے علمبردار کتاب کے ترجمے پر انہیں فرینڈز آف بکس ایوارڈ بھی ملا۔

نوٹ: اس موضوع کے لئے دو سال پہلے عرب میں العربیہ اخبار میں دو دو لائنوں کا تعارف دیکھا تھا، ان شخصیات کے حالات زندگی پر مزید ریسرچ کے لئے عرب ویکیپڈیا، بہت ساری عرب ویب سائٹس، شخصیات کو پڑھا، تب جاکر یہ مضمون مکمل ہوسکا، ریفرنسز اس لئے نہیں لکھ سکتا کہ صرف اس مضمون کے لئے سو سے زائد ویب سائٹس کا جائزہ لیا گیا ہے۔

Facebook Comments HS