بلوچستان کا ”ٹھیکیداری“ بجٹ


بلوچستان کے اگلے مالی سال۔ 24۔2023 ء کا بجٹ پیش کر دیا گیا ہے ہر چند کہ حساب کا مضمون کبھی میرا پسندیدہ مضمون نہیں رہا بجٹ کے خشک اور تھکا دینے والے تخمینے یوں بھی ہم جیسوں کے سروں سے اوپر اوپر ہی گزرتے ہیں تاہم پھر بھی جہاں تک میں نے اس بجٹ کو دیکھا پرکھا اور سمجھا ہے اس بجٹ پر میرا مختصر ترین تبصرہ یہی ہو گا کہ یہ صوبے کی ترقی اور ضروریات کا آئینہ دار بجٹ نہیں بلکہ خالصتاً ٹھیکیداروں کا بجٹ ہے وزیر خزانہ کی لفاظیت سے بھرپور بجٹ تقریر میں لفاظی جھول بھی تھا اور اعداد و شمار کو گھما پھرا کر بیان کرنے کی روش بھی جا بجا واضح دکھائی دی۔

وزیر خزانہ ان دنوں انجینئر زمرک اچکزئی ہیں جن کا شمار کابینہ کے سینئر اور انتہائی قابل اراکین میں ہوتا ہے لیکن چونکہ بجٹ تقریر فنانس والے تیار کر کے دیتے ہیں اس لئے انجینئر صاحب اس میں چنداں قصور وار نہیں ٹھہرتے ہاں بجٹ ترجیحات، اہداف اور آمدن و اخراجات میں خطرناک عدم توازن یا بہ الفاظ دیگر ”پالیسی میٹرز“ میں انجینئر صاحب بری الذمہ نہیں ہوسکتے۔ انجینئر صاحب عوامی آدمی ہیں اگر اس لکھی لکھائی تقریر کی بجائے وہ خود اپنے الفاظ میں بجٹ کے اہداف و ترجیحات بیان کرتے تو شاید اس سے بہتر انداز میں اپنا مافی الضمیر بیان کر پاتے۔

جہاں تک بجٹ کی بات ہے تو اگلے مالی سال کا بجٹ بلوچستان کی تاریخ کا سب سے خطیر مالیت کا حامل، ٹیکس فری مگر خسارے کا حامل بجٹ ہے جس کا کل حجم ساڑھے 7 کھرب روپے ہے 229 ارب 30 کروڑ روپے ترقیاتی اور 437 ارب روپے غیر ترقیاتی اخراجات کے لئے رکھے گئے ہیں آمدن اور اخراجات میں عدم توازن کا سلسلہ اگلے مالی سال بھی جاری رہے گا اور بجٹ میں ابتدائی طور پر 49 ارب روپے کا خسارہ ظاہر کیا گیا ہے حالانکہ نئے مالی سال میں این ایف سی محصولات کی مد میں بلوچستان کو ایک کھرب 11 ارب روپے کی اضافی آمدن ہوگی (یہ اضافی آمدن ایف بی آر کے محصولات میں بہتری کی بدولت ممکن ہوئی ہے )

وزیر خزانہ کی بجٹ تقریر سے لئے گئے اعداد و شمار کے مطابق اگلے مالی سال کے دوران بلوچستان کو وفاقی ٹرانسفرز کا تخمینہ 521 ارب روپے ہے 57 ارب روپے صوبے کی اپنی آمدن ہوگی، 55 ارب روپے سوئی گیس لیز ایکسٹینشن کی مد میں آئیں گے، 10 ارب کا کیش کیری اوور، 21 ارب کی کیپٹل محصولات بشمول سٹیٹ ٹریڈنگ اور فارن فنڈڈ پراجیکٹس اسسٹنس (ایف پی اے ) کی مد میں 37 ارب کی آمدن کا تخمینہ لگایا گیا ہے یہ تمام آمدن 701 ارب روپے بنتی ہے اور اس کے مد مقابلے صوبے کے ٹوٹل اخراجات کا تخمینہ 750 ارب روپے لگایا گیا ہے جس میں 437 ارب کے اخراجات جاریہ، 229 ارب روپے صوبائی ترقیاتی پروگرام، 39 ارب کے ایف پی اے، 45 ارب روپے وفاقی ترقیاتی پراجیکٹس کے اخراجات شامل ہوں گے۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق بلوچستان حکومت نے رواں مالی سال کا ترقیاتی بجٹ کم جبکہ غیر ترقیاتی اخراجات میں 35 ارب روپے کا اضافہ کیا، رواں مالی سال 2022۔ 23 کے کل بجٹ کا غیر ترقیاتی تخمینے نہ 366 ارب روپے تھا۔ نظر ثانی کے بعد کا تخمیے نہ 405 ارب روپے ہو گے اور رواں مالی سال کے ترقیاتی اخراجات کا تخمینے نہ 192 ارب روپے تھا جو نظر ثانی شدہ تخمینے نہ میں کم ہو کر 127.6 ارب روپے ہو گے ا ہے رواں سال کے دوران بلوچستان حکومت نے سپیشل ایس این ای کے تحت سات ہزار سات سو پچاسی اسامیاں تخلیق کیں جبکہ نئے مالی سال کے دوران مختلف محکموں میں 4 ہزار 389 نئی اسامیوں کی تجویز پیش کی گئی ہے۔

