پاکستانی نوجوان، والدین، ریاست اور بے روزگاری


جب سے ہوش سنبھالا ہے۔ یہی سنتے آئے ہیں کہ پاکستان میں نوجوانوں کی تعداد آبادی میں سب سے زیادہ ہے۔ بیس برس گزر گئے ہیں۔ یہ تعداد کم نہیں ہوئی بلکہ روز بروز اس میں اضافہ ہوتا سنتا رہتا ہوں۔ یہ اضافہ کس حوالے سے ہے اور ہر سال اس تعداد میں ایک مخصوص اضافہ کس طرح ہو رہا ہے اور اس اضافے کے مثبت ثمرات سامنے کیوں نہیں آرہے؟ یہ عمومی نوعیت کے سوالات ہیں جن کے جوابات ہر نوجوان کے پاس ہیں اور وہ اپنے تئیں منہ میاں مٹھو بنا؛ اماں کے ہاتھ کی چوری کھاتا ہے جو اسے میرا بچہ، میرا بچہ کہہ کر لڑکی بنا کر اپنے گھر میں بٹھا کر مزید نکما کر رہی ہے۔

یہ نوجوان ہر شام ابا سے بلاناغہ ڈانٹ کھا تا ہے۔ دوستوں سے چائے سگریٹ پی کر اپنا گزارا کرتا ہے اور رات کو چھت سے لگے پنکھے کو دیکھ کر خودکشی کے پلان بناتا ہے اور آنکھ لگ جائے تو سفید گھوڑے پر بیٹھا بدیسی ملک کی شہزادی کو مرسیڈیز پر بٹھائے گھر لا رہا ہوتا ہے۔ پاکستان کے قیام سے اب تک نوجوانوں کی تعداد میں کمی نہیں آئی۔ یہ اچھی بات ہے۔ کسی ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے نوجوانوں کی تعداد کا کل آبادی سے نسبتاً شرح میں زیادہ ہونا خوش آئند ہے لیکن پاکستان میں یہ نوجوان اب تک اس ملک کی خوشحالی اور ترقی کے لیے مثالی کردار کیوں ادا نہیں کر رہے؟

پاکستان میں ہر مکتبہ فکر کے نمائندہ افراد کی طرف سے یہی سننے کو ملا اور کتابوں میں بھی یہی کچھ تحریر ہے کہ پاکستان ایک مثالی ملک ہے یہاں چار موسم ہیں، یہاں دریا، پہاڑ، نہریں، آبشاریں، جنگلات، درخت، ہوائیں، بہاریں، پھل، لکڑی، میوہ اور مسالہ جات وغیرہ سب کچھ موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں سب نعمتوں سے نواز رکھا ہے۔ ہمیں کسی چیز کی ضرورت نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی اسرائیل کے بعد جس قوم اور ملک پر سب سے زیادہ نعمتیں، برکتیں اور آسانیاں عطا کی ہیں، وہ ہمارا ملک اور ہم یعنی پاکستانی ہیں۔

یہ خودساختہ نعرے اور تراشے ہوئے جملے اپنی جگہ مبنی بر حقیقت ہیں لیکن میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ پاکستان کے نوجوان کسی ملک کی مجموعی تعداد کے مقابلے میں زیادہ ہونے کے باوجود اس ملک کی ترقی و خوشحالی میں نمایندہ پوزیشن پر دکھائی کیوں نہیں دیتے؟ ان سے کام کیوں نہیں لیا جا رہا۔ ان پر بھروسا کیوں نہیں کیا جاتا۔ ان کی صلاحیتوں کو تراش کر ترقی کی راہ پر گامزن کیوں نہیں کیا جا رہا۔ ان نوجوانوں کو ہر سیاسی لیڈر نے اپنے مقصد کے لیے استعمال کیا ہے۔

