سنہرے خواب: سمندری مچھلیوں کی نذر

یورپ اور امریکہ ہمیشہ ترقی پذیر ممالک کے عوام کی توجہ کا مرکز رہے ہیں۔ ان پڑھ یا کم پڑھے لکھے افراد جن کے پاس کوئی ہنر بھی نہیں ہوتا ’وہ یہ سوچ کر یہ انتہائی اقدام اٹھا لیتے ہیں کہ وہاں جا کر جو کام بھی ملا کر لیں گے۔ دیکھا جائے تو مغربی ممالک میں پہنچنے کے لیے غیرقانونی راستے اختیار کرنے والوں کے وہاں پہنچنے کے امکانات انتہائی کم ہوتے ہیں اور اگر خوش قسمتی سے یہ سمندر کی لہروں ’مختلف سرحدوں کی پولیس اور بھوک پیاس سے لڑتے ہوئے یورپ اور امریکہ پہنچ جائیں‘ تب بھی انہیں وہاں سیٹل ہونے میں دس سے بیس سال لگ جاتے ہیں کیونکہ قانونی دستاویزات نہ ہونے کے باعث انہیں نہ تو باعزت روزگار ملتا ہے اور نہ ہی مناسب اجرت۔
کشتی کے حالیہ سانحے میں ساڑھے سات سو کے قریب افراد سنہرے خواب لے کر ایک ایسی کشتی میں سوار ہوئے جسے صرف ماہی گیری کے لیے استعمال کیا جاتا تھا، پیسے بچانے کے لیے اس کمزور سی کشتی میں سات ’آٹھ سو افراد کو ٹھونس دیا گیا۔ جن میں بچے اور خواتین بھی شامل تھیں۔ سمندر کی طوفانی موجوں کے رحم و کرم پر اچھلتی یہ کشتی لیبیا کے ساحلی شہر طبرق سے اٹلی کی طرف جاتے ہوئے یونان کے قریب کھلے سمندر میں الٹ گئی۔ یونان کے قریب ڈوبنے والی اس کشتی کے پانچ سو افراد کی لاشیں اب تک تلاش نہیں کی جا سکیں۔ زندہ بچ جانے والوں میں بارہ پاکستانی بھی شامل ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ اس کشتی میں تین سو سے زائد پاکستانی سوار تھے۔ یونان، پاکستان اور آزاد کشمیر نے اس واقعے کو تاریخ کا سنگین ترین حادثہ قرار دیتے ہوئے سوگ منایا گیا۔
مو جو دہ معاشی صورتحال سے تنگ نو جوانوں کی بڑی تعداد بہتر مستقبل کی تلاش میں یورپ اور دیگر مما لک جا نے کے لئے غیرقانونی طریقوں۔ ”ڈنکی“ لگانے یا پھر انسانی سمگلروں کا شکا ر ہو رہے ہیں جو انہیں یورپ اور مغر بی ممالک کے سہا نے خواب دکھا کر خود پیسے بناتے اور انہیں سمندر کی خوراک بنا دیتے ہیں۔ ایشیائی ترقیاتی بینک اور آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان کے 22 کروڑ افراد میں سے پانچواں حصہ پہلے ہی خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہا ہے۔
افراط زر تقریباً 30 فیصد ہے۔ صرف ٹیکسٹائل کی صنعت میں تقریباً 70 لاکھ کارکن اپنی ملازمتوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ ناقص پالیسیوں کے سبب آج پاکستان لاکھوں بے روزگار نوجوانوں کا گھر ہے۔ ملازمتوں کی کمی اور بنیادی ضروریات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے انہیں غیر قانونی طور پر یورپی ممالک کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور کیا ہے۔ ایجنٹ انہیں کنٹینرز میں یا بھری ہوئی کشتیوں میں دھکیل دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں ایسے سانحات رونما ہوتے ہیں۔