اگلے مالی سال کے بجٹ میں صوبے کی ترقی کے لئے کوئی نیا میگا پراجیکٹ شامل نہیں، ترقیاتی بجٹ کا تین چوتھائی حصہ جاری سکیمات کے لئے مختص، آمدن اور اخراجات میں توازن کے لئے بھی واضح پلان شامل نہیں، ٹیکسز میں کمی سے عام آدمی سے زیادہ بڑے بزنس مین مستفید ہوں گے۔

نئی ترقیاتی سکیمات کے لئے جو اخراجات مختص ہیں ان سے تین گنا زائد فنڈز آن گوئنگ سکیمات کے لئے رکھے گئے ہیں، مجموعی طور پر 2 کھرب 29 ارب 30 کروڑ کی پی ایس ڈی پی میں ایک کھرب 70 ارب 72 کروڑ روپے ان چار ہزار 721 سکیمات کے لئے رکھے گئے ہیں جن پہلے سے کام جاری ہے۔ پی ایس ڈی پی میں پانچ ہزار 68 نئی سکیمات ڈالی گئی ہیں لیکن حیرت انگیز طور پر ان سکیمات کے لئے جو ترقیاتی بجٹ مختص کیا گیا ہے وہ محض 58 ارب 66 کروڑ ہے جس کے باعث یہ منصوبے اگلے برس بھی پی ایس ڈی پی کا حصہ رہیں گے اور خدشہ ہے کہ انتخابات کے بعد جو حکومت آئے گی وہ ان کی بجائے اپنی سکیمات پر توجہ دے گی۔

بلوچستان کے اگلے مالی سال کے بجٹ میں زراعت، توانائی، لائیو سٹاک اور ماہی گیری کی نسبت مواصلات و تعمیرات، آبپاشی ایسے محکموں کو ترجیح دی گئی ہے۔ مواصلات و تعمیرات کے لئے اگلے مالی سال میں 73 ارب سے زائد کا خطیر بجٹ مختص کیا گیا ہے جس میں 60 ارب کے ترقیاتی اخراجات شامل ہیں اس کے مقابلے بہت سارے شعبے جن پر خصوصی توجہ کی ضرورت تھی انہیں بری طرح سے نظر انداز کیا گیا ہے مثال کے طور پر معدنی شعبہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے بلوچستان میں سونے چاندی سے لے کر تیل و گیس کوئلہ، سنگ مرمر، کرومائیٹ سمیت دیگر نایاب معدنی ذخائر اور وسائل موجود ہیں ریکوڈک معاہدہ ابھی چھ مہینے پہلے ہوا ہے جس کے نتیجے میں آٹھ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی توقع ہے، ریکوڈک معاہدے کے بعد ابتدائی طور پر 68 کروڑ روپے حکومت بلوچستان کو موصول ہو گئے ہیں مزید ایک ارب 45 کروڑ روپے ایڈوانس رائلٹی کی مد میں موصول ہونے ہیں، اگلے مالی سال کے دوران 55 ارب روپے سوئی لیز ایکسٹینشن کی مد میں بھی آئیں گے رواں مالی سال کے دوران محکمہ معدنیات نے مختلف مدات میں 7 ارب 20 کروڑ سے زائد کی رقم صوبائی خزانے میں جمع کرائی لیکن اگلے مالی سال میں اس شعبے کاترقیاتی بجٹ صرف 80 کروڑ روپے تجویز کیا گیا ہے۔

بلوچستان حکومت نے اپنی آمدن بڑھانے اور اخراجات میں کمی کے حوالے سے بھی کوئی واضح پلان نہیں دیا۔ جس روز بجٹ پیش ہو رہا تھا اس دن کے اخبارات میں بھی وزیراعلیٰ بزنجو کا بیان جلی سرخیوں کے ساتھ شائع ہوا کہ ہمیں وفاقی محاصل پر انحصار کم سے کم کرتے ہوئے اپنی آمدن بڑھانی ہوگی لیکن بجٹ میں اس حوالے سے کوئی پلان شامل نہیں، بجٹ میں نہ صرف کوئی نیا ٹیکس نہیں لگا بلکہ پہلے سے عائد ٹیکسوں میں بھی کمی کی گئی ہے صوبائی حکومت کی جانب سے ہوٹل ٹیکسز کو پندرہ فیصد سے کم کر کے چار فیصد، ڈویلپمنٹ ٹیکس کو چھ فیصد سے کم کر کے چار فیصد اور صحت و اس سے متعلقہ شعبوں پر ٹیکس پندرہ فیصد سے کم کر کے دو فیصد، ایکسرے، ایم آر آئی، الٹرا ساؤنڈ، سٹی سکین اور لیبارٹری کے ٹیسٹوں پر بی آر اے ٹیکس کو پندرہ فیصد سے کم کر کے دو فیصد رکھنے کی تجویز رکھی گئی ہے اور کہا یہ جا رہا ہے کہ مذکورہ ٹیکسوں میں کمی سے عام آدمی کی نسبت بڑے سرمایہ دار بالخصوص ہوٹل مالکان، کنٹریکٹرز، میڈیکل انڈسٹری کے ٹائیکون زیادہ مستفید ہوں گے۔

Facebook Comments HS