یہ خام میٹریل صرف سیاسی جلسوں، احتجاج، جلاؤ گھیراؤ اور ہراساں کرنے کے لیے کیوں استعمال ہوتا ہے۔ میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ اتنی تعداد اگر دنیا کے کسی اور ملک میں موجود ہوتی تو وہ ملک دنیا کی کمان سے کائنات کو نکیل ڈال لیتا۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ جیسے بچہ بچپن سے لڑکپن کی طرف بڑھتا ہے ؛ والدین کی خواہشات کے غبارے میں ہوا بھرنا شروع ہو جاتی ہے۔ میرا بچہ ڈاکٹر بنے گا، میرا بچہ انجینئر بنے گا، میرا بچہ تھانے دار بنے گا، میرا بچہ یہ بنے گا، میرا بچہ وہ بنے گا، میرا بچہ سب کچھ بنے گا۔

آپ یہ کیوں سمجھ نہیں رہے کہ آپ کا بچہ وہ نہیں بنے گا جو آپ اسے بنانا چاہتے ہیں بلکہ وہی بنے گا جو صلاحیت رب تعالیٰ نے اسے دی ہے۔ پچھلے چالیس برسوں میں پاکستانی امی ابا نے لاکھوں بچوں کے مستقبل انھیں ڈاکٹر اور انجینئر بنانے کے چکر میں ضائع کیے ہیں۔ والدین کی ایک قسم وہ ہے جو خود تو میٹرک سے آگے نہیں بڑھ سکی اور بچوں کو سی ایس ایس کروا کے پاکستان بھر کی دولت، شہرت، اختیار اور جبر حاصل کرنا چاہتی ہے۔ ایک قسم وہ ہے جو زمیندار گھرانوں میں پائی جاتی ہے جو اپنے بچوں کو تھانے دار بنا کر پورے گاؤں کو پیٹنا چاہتے ہیں اور شریکوں کو جلاتے جلاتے اپنے بچے کا مستقبل جلا دیتے ہیں۔

ایک قسم وہ ہے جو کسی سے سن لیتے ہیں کہ فلاں کے بیٹے نے یہ کیا تو یہ، یہ، وہ، وہ اسے مل گیا، بس پھر وہ رات کو کمرے میں بیٹے کو اکیلا بٹھا کر پہلے پیار سے سمجھاتے ہیں، پھر دھمکاتے ہیں۔ آخر میں ہراساں کرتے ہیں کہ بس تم نے اس کی طرح بننا ہے اور خبردار کسی اور چیز کے بارے میں سوچا، تمہاری ٹانگیں توڑ دیں گے، تمہارا دانہ پانی بند کریں دے۔ تمہارے گھر سے نکال کر فلاں کے پاس کام پر ڈال دیں گے وغیرہ وغیرہ۔ اس طرح کی حرکتوں سے ہزاروں والدین اپنے بچوں کے مستقبل کا خانہ خراب کر چکے اور مزید یہ شغل جاری رکھے ہوئے ہیں۔

نوجوانوں کی ذہن سازی میں کارفرما عناصر کا ذرا منظر سمجھیے کہ بچہ پیدا ہوتے ہی مولوی کے ہتھے چڑھ جاتا ہے اور وہ اسے مفتی بنانے اور پوری دنیا کے کافروں کو مسلمان کرنے کی ایسی واہیات تبلیغ کرتا ہے کہ بچے کا ڈوپا مین تشکیل پانے سے پہلے ہی ڈیڈ ہو جاتا ہے اور سرینٹونن کی تو ایسی کی تیسی ہو جاتی ہے۔ مدرسے سے نکل کر سکول میں میٹرک تک بچے کی ذہنی، جسمانی اور اخلاقی تربیت میں اساتذہ اور والدین باہم مل کر ایسے ایسے بلنڈر مارتے ہیں کہ ایک کثیر تعداد میٹرک سے آگے پڑھنے کے قابل نہیں رہتی۔

میٹرک سے آگے پھر والدین کی خواہشات کے منہ زور گھوڑوں کے پاؤں تلے بچوں کی کچھ بن جانے کی آرزوئیں دم توڑ دیتی ہیں۔ انٹر کا زمانہ کالج میں گزرتا ہے۔ کالج کا ماحول آزاد اور بے فکری کا ہے جہاں استاد پر یہ لازم ہے کہ لیکچر دے اور سٹاف روم میں جائے، اسے بچے کی جینیاتی تبدیلی اور جسمانی خد و خال کی تیزی سے بدلتی ہوئی کیفیت اور ذہنی خلجان سے کوئی سروکار نہیں۔ کالج میں اچھے برے ہر طرح کے بچے موجود ہوتے ہیں ؛ گویا قسم قسم کی مچھلی ایک تالاب میں جمع ہوتی ہے جو اپنے رنگ و آہن سے ایک دوسرے کو خوب آلودہ اور مصفا کرتی ہے۔

