ٹیٹو بنوانے کا فیشن



آج کل پاکستان کے کچھ شہروں میں ٹیٹو میکنگ کا رواج بڑھتا جا رہا ہے۔ اور ٹیٹو آرٹسٹس دن دگنی رات چوگنی ترقی کر رہے ہیں۔ پہلے تو صرف مرد ہی ٹیٹو بنواتے تھے مگر اب خواتین بھی اس معاملے میں مردوں کے شانہ بشانہ ہیں۔

اسلام آباد کے ایک ٹیٹو آرٹسٹ بتاتے ہیں کہ ان کے پاس خواتین بھی آتی ہے اور جسم کے مختلف حصوں پر ٹیٹو بنواتی ہیں جب کہ ایک فی میل آرٹسٹ کہتی ہیں کہ حجابی خواتین بھی ٹیٹو بنواتی ہیں اور وہ میرے پاس اس لیے آتی ہیں کیونکہ وہ یہ پسند نہیں کرتیں کہ کسی مرد سے کام کروائیں ( حالانکہ حجابی ٹیٹو اور پلکنگ سے بھی اتنی ہی دور رہے گی جتنی کہ نامحرم کے لمس سے کیونکہ یہ بھی حرام ہی ہیں ) ۔ ایک ٹیٹو کی کم از کم قیمت ایک یا دو لاکھ تک ہوتی ہے۔

کچھ کسٹمرز ایسے بھی تھے جن کے پورے جسم پر ٹیٹو بنے ہوئے تھے ان کا کہنا تھا کہ فقہ میں دو رائے ہیں ایک جن کے مطابق اسلام میں ٹیٹو ممنوعہ ہے اور دوسروں کے مطابق اس میں کوئی حرج نہیں۔ ان صاحب کا کہنا تھا کہ ممانعت اس لیے ہے کہ وضو کا مسئلہ ہوتا ہے۔ لیکن میرے خیال میں ٹیٹو جلد کے اندر ہوتا ہے اس لیے وضو کا کوئی مسئلہ نہیں۔

کسی بھی مسئلے کے بارے میں فقہاء کی رائے کیا ہے یہ تو ہم تب جاننے کی کوشش کریں جب قرآن و حدیث میں اس مسئلے کے بارے میں واضح احکام نہ ہوں۔ جب ہمیں قرآن کی کسی آیت یا کسی صحیح حدیث سے اس بارے میں معلوم ہو جائے تو علماء کے اقوال کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ”عن ابن عمر۔ رضی اللہ عنھ۔ عن النبی ﷺ، حیث قال: لعن اللہ الواصلة والمستوصلة، والواشمة والمستوشمة“ ۔ رواہ البخاری، عن عبد اللہ بن عمر، الرقم: 5937

اللہ عزوجل کی لعنت ہو گودنے، گودوانے والیوں، بال اکھاڑنے، اور خوبصورتی کے لئے دانتوں میں خلا بنوانے والیوں، اور اللہ کی تخلیق میں تبدیلی کرنے والیوں پر ”۔

یلعن المتنمصات والمتفلجات والموتشمات اللاتی یغیرن خلق اللہ عز وجل۔ ” (سنن نسائی 5108 )

لعنت کی گئی ہے چہرے کے بالوں کو اکھاڑنے والیوں پر، دانتوں کو رگڑنے والیوں پر اور گوندنے والیوں پر جو اللہ کی خلق کو بدل دیں۔

عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث بیان کی تو ایک خاتون نے اعتراض کیا کہ قرآن میں ان کاموں کی ممانعت نہیں پھر آپ یہ حدیث کیسے بیان کر رہے ہیں تو انہوں نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ”

ترجمہ: اور تمہیں جو کچھ رسول دے لے لو اور جس سے روکے رک جاؤ اللہ تعالٰی سے ڈرتے رہا کرو۔ یقیناً اللہ تعالٰی سخت عذاب والا ہے۔ ”الحشر 7

اور فرمایا اس آیت کے مطابق جو کام قرآن میں نہیں بتائے گئے مگر نبی ﷺ نے ممنوع قرار دے دیے ہیں ان سے باز رہنا چاہیے۔

مگر ہم مغرب کی اندھا دھند تقلید میں اس قدر آگے نکل چکے ہیں کہ اسلام کو پس پشت ڈال چکے ہیں۔ شیطان نے اپنا وعدہ پورا کیا۔ کیونکہ جب اسے تکبر کی بناء پر جنت سے نکالا گیا تو اس نے دعوی کیا تھا: ”

” اور ضرور انہیں کہوں گا کہ وہ اللہ کی پیدا کی ہوئی چیزیں بدل دیں گے“ ۔
النساء 119

آج ہم کاسمیٹکس سرجری، جینڈر چینج سرجری اور مختلف طریقوں سے اللہ کی تخلیق کو اپنی پسند کے مطابق بدل رہے ہیں اور اسے گناہ بھی نہیں سمجھتے۔

حالانکہ اس پر علماء کا اتفاق ہے کہ جسم کے کسی حصہ پر ٹیٹو بنوانا شرعاً حرام اور گناہ کبیرہ ہے، اور ٹیٹو بنانے اور بنوانے والوں پر اللہ رب العزت کی جانب سے لعنت کی گئی ہے ابرو کے بال کے علاوہ باقى بال اتارنے جائز ہیں ابرو اور سر کے بال اتارنے جائز نہیں اور نہ ہى خواتین ابرو کا کوئى بال کاٹ سکتى ہیں اور نہ ہى مونڈ سکتى ہیں اور باقى جسم کے بال یا تو وہ خود اتاریں یا پھر اس کا خاوند یا کوئى اس کا محرم وہاں سے جس حصہ کو وہ دیکھ سکتا ہے یا کوئى عورت اس حصہ سے جہاں اس کو دیکھنا جائز ہے۔ کیونکہ ستر کسی عورت کے سامنے بھی نہیں کھولا جا سکتا۔ ”

فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلمیۃ والافتاء 5 / 194

ان احادیث و فتاوی کی روشنی میں ٹیٹو بنانے اور بنوانے والے، آئی بروز بنانے اور بنوانے والے، دانتوں کے درمیان خلا بنانے اور بنوانے والے سب پر لعنت کی گئی ہے۔ کیونکہ یہ تینوں کام انسان کی ہیئت تبدیل کر دیتے ہیں۔ اگر پھر بھی کوئی یہ کام کرے تو و ما علینا الا البلاغ۔

Facebook Comments HS