سانحہ یونان اور ہماری قومی بے حسی
گزشتہ روز یونان کے قریب پانی میں کئی قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔ یہ صرف چند جانیں نہیں بلکہ ان کے پیچھے خاندان اور خاندانوں کے پیچھے ان کے سپنے اور ارمان ریزہ ریزہ ہو گئے۔ پاکستان ایک نظریہ کی بنیاد پر 1947 میں معرض وجود میں آیا لیکن مختصر عرصہ میں اس کو ایک فلاحی مملکت کے بجائے ملٹری طرز ریاست کی راہ پر لے جایا گیا۔ جب لیاقت علی خان نے قرار داد مقاصد کو منظور کر لیا۔ آج پاکستان کے آئین میں عوام کو بنیادی ضروریات زندگی کا قانونی حق نہیں دیا گیا ہے۔
صرف چند سیاسی حقوق دیے گئے ہیں۔ لیکن ان پر کبھی عمل درآمد نہیں ہوا ہے۔ 75 سالوں سے ملک میں باقاعدہ کوئی منصوبہ بندی نہیں۔ چند خاندان اقتدار پر قابض ہیں۔ ان کی دولت بڑھ رہی ہے۔ جبکہ عام پاکستانی غریب سے غریب تر ہو رہا ہے۔ تعلیم حاصل کرنے کے بعد مملکت پاکستان میں سرکاری نوکری کا حصول جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ کیوں کہ یہاں کھلے عام رشوت مانگی جاتی ہے۔ تعلیم کے نام ایسا چورن بیچا جا رہا ہے کہ ایک پولیٹیکل سائنس گریجویٹ سے اگر سیاست پر بحث کی جائے تو اس بے چارے کو کچھ پتہ نہیں اس طرح معاشیات کے ڈگری ہولڈر کو ملک کے معاشی مسائل کا کوئی ادراک نہیں۔
کیوں کہ تعلیمی اداروں میں نوٹس پڑھائے جاتے ہیں۔ نوٹس پڑھ کر پاس ہونے والے طلبہ و طالبات سے کچھ امید نہیں رکھی جا سکتی ہے۔ با امر مجبوری ملک میں روزگار نہ ملنے کے باعث بیرونی ممالک خصوصاً یورپ جانا اس طرح نوجوانوں کا پسندیدہ مشغلہ بن جاتا ہے۔ کیوں کہ ان ممالک میں قانونی طور پر جانا مشکل ہوتا ہے لہذا بیرونی ممالک کے بارے میں ایجنٹوں کے خوش نما اور دلفریب اشتہارات کی وجہ سے گھر بار بیچ کر سفر رخت باندھ لیتے ہیں۔
کبھی کنٹینرز تو کبھی غیر قانونی راستوں سے سمندر کے ذریعے یورپ جانے کی تگ و دو میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ یہ غیر قانونی کاروبار پاکستان میں کئی سالوں سے ہیں۔ راولپنڈی کے مری روڈ پر اس طرح کے خونی ایجنٹ آپ کو جگہ جگہ ملیں گے۔ جو بے روزگار نوجوانوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹتے ہیں۔ ملکی اداروں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ پہلی فرصت میں ان ایجنٹوں کو پکڑیں۔ لیکن 75 سالوں سے اداروں کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔
اتنی بے حسی کہ وزیر اعظم انتہائی خوشی کے ساتھ سوگ منانے کا اعلان کرتے ہیں۔ سوگ کا کوئی فائدہ نہیں۔ ملک کے 64 فیصد نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ روایتی نظام تعلیم سے نکل کر موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق ڈیجیٹل سکلز پڑھانے کی ضرورت ہے۔ نوجوانوں کو بغیر سفارش کاروبار کے لیے قرضے فراہم کیے جائیں۔ آج انڈیا سعودی عرب تیل سے زیادہ صرف سافٹ ویئر سے کما رہا ہے۔ کیا ہم اپنے نوجوانوں سے نہیں کما سکتے ہیں؟
ہم بالکل کما سکتے ہیں۔ لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ نوجوانوں کو بامقصد نظام تعلیم دی جائے۔ بیرون ممالک لوگوں کو جھانسہ دے کر لے جانے والے ایجنٹوں کو سخت سے سخت ترین سزائیں دی جائیں۔ تاکہ آئندہ کوئی کسی نوجوان کے ارمانوں سے نہ کھیلے۔ اس سانحہ سے سیکھنا چاہیے نہ کہ ہم اس پر روایتی طور پر بیان بازی کر کے مٹی پائے


