مطالعات کتب اور ڈاکٹر تنویر انجم کی ادبی کاوشوں کا تسلسل

حسب سابقہ سولہ جون کو بجائے اس کے کہ بارش اور طوفان کی نمناک اور آندھی دھاندی خبریں زوروں پر تھی لیکن رائٹر اینڈ ریٹر کیفے کے تمام دوست احباب اپنے وقت پر اس پروگرام کو آگے بڑھانے کے لئے حاضر تھے۔ اور ہم کہہ سکتے ہیں کہ باوجود اس کے پروگرام وقت پر شروع ہوا۔ پروگرام کی نظامت ڈاکٹر تنویر انجم نے کی چاروں کتابوں اور تبصرہ نگاروں کے تعارف کے بعد پہلی کتاب پر تبصرہ کرنے کے لئے ڈاکٹر عنبریں حسیب عنبر کو مدعو کیا گیا جنھوں نے اپنا تبصرہ اپنے لکھے ہوئے مضمون کی صورت میں حاضرین نشست کے سامنے پڑھا اور یہ مضمون میرا جی کے لکھے ہوئے ترجموں اور مضامیں کی کتاب مشرق و مغرب کے نغمے پر تھا انھوں اپنے مضمون کو پڑھنے سے پہلے مذکورہ کتاب کو حاضرین نشست کے روبرو پیش کیا اور اس کے بعد اپنے مضمون کو سنانا شروع کیا۔
اس مضمون میں ڈاکٹر صاحبہ نے وہ باتیں شیئر کیں جو انھوں نے بذات خود اس کتاب سے ایک تاثر کی شکل میں کشید کی تھی۔ ان کا یہ مضمون اس کتاب پر ایک تقریظ تھا اور میرا جی کوایک خراج تحسین بھی تھا۔ اپنے مضمون کی وساطت سے ڈاکٹر صاحبہ نے میرا جی کے ترجموں کے حوالے سے ان کی طرز نگارش اور طرز گزارش کو بعینہ! ستائش کے نکات میں سامنے لایا۔ ڈاکٹر صاحبہ کا کمال یہ ہے کہ اپنی تحریر میں نئے الفاظ تراکیب اور علامات کو نئے انداز میں متعارف کراتی ہیں۔
اپنے مضمون میں بات اڑن کٹولے سے شروع کی اور حاضرین نشست کو اڑن کھٹولے میں ایسے گھمایا پھرایا کہ سب کو اپنے سحر کے چکر میں جھولا کر واپس اپنی تحریک کے نشان پر چھوڑ آئی۔ یہ اڑن کٹولا کوئی نیا لفظ نہیں تھا لیکن اس کا استعمال بالکل نیا تھا، اس طرح پہلے ایک نشست میں اپنے مضمون میں محبوبہ اور منکوحہ کی ایک ایسی ترکیب سامنے لائی کہ یہ دونوں پرانے الفاظ بالکل نئے لگنے لگے اور میری طرح بہت ساروں کو منکوحہ کو محبوبہ کی نظر سے دیکھنے کی سوچ پر مجبور کیا۔
اگلی باری محقق شکیل جعفری کی تھی جو انھوں نے آغا ناصر کی کتاب جو انھوں نے فیض صاحب پر لکھی ہے ہم جیتے جی مصروف رہے کو تبصرے کے لئے منتخب کیا تھا۔
اور سب سے پہلے شکیل جعفری نے جو مضامین اس کتاب میں چپ چکے تھے اس کے اقتباسات شیئر کیے ۔ فیض صاحب کی ہر ہر نظم کی شان نزول اور تحریک کو اجاگر کیا اور بہت ساری نئی باتیں سامنے لائی جو حاضرین مجلس کے لئے بالکل نئی تھی۔ جیسے پابہ جولاں چلو، مجھ سے پہلی سی محبت میرے محبوب نہ مانگ، یا وہ واقعی بہت دلچسپ تھا جب فیض صاحب کے پاس معشوقہ شادی کے بعد بمع ایک عدد شوہر کے آتی ہے اور فیض صاحب سے کہتی ہیں ان سے ملئے یہ لمبا تڑنگا، خوبصورت اور دراز قد شخص میرا شوہر ہے۔ اس طرح فیض صاحب کا حکومت وقت کے وفد کے ساتھ نئے قائم شدہ بنگلہ دیش کا دورہ اور دوست مجیب الرحمان کی سرد مہری اور واپسی پر جہاز میں اس رویے پر نظم لکھنا دلچسپ واقعات تھے۔
تیسری باری ہرمن ہیسے کی ناول سدارتھ پر صحافی میڈیا پرسن، ادیب اور شاعرہ ناصرہ زبیری کی تھی، ناصرہ زبیری صاحبہ جتنا اچھا بولتی ہیں اتنا اچھا لکھتی بھی ہیں۔ انھوں نے سدارتھ ناول پر تفصیلی گفتگو کی اور جو تاثرات انھوں نے اس ناول سے اخذ کیے تھے وہ بیان کرنے کی کوشش کی جس میں وہ کامیاب رہی۔ اپنی گفتگو میں انھوں نے سدارتھ ناول کے کرداروں اور اس ناول کی بنیادی تھیم پر تہہ در تہہ روشنی ڈالی۔
ناول کے تراجم پر بھی بات کی اور اس بات پر عمیر احمد خان کی اس تنقید پر کہ یورپ میں اب یہ رجحان ہے کہ ترجمے سے ترجمے کو اچھا نہیں سمجھا جاتا اور اس کو ترجمے کی حیثیت نہیں دیتے کے جواب میں کہا کہ اس ناول کے ساتھ بھی یہی مسئلہ ہے اصل مترجم کا ذکر اس ترجمہ شدہ ناول پر کہیں بھی لکھا ہوا نظر نہیں آ رہا۔ اس ناول پر اس ناول کی فلسفیانہ اور روحانی جہت کے علاوہ اس کی فکشن کی جہت پر بھی تفصیلی بحث ہوئی۔
آخر میں عقیل جعفری نے رحمان اے مانڈویا کی کتاب اس دشت میں بھی ایک شہر تھا پر گفتگو کا آغاز کتاب کی فہرست اور اس میں درج مواد سے کیا۔ یہ کتاب بقول ان کے شہر کراچی کی تاریخی اور ادبی داستان ہے جس میں مصنف خود کردار بن کر تحقیق در تحقیق قدم بہ قدم اور منزل بہ منزل موجود ہے۔ اس کتاب میں کئی جگہوں، کئی شخصیات کے اصل ناموں تاریخ اور غلط العام کی تصحیح اور تشریح کی گئی ہے۔ کراچی پر لکھی گئی اس طرز کی کئی کتابوں میں یہ کتاب ادبی سیاحتی چاشنی رکھنے کے طفیل زرہ ہٹ کر اور جاذب نظر اور جاذب بصر ہے۔
آخر میں ہر کتاب کے بعد سوالات اور جوابات بھی ہوئے اور تبصرے بھی ہوئے کچھ نئے اضافے بھی کیے گئے اور تادیر یہ نشست ڈاکٹر تنویر انجم صاحبہ کی حاضرین اور مبصرین نشست کے شکریے کے ساتھ اختتام کو پہنچی۔

