پانیوں پہ خواب


کل تک یہ آرڈر مکمل کرنا تھا۔ میرے ساتھ تین لڑکے اور بھی تھے۔ ان میں سے ایک نے چھٹی کر لی تھی جب کہ دوسرے کی طبیعت کچھ زیادہ ہی خراب لگ رہی تھی۔ کناری بازار کے قریب تہہ خانے میں لگے اس کارخانے میں خاصی گرمی تھی۔

زردوزی کے اس کام کی مشقت کا اندازہ کسے نہیں۔ ویسے تو ہر دستکاری کے ہنر میں دماغ کمر کندھوں کے پٹھوں اور نظر اور ہاتھ کا استعمال ہے۔ ولیمے کے دن پہننے والی اس گلابی میکسی پر بنا ہوا ڈیزائین خوبصورت تھا۔ کٹ دانے کے ساتھ دبکے کا کام تھا۔ کہیں کہیں بادامی پتی تھی بیچ میں سنہرا موتی جس کے گرد دبکے کا سورج۔

میرا دماغ آج حاضر نہیں تھا لیکن میں کام مستعدی سے نبٹا رہا تھا۔
کسی وقت کٹ دانہ سوئی کے نکے سے پھسل جاتا تو کسی وقت دبکے کے ابھار پر ٹانکہ پھنس جاتا۔
ملکی حالات جوں کے توں تھے۔ مجھ جیسے غریب دستکار کو سیاست سے کیا لینا دینا۔
اس تہہ خانے میں دو پنکھے اور ایک ٹی وی چلتا رہتا۔

ماتھے پر پسینے کی بوندیں ٹپک ٹپک کر اڈے پر کسے ہوئے کپڑے پر جا گرتیں جسے بچانے کے لیے ہم نے کپڑے کے اوپر اخبار کے کاغذ بچھا رکھے تھے۔

کیا ہمارے حالات ایسے ہی رہیں گے؟

سوال ابھر ابھر کے ہر چیز پر حاوی ہو جاتا میں اسے ماتھے پر بیٹھی مکھی کی طرح اڑا دیتا اور وہ سردی کی مکھی کی طرح چیچڑ ہو کے پھر میرے ماتھے پر بیٹھنے کی کوشش کرتی۔

میں سوچ رہا تھا۔ اپنے دوستوں کی طرح بائیس لاکھ اکٹھے کر لوں تو میں بھی اٹلی چلا جاؤں۔
جلد ہی اپنے والدین کے دو منزلہ مکان کا خواب پورا کر دوں گا۔
چاچے کا بیٹا بھی جب سے بحرین گیا ان کے حالات سنور گئے۔
ان کے گھر گرم ٹھنڈا کرنے والا کولر بھی لگ گیا۔ گاڑی بھی آ گئی۔
مجھے پتہ ہے موٹر سائیکل سے گاڑی حاصل کرنے کا سفر آسان نہیں۔
میں کب تک اپنے موٹر سائکل کو مرمت کراتا رہوں گا۔
جلدی کام مکمل کرو
مالک نے لڑکے کو بھیجا کہ آرڈر مکمل ہو گیا یا نہیں

یہ لوگ بھی عجیب ہیں گاہک سے تین چار ماہ پہلے پیشگی پیسے پکڑ لیتے ہیں اور اس پیسے کو ادھر ادھر استعمال کرتے رہتے ہیں جب آرڈر کی ڈیلیوری کا وقت پاس آ جاتا ہے تب دوسرے گاہک کے پیسے سے پندرہ دن پہلے کام والے کپڑے کو اڈے پہ چڑھاتے ہیں پھر عجیب افراتفری پڑ جاتی ہے سارا نزلہ بے چارے ہم کاریگروں پہ گرتا ہے۔

اتنی جلدی کیسے کام مکمل ہو جائے بھلا؟
میں منمنایا
” دوسرے لڑکوں نے کام سے چھٹی کر لی ہے میں اکیلے تو یہ سارا کام نبٹا نہیں سکتا، میرے بھی دو ہاتھ ہیں ”

زری کی بیل پر پھول نے ایک خوبصورت شکل اختیار کر لی تھی ہلکے گلابی رنگ کی میکسی پر یہ ڈیزائین گاہکوں کو بہت پسند آیا تھا۔ جانی کو یہ ڈیزائین اتنا پسند آیا تھا کہ اس نے اپنی ہونے والی دلہن کے لیے ابھی سے اس کا آرڈر بک کروا دیا تھا۔

ہم دستکار پچھلے چھ ماہ میں بارہویں دفعہ یہ ڈیزائین بنا جا چکے تھے۔ اب تو ہاتھ ایسے چلتے جیسے سدھائے ہوئے گھوڑے اپنے روز کے دیکھے بھالے راستوں پر سرپٹ بھاگتے چلے جائیں۔

ابا بھی یہی کام کرتے چارپائی پر آ گئے۔ یہ دکاندار لوگ ہماری مزدوری دے کے ہمیں فارغ کر دیتے ہیں اور خود لاکھوں کماتے ہیں۔

مکھی پھر ماتھے پر آ بیٹھی۔ میں نے مکھی کو ماتھے سے اڑایا، پسینہ کہنی سے صاف کیا۔
اس گھن چکر سے نکلنے کا ایک ہی طریقہ ہے۔
جانی بالکل ٹھیک کہتا ہے۔
کہتا ہے کہ ”تو بھی باہر کے ملک نکل جا۔“

میں نے اسے سمجھایا بھئی تمہارے تو باپ کا ویزے پرمٹ کا کام ہے۔ میرا کون ہے جو مجھے باہر بھیجنے کا راہ راستہ دکھائے۔