اس سفر کے دوران درجنوں افراد جغرافیائی رکاوٹوں اور موسم کی سختیوں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہو جاتے ہیں جبکہ بہت سے دیگر لوگ ایران اور ترکی کی سرحدوں پر سکیورٹی فورسز کی گولیوں کا نشانہ بن جاتے ہیں۔ جو لوگ کسی نہ کسی طرح یورپ میں داخل ہو جاتے ہیں انہیں وہاں قانونی دستاویزات نہ ہو نے کی وجہ سے یا تو یونان اور بلغاریہ جیسے ملکوں میں قائم حراستی کیمپوں میں زندگی گزارنے ہیں یا غیرقانونی طور پر اپنے دوستوں، رشتہ داروں اور جاننے والوں کے ہاں ٹھہرتے ہیں۔
پاکستان کے وفاقی وزیر برائے سمندر پار پاکستانی، ترقی انسانی وسائل ساجد حسین طوری کا اعتراف چونکا دینے والا ہے کہ اپریل 2022 ء سے اب تک 6 لاکھ پاکستانی بیرون ملک جا چکے ہیں۔ ایک سال میں بیرون ملک جانے کے رجحان میں 600 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ایف آئی اے کے اعداد و شمار کے مطابق ملک کے سب سے زیادہ آبادی والے صوبے، پنجاب میں، اسمگلنگ کے رپورٹ ہونے والے کیسز کی تعداد 2021 میں 6 تھی، 2022 ء میں یہ تعداد بڑھ کر 217 تک پہنچ گئی ہے جو کہ حیرت انگیز طور پر 3,517 فیصد زیادہ ہے۔
یہ کوئی پہلا موقع نہیں کہ پاکستانی تارکین وطن، وطن سے دور، بے رحم سمندروں اور بے مہر صحراؤں میں ایسی موت مارے گئے ہوں، البتہ اتنی بڑی تعداد والا یہ سانحہ پہلی بار ہوا ہے۔ ہر سانحے پر رپورٹوں میں انسانی سمگلرز کا گہوارہ گجرات کا ضلع بتایا جاتا رہا ہے لیکن کبھی کارروائی نہیں ہوئی۔ گجرات کے یہ انسانی سمگلر ہمیشہ ریاست و حکومت کے لاڈلے رہے۔ لوگوں کو دھوکہ دے کر ان سے فی کس 25 سے 30 لاکھ وصول کرتے ہیں، پھر ایران کے صحراؤں یا بحیرہ روم کے سمندروں میں لاوارث چھوڑ دیتے ہیں لیکن کبھی، کسی حکومت نے گجرات کے ان قاتلوں پر میلی نظر نہیں ڈالی۔
اس بار سانحہ سنگین ترین ہے اس لیے کچھ افراد تو پکڑے گئے ہیں لیکن تسلی رکھیئے چھوٹ جائیں گے۔ انسانی سمگلنگ کے حوالے سے پاکستان میں انتہائی خوفناک صورتحال ہے ’ایک اخباری رپورٹ کے مطابق ”پاکستان میں ہر سال تقریباً تین لاکھ افراد سمگل کیے جاتے ہیں۔ بیورو آف امیگریشن کے اعداد و شمار کے مطابق 2022 ء میں 7 لاکھ 65 ہزار نوجوانوں نے پاکستان چھوڑا‘ ان میں ڈاکٹرز ’انجینئرز‘ آئی ٹی ایکسپرٹس اور دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے نوجوان شامل ہیں ’جب کہ اس سال پاکستان 7 ہزار سے زائد انجینئرز‘ اڑھائی ہزار ڈاکٹروں ’سولہ سو نرسوں‘ دو ہزار آئی ٹی ماہرین ’6500 اکاؤنٹنٹس اور نو سو اساتذہ سے محروم ہوا۔
انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن (IOM) کی رپورٹ کے مطابق سال 2014 سے اب تک 52 ہزار 67 افراد یورپ داخلے کی کو شش میں ہلاک ہو چکے ہیں۔ غیرقانونی طور پر یورپ جا نے والے تارکین وطن جو ترکی پہنچ کر سمندر پار کر کے یورپ جانے کی کوشش کے دوران بلاک ہوئے ان کی تعداد 21 ہزار 5 سو 63 ہے۔
