نا انصافی پر خاموشی سے بننے والا معاشرہ
ایک استاد کلاس میں آتے ساتھ ہی بغیر کسی وجہ کے ایک شاگرد کو کلاس سے نکل جانے کا کہتا ہے کلاس فیلوز کو محسوس ہو رہا ہوتا ہے کہ استاد غلطی پر ہے اور زیادتی کر رہا ہے لیکن سب خاموش رہتے ہیں لڑکی اٹھ کر چلی جاتی ہے۔ استاد کلاس سے مخاطب ہوتا ہے کہ بتائیں قوانین کس لیے ہوتے ہیں؟ معاشرے میں چیزوں کو بہتر بنانے کے لیے، انسان کے ذاتی حقوق کی حفاظت کے لیے، تاکہ آپ گورنمنٹ پر اعتماد کر سکیں، انصاف کے لیے طلباء یہ جوابات دیتے ہیں
استاد آخری شاگرد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہتا ہے بتائیں کیا میں نے ابھی آپ کی کلاس فیلو کے ساتھ نا انصافی کی یقینی طور پر میں نے کی لیکن آپ میں سے کسی نے احتجاج کیوں نہیں کیا؟ آپ میں سے کسی نے مجھے روکنے کی کوشش کیوں نا کی؟ آپ میں سے کسی نے بھی اسے روکنا کیوں نا چاہا؟ آپ نے جو ابھی سمجھا ہے وہ ہزاروں لیکچرز میں بھی نہیں سمجھ سکتے آپ نے اس لیے کچھ نہیں کہا کیوں کہ اس سے آپ متاثر نہیں ہوئے تھے آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا تھا اور یہی رویہ ایک دن آپ کے اور آپ کی زندگی کے خلاف ہوتا ہے آپ سمجھتے ہیں کہ اس کا آپ سے تعلق نہیں ہے لیکن میں کہوں گا کہ اگر آپ انصاف قائم کرنے کی کوشش نہیں کریں گے ایک دن آپ کو بھی یہ نا انصافی بھگتنی پڑے گی اور اس روز آپ کا ساتھ دینے والا بھی کوئی نہیں ہو گا اور معاشرہ نا انصافی پر مبنی ہو جائے گا۔
سچ اور انصاف کو ہم زندہ رکھتے ہیں ہمیں اس کے لیے لڑنا چاہیے ہم اکثر کام میں ایک دوسرے کے ساتھ رہتے ہین لیکن دوسرے کے ساتھ نہیں رہتے ہم اپنی تسلی کے لیے کہہ سکتے ہیں کہ کسی دوسرے کے مسئلے سے ہمارا کیا لینا دینا اور ہم رات کو خوشی خوشی سوچتے ہوئے گھر جا سکتے ہیں کہ ہم تو مصیبت سے بچ گئے لیکن حقیقت میں زندگی ایک دوسرے کے حقوق کے لیے کھڑے ہونے کا نام ہے۔ ہر دن آپ کے سامنے کاروبار، کھیل، ٹرین پر تقریباً ہر جگہ نا انصافی ہوتی ہے ہر چیز کو کسی دوسرے کی ذمہ داری سمجھنا بالکل اچھی بات نہیں ہے۔
یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم دوسروں کا نا انصافی میں ان کا ساتھ دیں ان کے ساتھ کھڑے ہوں جب کوئی ان کے ساتھ کھڑا نا ہو میں یہاں آپ کو اکٹھے مل کر آواز بلند کرنے کی طاقت کے بارے میں پڑھانے آیا ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ حق کے ساتھ کھڑے ہونے کی اس اہم فکر کو سیکھیں جو آپ کو مضبوط بنائے گی۔ یہاں تک کہ ہو سکتا ہے آپ کو پورے معاشرے کے خلاف ہو نا پڑے لیکن حق پر کھڑے رہنے کے گہرے نتائج موصول ہوں گے جو کہ ایک شاندار معاشرہ بنائیں گے یہ کہانی مجھے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر حسن گل نے ارسال کی جس کا اہم سنگین اور اہم معاملہ چل رہا ہے جس میں میں اس کی ممکنہ معاونت کر رہا ہوں۔
قارئین ہمیں بھی ٹھیک اور غلط کی پہچان کرنی ہو گی اور بہتر معاشرے کے لیے قربانی دینی ہو گی جیسا کہ اکثر صحافی صحافی کے حق میں، وکیل وکیل کے حق میں، پولیس والا پولیس کے حق میں، جج جج کے حق میں، فوجی فوجی کے حق میں مختصر یہ کہ حق کو دیکھے بغیر ہم سب اپنے وابستگان کو بچانے میں لگے ہوتے ہیں جس سے کبھی میں معیاری معاشرہ نہیں بن پاتا اور طاقت کا غلط استعمال معاشروں کو تباہ و برباد کر دیتا ہے۔ ایک اہم ترین بات ہمیں بطور اس ملک کے شہری اپنے آس پاس کی زیادتیوں کے خلاف اپنی ممکن کو شش کرنی ہو گی تب ہی ایک انصاف پر مبنی معاشرہ بن پاتا ہے۔
جیسے کہ اگر وکیل یا صحافی کسی غلط سرگرمی میں ملوث ہے تو اس پیشے لوگوں کی ذمہ داری تو نہیں ہے کہ وہ اس کو محفوظ ماحول فراہم کریں اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو پھر وہ معاشرے کے خیر خوا نہیں ہے۔ اگر ایک استاد کسی فیمیل شاگرد کو ہراساں کر رہا ہے تو وہ پیشہ ضرور مقدس ہو گا لیکن وہ شخص استاد کے بھیس میں کالی بھیڑ ہے بالکل اسی طرح سے ایک پولیس والا اگر رشوت کھا رہا ہے زیادتی کر رہا ہے تو وہ محافظ نہیں محافظ کی وردی میں لٹیرا ہے اور ایک مقدس پیشے پر کالا دھبہ ہے۔ اسی طرح سے ڈاکٹر جو اللہ کے بعد دوسری امید ہو تا ہے انسان کو بچانے میں اگر وہ کسی مریض کی کھال اتار رہا ہے تو وہ مسیحائی کے شعبہ میں چھپا بھیڑیا ہے۔ مجھے قوی امید ہے جس روز اپنے شعبے کے غلط لوگوں کو ہم نے پناہ کی بجائے سبق دینا شروع کیا تو معاشرہ ضرور بہتر ہو گا۔