یہاں سے نکلنے والی معمولی سی تعداد یونیورسٹی کا رخ کرتی ہے جہاں ایک وسیع جہان اس کا استقبال کرتا ہے۔ یونی ورسٹی میں یا تو بچہ پہلے دن بگڑ کر معاشرے کے لیے ناسور بنتا ہے یا پھر اس کی مثالی شہری بننے کی راہ استوار ہوجاتی ہے۔ یہ وہ مراحل ہیں جو پاکستانی نوجوانوں کی تعلیم کے سلسلے میں اس یوتھ کو درپیش رہتے ہیں اور یہ نوجوان کسی نہ کسی صورت ان مراحل سے سے گزرتے ہیں۔ پاکستان میں ہر تیسرا بچہ بنیادی تعلیم سے محروم ہے، یہ ریاست کی ناکامی ہے اور ریاست کبھی اس کی ذمہ داری نہیں لیتی۔

اب بات آتی ہے کہ تعلیم یافتہ اور جاہل یعنی ان پڑھ نوجوان کیا کریں۔ ان پڑھ اور جاہل نے کیا کرنا ہے۔ انھوں نے کچھ بھی نہیں کرنا۔ پڑھے لکھے اور اعلیٰ تعلیم یافتہ کیا کرتے ہیں؟ ان کی ایک کثیر تعداد باہر کے ملکوں میں چلی جاتی ہے اور وہاں سیٹل ہو کر ملک کو برا بھلا کہتی ہے اور لعن طعن سے اپنے کلیجے کو ٹھنڈ پہنچاتی ہے۔ اپنے پیچھے سوگواران کے لیے ڈالر، پونڈ، یورو اور ریال وغیرہ بھیج کر مطمئن زندگی گزارتی ہے، نوجوانوں کی یہ کھیپ گویا پاکستان کے لیے مر جاتی ہے اور اپنے ذہن میں پاکستان کو بھی مار دیتی ہے اور یہ کہہ کر خود کو سمجھا لیتی ہے کہ اس ملک کا کچھ نہیں ہو سکتا؛ اب ہمارا اس سے کوئی سروکار نہیں ہے۔

اب آتے ہیں ان نوجوانوں کی طرف جو یہاں رہ جاتے ہیں۔ یہ نوجوان کیا کریں؟ انھوں نے کیا کرنا ہے۔ یہ دھکے کھانے والے اور در، در کی ٹھوکریں کھانے والے پڑھے لکھے نوجوان ہیں جو ڈگریوں کے بنڈل اٹھا کر گھومتے ہیں اور ملازمت کے حصول میں ایک مدت تک خوار ہوتے رہتے ہیں۔ کچھ حالات کے ہاتھوں زچ مرمرا جاتے ہیں، کسی کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں، اپنا کاروبار شروع کر لیتے ہیں، معمولی نوکری میں الجھ جاتے ہیں، کالی محبت میں گرفتار ہو کر سادہ سگریٹ سے زمینی جہاز بن جاتے ہیں۔

کچھ خوش قسمت اچھی پوزیشن پر سیٹل ہو جاتے ہیں۔ اس ملک کی پرائیویٹ کمپنیوں کا بھی عجیب فلسفہ ہے یا جان چھڑانے کا زبردست فارمولا ہے۔ ان کمپنیوں کا رونا ہے کہ ہمیں کام کا بندہ نہیں ملتا اور بندوں یعنی نوجوانوں کا کہنا ہے کہ ہمیں کام نہیں ملتا۔ اس کھلے تضاد کا کیا مطلب ہے؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کا تعلیمی نظام اس طرح وضع کیا گیا ہے کہ اس میں یکسانیت نام کی کوئی چیز ہی نہیں۔ پاکستانی تعلیمی اداروں میں تھیوری تھیوری، کتاب، کتاب اور سلیبس سلیبس پڑھایا جاتا ہے۔