ایک روز جانی نے مجھے اپنے والد سے ملوایا انہوں نے مجھے سب کچھ بتایا کتنی رقم لگے گی۔ کون سے کاغذات بنوانے ہوں گے کتنا وقت لگے گا۔

میں دل میں ٹھنڈی آہ بھر کے رہ گیا۔ ٹھیک ہے انکل جی جب رقم اکٹھی ہو جائے گی تو آپ مجھے بھی باہر بھجوا دینا۔ میں نئے نئے خواب دیکھنے لگا تھا۔

جانی نے بتایا تھا اس بار اس کے باپ نے اس کے جانے کا بندوبست کر ڈالا ہے
”جانی تو پھر تو جا رہا ہے شہزادے“
”وہاں پہنچ کر اپنے جگری یار کو بھول تو نہیں جائے گا“ ۔
ایسے کیسے بھول جاؤں گا
اک بار میں چلا جاؤں پھر ابو سے تمہاری بھی بات کروں گا۔
میرا ابو کام سیدھا کرتا ہے۔
کوئی ہیرا پھیری نہیں۔ کچھ بھی غیر قانونی نہیں
تم اپنا پاسپورٹ بنواؤ
جیسے ہی رقم اکٹھی ہو جائے کاغذ بن جائیں گے۔
پر میری دلہن کا جوڑا تمہارے ہاتھ سے بننا چاہیے۔
اس کے بعد تم بھی آ جانا ہم آدھی رات کو علی شیر کے کھوکھے پہ کھڑے منصوبے بنایا کرتے۔
یار اپنے والد سے کہہ نا پیسے تھوڑے کم کرے یہ بائیس لاکھ تو ہم سے پوری زندگی اکٹھے نہیں ہونے والے۔

جانی کو گئے ہوئے دو ماہ ہو چکے تھے۔ میں سوچ رہا تھا کہ آج چھٹی کے بعد اس کے گھر جا کر اس کی خیر خبر معلوم کروں گا۔ اچھا ہے وہ تو چلا گیا۔

اپنا کیا بنے گا۔ اگر ہم اپنی کلی بیچ بھی دیں تو بھی اتنے لاکھوں کی رقم کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔ اپنی قسمت میں یہ تلہ دبکہ اور تہہ خانے کا اڈہ ہی لکھا جا چکا ہے۔

مکھی پھر ماتھے پہ بھنبھنانے لگی تھی۔
کیا جانی وہاں جا کر مجھے پیسے بھیجے گا؟

کون کسی کو لاکھوں کی رقم ادھار دیتا ہے میں نے گرم پانی کا گھونٹ بھرا حلق سے نیچے جاتے ہوئے ایسے لگا جیسے تارے میرے کے تیل کا گھونٹ بھرا ہو

جب بھی مجھے غصہ آتا میرا منہ کا ذائقہ ایسے ہی کڑوا ہو جاتا۔
آج جا کر خبر لوں گا جانی پہنچ گیا یا نہیں؟
ٹی وی مسلسل چل رہا تھا جیسے کوئی عورت اپنے مر جانے والے خاوند کا بین کر رہی ہو۔
سب غیر ضروری ہے
کسی خبر میں کوئی دلچسپی نہیں
ٹی وی پر پسندیدہ پروگرام لگنے بند ہو چکے تھے۔ جانے اس ٹی وی کو چلنے کی سزا کس نے دی ہے۔
ہمارے انصافی لیڈر نے ان کی ناک میں خوب دم دے رکھا ہے۔
فقط نعرے لگانے کی سزا میں کتنے بے گناہ نوجوانوں کو پولیس ڈالوں میں بھر کے لے جاتی ہے۔

دل تو کرتا ہے میں بھی کسی روز باغی بن کر نعرے لگاؤں اور اس مشقت سے جان چھوٹے۔ بد دلی آسمان کو ہاتھ لگا آتی پھر کہیں سے باہر کے ملک جانے کا خیال آتا تو تاریکی میں کرن پھوٹتی۔

میرے ہاتھ پھرتی سے چل رہے تھے۔
خبر چل رہی تھی۔

یونان کے قریب ایک کشتی بحیرہ روم میں ڈوب گئی۔ جس میں بہت سے پاکستانی تھے۔ میں نے چونک کر سکرین کی طرف دیکھا۔ نیلے پانیوں پر ایک جہازی کشتی جس پر سر ہی سر نظر آ رہے تھے۔ میرے ہاتھوں کی حرکت رک گئی۔

میں نے کام بند کر دیا اور غور سے خبر سننے لگا۔ جانی نے بھی تو اسی راستے سے اٹلی جانا تھا۔
کہیں اپنا جانی بھی تو اس کشتی میں نہیں تھا۔ مجھے وہم ہوا۔
میں کام وہیں چھوڑ کر باہر نکل آیا جانی کو فون کیا۔

اس نے فون اٹھا لیا۔ میری جان میں جان آئی یار تو ٹھیک تو ہے مگر فون اس کے بھائی نے اٹھایا تھا۔ اس کے بھائی کی بھرائی ہوئی آواز آئی۔

جانی کی کوئی خبر نہیں اور
پولیس ابو کے پیچھے ہے۔
وہ کیوں؟
یار
فون اتنے میں کٹ چکا تھا۔
ٹی وی مسلسل بین کرتا رہا۔

میرا دل دکھ سے بھر گیا۔ کتنے سنہرے خواب نیلے پانیوں کی نذر ہو گئے۔ گھر جاتے ہوئے، میں جانی کے گھر والی گلی میں گیا توان کے گیٹ پر تالا لٹک رہا تھا۔ اس بار ماتھے پہ بھنبھنانے والی مکھی کو میں نے نہیں اڑایا۔

Facebook Comments HS