عزت نفس کاشت کیجیے


عزت نفس بڑی اچھی چیز تھی۔ ہمارے یہاں بھی پائی جاتی تھی اب و ہوا کی تبدیلی نے اسے تقریباً مفقود کر دیا ہے کہیں کہیں نظر بھی آجاتی ہے مگر جنگل میں مور ناچا کس نے دیکھا کے مصداق بہت کم لوگ کی اس سے بہرہ مند ہوتے ہیں ماحول میں مسلسل تبدیلی سے بھی اس کی موجودگی میں کمی آئی ہے اس خطہ کی آب و ہوا میں یہ زیادہ دیر ٹھہر نہیں پاتی یا اس کی زندگی کم ہوتی ہے اس خطے میں عزت نفس مسلسل خطرات میں رہی ہے۔ اشرافیہ نے اس کو ایسا رفو چکر کیا کہ اب تو دور دور تک اس کا پتہ نہیں ملتا۔

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اگر یہ یہاں ناپید ہوتی جا رہی ہے تو اسے امپورٹ کر لیا جائے۔ ہمارے یہاں اس کا شمار ممنوعہ اشیاء میں ہوتا ہے۔ اگر کہیں کی مثال بھی دے دی کہ فلاں جگہ عزت نفس سے بہت اچھا سلوک کیا جاتا ہے وہاں تو اس کو بہت عزت دی جاتی ہے اسے تلف کرنے والے کو بڑی سزا ملتی ہے تو اسے بڑا جرم گردان کر سزا دی جا سکتی ہے۔

ترقی یافتہ قوموں نے تو ایسا خود رو بیج ایجاد کر لیا ہے کہ ہر وقت بمپر کراپ ہوتی ہے ہمارے یہاں بھی کبھی کبھی اس کی پیداوار کا شائبہ ہوتا ہے لیکن مشکلات کے موسم میں تو یہ بالکل ہی ختم ہو جاتی ہے اگر کہیں سے ہائبرڈ بیج مل جائے تو شاید اس کی پیداوار شروع ہو سکے۔

عزت نفس کی اچھی پیداوار کے لیے مٹی کی بڑی اہمیت ہے مٹی جتنی زرخیز بھی اتنی ہی اس کی پیداوار بڑھے گی اور سب سے زیادہ دار و مدار تو کسان پر ہوتا ہے کہ اس کو بیج کی پہچان ہو بیج جتنی اچھی نسل کا ہو گا عزت نفس فصل اتنی ہی زیادہ پھلے گی پھولے گی۔

عزت نفس پر کیڑے مکوڑے بھر پور حملہ کرتے ہیں بد قسمتی سے ہمارے یہاں ان کیڑوں کو تلف کرنے کا بندوبست نہیں ہے اس کا بیج بویا بھی جائے تو حملہ آور کیڑے مکوڑے اس کو تباہ کر کے رکھ دیتے ہیں

تازہ بیج، اچھی نسل، بہتر دیکھ بھال، کیڑے مکوڑوں سے نبٹنے کے لئے ہتھیار، مناسب نمی، اچھا ماحول ضروری ہے۔

عزت نفس پیدا کرنے کا کوئی واحد یا عالمگیر اصول نہیں ہے بلکہ اس کی پیداوار کے لئے کئی عوامل کار فر ما ہوتے ہیں۔

اگر اس کی زیادہ پیداوار ہو جائے تو بہت ساری چیزوں کو خطرات لاحق ہو جاتے ہیں جیسے خوشامد پرستی، شخصیت پرستی، قبضہ خوری، ناجائز مسند نشینی، استحصالی قوت وغیرہ۔ اور یہی چیزیں عزت نفس کی دشمن ہیں یعنی جہاں عزت نفس کی پیداوار ہوگی وہاں ان کا وجود نہیں یوگا۔

جہاں عزت نفس نہ ہوں وہاں اس کا ذکر کرنا ماحول کو ناگوار کر دیتا ہے لوگ بیٹھے بٹھائے مصیبت میں آ جاتے ہیں اس لئے پہلے ماحول کو ساز گار کرنا ضروری ہے۔

عزت نفس جہاں وافر مقدار میں پائی جائے وہاں احترام کا جذبہ، صلاحیت، قابلیت، حکمت، سالمیت، وفاداری، اطمینان، بھی ساتھ ملتا ہے۔

جہاں تک ہمارے یہاں پر عزت نفس کی پیداوار کا معاملہ ہے تو ماہرین کے مطابق خشک سالی اور خشکی ہے اس کے پودوں کی زندگی کو سہارا دینے کا کوئی انتظام نہیں ہے۔ نتیجتاً، ریگستانی عمل میں بہت زیادہ اضافہ ہو رہا ہے، علاقے بنجر ہوتے جا رہے ہیں۔

عزت نفس کے پیداواری عمل کو جاری رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنی مٹی کا معائنہ کسی ماہر سے کروائیں، مٹی کی زرخیزی کے لئے فرسودہ طریقے ترک کر کہ جدید طریقے اپنائے جائیں۔ برا نہ مانے تو ہائبڑڈ بیج باہر سے بھی منگوائے جا سکتے ہیں۔ خیر اس میں ہر کاشت کار کی اپنی مرضی ہے جو دل کو بھائے وہ کرے۔ عزت نفس اب اتنی ضروری بھی نہیں کام تو چل ہی رہا ہے۔

Facebook Comments HS