عملی کام اور پریکٹیکل اور ہم نصابی سرگرمیوں کی مدد سے ایجادات و دریافت کے عمل سے نوجوانوں کو گزارنا تو دور کی بات یہاں کے اساتذہ ماشا اللہ ایسے ایسے عالم فاضل پی ایچ۔ ڈی ہیں جنھوں نے مقالے کسی سے لکھوائے، زبانی امتحان کسی نے دیا، ڈگری کہیں سے لی، حاضری کوئی لگاتا ہے اور پڑھاتا بھی کوئی او رہے۔ یہ صاحب بس ہر ماہ تنخواہ باقاعدگی سے لیتے ہیں اور اسٹاف میں بیٹھ کر ملک ریاض بننے کے منصوبے بناتے ہیں، پلاٹ بیچتے ہیں، خریدتے ہیں اور ہر روز پوچھتے ہیں کہ تنخواہ کتنی بڑھ رہی ہے، مجھے یہ الاونس کیوں نہیں ملا، اپنی سیلری سلپ تو دکھاؤ۔

اس ملک کے لاینحل مسائل میں ایک بڑا مسئلہ جو نوجوانوں سے متصل ہے وہ اس ملک کا کلاس سسٹم ہے جس نے اس ملک کا بیڑا غرق کر دیا ہے۔ گورنمنٹ سکول میں پڑھنے والے بچے کلرک ہی بنیں گے اور اپنی ضرورتیں رشوت خوری اور ناجائز ذرائع سے پوری کریں گے۔ او۔ اے لیول کرنے والا باہر جائے گا اور ملک کو لعن طعن کرے گا اور اس کی ترقی میں روڑے اٹکائے گا اور جو یہاں رہ جائے گا وہ ہر محکمہ کی ایڈمن پوسٹ پر بیٹھ کر اس ملک کی جڑوں کو کاٹنے اور تنوں کو کھوکھلا کرنے کی خدمت انجام دے گا۔

اللہ بھلا کرے اس یوٹیوب والے کا جس نے مونیٹائز کر کے ہمارے بے روزگار نوجوانوں کے لیے روزگار فراہم کیا۔ لاکھوں ڈالر اس ملک میں یوٹیوب سے آتے ہیں اور دیگر سوشل میڈیا سائٹ گوگل ایڈ، سائفر، شوپی فائے، گوگل ایڈسن، ایمازون وغیرہ سے بچے کمپیوٹر ایجوکیشن کی وجہ سے کچھ نہ کچھ کما رہے ہیں۔ پاکستانی ریاست نے اس ملک کے نوجوانوں کے لیے کچھ نہیں کیا۔ شہباز شریف نے لیپ ٹاپ دیے اللہ اسے اجر دے کہ لیپ ٹاپ کے ذریعے نوجوانوں بہت فائدہ ہوا۔

خان صاحب نے صرف وعدے کیے اور بے وفاوں کے ہتھے چڑھ کر بدنام زمانہ ہو گئے۔ یہ پی ڈیم ایم والے اپنے جھگڑوں میں پڑے ہیں ؛ انھیں نوجوانوں کے مستقبل کی کیا فکر۔ ہر سال بجٹ آتا ہے جس میں سب سے کم حصہ تعلیم کا ہوتا ہے۔ پتہ نہیں ان سیاست دانوں کو کس نے یہ اندیشہ تعویذ کی صورت گھول کر پلا دیا ہے کہ تعلیم پر زیادہ خرچ کریں گے اور نوجوانوں کو شعور دینے کی راہ ہموار کریں گے تو یہ ہو جائے گا، وہ ہو جائے گا۔ کوئی ہماری بات نہیں سنے گا، کوئی ہمیں ووٹ نہیں دے گا اور سب ہم سے منہ موڑ لیں گے۔

