چین امریکہ تعلقات اور فاختہ کی جیت؟


عالمی سیاست میں ہر روز ہی کوئی نہ کوئی خبر ایسی مل رہی ہے جس سے بہت سارے قیاس جنم لینے لگتے ہیں۔ تجارتی مسابقت ہو یا پھر جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت۔ بلا واسطہ اور بالواسطہ جنگوں کے خطرات دنیا کے امن کے لیے اچھے نہیں۔ لیکن ان حالات میں اگر دنیا کی دو بڑی معاشی طاقتیں اپنے مسائل اور تحفظات کو بیٹھ کر مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کریں تو دنیا میں جنگل کے قانون کی نہیں بلکہ جنگل میں کچھ دیر کو سہی، پر فاختہ کی جیت ضرور ہو جاتی ہے۔

5 ماہ قبل امریکہ کی جانب سے چین کے ایک غبارے کو جاسوس غبارہ کہ کر مار گرانے کے واقعے کے بعد سے  سرد مہری کا شکار ہوئے اور امریکی وزیر خارجہ کا حالیہ دورہ چین 5 سالوں میں کسی اعلی امریکی عہدیدار کا پہلا دورہ چین ہے۔

18 جون کو امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن اور چین کے وزیر خارجہ چھن گانگ کی بیجنگ میں 5 گھنٹے طویل ملاقات ہوئی۔ یہ ملاقات امریکی وزیر خارجہ کے دو روزہ دورہ چین کا حصہ تھی۔ اس سے قبل دونوں شخصیات کی ایک فون کال پر بات چیت اور ویانا میں دونوں ممالک کی اعلی شخصیات کی ملاقات بھی اس سلسلے کی کڑی تھی۔ بیجنگ میں ہونے والی اس ملاقات میں فریقین کے درمیان چین اور امریکہ کے مجموعی تعلقات اور متعلقہ اہم امور پر طویل، واضح اور تعمیری بات چیت ہوئی۔

چینی وزیر خارجہ نے کہا کہ چین امریکہ تعلقات، سفارتی تعلقات کے قیام کے بعد سے اب تک کی نچلی ترین سطح پر ہیں جو دونوں ممالک کے عوام کے بنیادی مفادات اور بین الاقوامی برادری کی مشترکہ توقعات کے مطابق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کے حوالے سے چین کی پالیسی میں ہمیشہ تسلسل اور استحکام برقرار رکھا گیا ہے اور یہ پالیسی صدر شی جن پھنگ کی جانب سے پیش کردہ باہمی احترام، پرامن بقائے باہمی اور مشترکہ تعاون کے اصولوں پر قائم ہے اور یہی فریقین کا مشترکہ ہدف ہونا چاہیے۔

چھن گانگ نے کہا کہ چین امریکہ کے ساتھ ایسے تعلقات کی تشکیل کا خواہاں ہے جو مستحکم، قابل توقع اور تعمیری ہوں۔ انہوں نے کہا کہ امید ہے کہ امریکہ، چین کے بارے میں معروضی اور عقلی تفہیم کو برقرار رکھتے ہوئے چین امریکہ تعلقات کی سیاسی بنیادوں کی حفاظت کرے گا اور غیر متوقع واقعات سے ہوش مندی، پیشہ ورانہ اور منطقی طور پر نمٹے گا۔ چینی وزیر خارجہ نے کہا کہ دونوں ممالک کو صدر شی جن پھنگ اور صدر جو بائیڈن کے درمیان بالی میں ہونے والی ملاقات میں طے پانے والے اتفاق رائے پر مکمل عملدرآمد کرنا چاہیے تاکہ چین امریکہ تعلقات کو ترقی کے درست راستے پر واپس لایا جا سکے۔

چھن گانگ نے تائیوان کے مسئلے سمیت چین کے بنیادی مفادات اور بڑے خدشات کے معاملات پر چین کے سنجیدہ موقف کا اظہار کیا اور واضح مطالبات پیش کیے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ تائیوان کا مسئلہ چین کے بنیادی مفادات کا مرکز ہے جو چین امریکہ تعلقات میں سب سے اہم مسئلہ اور سب سے نمایاں خطرہ بھی ہے۔ چینی وزیر خارجہ نے امریکہ پر زور دیا کہ وہ ایک چین کے اصول اور چین۔ امریکہ تین مشترکہ اعلامیوں کی پاسداری کرتے ہوئے ”تائیوان کی علیحدگی“ کی حمایت نہ کرنے کے اپنے عزم کو صحیح معنوں میں نافذ کرے۔ فریقین نے مشترکہ دلچسپی کے اہم بین الاقوامی اور علاقائی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

ملاقات میں فریقین نے اتفاق کیا کہ دونوں سربراہان مملکت کی بالی میں ہونے والی ملاقات میں طے پانے والے اہم اتفاق رائے کو مشترکہ طور پر نافذ کیا جائے گا اور اختلافات کو موثر طریقے سے کنٹرول کرتے ہوئے بات چیت اور اعلی سطحی تبادلوں کو برقرار رکھا جائے گا۔