سرکاری اقدامات واضح طور پر انسانی سمگلنگ کی روک تھام میں ناکام ہیں۔ ایک غیرسرکاری ادارے سوسائٹی فار ہیومن رائٹس اینڈ پرزنرز ایڈ (شارپ) کے مطابق اس ناکامی کی وجہ انسانی سمگلروں کا باہمی ربط اور اثر و رسوخ ہے۔ یہ ایجنٹ ”ایک مافیا کی شکل میں کام کرتے ہیں پاکستان، ایران، ترکی، یونان اور دیگر ممالک میں ان کا ایک مربوط نیٹ ورک ہے“ ۔ اس نیٹ ورک کے ذریعے ملنے والی اطلاعات کی وجہ سے یہ لوگ کبھی پکڑے ہی نہیں جاتے اور اگر کوئی سرکاری ادارہ ان پر ہاتھ ڈال ہی دے تو وہ اپنے تعلقات اور پیسے کے بل بوتے پر کڑی سزاؤں سے بچ نکلتے ہیں۔
بے شک موت سے حادثات و سانحات سے انکار ممکن نہیں مگر جان بوجھ کر موت کے منہ میں جانا بھی تو عقل مندی نہیں۔ ہزاروں نوجوان اپنی ماؤں ’بہنوں‘ بیویوں کے زیور بیچ کر انسانی سمگلروں کی جیبیں گرم کر کے اٹلی ’فرانس‘ کینیڈا ’سویڈن لندن یا کسی اور ملک میں جانے کی کوشش کرتے ہیں۔
بلا شبہ پاکستان میں بے روزگاری بہت زیادہ ہے ’سوال مگر یہ ہے کہ اعلیٰ تعلیم یا روزگار کے حصول کے لئے دھوکے باز‘ لٹیرے اور بدمعاش انسانی سمگلروں کے ہتھے چڑھ کر موت سے ہمکنار ہو جانا کہاں کی عقلمندی ہے؟
بے شمار پسماندہ علاقوں کے لوگ اپنے ہی ملک ’اپنے ہی علاقوں میں رہ کر معاشی سختیوں کا مقابلہ کرتے ہیں اور غیرقانونی طور پر بیرون ملک جانے کے بجائے دیگر شہروں کی طرف نقل مکانی کر کے محنت سے اپنے لیے بہتر روزگار کا بندوبست کرتے ہیں۔ دو ر کے ڈھول ہمیشہ سہانے ہوتے ہیں اور بیرون ملک خوشحالی کی کہانیاں ایسی ہی ہیں۔ یہ درست ہے کہ یہاں پیسے تھوڑے ملتے ہیں لیکن ملتے تو ہیں پہر اپنے والدین بیوی بچے اور رشتے دار بہی ساتھ ہوتے ہیں۔
آج کم مل رہے ہیں تو کل زیادہ بھی ہو سکتے ہیں اور اگر کوئی ہنر سیکھ لیا جائے‘ کوئی ڈگری مکمل کر لی جائے تو باہر عزت اور قانونی راستے کے ذریعے بھی تو جایا جا سکتا ہے۔ باقاعدہ ویزہ لے کر بیرون ملک ’یورپ و امریکہ جانے کا یہ راستہ تھوڑا کٹھن ہے لیکن اس کا انجام ڈوب کر مرنا اور سمندر کی مچھلیوں کی خوراک بننا تو نہ ہو گا۔
اٹلی ’فرانس‘ کینیڈا ’لندن یا کسی اور ملک میں جانے کی کوشش میں اپنی جانیں گنوا نے والے اگر اپنے ملک میں ہی رہ کر محنت کر کے رزق کمانے کی کوشش کریں تو کوئی وجہ نہیں کہ وہ ”رزق“ سے محروم رہیں‘ کیا وہ خدا جو بے شمار پرندوں درندوں ’نباتات و جمادات‘ دریاؤں اور سمندروں کی تہہ میں رہنے والی مچھلیوں سمیت حشرات الارض کے لئے ”رزق“ کا بندوبست کر سکتا ہے تو وہ دیار غیر جانے والے پاکستانیوں کے رزق کا بندوبست بھی نہیں کر سکتا ہے؟ افسوس مادیت کی چمک دمک کے باعث ہمارے نوجوان لگژری زندگی اور ڈالروں کے حصول کے لئے انسانی سمگلرز کے دھوکے میں آ کر کبھی کنٹینروں میں دم گھٹنے سے اور کبھی سمندر میں ڈوب کر ہلاک ہو رہے ہیں۔ کاش اکرام جمالی مرحوم کی طرح ہمارا ایمان بھی مضبوط ہو جائے
میں کیوں کروں بھلا اکرام! فکر کار جہاں
خدا نہیں؟ کہ جو سب انتظام کرتا ہے