سیدھی سی بات ہے کہ اس ملک کے نوجوانوں نے شعور لے کر اور تعلیم حاصل کر کے کہاں جانا ہے۔ سبھی نوجوانوں نے شعور اور تعلیم حاصل کر کے کسی اور ملک تو بھاگ نہیں جانا۔ یہی رہنا ہے اور اسی ملک کی خدمت کرنی ہے اور آپ کی خدمت کرنی ہے اور آپ نے ان پر حکومت کرنی ہے۔ سیاست دان ہمیشہ رہیں گے اور حکومت بھی سیاست دانوں نے یعنی آپ نے ہی کرنی ہے۔ فکر کس بات کی ہے! ایک طاقت ہے جو سیاست دانوں کی گوشمالی اس لیے کرتی ہے کہ یہ حد سے نکل جائیں تو پھر دوسروں کی چراگاہوں میں منہ مارنے لگتے ہیں ؛ اس لیے ان پر خودساختہ حد بندی روا رکھی گئی ہے اور کوئی پریشانی کی بات نہیں ہے۔

ایک بات تو طے ہے کہ پاکستانی اماں اور ابا نے نوجوانوں کو کچھ نہیں دینا، یہ بس طعنے، لعن طعن اور شکوہ و گلہ کے تیر برسائیں گے اور کہتے رہیں گے کہ ہمیں نہیں پتہ بس پیسے لاؤ، کہیں سے بھی لاؤ، جس طرح کماؤ، بس لاؤ۔ مکدی گل اے وے کہ ریاست اس ملک کے نوجواں کے مستقبل کی کی راہ ہموار کرنے کی ذمہ داری ہے۔ میری دست بستہ ریاست کے صاحب اختیار شخصیات سے التجا ہے کہ دنیا بدل چکی۔ کووڈ۔ 19 کے بعد تعلیم اور روزگار اور معاملات زندگی کا دائرہ گھوم چکا۔

اب روایتی اور قدیمی طرز زیست اور طرز تدریس ختم ہو چکا۔ دنیا بہت آگے بڑھ چکی اور آپ لوگ ابھی تک ہمیں ایک دوسرے کو برا، بھلا اور امین و صادق کے چکر میں پھنسائے ہوئے ہیں۔ پچھتر برس ہونے کو ہے اس ملک کی آزادی کو اور ابھی تک ہماری سیاست روٹی، کپڑا، مکان، بجلی، آٹا، پٹرول، کھاد، مہنگائی، رہائی، دہائی کی سیاست میں الجھی ہوئی ہے۔ انسانوں کی یہ بنیادی ضرورتیں ازل سے تا ابد یونہی رہیں گی۔ جس رب نے یہ کائنات بنائی ہے وہ اس کا بہترین منتظم اعلیٰ ہے۔

آپ یہ فکر چھوڑ دیں کہ آپ کوئی معرکہ مار لیں گے یعنی سورج طلوع ہونے سے قبل پاکستان کو امریکہ، کینیڈا بنا دیں گے۔ یہ وقت کا پہیہ ہے جو اپنے انداز میں گھومتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ نوجوانوں پر توجہ دیں۔ انھیں اپنے ذاتی مفاد میں استعمال کرنے کی بجائے ان سے تعمیری کام لیں۔ ان کے لیے بجٹ میں جو خیالی پلاؤ پکایا ہے ؛ اسے عملی شکل دیں۔ قرض اگر دینا ہے تو والدین کے اکاؤنٹ کے ذریعے آسان شرائط پر دیں۔ سکول کا سرٹیفیکیٹ کافی ہے نوجوانوں کی اہلیت جاننے کے لیے۔

تعلیمی ادارے بنانے اور ای۔ روزگار کی سہولت فراہم کرنے کے علمی اقدامات کریں۔ یہ نوجوان آپ کے لیے بہت معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔ یہ ملک اب اس بات کا متحمل نہیں ہو سکتا کہ دوست ممالک سے قرض مانگ لیں اور آئی ایم ایف سے ہر سال قرض لے کر بجٹ بناتے جاؤ اور خود کھاؤ اور دوسروں کو بھی کھلاتے جاؤ اور پوچھے احتساب کرنے والوں کا اسی بجٹ کے شیر مال سے منہ بھرتے جاؤ۔ اللہ اللہ خیر صلا؛ والا نعرہ اب پٹ چکا ہے۔ ہوش کے ناخن لیں اور ان نوجوانوں کے لیے کچھ کریں، ان کی آخری امید آپ سے وابستہ ہے۔

Facebook Comments HS