وزیر خارجہ بلنکن نے چھن گانگ کو امریکہ کے دورے کی دعوت دی جس پر چھن گانگ نے فریقین کی باہمی سہولت کے وقت آمادگی ظاہر کی۔ فریقین نے چین امریکہ تعلقات کے رہنما اصولوں اور مخصوص مسائل کے حل کے لئے چین امریکہ مشترکہ ورکنگ گروپ میں مشاورت، ممالک کے درمیان ثقافتی و تعلیمی تبادلوں کی توسیع کی حوصلہ افزائی کرنے، اور مسافر پروازوں میں اضافے کے لئے فعال تبادلے پر اتفاق کیا۔ دونوں فریقوں نے طلباء، اسکالرز اور کاروباری افراد کے باہمی دوروں کا خیرمقدم کرنے اور اس مقصد کے لئے مدد اور سہولت فراہم کرنے پر بھی اتفاق کیا۔

امریکی وزیر خارجہ نے چین روانگی سے قبل ایک بیان میں کہا کہ امریکہ اس بات کو یقینی بنانا چاہتا ہے کہ چین کے ساتھ ان کا مقابلہ مخاصمت یا تصادم کی طرف نہ جائے۔ اس بیان کے تناظر میں ماہرین کا خیال ہے کہ امریکی سوچ کو حوصلہ افزا کہا جا سکتا ہے اور اس سوچ کے ساتھ کوئی بھی ملاقات چین امریکہ تعلقات پر جمی برف کو پگھلانے میں مدد گار ثابت ہو سکتی ہے۔

اس حالیہ دورے اور ملاقاتوں کے حوالے سے کئی ماہرین اپنی اپنی رائے کا اظہار کر رہے ہیں۔ لیکن تمام آراء میں اکثریت کی رائے یہ ہے کہ اس ملاقات سے دنیا کو کسی بڑے بریک تھرو کی امید نہیں کی جانی چاہیے بلکہ اس ملاقات کا ممکن ہو جانا بھی کسی بریک تھرو سے کم نہیں۔ شاید یہ رائے ٹھیک بھی ہے۔ امریکہ اور چین کے تعلقات میں اگر مستقل تعاون اور تبادلوں کا فروغ ہوتا رہے تو ممکن ہے کہ کسی بڑے بریک تھرو کی ضرورت بھی نہ پڑے۔

چین کی جانب سے امریکہ سے جو توقعات ہیں وہ بہت واضح ہیں۔ چین مسئلہ تائیوان میں امریکی مداخلت نہیں چاہتا اور اسے اپنا اندرونی معاملہ قرار دیتا ہے۔ دوسرا بڑا معاملہ تجارتی ہے جس میں چین کا موقف بالکل واضح ہے کہ امریکہ کو مقابلے کی فضا میں رہتے ہوئے تعمیری کوششیں جاری رکھنا چاہیے اور لابنگ یا طاقت کے ذریعے تجارتی پابندیوں اور دیگر ہتھکنڈوں ستے باز رہنا چاہیے۔

دوسری جانب امریکی اعتراضات پر نظر ڈالی جائے تو سوائے تجارتی جنگ اور معاشی مسابقت کے امریکہ کا براہ راست چین سے کوئی ایسا تصفیہ نہیں جس پر معاملات بگاڑ کا شکار ہوں۔ ایک حالیہ واقعہ یوکرین اور روس کے درمیان جنگی کیفیت میں جس میں اگر امریکہ چین سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ روس کی کسی طور حمایت نہ کرے تو اس مطالبے میں خود امریکہ کو یوکرین کی حمایت سے دست بردار ہونا پڑے گا جس کے اب تک کوئی چانسز نہیں۔ سو ایسے میں سوائے یوکرین کے مسئلے کے، فی الوقت بظاہر امریکہ اور چین کے درمیان کوئی بڑا حل طلب مسئلہ نہیں ماہرین کا خیال ہے کہ یہی جنگ دنیا کو سرد جنگ میں لے جانے کے لیے کافی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ چین نے اس مسئلے پر کافی حد تک غیر جانب دار رہتے ہوئے یوکرین کے معاملے پر دنیا کے سامنے ایک جدا موقف رکھا اور اس کے حل کے لئے باقاعدہ ایک وائیٹ پیپر بھی جاری کیا۔ ساتھ ہی خطے اور عالمی دنیا میں تمام ممالک کو اس مسئلے کے حل کے لیے پر امن کوششوں پر بھی قائل کیا۔

اس ملاقات کے نتائج کیا ہوں گے یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا لیکن دنیا کی معیشت اور امن کے لیے ان ملاقاتوں کی بڑی اہمیت ہے۔ امید کی جا سکتی ہے کہ مسابقت کے نام پر محاذ آرائی اور دھڑے بازی کی سیاست کو اب دنیا قبول نہیں کرے گی تا کہ ایک بہتر اور مشترکہ مستقبل کی جانب سفر کی شروعات کی جا سکے۔

Facebook Comments HS